’’کیمرہ تو دھات کا ایک ٹکڑا ہے، جس میں سوراخ ہوتا ہے۔ تصویر آپ کے دل میں اترتی ہے۔ آپ کا ارادہ ہی آپ کے کانٹینٹ یا مواد کا تعین کرتا ہے۔‘‘
پی سائی ناتھ

جھکنا، سنبھلنا، بنانا، زور لگانا، اٹھانا، جھاڑو لگانا، کھانا پکانا، فیملی کی دیکھ بھال کرنا، مویشی چرانا، پڑھنا، لکھنا، بُنائی کرنا، موسیقی تیار کرنا، رقص کرنا، گانا اور جشن منانا…تصویریں الفاظ کے ساتھ مل کر دیہی ہندوستان کے لوگوں کی زندگی اور کام کاج کے بارے میں گہری اور زیادہ واضح سمجھ پیدا کرتی ہیں۔

پاری کی تصویریں مجموعی یادداشتوں کی وژوئل دستاویز تیار کرنے کی کوشش ہے۔ یہ تصویریں ہمارے دور کی صرف دستاویز نہیں ہیں، بلکہ وہ دروازہ ہیں جس سے ہو کر ہم خود سے اور اپنے آس پاس کی دنیا سے جُڑ پاتے ہیں۔ تصویروں کا ہمارا وسیع مجموعہ اُن کہانیوں کو بیان کرتا ہے جنہیں عام دھارے کی میڈیا میں جگہ تک نہیں ملتی ہے – یعنی حاشیہ پر موجود لوگوں، مقامات، زمین، معاش اور محنت کی کہانیاں۔

تصویروں میں درج مسرت، خوبصورتی، خوشی، اداسی، غم، خوف اور خوفناک سچائیاں انسانی زندگی کی تمام کمزوریوں اور لاچاریوں کو بیان کرتی ہے۔ کہانی کا کردار صرف تصویر کھینچنے کا موضوع نہیں ہوتا۔ تصویر میں نظر آ رہے شخص کا نام جاننے سے اس کے تئیں ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اور ایک اکیلی کہانی کئی بڑی سچائیوں کو سمیٹ کر لاتی ہے۔

مگر یہ تبھی ہو سکتا ہے، جب فوٹوگرافر اور فوٹو کے موضوع، یعنی اس انسان کے درمیان باہمی تعاون کا جذبہ ہو۔ بے پناہ نقصان اور ناقابل بیان غم کے شکار لوگوں کی تصویر کھینچنے کے لیے کیا ہم نے ان کی رضامندی حاصل کی ہے؟ بالکل حاشیہ پر زندگی بسر کر رہے لوگوں کے وقار کو ٹھیس پہنچائے بغیر تصویریں کیسے کھینچی جا سکتی ہیں؟ فرد یا لوگوں کی تصویریں کس سیاق و سباق میں کھینچی جا رہی ہیں؟ عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی سے متعلق کہانیاں بیان کرنے کے لیے تصویروں کا مجموعہ تیار کرنے کا مقصد کیا ہے؟

ان اہم سوالوں کا سامنا ہمارے فوٹوگرافر کر رہے ہوتے ہیں، خواہ وہ کچھ دنوں یا کچھ سالوں کی مدت میں کسی اسٹوری کا احاطہ کر رہے ہوں، چاہے مشہور فنکاروں، آدیواسی تہواروں، احتجاجی مظاہروں میں کسانوں وغیرہ کی تصویریں کھینچنی ہوں۔

فوٹوگرافی کے عالمی دن کے موقع پر ہم آپ کے لیے لے کر آئے ہیں تصویروں کا ایک ایسا مجموعہ جسے فوٹوگرافرز نے پاری پر شائع ہونے والی اپنی اسٹوریز کے لیے کھینچی ہیں۔ اپنی تحریروں کے ذریعے وہ ہمیں یہ بھی بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ تصویریں کب اور کن حالات میں کھینچیں اور ان کی نظر میں ان تصویروں کی کیا اہمیت ہے۔ فوٹوگرافرز کے نام انگریزی کے حروف کی ترتیب کے مطابق دیے گئے ہیں:

آکانکشا: ممبئی، مہاراشٹر

PHOTO • Aakanksha

یہ تصویر ’ ممبئی لوکل میں گونجتی سارنگی کی دُھن ‘ سے لی گئی ہے۔ یہ اسٹوری میں نے سارنگی بجانے والے کشن جوگی پر لکھی تھی، جو ممبئی کی لوکل ٹرین میں پرفارم کرتے ہیں۔ ان کی چھ سال کی بیٹی بھارتی بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔

ان کی یہ اسٹوری ایسے کئی فنکاروں کی کہانی بیان کرتی ہے جنہیں میں بچپن سے دیکھتی آئی ہوں۔ میں نے انہیں دیکھا اور سنا، لیکن فنکار کے طور پر کبھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس اسٹوری کو درج کرنا میرے لیے ضروری تھا۔

چلتی ٹرین کی بھیڑ بھاڑ میں ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے تک گھومتے پھرتے ہوئے، ان کے سفر کے درمیان یہ فوٹو شوٹ کیا گیا تھا۔

تیز رفتار کی وجہ سے سانس اکھڑنے کے باوجود مجھے یہ سوچتے رہنا تھا کہ خود کو کہاں رکھنا ہے، جب کہ کشن بھیا آسانی سے اپنے پرفارم کرنے کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے میں جاتے، مگر ان کی موسیقی مسحور کن تھی، اور ٹرین ان کا اسٹیج تھا۔

اپنے ویو فائنڈر کے ذریعے انہیں دیکھتے ہوئے، شروع میں تو مجھے لگا تھا کہ وہ ہچکچائیں گے اور کیمرے کو دیکھ کر محتاط ہو جائیں گے، لیکن میں غلط تھی – فنکار اپنے فن میں ڈوب گیا تھا۔

ان کے آرٹ میں جو توانائی تھی، وہ ڈبے میں سوار تھکے ماندے مسافروں کے بالکل برعکس تھی۔ اسی تضاد کو میں نے اس تصویر میں اتارنے کی کوشش کی ہے۔

*****

بنیفر بھروچ: مغربی کمینگ، اروناچل پردیش

PHOTO • Binaifer Bharucha

یہ تصویر میں نے ’ خطرے کو بھانپ کر مسکن بدلتے اروناچل کے پرندے ‘ اسٹوری کے لیے کھینچی تھی۔

آئتی تھاپا (تصویر میں موجود) کے پیچھے دوڑ بھاگ کرتے ہوئے، اوپر نیچے سرسبز و شاداب پیڑ پودوں سے بھرے سانپ جیسے راستے، پھسلن بھری مٹی پر کھسکتے اور امید کرتے ہوئے کہ مجھ سے کہیں جونک نہ چپک جائیں۔ پرندوں کی آواز خاموشی کو توڑ رہی تھی۔ ہم ماحولیاتی تبدیلی پر ایک اسٹوری کرنے کے لیے اروناچل پردیش کی ایگل نیسٹ سینکچری میں موجود تھے۔

سال ۲۰۲۱ سے آئتی یہاں پرندوں کی انواع کا مطالعہ کرنے والی ایک تحقیقی ٹیم کی رکن ہیں۔ جنگل میں ٹیم کے ذریعے لگائے گئے جال میں پرندے پھنس جاتے ہیں۔ انہیں دھیرے دھیرے نکالنا مشکل کام ہوتا ہے، لیکن وہ اسے تیزی کے ساتھ، مگر احتیاط سے انجام دیتی ہیں۔

میرا دل تیزی سے دھڑک رہا ہے کہ میں نے روفس کیپڈ بیبلر کی نازک سی شکل کو نرمی سے دیکھ رہی آئتی کو کیمرے میں قید کر لیا ہے۔ یہ قدرتی ماحول کے درمیان انسان اور پرندوں کے رشتے اور باہمی اعتماد کا ایک جادوئی لمحہ ہے۔ پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی مردوں کے غلبہ والی ٹیم میں وہ صرف دو مقامی خواتین میں سے ایک ہیں۔

مضبوط اور شائستہ آئتی خاموشی سے صنف کی رکاوٹیں توڑتے ہوئے اس اسٹوری کی ایک بیحد اہم تصویر بن گئی ہیں۔

*****

دیپتی استھانا: رام ناتھ پورم، تمل ناڈو

PHOTO • Deepti Asthana

دھنش کوڑی، تمل ناڈو کے مقدس شہر رامیشورم سے صرف ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ ایک طرف خلیج بنگال اور دوسری طرف بحر ہند سے ملحق زمین کا یہ چھوٹا سا مگر شاندار ٹکڑا ہے، جو سمندر سے باہر کی طرف نکلا ہوا ہے! لوگ گرمیوں کے چھ مہینوں کے دوران خلیج بنگال میں مچھلیاں پکڑتے ہیں اور جب ہوا بدلتی ہے، تو بحر ہند کی طرف چلے جاتے ہیں۔

دھنُش کوڑی کے بھلا دیے گئے لوگ ‘ اسٹوری کرنے کے لیے یہاں آنے کے کچھ دنوں بعد ہی مجھے محسوس ہوا کہ اس علاقے میں پانی کا شدید بحران ہے۔

دونوں طرف سمندر سے گھرا ہونے کی وجہ سے ہر دن تازہ پانی حاصل کرنا ایک چیلنج ہے۔ عورتیں اکثر روزمرہ کے استعمال کے لیے پانی کا برتن بھرنے کی خاطر اپنے ہاتھوں سے گڑھا کھودتی ہیں۔

اور یہ سلسلہ لگاتار چلتا رہتا ہے، کیوں کہ پانی جلد ہی کھارا (نمکین) ہو جاتا ہے۔

اس تصویر میں وسیع قدرتی منظر کے سامنے موجود عورتوں کا گروپ اسے دلچسپ بناتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ زندگی کی بنیادی ضروریات کی کمی کو بھی دکھاتا ہے جو ہر انسان کا حق ہے۔

*****

اندرجیت کھامبے: سندھو دُرگ، مہاراشٹر

PHOTO • Indrajit Khambe

اوم پرکاش چوہان گزشتہ ۳۵ سالوں سے دشاوتار تھیٹر میں خاتون کا کردار نبھا رہے ہیں۔ ۸۰۰ سے زیادہ ناٹکوں میں شرکت کے ساتھ وہ اس فن کے سب سے مشہور اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنے ناظرین کے لیے دشاوتار کی چمک زندہ رکھے ہوئے ہیں، جیسا کہ آپ میری اس اسٹوری میں دیکھ سکتے ہیں: دشاوتار ناٹکوں سے سجی رات ۔

میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ان کے اس فن کی دستاویز درج کر رہا ہوں اور ان کی کہانی بیان کرنے کے لیے ایک علامتی تصویر لینا چاہتا تھا۔ یہ موقع مجھے تب ملا، جب وہ کچھ سال پہلے ستاردا میں پرفارم کر رہے تھے۔ یہاں (اوپر) وہ ایک ناٹک کے لیے خاتون کردار کے طور پر تیار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس فوٹو میں آپ انہیں ان کے دونوں اوتاروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تصویر ایک خاتون کا کردار نبھانے والے مرد کے بطور ان کی وراثت کے بارے میں بتاتی ہے۔

*****

جوائے دیپ مترا: رائے گڑھ، چھتیس گڑھ

PHOTO • Joydip Mitra

میں نے رام داس لیمب کی کتاب ’ریپٹ ان دا نیم‘ تب پڑھی تھی، جب کئی دہائیوں سے ہندو انتہا پسندوں کے ذریعے رام کی بالکل اُلٹی شبیہ ہندوستان میں مقبولیت حاصل کر رہی تھی۔

اس لیے میں فوراً اکثریتی طبقہ کے ذریعے پیش کیے گئے اس تصور کا متبادل ڈھونڈنے نکل پڑا، جو مجھے رام نامیوں تک لے گیا۔ پھر برسوں میں نے انہیں قریب سے جانتے ہوئے ان کا حصہ بننے کی کوشش کی۔

رام کے نام ‘ اسٹوری کی یہ تصویر ان کمزور اور محروم لوگوں کی ترجمانی کرتی ہے جو اگر مضبوط ہوتے، تو ہندوستان کو اس کی موجودہ صورتحال تک آنے سے بچا سکتے تھے۔

*****

مزمل بھٹ: سرینگر، جموں و کشمیر

PHOTO • Muzamil Bhat

جگر دید کی یہ تصویر میری اسٹوری ’ جگر دید کے دکھ درد ‘ کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ یہ ہمیں ان کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔

مجھے جگر دید کے بارے میں ایک مقامی اخبار سے پتہ چلا تھا، جس نے کووڈ۔۱۹ وبائی مرض کے دوران کی جدوجہد کی کہانی شائع کی تھی۔ میں ان سے ملنے اور ان کی کہانی جاننے کو بے تاب تھا۔

جب میں ڈل جھیل میں ان کی ہاؤس بوٹ پر پہنچا، تو وہ ایک کونے میں گہری سوچ میں ڈوبی بیٹھی تھیں۔ اگلے ۱۰-۸ دنوں تک میں ان سے ملنے جاتا رہا۔ انہوں نے مجھے گزشتہ ۳۰ سال کی تنہائی کے بارے میں بتایا۔

ان کی اسٹوری لکھنے کے دوران میرے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ مجھے لگاتار چیزیں دہرانی پڑتی تھیں کیوں کہ وہ ڈمینشیا کی مریض تھیں۔ ان کے لیے چیزیں یاد رکھنا اور کبھی کبھی مجھے پہچاننا تک مشکل ہو جاتا تھا۔

یہ میری پسندیدہ تصویر ہے، کیوں کہ اس میں ان کے چہرے کی جھریاں قید ہو گئی ہیں۔ میرے خیال سے ہر جھری ایک کہانی بیان کرتی ہے۔

*****

پلانی کمار: تروولور، تمل ناڈو

PHOTO • M. Palani Kumar

گووندمّا پر رپورٹنگ ایک لمبے عرصے تک چلنے والا پروجیکٹ تھا۔ میں نے ان سے ۳-۲ سال تک بات کی، لاک ڈاؤن سے پہلے اور اس کے بعد۔ میں نے ان کے خاندان کی تین نسلوں – گووندمّا، ان کی ماں، ان کے بیٹے اور ان کی پوتی کی تصویریں کھینچیں۔

جب میری اسٹوری ’ گووِندمّا: جنہوں نے پوری زندگی پانی میں گزار دی ‘ شائع ہوئی تو لوگوں نے اسے خوب شیئر کیا، کیوں کہ یہ شمالی چنئی میں ماحولیات کے موضوع پر لکھی گئی تھی۔

تروولّور کے کلکٹر نے پٹّہ (زمین کی ملکیت کی دستاویز) سونپے اور لوگوں کو پنشن دی گئی۔ ساتھ ہی، ان کے لیے نئے گھر بھی بنوائے گئے۔ اس لیے اسٹوری میں یہ تصویر میرے لیے خاص ہے۔ اس کے بعد یہ کیس اپنے انجام تک گیا۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میرے لیے زندگی بدلنے والی تصویر ہے۔

*****

پرشوتم ٹھاکر: رائے گڑا، اوڈیشہ

PHOTO • Purusottam Thakur

میں اس ننھی بچی ٹینا سے تب ملا تھا، جب اپنی اسٹوری ’ نیامگیری میں شادی کی ایک تقریب ‘ کے لیے رپورٹنگ کر رہا تھا۔ وہ شادی میں حصہ لینے آئی تھی۔ جب میں نے یہ تصویر کھینچی، تو وہ اپنے والد کے ساتھ ایک مٹی کے گھر کے برآمدے کے سامنے کھڑی تھی۔

لڑکی ’گڑکھو‘ (تمباکو اور گڑ سے بنا پیسٹ) سے اپنے دانت صاف کر رہی تھی۔ مجھے اچھا لگا کہ وہ فوٹو کھنچوانے کے لیے تیار تھی۔

یہ تصویر مجھے آدیواسیوں کے فلسفہ کی بھی یاد دلاتی ہے۔ یہ ان کی اپنی زمین اور نیامگیری پہاڑی کے ساتھ ہی ان کے آس پاس موجود حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ان کی جدوجہد کو دکھاتی ہے، جس پر وہ اپنے سماجی و ثقافتی اور معاشی زندگی کے لیے منحصر ہیں۔

ان کا فلسفہ دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ انسانی تہذیب کے لیے قدرتی وسائل کا تحفظ کتنا ضروری ہے۔

*****

راہل ایم: مشرقی گوداوری، آندھرا پردیش

PHOTO • Rahul M.

میں نے یہ تصویر ۲۰۱۹ میں اپنی اسٹوری ’وہ گھر…وہ تو سمندر میں ڈوب چکا ہے – وہاں!‘ کے لیے کھینچی تھی۔ میں یاد رکھنا چاہتا تھا کہ اُپّڈا میں ماہی گیروں کی کالونی ایک زمانے میں کیسی دکھائی دیتی تھی۔

ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں اسٹوریز تلاش کرتے وقت مجھے محسوس ہوا کہ سمندر کی آبی سطح بڑھنے سے پہلے ہی کئی گاؤوں متاثر ہو چکے ہیں۔ تصویر کے بائیں جانب ٹوٹی ہوئی عمارت مجھے کھینچتی تھی اور آہستہ آہستہ وہ میری تصویر اور اسٹوری کا موضوع بنتی گئی۔

کسی زمانے میں اس عمارت میں کافی شور و غل ہوا کرتا تھا۔ جو خاندان ۵۰ سال قبل اس عمارت میں آیا تھا، وہ اب اس کے بغل والی سڑک پر پہنچ گیا ہے۔ اُپّڈا میں جو کچھ بھی پرانا تھا، وہ تقریباً سب کچھ سمندر میں ڈوب گیا۔

مجھے لگا کہ اگلی باری اسی عمارت کی ہوگی اور کئی لوگوں نے مجھے ایسا کہا بھی۔ اس لیے میں عمارت کو دیکھنے جاتا رہا، اس کی تصویریں لیتا رہا اور لوگوں سے اس کے بارے میں باتیں کرتا رہا۔ آخرکار، ۲۰۲۰ میں سمندر اس عمارت تک پہنچ ہی گیا۔ یہ میرے تصور سے کہیں زیادہ تیزی سے واقع ہوا تھا۔

*****

رتائن مکھرجی: جنوبی ۲۴ پرگنہ، مغربی بنگال

PHOTO • Ritayan Mukherjee

میری اسٹوری ’ سندربن میں، باگھ کے سائے میں شادی ‘ میں نتیانند سرکار کی فنکارانہ مہارت نے شادی میں آئے مہمانوں کو خوش کر دیا تھا اور میں چاہتا تھا کہ میری تصویریں اس بات کو درج کریں۔

رجت جوبلی گاؤں میں فیملی دلہن کے والد ارجن مونڈل کی یادوں کے ساتھ اس شادی کا جشن منا رہی ہے، جن کی ۲۰۱۹ میں گنگا کے طاس میں شیر کے حملے میں موت ہو گئی تھی اور اس حادثہ نے پوری فیملی کو غمگین کر دیا تھا۔

کسان اور اداکار نتیانند یہاں جھومور گیت، ماں بون بی بی ناٹک اور پال گان جیسی مقامی فنون کی شکلوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تقریباً ۵۳ سالہ کسان اور تجربہ کار پال گان فنکار ۲۵ سال سے زیادہ عرصے سے اس فن کی مشق کر رہے ہیں۔ وہ الگ الگ شو کے لیے ایک سے زیادہ ٹیموں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

*****

ریا بہل: ممبئی، مہاراشٹر

PHOTO • Riya Behl

۲۴ جنوری، ۲۰۲۱ کو سمیُکت شیتکری کامگار مورچہ کے ذریعے بلائے گئے دو دن کے دھرنے میں پورے مہاراشٹر سے ہزاروں کسان جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں جمع ہوئے تھے۔ میں نے اس کے بارے میں اپنی اسٹوری، ممبئی میں کسانوں کا دھرنا: ’کالے قانون واپس لو‘ میں لکھا ہے۔

میں اُس علاقے میں اُس صبح پہلے ہی پہنچ گئی تھی۔ کسانوں کی ٹکڑیوں کا آنا شروع ہو چکا تھا۔ حالانکہ، ہم سبھی صحافی بہترین شاٹ لینے کے لیے تیار ہو کر، شام کو کسانوں کا بڑا گروپ کب آئے گا، اس خبر کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ فوٹوگرافر اپنے اپنے لینس کی پہنچ کے مطابق ڈیوائیڈر پر، دوسرے گاڑیوں اور تمام ممکنہ جگہوں پر کھڑے تھے۔ سب دیکھ رہے تھے کہ کب کسانوں کا ہجوم اس چھوٹے سے راستے پر سیلاب کی طرح امڈے گا اور اس میدان میں داخل ہوگا۔

میں پہلی بار ’پاری‘ کے لیے اسٹوری لکھ رہی تھی۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ شائع ہونے لائق تصویر حاصل کرنے کے لیے ۵ منٹ سے بھی کم وقت ہے۔ خود کو صحیح جگہ رکھنا ضروری تھا۔ مگر اس میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی، کیوں کہ ہمارے ٹھیک سامنے چھترپتی شیوا جی ٹرمنس، تاریخی ریلوے اسٹیشن، چمکدار پیلے، نیلے اور ہرے رنگ میں جگمگا رہا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہی میرا پس منظر رہے گا۔

اچانک سڑک کسانوں سے بھر گئی، جو تیزی سے میرے پاس سے گزر رہے تھے۔ ان میں سے کئی اے آئی کے ایس ایس کی لال ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے۔ یہ میری پسندیدہ تصویر ہے، کیوں کہ یہ دو نوجوان عورتوں کے درمیان کے ایک پل کے ٹھہراؤ کو سامنے رکھتی ہے، جو شاید اس شہر میں پہلی بار آئی تھیں اور کچھ دیکھنے کے ارادے سے رک گئی تھیں۔ بھاری بیگ اور کھانے کے ساتھ انہوں نے سفر میں دن گزارا تھا؛ ان کے رکنے سے کسانوں کے بڑے گروپ کی رفتار دھیمی ہو رہی تھی، جو شاید سفر کی وجہ سے تھکے ماندے تھے اور جلد ہی میدان میں کہیں جگہ لے لینا چاہتے تھے۔ ان عورتوں نے خود کے لیے ایک پل چُرایا تھا، اور خوش قسمتی سے میں اس کی گواہ بن گئی تھی۔

*****

پی سائی ناتھ: رائے گڑا، اوڈیشہ

PHOTO • P. Sainath

ہندوستان کی تصویر

زمین کے مالک کو تصویر کھنچوانے میں فخر محسوس ہو رہا تھا۔ وہ تن کر کھڑا تھا، جب کہ نو خواتین مزدوروں کی قطار جھک کر اس کے کھیت میں روپائی کا کام کر رہی تھی۔ وہ انہیں ایک دن کے کام کے عوض کم از کم مزدوری سے ۶۰ فیصد کم پیسے دے رہا تھا۔

سال ۲۰۰۱ کی مردم شماری ابھی ابھی ختم ہوئی تھی اور ہندوستان کی آبادی پہلی بار نو ہندسوں میں درج کی گئی تھی۔ اور یہاں ہم ہندوستان کی بے شمار حقیقتوں کو ایک نظر میں دیکھ رہے تھے۔

مرد زمیندار فخر سے کھڑا تھا۔ عورتیں کھیت میں جھکی ہوئی تھیں۔ دس فیصد کی آبادی والا سیدھا اور خود اعتمادی کے ساتھ کھڑا تھا، جب کہ ۹۰ فیصد کی آبادی والے لوگ جھکے ہوئے تھے۔

لینس کی نظر سے دیکھیں، تو ایسا لگ رہا تھا کہ ’۱‘ کے بعد ۹ صفر لگے ہوئے ہیں۔ جو ایک ارب کے برابر ہوا، یعنی ہندوستان ہوا۔

*****

سنکیت جین: کولہاپور، مہاراشٹر

PHOTO • Sanket Jain

یہ تصویر میری اسٹوری ’ کولہاپور: پہلوانوں کو نہیں مل رہا پیٹ بھر کھانا ‘ سے لی گئی ہے۔

کسی بھی مقابلہ یا ٹریننگ سیشن کے دوران پہلوان بیحد یکسوئی سے کھیلتے ہیں۔ وہ اپنے مدمقابل کی چالوں پر نظر رکھتے ہیں اور ایک سیکنڈ کے اندر فیصلہ لے لیتے ہیں کہ کیسے بچاؤ یا حملہ کریں گے۔

حالانکہ، اس تصویر میں پہلوان سچن سالونکھے کھوئے ہوئے اور پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ بار بار آنے والے سیلاب اور کووڈ نے دیہی پہلوانوں کی زندگی برباد کر دی، جس سے انہیں چھوٹی موٹی نوکریاں تلاش کرنے یا زرعی مزدور کے طور پر کام کرنے کو مجبور ہونا پڑا۔ اثر اتنا زبردست تھا کہ کُشتی میں لوٹنے کی کوشش کرنے کے باوجود سچن کی توجہ وہاں نہیں تھی۔

اس طرح یہ تصویر کھینچی گئی تھی، جس میں پہلوانوں کو ان کی فکرمندی کی حالت میں دکھایا گیا ہے، اور قدرتی آفات میں اضافہ کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

*****

ایس سینتلیر: ہاویری، کرناٹک

PHOTO • S. Senthalir

پہلی بار میں ہاویری ضلع کے کوننتلے گاؤں میں رتنوّا کے گھر تب گئی تھی، جب فصل کٹنے والی تھی۔ رتنوا ٹماٹر توڑ رہی تھیں، جنہیں بیج نکالنے کے لیے کچلا جانا تھا۔ ان بیجوں کو خشک کر کے ضلع صدر کی بڑی بیج کمپنیوں کو بھیجا جاتا تھا۔

مجھے اُس موسم کے لیے تین مہینے مزید انتظار کرنا پڑا، جب اصل میں ہاتھ سے زیرہ پوشی شروع ہوتی ہے۔ عورتیں پھولوں کی زیرہ پوشی کرنے کے لیے صبح جلدی کام شروع کر دیتی تھیں۔

میں ان کے ساتھ کھیتوں تک جاتی تھی اور ان کے کام کو کیمرے میں قید کرنے کے لیے پودوں کی قطاروں میں ان کے ساتھ گھنٹوں گھومتی تھی۔ اسے میں نے اپنی اسٹوری ’ ہاویری: امیدوں کے بیج پر منحصر رتنوّا کی زندگی ‘ میں درج کیا ہے۔

میں اس اسٹوری کے لیے ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے چھ مہینے سے زیادہ وقت تک تقریباً ہر روز رتنوا کے گھر جاتی رہی تھی۔

یہ میری پسندیدہ تصویروں میں سے ایک ہے، کیوں کہ یہ کام کے دوران ان کے انداز کو دکھاتی ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ ہائبرڈ بیج بنانے میں کتنی محنت لگتی ہے اور عورتیں ان محنت کے کاموں کو کیسے کرتی ہیں۔ وہ لگاتار تین سے چار گھنٹے سے زیادہ وقت گزارتی ہیں اور ہاتھ سے پھولوں کی زیرہ پوشی کرنے کے لیے جھک کر کام کرتی ہیں، جو بیج کی پیداوار کا سب سے ضروری حصہ ہوتا ہے۔

*****

شری رنگ سورگے: ممبئی، مہاراشٹر

PHOTO • Shrirang Swarge

لمبا مارچ: آبلہ پا، پختہ عزم ‘ اسٹوری میں شامل کی گئی یہ تصویر میری پسندیدہ ہے، کیوں کہ یہ احتجاجی مارچ کے جنون اور کہانی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئی ہے۔

جب لیڈر کسانوں سے خطاب کر رہے تھے، تو میری نظر ایک ٹرک پر بیٹھے اس کسان پر پڑی، جو پرچم لہرا رہا تھا۔ میں فوراً ٹرک کے پار گیا اور فریم میں پیچھے بیٹھے کسانوں کے ہجوم کو کیمرے میں قید کرنے کے لیے مرکزی سڑک پر گیا، کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے لمبا انتظار کیا، تو مجھے یہ فریم نہیں ملے گا۔

یہ تصویر اس مارچ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ پارتھ کی لکھی اسٹوری کو اچھی طرح پیش کرتی ہے اور اس میں احتجاجی کسانوں کے اٹوٹ جذبے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یہ تصویر احتجاجی مارچ کا ایک مقبول نظارہ بن گئی، جسے بہت سے لوگوں نے شیئر کیا اور شائع کیا۔

*****

شبھرا دیکشت: کرگل، جموں و کشمیر

PHOTO • Shubhra Dixit

تاری سورو میں بولی جانے والی زبان ’پُرگی‘ یہاں کے اسکول میں تعلیم و تدریس کا ذریعہ نہیں ہے۔ اسکول میں پڑھائی جانے والی زبانیں انگریزی اور اردو ہیں۔ یہ دونوں زبانیں بچوں کے لیے دوسری دنیا کی چیز ہیں اور انہیں مشکل پیش آتی ہے۔ انگریزی کی درسی کتابیں تو اور بھی زیادہ مشکل ہیں۔ صرف یہ زبان ہی نہیں، بلکہ کہانیوں میں روزمرہ کی چیزوں کی مثالیں بھی اس علاقے کے لوگوں کی زندگی کے تجربات سے کافی دور کی ہوتی ہیں۔

میری اسٹوری ’ لداخ کی سورو وادی میں محرم کی عزاداری ‘ میں ہاجرہ اور بتول، جو عام طور پر اپنی اسکولی کتابوں میں بہت دلچسپی نہیں رکھتیں، نظام شمسی کے بارے میں پڑھ رہی ہیں، اور اپنی کتابوں کے ذریعے سیاروں، چاند اور سورج کے بارے میں جاننے کی خواہش مند ہیں اور ان میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

یہ تصویر ماہ محرم کے دوران لی گئی تھی۔ اس لیے لڑکیاں سیاہ کپڑوں میں ملبوس تھیں اور اپنی پڑھائی کے بعد ایک ساتھ امام باڑہ جانے والی تھیں۔

*****

اسمیتا تومولورو: تروولور، تمل ناڈو

PHOTO • Smitha Tumuluru

کرشنن نے ایک رسدار پھل کھایا اور مسکرانے لگے۔ ان کا منہ چمکدار لال گلابی رنگ کا ہو گیا تھا۔ اسے دیکھ کر سبھی بچے پرجوش تھے اور اس پھل کو ڈھونڈنے کے لیے دوڑ پڑے۔ انہوں نے مٹھی بھر نڈھیلّی پڑم اکٹھا کر لیے۔ یہ ایسا پھل ہے جو بازاروں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ وہ اسے ’لپسٹک پھل‘ کہہ رہے تھے۔ ہم سبھی نے کچھ کچھ پھل کھائے اور پھر اپنے گلابی ہونٹوں کے ساتھ سیلفی لی۔

یہ تصویر میری اسٹوری ’ بنگلا میڈو میں دفن خزانے کی کھدائی ‘ سے لی گئی ہے۔ اس میں وہ خوشگوار لمحہ قید ہے، جب کچھ ایرولا مرد اور بچے اپنے گاؤں کے پاس جھاڑیوں والے جنگل میں پھل تلاش کرنے گئے تھے۔

میرے خیال سے، پیچھے کیکٹس اور لمبی گھاس کے درمیان پھل ڈھونڈ رہی بچی کے بغیر یہ تصویر ادھوری ہوتی۔ ایرولا برادری کے بچے کم عمر سے ہی اپنے آس پاس کے جنگلات کے بارے میں گہری سمجھ پیدا کر لیتے ہیں۔ یہ اسٹوری بھی اسی بارے میں ہے۔

’لپسٹک پھل‘ کھانے کا یہ لمحہ ایرولا لوگوں سے جڑے میرے تجربات کا ایک یادگار حصہ رہے گا۔

*****

شویتا ڈاگا: ادے پور، راجستھان

PHOTO • Sweta Daga

میں اچھی تصویریں لینا سیکھ رہی تھی، جب اپنی اسٹوری ’ بیج کی حفاظت کرنے والی راجستھانی عورتیں ‘ کے لیے کئی تصویریں کھینچیں۔

جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں، تو لگتا ہے کہ تب میں بہت سی چیزیں الگ طریقے سے کر سکتی تھی، لیکن یہ ایک سفر ہے۔ غلطیوں کے بغیر آپ نہیں سیکھتے۔

چمنی مینا کی مسکراتی ہوئی تصویر کافی دلکش ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ ان کی مسکراہٹ کے ساتھ تصویر لے پائی!

*****

اُمیش سولنکی: دہیج، گجرات

PHOTO • Umesh Solanki

اپریل ۲۰۲۳ کے ابتدائی دن تھے۔ میں گجرات کے داہود ضلع کے کھرسانہ گاؤں میں تھا۔ ایک ہفتہ سے کچھ وقت پہلے یہاں سیور چیمبر کی صفائی کے دوران، زہریلی گیس کی وجہ سے دم گھٹنے کے سبب پانچ نوجوان آدیواسی لڑکوں میں سے تین کی موت ہو گئی تھی۔ مجھے اپنی اسٹوری ’ گجرات: نالے کی گیس سے آدیواسیوں کی موت ‘ پر کام کرنے کے لیے کنبوں اور بچے ہوئے لوگوں سے ملنا تھا۔

مجھے بھاویش (۲۰ سالہ) کی فیملی کے ساتھ رہنا تھا، جو ’خوش قسمت‘ تھے کہ ان کی جان بچ گئی تھی۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے تین لوگوں کو مرتے دیکھا تھا، جس میں ان کا ۲۴ سالہ بڑا بھائی پریش بھی تھا۔ کچھ دیر بات کر کے فیملی کے مردوں کے ساتھ جب میں گھر کی طرف چلا، تو میں نے دیکھا کہ پریش کٹارا کی ماں سپنا بین مٹی کے گھر کے ٹھیک باہر لیٹی تھیں۔ مجھے دیکھ کر وہ اٹھ کر دیوار سے سہارا لے کر بیٹھ گئیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا میں تصویر لے سکتا ہوں۔ انہوں نے آہستہ سے سر ہلا کر حامی بھری تھی۔

کیمرے میں سیدھے دیکھ رہی ان کی آنکھوں میں دکھ، عدم تحفظ اور غصہ بھرا ہوا تھا۔ ان کے پیچھے پھیلا ہوا زرد رنگ ان کے من کی نازک حالت کو بیان کرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ یہ میرے ذریعے کھینچی گئی سب سے زیادہ قابل غور تصویروں میں سے ایک تھی۔ مجھے لگا کہ میں نے سب کچھ کہہ دیا ہے۔ اس میں چاروں کنبوں کی پوری کہانی ایک ہی فریم میں سمٹ گئی تھی۔

*****

ذیشان اے لطیف: نندربار، مہاراشٹر

PHOTO • Zishaan A Latif

پلوی (بدلا ہوا نام) کو باہر نکل آئی بچہ دانی کے سبب بہت زیادہ تکلیف برداشت کرنی پڑ رہی تھی، اور علاج بی نہیں مل پایا تھا۔ انہیں اتنا درد سہنا پڑا جس کا مرد کبھی تصور نہیں کر سکتے۔ جب میں نے کھڑی چٹان پر بنی دو پھوس کے گھروں کی بستی میں ان کی چھوٹی سی جھونپڑی کے اندر ان کی تصویر لی تھی، تو بھی ان کی بے پناہ قوت برداشت کو محسوس کر سکا تھا۔ عام طور پر، یہاں پاس کے سرکاری کلینک تک پہنچنے میں دو گھنٹے لگتے ہیں، جہاں ان کی پریشانی کا علاج ہو سکتا تھا۔ مگر وہ بھی عارضی حل تھا، مستقل حل نہیں۔ ’ میرا کاٹ [بچہ دانی] باہر نکلتا رہتا ہے ‘ اسٹوری کے لیے یہ تصویر لی گئی تھی۔

میں نے یہ تصویر تب کھینچی، جب وہ کھڑی تھیں اور حد سے زیادہ کمزوری ہونے کے باوجود، وہ ایک آدیواسی بھیل خاتون کی علامت لگ رہی تھیں، جو بیمار پڑنے پر بھی اپنی فیملی اور برادری کا خیال رکھتی ہے۔

کور ڈیزائن: سنویتی ایئر

مترجم: محمد قمر تبریز

Binaifer Bharucha

Binaifer Bharucha is a freelance photographer based in Mumbai, and Photo Editor at the People's Archive of Rural India.

Other stories by Binaifer Bharucha
Editor : PARI Team
Translator : Qamar Siddique

Qamar Siddique is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Qamar Siddique