دروپدی سبر ساڑی کے پلّو سے اپنے آنسوؤں کو بار بار پونچھنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ وہ اوڈیشہ کے گڈبھیلی گاؤں میں اپنے گھر کے باہر بیٹھی ہوئی ہیں، جہاں اُن کے پڑ پوتے – تین سال کا گریش اور نو مہینے کا ویراج – پاس میں ہی کھیل رہے ہیں۔ فیملی کے لوگ ۶۵ سالہ دروپدی کا ڈھارس بندھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اپنی پوتی، تُلسا کی موت کا ماتم منا رہیں دروپدی کو کافی گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’’اب ہم کس کو ’اپنی بیٹی‘ کہہ کر پکاریں گے؟‘‘

نواپاڑہ ضلع کے کھریار بلاک میں، سبر آدیواسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی تُلسا کی فیملی کے لوگ اینٹ سے آدھے بنے اپنے گھر کے سامنے پلاسٹک کی ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اس صدمہ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے والدین – ماں پدمنی اور والد دیبانند – کو اپنی بیٹی کے چھوٹے بچوں کی فکر ستا رہی ہے، خاص کر ویراج کی جو ماں کی موت کے وقت ایک دودھ پیتا بچہ تھا۔ دروپدی بتاتی ہیں، ’’میں اور میری بہو مل کر ان بچوں کو سنبھال رہے ہیں۔‘‘

ان بچوں کے والد، یعنی تُلسا کے شوہر بھوسندھو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں۔ وہ یہاں سے ۵۰۰ کلومیٹر جنوب میں، تلنگانہ کے پیدّاپلّی ضلع کے رنگپور گاؤں میں واقع ایک اینٹ بھٹے پر کام کر رہے ہیں۔ لگاتار چھ مہینے تک کام کرنے کے لیے جب وہ دسمبر ۲۰۲۱ میں وہاں گئے تھے، تب اُن کی ماں اور تُلسا کی چھوٹی بہن دیپانجلی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ وہاں انہیں ۲۰۰ روپے یومیہ مزدری ملتی ہے۔

گزشتہ ۲۴ جنوری ۲۰۲۲ کو ۲۵ سال کی تُلسا سبر، چنٹ مال گاؤں میں اپنے گھر ہی پر تھیں، جو گڈبھیلی میں واقع ان کے میکے سے ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ رات میں تقریباً ۸ بجے اُن کے پیٹ میں بہت تیز درد ہونے لگا۔ اُن کے سسر، دسمو سبر (۵۷ سال) بتاتے ہیں، ’’میں اسے کھریار [قصبہ] کے سب ڈویژنل اسپتال لے گیا۔ وہاں کے ڈاکٹر نے کہا کہ حالت کافی نازک ہے، آپ انہیں نواپاڑہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہاسپیٹل لے جائیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم وہاں پہنچتے، تُلسا کی راستے میں ہی موت ہو گئی۔‘‘

Draupadi Sabar wipes her tears, talking about her late granddaughter Tulsa. Next to her are Tulsa's infant sons Girish and Viraj
PHOTO • Purusottam Thakur

دروپدی سبر اپنی پوتی، تُلسا کی موت کے بارے میں بتاتے وقت اپنے آنسوؤں کو پونچھ رہی ہیں۔ ان کے پاس تُلسا کے دو ننھے بچے، گریش اور ویراج بیٹھے ہوئے ہیں

اسپتال تک پہنچنے کے لیے جس طرح اس فیملی کو لمبی دوری طے کرنی پڑی – کھریار تک ۲۰ کلومیٹر اور پھر وہاں سے نواپاڑہ تک ۵۰ کلومیٹر – اسی طرح اوڈیشہ کے قبائلی علاقوں میں رہنے والے دوسرے لوگوں کو بھی دور جانا پڑتا ہے تب جا کر وہ صحت عامہ کے نظام تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں۔ دیہی اوڈیشہ کے ان علاقوں میں کل ۱۳۴ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) ہیں، لیکن ماہر ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے ایمرجنسی کی حالت میں وہاں کے لوگوں کو مجبوراً بلاک یا ضلع کے اسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔

دیہی صحت کی شماریات ۲۰-۲۰۱۹ کے مطابق، اوڈیشہ کے دیہی علاقوں میں موجود سی ایچ سی میں کم از کم ۵۳۶ ماہر ڈاکٹروں – فزیشیئن (ماہرین امراض)، سرجن، گائیناکولوجسٹ (امراض خواتین کے ماہرین) اور پیڈیاٹریشیئن (امراض اطفال کے ماہرین) – کی ضرورت ہے۔ لیکن، ان میں سے ۴۶۱ ماہرین کے عہدے ابھی بھی خالی ہیں۔ یہاں پر اوسطاً ایک لاکھ سے کم لوگوں کی آبادی پر ایک سی ایچ سی ہے، جو کہ تین سطحی دیہی صحت کے بنیادی ڈھانچہ میں سب سے بڑی طبی سہولت تصور کیا جاتا ہے۔

سوگوار فیملی کے لیے یہ بات بھی کسی تکلیف سے کم نہیں تھی کہ زندگی کے اس آخری وقت میں تلسا کے شوہر ان کے پاس موجود نہیں تھے، بلکہ دور تلنگانہ میں تھے۔

بھوسندھو (۲۷ سال) اپنی بیوی کی آخری رسومات کے لیے لوٹ نہیں سکے۔ دسمو کہتے ہیں، ’’میں نے جب اپنے بیٹے کو اس کی بیوی کی موت کی خبر دی، تو اس نے اپنے مالک سے چھٹی مانگی، لیکن اسے گھر جانے کی اجازت نہیں ملی۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے مزدوروں کے مقامی ٹھیکہ دار (یا سردار) سے بھی اپیل کی کہ وہ پیدّاپلّی سے ان کی فیملی کے لوگوں کو واپس بلانے کا انتظام کر دے، لیکن یہ اپیل بھی کام نہ آئی۔

بلکہ، بھوسندھو کے ساتھ ہی اس گاؤں کے ۶۰ دیگر لوگوں کو تلنگانہ کے اینٹ بھٹے پر بھیجنے والے سردار نے اُن سے ایک لاکھ ۱۱ ہزار روپے لوٹانے کو کہا، جو اُس نے اس فیملی کو پیشگی رقم کے طور پر ادا کیے تھے۔ اور یہ بھی کہا کہ انہیں وہاں سے واپس بلانے پر اینٹ بھٹے کا مالک یہ پیسے مانگے گا۔

*****

بھوسندھو کی طرح ہی، نواپاڑہ کی سبر کمیونٹی (جنہیں شبر بھی کہا جاتا ہے) کے بہت سے لوگوں کو کام کی تلاش میں کچھ دنوں یا لمبی مدت کے لیے مہاجرت کرنی پڑتی ہے، خاص کر جب انہیں خرچ کے لیے زیادہ پیسے کی ضرورت ہو۔ اس ضلع کا تقریباً آدھا رقبہ جنگلات سے گھرا ہوا ہے، اور یہاں کی آدیواسی برادریاں روایتی طور پر جنگل کی بغیر لکڑی والی پیداوار (این ٹی ایف پی) جیسے کہ مہوا کے پھول اور چرونجی کی فروخت سے ہونے والی آمدنی پر منحصر رہتی ہیں۔ وہ گزر بسر کے لیے بارش کے پانی پر منحصر فصلوں کی کھیتی بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ، جنگل کی پیداوار سے منافع نہیں ہوتا ہے، اور خشک سالی اور کم بارش کی وجہ سے کھیتی پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ اس ضلع میں سینچائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

A framed photo of Bhosindhu and Tulsa
PHOTO • Purusottam Thakur
Dasmu Sabar at his home in Chanatamal
PHOTO • Purusottam Thakur

بائیں: فریم میں لگی ہوئی بھوسندھو اور تُلسا کی ایک تصویر۔ تُلسا کی موت کے وقت بھوسندھو تلنگانہ میں ایک اینٹ بھٹے پر کام کر رہے تھے۔ دائیں: دسمو سبر، چنٹ مال گاؤں میں واقع اپنے گھر پر

مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون (منریگا) کے تحت کام کرنے کا تجربہ بتاتے ہوئے دسمو کہتے ہیں، ’’خریف کے سیزن کے بعد جب کاشتکاری کا کوئی باقاعدہ کام دستیاب نہیں ہوتا ہے، تب ہمیں واحد امید منریگا سے ہی رہتی ہے، لیکن پیسے ملنے میں تاخیر کی وجہ سے ہمیں دوسرے متبادل تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ میرا بیٹا اور بیوی سڑک کو ٹھیک کرنے کے ایک پروجیکٹ میں کام کر چکے ہیں، لیکن ان کی مزدوری ابھی تک نہیں ملی ہے۔ تقریباً ۴ ہزار روپے بقایا ہیں۔‘‘

دسمو کے ایک پڑوسی، ربیندر ساگریا کہتے ہیں کہ خریف کے سیزن (جون سے اکتوبر) میں بھی روزگار کے مواقع زیادہ نہیں ہوتے ہیں۔ وہ آگے کہتے ہیں، ’’یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے نوجوان ہر سال نومبر سے مہاجرت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس بار گاؤں سے جو ۶۰ لوگ اینٹ بھٹے پر کام کرنے گئے ہیں، ان میں سے تقریباً ۲۰ نوجوان ہیں۔

نواپاڑہ کی سبر کمیونٹی کے صرف ۵۳ فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں، جو کہ دیہی اوڈیشہ کی اوسط شرح خواندگی، یعنی ۷۰ فیصد سے کافی کم ہے۔ جن لوگوں نے اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے وہ تو سیدھے ممبئی چلے جاتے ہیں، لیکن بقیہ لوگوں کو یومیہ مزدوری کمانے کے لیے اپنی فیملی کے ساتھ اینٹ بھٹوں پر کام کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے انہیں غیر انسانی حالات میں، دن میں ۱۲ گھنٹے اپنے سر پر گرم اینٹیں ڈھونی پڑتی ہیں۔

مقامی سردار غیر ہنرمند لوگوں کو چھ مہینے کی متعینہ مدت کے لیے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے بھیجتے ہیں، اور انہیں ان کی کل مزدوری کا ایک حصہ پیشگی رقم کے طور پر ادا کر دیتے ہیں۔ بھوسندھو کی فیملی کو اپنا گھر بنوانا تھا، اس لیے انہوں نے کام پر جانے کی حامی بھر دی تھی۔

دسمو کا کہنا ہے کہ انہیں پردھان منتری آواس یوجنا (گرامین) کے تحت ایک گھر ملا تھا، ’’لیکن انہیں ایک لاکھ ۳۰ ہزار روپے کی جو رقم ملی تھی، وہ گھر بنانے کے لیے کافی نہیں تھی۔‘‘ فیملی نے جون ۲۰۲۰ تک منریگا سے ملنے والی مزدوری سے ۱۹ ہزار ۷۵۲ روپے بچائے تھے، لیکن تب بھی انہیں مزید ایک لاکھ روپے کی ضرورت تھی۔ وہ بتاتے ہیں، ’’ہم نے قرض لیا تھا، اور اسے چُکانے کے لیے ہمیں سردار سے پیسوں کی ضرورت تھی۔‘‘

Grandmother Draupadi have been taking care of her two children after her sudden death
PHOTO • Purusottam Thakur
Tulsa's mother Padmini (holding the baby)
PHOTO • Purusottam Thakur

تُلسا کی ماں پدمنی (بچے کو پکڑے ہوئے) اور دادی دروپدی، تُلسا کی اچانک موت کے بعد ان کے دونوں بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں

یہ پہلا قرض نہیں تھا، جو فیملی نے سال ۲۰۲۱ میں لیا تھا۔ تُلسا کو حمل کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے وہ بیمار پڑ گئی تھیں؛ اور ویراج کی پیدائش وقت سے پہلے ہو گئی تھی۔ پیدائش کے ابتدائی تین مہینوں میں، ماں اور بچے کا علاج دو اسپتالوں میں ہوا تھا – نواپاڑہ کے ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال میں اور تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر دور واقع سمبل پور کے ویر سریندر سائی میڈیکل سائنس اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں۔

دسمو کہتے ہیں، ’’ہم نے اپنی ڈیڑھ ایکڑ زمین ۳۵ ہزار روپے میں گروی رکھی اور تُلسا نے سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) کے ذریعے طبی اخراجات کے لیے بینک سے ۳۰ ہزار روپے کا قرض لیا۔‘‘ قرض چُکانے کے لیے ہی فیملی نے ٹھیکہ دار سے پیشگی رقم لی تھی اور گزشتہ سال دسمبر میں تلنگانہ چلی گئی تھی۔

نواپاڑہ، اوڈیشہ کے سب سے غریب ضلعوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کے اندر ہونے والی مہاجرت پر مبنی ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ اس ضلع اور ریاست کے دیگر جنوبی اور مغربی ضلعوں کے لوگ آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، تمل ناڈو، اور کرناٹک میں کام کرنے کے لیے مہاجرت کرتے ہیں۔ ایک مقامی این جی او کے ذریعے جمع کیے گئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مطالعہ بتاتا ہے کہ اوڈیشہ سے تقریباً پانچ لاکھ مزدور مہاجرت کرتے ہیں، جن میں سے دو لاکھ بلانگیر، نواپاڑہ، کالاہانڈی، بودھ، سوبرن پور، اور برگڑھ ضلعوں سے ہیں۔

سمبل پور شہر میں واقع واٹر انیشئیٹو اوڈیشہ کے بانی اور معروف سماجی کارکن، رنجن پانڈا نے مہاجر مزدوروں سے جڑے مسائل کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس علاقے کے لوگ کئی قسم کے باہم مربوط اسباب (خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلی) کی وجہ سے تمام خطرات اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ قدرتی وسائل لگاتار کم ہو رہے ہیں اور مقامی روزگار کی اسکیمیں ناکام ہوتی رہی ہیں۔

*****

دروپدی نے پرنم آنکھوں سے اپنی پوتی کے بارے میں کہا، ’’آپ نے شاید اسے دیکھا ہوگا۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔‘‘

انتقال سے قبل، تُلسا سال ۲۰۲۲ کے پنچایتی انتخابات (ریاست میں ۱۶ سے ۲۴ فروری تک منعقد ہوئے) میں پرچار کرنے کے لیے، ارڈا گرام پنچایت کے گاؤں گاؤں جا رہی تھیں۔ آدیواسیوں کی اکثریت والا گاؤں، چنٹ مال، ارڈا پنچایت میں پڑتا ہے، اور وہ کمیٹی کا الیکشن لڑ رہی تھیں۔ یہ سیٹ درج فہرست قبیلہ کی خاتون امیدوار کے لیے ریزرو تھی، اور تُلسا ہر کسی کی پہلی پسند تھیں، کیوں کہ وہ اپنے گاؤں کی واحد آدیواسی خاتون تھیں جنہوں نے اسکولی تعلیم مکمل کی تھی اور وہ ایک سیلف ہیلپ گروپ کی قیادت بھی کر رہی تھیں۔ دسمو بتاتے ہیں، ’’ہمارے رشتہ داروں نے انتخاب لڑنے کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔‘‘

Tulsa's father Debanand at the doorstep of the family's home in Gudabheli. He and the others are yet to come to terms with their loss
PHOTO • Purusottam Thakur

گڈبھیلی میں واقع گھر کی چوکھٹ پر تُلسا کے والد دیبانند۔ وہ اور گھر کے دوسرے لوگ ابھی تک اس صدمہ سے باہر نہیں نکل پائے ہیں

دروپدی نے تُلسا کو انتخاب نہ لڑنے کی صلاح دی تھی۔ غمگین لہجے میں وہ کہتی ہیں، ’’چھ مہینے پہلے ہی اس کی صحت بحال ہوئی تھی، اس لیے میں اس کے الیکشن لڑنے کے خلاف تھی۔ اسی وجہ سے اس کی جان گئی۔‘‘

مقامی لیڈر، سنجے تیواری کہتے ہیں کہ مہاجرت کا اثر انتخابات پر بھی پڑتا ہے۔ سنجے، کھریار بلاک کی برگاؤں گرام پنچایت سے سرپنچ کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹروں کی تعداد کم ہو رہی ہے – خاص کر غریب طبقہ کے لوگوں کی۔ ان کا اندازہ ہے کہ نواپاڑہ ضلع سے مہاجرت کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ مزدور ووٹ نہیں ڈال سکے، جن میں سے تقریباً ۳۰۰ برگاؤں کے تھے۔

تیواری کہتے ہیں، ’’ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں انتخابات کو تہوار کی طرح منایا جاتا ہے، لیکن بھوسندھو اور ان کی ماں جیسے مہاجر مزدوروں کے لیے اس کا کوئی مطلب نہیں ہے، جنہیں اپنی قریبی رشتہ دار کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے گھر لوٹنے تک کی اجازت نہیں ملی۔‘‘

بھوسندھو کے پڑوسی، سبھاش بیہرا کا ماننا ہے کہ کووڈ۔۱۹ کے سبب لگائے گئے لاک ڈاؤن نے ضلع میں روزگار کے مواقع کو کم کر دیا، جس کی وجہ سے بھوسندھو کو مہاجرت کرنی پڑی۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر یہاں روزگار کے مواقع دستیاب ہوتے، تو وہ اپنی بیوی کو الیکشن لڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ کر اینٹ بھٹے پر نہیں جاتا۔‘‘

’’کہاں چلی گئی میری بچی؟ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟‘‘

تُلسا کو یاد کرتی ہوئیں دروپدی کے یہ الفاظ کچھ یوں سنائی دیتے ہیں گویا اس میں پوری کمیونٹی کی آواز شامل ہو۔

*****

بعد از تحریر: تُلسا کی موت کے ایک ہفتہ بعد، صحافی اجیت پانڈا نے فیملی کی حالت کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ، نواپاڑہ کے ضلع کلکٹر، اور رام گنڈم کے پولیس کمشنر کے آفیشیل ہینڈل کو ٹیگ کیا تھا۔ پولیس نے ۲۴ گھنٹے کے اندر بھوسندھو، ان کی ماں، اور دیپانچلی کے کام کی جگہ کا پتہ لگا لیا، اور انہیں چھتیس گڑھ کے رائے پور ضلع بھیجنے کے لیے اینٹ بھٹہ مالک کو ہدایت دی گئی۔ بھٹہ مالک چاہتا تھا کہ کام پر ان کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے دیپانجلی کو وہیں رہنے دیا جائے، لیکن آخرکار سرکاری عہدیداروں کے دباؤ کے آگے اسے جھکنا پڑا اور اس نے انہیں جانے دیا۔

تُلسا کی فیملی کے تینوں ممبران کو رائے پور میں سردار لینے آیا تھا، جس نے انہیں بھیجا بھی تھا۔ اس کے بعد، انہیں ٹرین سے اوڈیشہ کے بلانگیر ضلع کے کانٹا بانجی اسٹیشن لایا گیا تھا، جو چنٹ مال میں واقع ان کے گھر سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر دور ہے۔ دسمو بتاتے ہیں کہ انہیں ریلوے اسٹیشن پر ایک سادے کاغذ پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ دستخط اس بات کی رضامندی دینے کے لیے کروایا گیا تھا کہ وہ پیشگی رقم کے بدلے کا کام پورا کرنے کے لیے اسی اینٹ بھٹے پر واپس لوٹیں گے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Purusottam Thakur

Purusottam Thakur is a 2015 PARI Fellow. He is a journalist and documentary filmmaker. At present, he is working with the Azim Premji Foundation and writing stories for social change.

Other stories by Purusottam Thakur
Ajit Panda

Ajit Panda is based in Khariar town, Odisha. He is the Nuapada district correspondent of the Bhubaneswar edition of ‘The Pioneer’, and has written for various other publications on sustainable agriculture, land and forest rights of Adivasis, folk songs and festivals.

Other stories by Ajit Panda