مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع کے ٹاک ویکی گاؤں میں برتنوں کی کھنکھناہٹ صبح کا اعلان کرتی ہے، جب لوگ پاس کے آبی ذریعہ کی جانب رخ کرنے لگتے ہیں۔ جلد ہی، تنگ گلیوں میں پانی لینے والوں اور پانی کے برتنوں کی لائن لگ جاتی ہے۔ ۶۰ سال سے زیادہ کی عمر کے بزرگ سے لے کر پانچ سال کے بچے تک کی لمبی لائن۔

اس لائن میں ۱۴ سالہ پرتھوی راج شری ستھ اور ۱۳ سالہ آدیش شری ستھ بھی کھڑے ہیں۔ ایک ٹیچر جو اُن کے گھر کے ٹھیک سامنے رہتے ہیں، وہ اپنا بورویل گاؤں والوں کے لیے ہفتہ میں دو یا تین بار کھول دیتے ہیں۔ گرمی کی چھٹیاں چل رہی ہیں، اور آپس میں چچیرے بھائی شری ستھ کے پاس ایسا کوئی بہانہ نہیں ہے کہ انھیں صبح میں پانی لانے کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی، اس لیے وہ اسکول نہیں جا سکے۔ ’’ہمیں جب ٹیچر کے پاس والے گھر سے پانی نہیں مل پاتا، تو ہم ایک کلومیٹر دور جاتے ہیں،‘‘ پرتھوی راج کہتا ہے، جسے پانی کے ۱۵ برتن بھرنے میں ڈیڑھ گھنٹے لگتے ہیں، جب کہ اس کا چچیرا بھائی۱۰ برتنوں کو بھرنے میں دو گھنٹے لگاتا ہے۔ ’’تم مجھے کبھی سائیکل نہیں لانے دیتے،‘‘ آدیش ہنستے ہوئے کہتا ہے۔

تھوڑی دوری پر، ۴۰ سالہ چھایا سوریہ ونشی کڑی دھوپ میں کھیتوں سے ہوکر چلنے میں زیادہ جوشیلی نہیں ہیں۔ ان کا سب سے قریبی آبی ذخیرہ، ایک دوسرا بورویل (کنواں) ان کے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہے۔ پانی بھرنا ان کی ذمہ داری ہے، جب کہ ان کے شوہر اپنے کھیت پر کام کرتے ہیں۔ ’’مجھے چھ ممبران والی اپنی فیملی کے لیے ایک دن میں ۱۵ برتن پانی کی ضرورت ہوتی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں، جب کہ ایک برتن ان کے سر پر رکھا ہوا ہے، جسے وہ اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑے ہوئی ہیں۔ دوسرا برتن ان کی کمر پر رکھا ہوا ہے، ان کے بائیں بازو کے نیچے۔ ’’میں ایک بار میں دو برتن لے جا سکتی ہوں۔ مجھے اب بھی ایک دن میں ۷ سے ۸ چکر لگانے پڑتے ہیں۔ ایک چکر لگانے میں صرف ۳۰ منٹ لگتے ہیں۔ اور یہ سال پچھلے سال کے مقابلے بہتر رہا ہے (۲۰۱۶ میں اچھی بارش کی وجہ سے)۔‘‘

Shirsath brothers sitting outside their home

گرمی کی چھٹی میں چونکہ ان کے اسکول بند ہیں، لہٰذا پرتھوی راج (بائیں) اور آدیش شری ستھ اپنی صبحیں فیملی کے لیے پانی بھرنے میں گزارتے ہیں 

گرمیوں میں ٹاک ویکی کے ۴ ہزار باشندوں کی یہی زندگی ہے۔ پانی کے لیے روزمرہ کی جدوجہد، اور مہاراشٹر کے ان قحط زدہ علاقوں میں پانی حاصل کرنے میں لگنے والا وقت اور محنت کی وجہ سے یہاں کے گاؤوں والے زیادہ تر کنووں کے آس پاس ہی رہتے ہیں۔

پانی کے پرائیویٹ ذرائع کے ہونے سے نہ صرف زندگی آسان ہو جاتی ہے، بلکہ یہ طاقت اور اسٹیٹس کی بھی علامت ہیں۔ ٹیچر ٹاک ویکی میں اپنا سر اونچا کرکے چلتے ہیں۔ دوسرے ضرورت مند لوگوں کے لیے اپنے بورویل کو کھول دینے کی اعلیٰ ظرفی کی وجہ سے ان کی ہر طرف تعریف ہوتی ہے۔

تاہم، جن لوگوں کا دل اتنا بڑا نہیں ہے، وہ پانی کی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور خوشحال تجارت کر رہے ہیں۔ ’’میں ہر ۱۵ لیٹروں کے لیے ۲ روپے ادا کرتی ہوں،‘‘ چھایا کہتی ہیں جو اُن لوگوں میں شامل ہیں، جو اُن گاؤں والوں سے پانی خریدتے ہیں، جو اتنے خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے صحیح جگہ پر بورویل کھود رکھا ہے۔

Pots parked outside the teachers house

ایک مقامی ٹیچر کے گھر کے باہر لگی ہوئی نارنگی برتنوں کی ایک لائن، جو ٹاک ویکی گاؤں میں ہر ہفتہ کچھ دنوں کے لیے اپنے پرائیویٹ بورویل کو عام لوگوں کے لیے کھول دیتے ہیں

مراٹھواڑہ کے زرعی علاقے میں بہت سے کسان پانی کے لیے کھدائی کرنے کی وجہ سے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ بورویل کی کھدائی کرنا ایک دھوکہ والا کاروبار ہے۔ اس میں ایک لاکھ روپے سے زیادہ پیسہ لگتا ہے اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ صحیح نتیجہ نکلے گا بھی یا نہیں۔ جس جگہ پر کسان کھدائی کر رہا ہے اگر وہ جگہ خشک نکلی، تو پیسہ بیکار ہو جاتا ہے۔ ایک ناکام بورویل کی اداسی، ایک کامیاب کنویں کی کھدائی کی امید سے پہلے ہی دھندلی پڑ جاتی ہے۔

۶۰ سالہ دتو سنگھ بایس نے گزشتہ تین سالوں کے دوران اپنے ۸ ایکڑ کھیت پر آٹھ بورویل کھودے ہیں، جن میں سے اس وقت صرف ایک ہی استعمال ہو رہا ہے۔ اس کنویں سے انھیں روزانہ تقریباً ۱۰۰ لیٹر پانی مل رہا ہے۔ ’’اپنے مویشیوں اور کھیت کی دیکھ بھال کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ کے بارے میں نہیں سوچ سکا،‘‘ وہ کہتے ہیں، جو تور اور سویابین والے اپنے کھیتوں میں کھڑے ہیں۔ ’’پچھلے سال، مجھے اپنے آٹھ بیلوں میں سے تین کو چھوڑنا پڑا، کیوں کہ میرے پاس وافر پانی نہیں تھا۔‘‘

پانی کی تلاش میں، بایس کو پرائیویٹ ساہوکار سے ۳ لاکھ روپے قرض لینے پڑے۔ ’’اس کی شرحِ سود ہر روز بڑھ رہی ہے،‘‘ بایس کہتے ہیں، جن کے دو بیٹے مزدوری کرتے ہیں اور دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے۔ ’’لیکن میں گاؤں میں بڑھئی کا بھی کام کرتا ہوں۔ اوسطاً میں ایک دن میں ۵۰۰ روپے کما لیتا ہوں۔ اس کی وجہ سے بحران کے دوران بھی میری زندگی چل رہی ہے۔‘‘

Bayas standing on the street

’جب آپ پانی کے لیے پریشان ہوتے ہیں، تو آپ کھدائی کرتے رہتے ہیں،‘ دتو سنگھ بایس بتاتے ہیں کہ کیسے آٹھ بورویل کی کھدائی کرنے کے لیے انھوں نے ۳ لاکھ روپے کے قرض جمع کر لیے

مراٹھواڑہ میں زیادہ تر بورویل جون سے ۴۔۳ مہینے پہلے کھودے جاتے ہیں، جب پانی کے قدرتی ذخائر خشک ہونے لگتے ہیں اور کھیتوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مراٹھواڑہ سے کوئی ندی نہیں نکلتی، اور کسانوں کے پاس بورویل کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ اس قلت کی دوہری مار تب پڑتی ہے، جب موسم میں گڑبڑی ہونے لگتی ہے اور حکومت کی پالیسی گنے جیسی زیادہ پانی کی ضرورت والی فصل کے فروغ سے متعلق ہوتی ہے۔ اب پانی کی قلت اتنے بڑے پیمانے پر ہے کہ مراٹھواڑہ کے کسانوں نے سینچائی کے لیے بھی بورویل کا پانی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ یہ صرف پینے کے لیے ہی پانی کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔

زیر زمین پانی نکالنے سے متعلق ڈھیلے ڈھالے قانون کی وجہ سے بورویل کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ صرف دو قانون ہیں، اور ان کی بھی ہمیشہ خلاف ورزی کی جا رہی ہے: ریاستی انتظامیہ نامہ نگاروں کو بتاتی ہے کہ کوئی بھی کسان پانی کے عوامی ذریعہ کے ۵۰۰ میٹر کے اندر ۲۰۰ فٹ سے زیادہ گہرا بورویل نہیں کھود سکتا۔ لیکن، کسانوں نے ۱۰۰۰ فٹ گہرائی تک بورویل کھود رکھے ہیں۔ بایس کے آٹھ بورویلس میں سے چار ۴۰۰ فٹ گہرے ہیں۔ ’’جب آپ پانی کے لیے پریشان ہوتے ہیں، تو آپ کھدائی کرتے رہتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اس سے گہرائی میں موجود وہ پانی ڈسٹرب ہوتا ہے، جسے دوبارہ بھرنے میں سینکڑوں سال لگیں گے۔ یہ حرکت اس علاقہ کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

پچھلے موسم میں ۱۲۰ فیصد بارش کے باوجود، مراٹھواڑہ کے کل ۷۶ تعلقوں میں سے ۵۵ میں زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی، جب کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران زیر زمین پانی کی سطح اوسطاً ٹھیک تھی، یہ ریاستی گراؤنڈ واٹر سروے اینڈ ڈپارٹمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے۔ بیڈ (۱۱ تعلقوں میں سے ۲) اور لاتور (۱۰ تعلقوں میں سے ۴) کو چھوڑ کر، سبھی چھ ضلعوں میں یہ سطح خطرناک حد تک نیچے گری ہے: عثمان آباد کے ۸ میں سے ۵ میں، اورنگ آباد کے سبھی ۹ تعلقے، اور ناندیڑ کے ۱۶ تعلقوں میں سے ۱۶ میں زیر زمین پانی کی سطح نیچے جا چکی ہے۔

Man carrying pots on a bicycle

مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ خطہ میں پانی کا بحران چونکہ شدید ہوتا جا رہا ہے، اس لیے لوگوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے لمبی دوریاں طے کرنی پڑیں گی

لیکن اس کی اب بھی کوئی حد مقرر نہیں ہے کہ ایک فیملی کتنے بورویل رکھ سکتی ہے۔ تمام ضلعوں کی انتظامیہ کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کہ کتنے بورویل موجود ہیں۔ عثمان آباد کے اسٹینڈ۔اِن کلکٹر، سنیل یادو (اپریل میں) بتاتے ہیں کہ بورویل کی گہرائی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری گرام پنچایت کی ہے، لیکن وہ ایسا نہیں کر رہی ہے۔ ایسے میں نگرانی رکھنے کی یہ ذمہ داری کلکٹر اور ریاست پر آ جاتی ہے۔

انتظامیہ کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ ضلع میں کام کرنے والے ایجنٹوں کی تعداد کتنی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ عثمان آباد میں سفر کرتے وقت، آپ کو تقریباً ہر تین منٹ کی دوری پر بورویل ایجنٹ کی دکان نظر آ جائے گی۔ یہ ایجنٹ کسانوں کو بورویل کھودنے میں مدد کرتے ہیں۔

ٹاک ویکی کے باہر ایسے ہی ایجنٹوں میں سے ایک، دیانند ڈھاگے بتاتے ہیں کہ اپریل کے آخری ہفتہ میں انھوں نے ۳۰ بورویل کی کھدائی میں کسانوں کی مدد کی۔ ’’کسان ہم سے رابطہ کرتے ہیں، اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے لیے سامان اور ٹرک پر لدے ہوئے بورویل رِگ کا انتظام کریں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’کسان ہمیں نقد پیسے دیتے ہیں، اور ہم ٹرک کے مالکوں سے ماہانہ بنیاد پر پیسے کا حساب کتاب کرتے ہیں۔‘‘

رِگ کے زیادہ تر مالک تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے ہیں، اور مہاراشٹر میں انہی ایجنٹوں کے توسط سے آپریٹ کرتے ہیں۔ مراٹھواڑہ میں ایسے کتنے ٹرک کام کر رہے ہیں، ان کی تعداد کسی کو نہیں معلوم۔

اس طرح سے پوری اقتصادیات غیر منظم ہے، اسی لیے سروِس ٹیکس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان ایجنٹوں کو یا مالکوں کو پہلے کوئی منظوری لینی پڑتی ہے یا پھر اس کاروبار کو چلانے کے لیے کسی ضابطے پر عمل کرنا ہوتا ہے، سنیل یادو اور گراؤنڈ واٹر ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر کے پاس اس کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں ہے۔

بورویل کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی قانون نہ بناکر، ریاستی حکومت اس لابی کی مدد کر رہی ہے جو کھلے میدان میں آپریٹ کر رہے ہیں۔ ’’اس ایشو پر آنکھیں موند کر، ریاستی حکومت بورویل کے بازار کو پھلنے پھولنے کا پورا موقع دے رہی ہے،‘‘ عثمان آباد ڈسٹرکٹ بورڈ کے ایک افسر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتاتے ہیں۔ ’’کوئی پالیسی نہ ہونے سے اس بحران کا غلط استعمال کرنے والے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘‘

A kid with a pot in Takwiki

پانی کے لیے پریشان: پانچ سال کے بچے بھی ٹاک ویکی گاؤں میں اپنے برتنوں کے ساتھ لائن میں کھڑے ہیں

دریں اثنا، ٹاک ویکی میں، بایس کہتے ہیں کہ وہ کچھ پیسہ بچانے کے لیے مقررہ وقت سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔ ان کے اوپر ۳ لاکھ روپے کا قرض ہے۔ مزید برآں بوائی کا موسم سر پر ہے، اور انھیں اس کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ اس کے لیے پیسے نہیں بچا رہے ہیں۔ ’’ایک اور بورویل؟‘‘ میں ان سے پوچھتا ہوں۔ وہ جواب دیتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

تصویریں: پارتھ ایم این

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ’لاس اینجلیس ٹائمز‘ کے ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار ہیں اور کئی آن لائن پورٹل پر فری لانس کام کرتے ہیں۔ انھیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.