احمد کہتا ہے، ’’ کِت کِت [بچوں کا کودنے کا کھیل]، لاٹّو [لٹّو] اور تاس کھیلا [تاش کا کھیل]۔‘‘ پھر، ۱۰ سال کا یہ بچہ فوراً ہی خود کو درست کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’ کت کت میں نہیں، اللہ رکھا کھیلتا ہے۔‘‘

عمر میں ایک سال بڑا ہونے اور خود کو بہتر کھلاڑی ثابت کرنے کے لیے، احمد مزید کہتا ہے، ’’لڑکیوں کے یہ کھیل مجھے پسند نہیں ہیں۔ میں اسکول کے میدان میں بیٹ بال [کرکٹ] کھیلتا ہوں۔ ابھی اسکول بند ہے، لیکن ہم لوگ دیوار پھاند کر میدان میں پہنچ جاتے ہیں!‘‘

یہ دونوں آپس میں چچیرے بھائی ہیں اور آشرم پاڑہ علاقے کے بانی پیٹھ پرائمری اسکول میں پڑھتے ہیں – اللہ رکھا تیسری کلاس میں ہے، جب کہ احمد چوتھی کلاس میں۔

دسمبر ۲۰۲۱ کے ابتدائی دن چل رہے ہیں اور ہم لوگ بیڑی بنا کر اپنا گزارہ کرنے والی عورتوں سے ملنے کے لیے مغربی بنگال کے بیلڈانگا میں موجود ہیں۔

راستے میں ہم لوگ ایک آم کے درخت کے پاس رکتے ہیں۔ یہ درخت پرانے قبرستان کی طرف جانے والی ایک تنگ سڑک کے کنارے کھڑا ہے؛ تھوڑی دوری پر پیلے رنگ کے سرسوں کے کھیت نظر آ رہے ہیں۔ چاروں طرف خاموشی کا سماں ہے اور دنیا کو خیرباد کہہ چکے لوگ اپنی قبروں میں آرام سے سو رہے ہیں؛ اور لمبا چوڑا یہ اکیلا درخت پورے منظر کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ پرندے بھی اس درخت کو چھوڑ کر جا چکے ہیں، اور موسم بہار میں اس پر پھل لگنے کے وقت ہی واپس لوٹیں گے۔

تبھی سامنے سے احمد اور اللہ رکھا نظر آتے ہیں، جن کے دوڑنے کی آواز سے پوری خاموشی ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ دوڑتے بھاگتے، اچھلتے کودتے ہوئے آ رہے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ وہ ہماری موجودگی کو محسوس کر رہے ہیں۔

Ahmad (left) and Allarakha (right) are cousins and students at the Banipith Primary School in Ashrampara
PHOTO • Smita Khator
Ahmad (left) and Allarakha (right) are cousins and students at the Banipith Primary School in Ashrampara
PHOTO • Smita Khator

احمد (بائیں) اور اللہ رکھا (دائیں) ایک دوسرے کے چچیرے بھائی ہیں اور آشرم پاڑہ کے بانی پیٹھ پرائمری اسکول میں پڑھتے ہیں

Climbing up this mango tree is a favourite game and they come here every day
PHOTO • Smita Khator

آم کے اس درخت پر چڑھنا ان کا پسندیدہ کھیل ہے اور یہ ہر دن یہاں آتے ہیں

درخت کے پاس پہنچنے کے بعد، یہ بچے اس کے تنے سے سٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنی اونچائی (جسم کی لمبائی) ناپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ان کی روزانہ کی مشق ہے، جیسا کہ چھال پر لگے نشان سے ظاہر ہو رہا ہے۔

میں ان چچیرے بھائیوں سے پوچھتی ہوں، ’’کل سے [لمبائی] کچھ بڑھی؟‘‘ عمر میں تھوڑا چھوٹا اللہ رکھا کے کچھ دانت ٹوٹے ہوئے ہیں؛ وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہے، ’’تو کیا ہوا؟ ہم کافی طاقتور ہیں!‘‘ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ اپنے ٹوٹے ہوئے دانت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’دیکھئے! چوہا میرے چھوٹے دانت لے کر چلا گیا ہے۔ جلد ہی مجھے بھی احمد جیسے دانت آ جائیں گے۔‘‘

صرف ایک سال بڑا احمد، اپنے تمام دانت دکھاتے ہوئے کہتا ہے، ’’میرے دودھیر دانت [دودھ کے دانت] غائب ہو چکے ہیں۔ اب میں بڑا ہو گیا ہوں۔ اگلے سال میں ایک بڑے اسکول جاؤں گا۔‘‘

ان کی طاقت کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ وہ گلہری جیسی تیزی سے درخت پر چڑھ جاتے ہیں۔ پھر، کچھ ہی سیکنڈ میں دونوں درخت کی شاخوں کے درمیان پہنچ کر وہاں آرام سے بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے چھوٹے چھوٹے پیر نیچے لٹک رہے ہیں۔

احمد اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’یہ ہمارا پسندیدہ کھیل ہے۔‘‘ وہیں، اللہ رکھا کہتا ہے، ’’جب ہماری کلاسیں چل رہی ہوتی ہیں تو ہم اسکول کے بعد یہاں آتے ہیں۔‘‘ دونوں لڑکے پرائمری سیکشن میں ہیں اور ابھی اپنے اسکول نہیں لوٹ سکے ہیں۔ کووڈ۔۱۹ وبائی مرض کی وجہ سے، تمام تعلیمی ادارے ۲۵ مارچ، ۲۰۲۰ سے ہی بند کر دیے گئے تھے۔ حالانکہ، اسکولوں کو اب کھول دیا گیا ہے، لیکن دسمبر ۲۰۲۱ میں صرف بڑی جماعتوں کے طلباء ہی اپنی کلاسوں میں شامل ہو رہے تھے۔

احمد کہتا ہے، ’’مجھے اپنے دوستوں کی یاد آتی ہے۔ ہم اس درخت پر چڑھتے تھے اور گرمیوں میں کچے آم چُرایا کرتے تھے۔‘‘ اسکول جب کھلا تھا، تو وہاں انہیں کھانے کے لیے سویا چنک اور انڈے ملا کرتے تھے۔ اللہ رکھا بتاتا ہے کہ اب مڈ ڈے میل لانے کے لیے ان کی مائیں مہینہ میں ایک بار اسکول جاتی ہیں۔ اس میں چاول، مسور کی دال، آلو اور ایک صابن ملتا ہے۔

The boys are collecting mango leaves for their 10 goats
PHOTO • Smita Khator

یہ لڑکے اپنی ۱۰ بکریوں کے لیے آم کے پتّے توڑ رہے ہیں

'You grown up people ask too many questions,' says Ahmad as they leave down the path they came
PHOTO • Smita Khator

احمد کہتا ہے، ’آپ لوگ سوال بہت کرتے ہو‘ اور جس راستے سے دونوں یہاں آئے تھے اسی سے واپس چلے جاتے ہیں

احمد کہتا ہے، ’’ہم گھر پر پڑھائی کرتے ہیں، ماں ہمیں پڑھاتی ہیں۔ میں دن میں دو بار لکھتا اور پڑھتا ہوں۔‘‘

’’لیکن تمہاری ماں نے تو مجھے بتایا ہے کہ تم بہت شرارتی ہو اور ان کی بات بالکل بھی نہیں مانتے،‘‘ میں اس سے کہتی ہوں۔

یہ سن کر اللہ رکھا کہتا ہے، ’’ہم لوگ ابھی بہت چھوٹے ہیں نا…امی کو سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ ان کی مائیں صبح سے لے کر آدھی رات تک گھر کے سارے کام کرتی ہیں، فیملی کے لیے کھانا بناتی ہیں اور بیچ بیچ میں بیڑی بنانے کا بھی کام کرتی ہیں؛ ان کے والد دور دراز کی ریاستوں میں بطور مہاجر مزدور تعمیراتی مقامات پر کام کرتے ہیں۔ اللہ رکھا کہتا ہے، ’’بابا [والد] جب گھر آتے ہیں، تو ہم ان کے موبائل پر گیم کھیلتے ہیں، اسی لیے امی ناراض ہو جاتی ہیں۔‘‘

فون پر یہ جو گیم کھیلتے ہیں اس میں کافی شور شرابہ ہوتا ہے: ’’فری فائر۔ ایکشن اور بندوق کی لڑائی سے بھرپور۔‘‘ مائیں جب انہیں منع کرتی ہیں، تو وہ فون لے کر چھت پر بھاگ جاتے ہیں یا گھر کے باہر چلے جاتے ہیں۔

ہماری اس گفتگو کے دوران، یہ دونوں لڑکے درخت کی شاخوں سے پتّے جمع کرنے میں مصروف ہیں اور اس بات کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایک بھی پتّہ ضائع نہ ہو۔ ہمیں اس کی وجہ جلد ہی معلوم ہو جاتی ہے، جیسا کہ احمد ہمیں بتاتا ہے: ’’یہ ہماری بکریوں کے لیے ہیں۔ ہمارے پاس ۱۰ ہیں۔ انہیں پتّے کھانا بہت پسند ہے۔ ہماری امی انہیں چرانے لے جاتی ہیں۔‘‘

تھوڑی ہی دیر میں دونوں لڑکے درخت سے نیچے اترنے لگتے ہیں اور تنے کے قریب پہنچنے کے بعد، آم کے پتوں کے ساتھ ہی زمین پر کود جاتے ہیں۔ ہمیں چونکاتے ہوئے احمد کہتا ہے، ’’آپ لوگ سوال بہت کرتے ہو۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔‘‘ پھر، دونوں چلنا شروع کرتے ہیں، اور گرد و غبار والی جس سڑک سے یہاں تک آئے تھے اسی راستے سے اچھلتے کودتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Smita Khator

Smita Khator, originally from Murshidabad district of West Bengal, is now based in Kolkata, and is Translations Editor at the People’s Archive of Rural India, as well as a Bengali translator.

Other stories by Smita Khator
Editor : Priti David

Priti David is a Journalist with the People’s Archive of Rural India, and Education Editor, PARI. She works with educators to bring rural issues into the classroom and curriculum, and with young people to document the issues of our times.

Other stories by Priti David
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez