دشرتھ سنگھ اس سال کی شروعات سے ہی راشن کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اُمریا ضلع کے مقامی اہلکار ان سے ہر بار یہی کہتے ہیں کہ ان کی درخواست ابھی زیر التوا ہے۔

’’وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر میں ۱۵۰۰ روپے ادا کر دوں، تو فارم قبول کر لیا جائے گا،‘‘ وہ الزام لگاتے ہیں۔ ’’لیکن میں نے پیسے ادا نہیں کیے ہیں...‘‘

دشرتھ کٹاریا گاؤں میں رہتے ہیں، جو مدھیہ پردیش کے اُمریا ضلع کی باندھو گڑھ تحصیل میں ہے۔ یہاں، وہ اپنے کھیت پر کام کرتے ہیں اور آس پاس کے منریگا مقامات پر ہر مہینے کچھ دنوں تک کام کرکے ۱۰۰ روپیے یومیہ مزدوری پاتے ہیں۔ وہ اکثر مقامی نجی ساہوکاروں سے لیے گئے قرض پر منحصر رہتے ہیں – لاک ڈاؤن کے دوران، ایک بار انہوں نے ۱۵۰۰ روپے کا قرض لیا تھا۔

راشن کارڈ – جو خط افلاس والے کنبوں کے لیے عام دنوں میں ضروری ہے، اور لاک ڈاؤن کے دوران یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے – نہ ہونے کے سبب دشرتھ کی فیملی کو بازار سے غذائی اجناس خریدنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ’’کھیتی سے ہمیں کچھ حد تک اپنا کام چلانے میں مدد مل جاتی ہے،‘‘ دشرتھ کی بیوی، ۲۵ سالہ سریتا سنگھ کہتی ہیں۔ فیملی کے پاس ڈھائی ایکڑ کھیت ہے، جس پر وہ گیہوں اور مکئی کے ساتھ خاص طور سے کودو اور کُٹکی باجرا اُگاتے ہیں۔

اس بیچ، ۴۰ سالہ دشرتھ راشن کارڈ حاصل کرنے کی لگاتار کوشش کر رہے ہیں۔ ’’اس سال ۲۶ جنوری کو [کٹاریا کی] گرام سبھا میں، مجھے بتایا گیا تھا کہ کارڈ کے لیے ایک فارم ہے جسے مجھے بھرنا ہوگا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

سرپنچ نے کہا کہ انہیں اپنے گاؤں سے تقریباً ۷۰ کلومیٹر دور، مانپور شہر کے لوک سیوا کیندر میں جانا ہوگا۔ وہاں کا سفر کرنے کے لیے، ایک طرف کا بس کا کرایہ ۳۰ روپے ہے۔ دشرتھ وہاں دو مرتبہ، فروری اور مارچ میں گئے تھے – یعنی بس سے کل چار سفر اور ٹکٹ۔ ۲۳ مارچ کو (مدھیہ پردیش میں) لاک ڈاؤن شروع ہونے سے پہلے، وہ اپنے گاؤں سے تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور، باندھو گڑھ شہر میں واقع تحصیل سطح کے دفتر میں بھی گئے تھے۔ یہاں انہیں ایک الگ آئی ڈی (شناختی کارڈ) بنوانے کے لیے کہا گیا تھا، اسی لیے فارم کو پروسیس نہیں کیا جا سکا۔

اُس الگ آئی ڈی کے لیے، مانپور واقع کیندر کے اہلکاروں نے دشرتھ کو کرکیلی کے بلاک سطحی دفتر میں جانے کو کہا، جو تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور ہے۔ ’’انہوں نے کہا کہ میرے نام سے ایک الگ آئی ڈی کارڈ کی ضرورت ہے۔ میرے پاس ایک مشترکہ کارڈ تھا، جس پر میرے بھائیوں سمیت فیملی کے دیگر ممبران کے نام درج تھے۔ اس لیے میں کرکیلی گیا اور ایک الگ شناختی کارڈ بنوایا،‘‘ دشرتھ کہتے ہیں، جنہوں نے ۱۰ویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ہے۔

Dashrath Singh has been trying to get a family ration card since January, for himself, his wife Sarita and their daughter Narmada
PHOTO • Sampat Namdev
Dashrath Singh has been trying to get a family ration card since January, for himself, his wife Sarita and their daughter Narmada
PHOTO • Sampat Namdev

دشرتھ سنگھ جنوری سے اپنے، اپنی بیوی سریتا اور اپنی بیٹی نرمدا کے لیے فیملی کا راشن کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

وہ جس کارڈ کا ذکر کر رہے ہیں، وہ مدھیہ پردیش کے ذریعے خود کے لیے جاری کیا گیا ایک خصوصی شناختی نمبر ہے، جو (سمگر ساماجک سرکشا مشن کے) سمگر آئی ڈی کے نام سے مشہور ہے۔ اسے ۲۰۱۲ میں غذائی تحفظ کی اہلیت، منریگا کی ادائیگی، وظیفہ، پنشن اور دیگر فائدوں کو فیملی یا کسی آدمی کے بینک کھاتے میں براہِ راست بھیجنے کے ارادے سے شروع کیا گیا تھا۔ ہر فیملی کو آٹھ عدد کی سمگر آئی ڈی تقسیم کی جاتی ہے، اور ہر آدمی کو نو عدد کی آئی ڈی ملتی ہے۔

لیکن، راشن کارڈ حاصل کرنے کے لیے دشرتھ کو کئی چکر لگانے پڑے اور ناکام کوشش کرنی پڑی، جب کہ مدھیہ پردیش حکومت کے ’لوک سیوا گارنٹی قانون‘ میں انہی پریشانیوں کو دور کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ قانون (جسے ایم پی لوک سیوا گارنٹی قانون بھی کہا جاتا ہے) سرکاری خدمات کو کارگر بنانے اور آدھار کارڈ، پنشن، راشن کارڈ وغیرہ کے لیے پروسیسنگ کی درخواستوں میں ایجنٹوں کے رول کو کم کرنے کے لیے ۲۰۱۰ میں پاس کیا گیا تھا۔ اس میں مقررہ میعاد کے اندر خدمات پہنچانے پر زور دیا گیا تھا، اور نامزد اہلکاروں کے سامنے اور ایم پی ای- ڈسٹرکٹ پورٹل جیسے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں سے اپیل کرنے کے التزامات شامل تھے۔

ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی سے دشرتھ اور کٹاریا گاؤں کے تقریباً ۴۸۰ رہائشیوں میں سے کسی کو بھی کوئی مدد نہیں ملی، جو اب بھی کھیتوں اور دفتروں کے چکر لگا رہے ہیں۔ ’’ہمارے گاؤں میں صرف ایک کیرانے کی دکان ہے، جس کا مالک انٹرنیٹ کے پیسے لیتا ہے، لیکن ہم اس پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے،‘‘ دشرتھ کہتے ہیں۔ ’’میں دفتر جاکر فارم جمع کرنا پسند کرتا ہوں۔‘‘ لہٰذا ان کے اور کئی دیگر لوگوں کے لیے، یہ ضلع سطحی دفاتر یا لوک سیوا مراکز ہیں، جہاں درخواست فارم جمع کیے جا رہے ہیں۔

اور سمگر آئی ڈی کے لیے، بھلے ہی مدھیہ پردیش حکومت نے ۲۲ سماجی و اقتصادی زمروں کی شناخت کی ہے، جس میں بی پی ایل کنبے، بے زمین مزدور اور نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ کے التزامات کے حقدار کنبے شامل ہیں۔ لیکن، بھوپال واقع کھانے کے حق کے کارکن اور وکاس سمواد کے ڈائرکٹر، سچن جین کا الزام ہے کہ یہ اسکیم بھی بدعنوانی میں مبتلا ہے۔

ویڈیو دیکھیں: مدھیہ پردیش میں دفاتر کے چکر لگانا – راشن کارڈ بنوانے کے لیے دشرتھ سنگھ کا لمبا سفر

’ہمارے گاؤں میں صرف ایک کیرانے کی دکان ہے، جس کا مالک انٹرنیٹ کے پیسے لیتا ہے، لیکن ہم اس پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے... میں دفتر جاکر فارم جمع کرنا پسند کرتا ہوں‘

اس کے علاوہ، جین کہتے ہیں، جو لوگ اس کے اہل نہیں تھے وہ بھی فائدہ حاصل کرنے کے لیے قطار میں شامل ہو گئے۔ ’’ایک آدمی کا تعلق ایک ہی وقت میں دو زمروں سے ہو سکتا ہے، جیسے درج فہرست ذات کے ساتھ ساتھ بے زمین مزدور۔ اس لیے، سمگر اتھارٹی سالانہ اپڈیٹ کرنے کی سرگرمی کے ایک حصہ کے طور پر ری- ڈوپلیکیشن کا کام کرتی رہی ہے،‘‘ جین کہتے ہیں، جہاں کنبوں کو الگ الگ آئی ڈی حاصل کرنے کی صلاح دی جاتی ہے۔

چونکہ دشرتھ کی توسیع شدہ فیملی کے پاس ۲۰۱۲ میں فراہم کردہ ایک مشترکہ سمگر آئی ڈی تھی، اس لیے انہیں کرکیلی کے بلاک سطحی دفتر میں پہلے اپنی خود کی فیملی کے لیے لوک سیوا کیندر سے، ایک الگ خصوصی شناخت نمبر حاصل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ فروری ۲۰۲۰ میں، یہ کام ہو جانے کے ایک ہفتہ بعد، اُمریا کے ضلع سطحی لوک سیوا کیندر میں، دشرتھ کو راشن کارڈ حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر ۱۵۰۰ روپے رشوت دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ (یہ رپورٹر ان الزامات کی تصدیق نہیں کر سکی۔ اُمریا ضلع کے لوک سیوا کیندر سے لینڈ لائن پر کوئی ردِ عمل نہیں مل پایا۔ اور دفتر کو بھیجے گئے ای میل کا بھی اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔)

’’میں پیسے ادا نہیں کر سکا یا بعد میں جمع نہیں کر سکتا،‘‘ دشرتھ نے مئی میں اس رپورٹر کو بتایا تھا، وہ اس بات سے فکرمند تھے کہ لاک ڈاؤن کے دوران منریگا کا کام دستیاب نہ ہونے سے اگلے کچھ مہینوں تک کیسے کام چلائیں گے۔

دشرتھ اور سریتا کی دو سال کی ایک بیٹی ہے، جس کا نام نرمدا ہے۔ دشرتھ کی ۶۰ سالہ ماں، رام بائی بھی ان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ ’’میں سلائی کا کام کرتی ہوں، جس سے ہر مہینے ۱۰۰۰ روپے مل جاتے ہیں، لیکن وہ بھی موسم پر منحصر ہے – جب گاؤں میں شادیوں کا موسم قریب آ رہا ہو،‘‘ سریتا بتاتی ہیں۔ وہ بھی کام دستیاب نہ ہونے پر، مہینہ میں کچھ دنوں کے لیے منریگا مقامات پر کام کرتی ہیں اور ۱۰۰ روپے یومیہ پاتی ہیں۔ ’’ہم اپنے کھیت پر جو کچھ بھی اُگاتے ہیں، وہ ہمارے کھانے کے لیے کافی ہے۔ اس لیے ہم عام طور پر پیداوار کو بازار میں فروخت نہیں کرتے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

Dashrath's 2.5 acres of land yields just enough produce to feed his family
PHOTO • Sampat Namdev

دشرتھ کی ڈھائی ایکڑ زمین سے ان کی فیملی کے کھانے کے لیے مناسب پیداوار مل جاتی ہے

اُمریا میں زرعی پیداوار زیادہ نہیں ہے۔ ۲۰۱۳ کی سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ کی رپورٹ کے مطابق، اُمریا ضلع ’’مختلف قسم کی چٹانوں، جیسے کہ بیسالٹک، سیڈی مینٹری اور گرینائٹک چٹانوں والے علاقوں پر محیط ہے۔‘‘ یہ اُن ۲۴ ضلعوں میں سے ایک ہے جس کا شمار ریاست نے پس ماندہ علاقوں کی امدادی رقم کے لیے اہل ضلعوں کے طور پر کیا ہے۔ کھیت کی کم پیداوار، خراب بنیادی ڈھانچہ، ایس سی – ایس ٹی کی بڑی آبادی اور بی پی ایل کنبوں کی بڑی تعداد نے اُمریا کو ہندوستان کے ۲۵۰ سے زیادہ ضلعوں میں شامل کیا ہے، جنہیں ۲۰۰۷ سے مختلف ترقیاتی پروگراموں کے لیے مرکز سے اضافی رقم حاصل ہو رہی ہے۔

لیکن، اُمریا کے گاؤوں میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔

کٹاریا گاؤں کے ایک دیگر رہائشی، دھیان سنگھ کے فوڈ کوپن میں کلرک کی غلطی سے انہیں کم راشن ملتا ہے۔ سمگر آئی ڈی کے افتتاح کے ایک سال بعد، راشن کی تقسیم کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے مدھیہ پردیش حکومت نے ۲۰۱۳ میں ایک نیا نظام شروع کیا تھا، جس کے تحت آئی ڈی سے جڑے فوڈ کوپن دیے جانے لگے۔ ’’میرے پاس کبھی بھی راشن کارڈ نہیں تھا کیوں کہ مجھے اس کے بارے میں بالکل بھی معلوم نہیں تھا،‘‘ دھیان سنگھ کہتے ہیں۔ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ۲۰۱۱ میں انہوں نے ’کرم کاج‘ اسکیم (جیسا کہ اسے مقامی طور پر کہا جاتا ہے) کے تحت اپنا نام رجسٹر کروایا تھا۔ مدھیہ پردیش کے گونڈ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے دھیان سنگھ کو، ریاست کی قیادت والی سنّرمان کرمکار منڈل اسکیم کے تحت ۱۰ مئی، ۲۰۱۲ کو ایک کارڈ ملا۔

کرمکار کارڈ پر دھیان سنگھ کی فیملی کے تین ممبران کا نام تھا – ان کی بیوی، ۳۵ سالہ پنچھی بائی، اور دو بیٹیاں، ۱۳ سالہ کُسُم اور ۳ سالہ راجکماری۔ فیملی کے پاس پانچ ایکڑ زمین ہے، اور دھیان سنگھ دوسروں کے کھیتوں پر بھی مزدوری کرتے ہیں، جس سے انہیں ۱۰۰ سے ۲۰۰ روپے یومیہ مل جاتے ہیں۔ فیملی کو منریگا کے تحت تعمیراتی کام مہینہ میں صرف ۱۰-۱۲ دنوں کے لیے دستیاب ہوتا ہے۔

دشرتھ کی طرح، دھیان سنگھ کے لیے بھی کودو اور کُٹکی باجرا کی سالانہ پیداوار فیملی کے کھانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ’’ہم لمبے وقت سے کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب تک ہمیں راشن کارڈ نہیں ملا ہے،‘‘ پنچھی بائی کہتی ہیں، جو ایک کسان اور خاتونِ خانہ ہیں۔ حالانکہ، دونوں بچوں کو اسکول میں مڈ ڈے میل ملتا ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔

A clerical error in the Dhyan Singh's food coupon has ensured he gets less rations
PHOTO • Sampat Namdev

دھیان سنگھ کے فوڈ کوپن میں کلرک کی غلطی سے انہیں کم راشن ملتا ہے

کرمکار اسکیم، جسے ۲۰۰۳ میں شروع کیا گیا تھا، کا مقصد سبھی غیر روایتی مزدوروں کو بزرگی پنشن، فیملی پنشن اور طالب علموں کو وظیفہ جیسے مختلف فوائد حاصل کرنے کے لیے صرف ایک کارڈ سے جوڑنا تھا۔ ’’پہلے کرمکار کارڈ بنواؤ، پھر تمہیں کوپن مل جائے گا،‘‘ دھیان سنگھ نے سرپنچ کے ساتھ اپنی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے کہا۔ انہیں کارڈ تو مل گیا، لیکن ۲۰۱۱ کے بعد پانچ سال تک راشن نہیں ملا کیوں کہ ان کے نام پر فوڈ کوپن جاری نہیں کیا گیا تھا – انہیں ۲۰۱۶ میں جاکر کوپن ملا۔

جب ۲۲ جون ۲۰۱۶ کو یہ کوپن جاری کیا گیا، تو اس پر پنچھی بائی کا نام نہیں تھا، اور صرف دھیان سنگھ اور ان کی دو بیٹیوں کا نام درج تھا۔ انہوں نے اس غلطی کو درست کروانے کی کوشش کی، لیکن ان کی بیوی کا نام اب بھی غائب ہے۔ فوڈ کوپن سے فیملی کو فی کس ہر ماہ ۵ کلو راشن – چاول، گیہوں اور نمک ملتا ہے۔ ’’یہ کافی نہیں ہے، ہم دن میں صرف ایک بار ہی ٹھیک سے کھانا کھاتے ہیں،‘‘ دھیان سنگھ کہتے ہیں۔

مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعے جمع کردہ سمگر ڈیٹا کے مطابق، ۱۶ جولائی ۲۰۲۰ تک اُمریا ضلع میں راشن کارڈ کے لیے جو کل ۳۵۶۴ درخواستیں موصول ہوئی تھیں، ان میں سے ریاست کے محکمہ برائے خوراک اور سول سپلائیز کے ضلع سپلائی افسر اور جونیئر سپلائی افسر کے ذریعے صرف ۶۹ درخواست قبول کیے گئے۔ اُمریا میں تقریباً ۳۴۹۵ درخواستوں پر کارروائی ہونی باقی تھی۔ (اس رپورٹر نے سمگر مشن کے ڈائرکٹر کے دفتر کو ایک میل بھیجا ہے، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔)

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ نے ۲۶ مارچ ۲۰۲۰ کو اعلان کیا تھا کہ کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران، تمام بی پی ایل کنبوں کو ایک مہینہ کے لیے راشن مفت ملے گا۔ لیکن مقامی کارکنوں کا مشورہ ہے کہ عارضی اصلاحات کے بجائے طویل مدتی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا، دشرتھ سنگھ اپنے کھیت پر کام کرنے میں مصروف ہیں۔ ’’میرے پاس اب مقامی بابوؤں کے پاس جانے کا وقت نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ بوائی کا موسم چل رہا ہے اور وہ اچھی پیداوار کی امید لگائے ہوئے ہیں، تاکہ ان کی فیملی راشن کارڈ نہ ہونے کی حالت میں بھی اپنا کام چلا سکے۔

دیہی مدھیہ پردیش میں کم غذائیت پر توجہ مرکوز کرنے والے این جی او، وکاس سمواد سے وابستہ، کٹاریا گاؤں کے سماجی کارکن، سمپت نام دیو کے اِن پُٹ کے ساتھ۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Akanksha Kumar

آکانکشا کمار دہلی میں مقیم ایک آزادی صحافی ہیں۔ وہ ایک سابق کل وقتی ڈیجیٹل اور ٹی وی جرنلسٹ ہیں، اور دیہی امور، ماحولیات اور سرکاری اسکیموں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔

Other stories by Akanksha Kumar