جیٹھا بھائی رباری کہتے ہیں، ’’براہ کرم ان سے دور ہی رہیں، قریب نہ جائیں۔ وہ ڈر کر بھاگ سکتے ہیں۔ اگر وہ بھاگ گئے، تو اتنے بڑے علاقے میں انہیں کنٹرول کرنا تو دور، انہیں تلاش کر پانا بھی میرے لیے بہت مشکل ہوگا۔‘‘

خانہ بدوش گلہ بان کی زندگی بسر کرنے والے جیٹھا بھائی جن اونٹوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں، وہ کافی مہنگے اونٹ ہیں، جو چارے کی تلاش میں آس پاس ہی تیر رہے ہیں۔

اونٹ؟ تیرنے والے؟ سچ میں؟

جی ہاں۔ جیٹھا بھائی جس ’بڑے علاقے‘ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، وہ دراصل خلیج کچھّ کے جنوبی ساحل پر واقع میرین نیشنل پارک اور سینکچری (ایم این پی اینڈ ایس) ہے۔ اور یہاں پر، خانہ بدوش گلہ بانوں کی نگرانی میں اونٹوں کے یہ ریوڑ آبی پیڑ پودوں (ایویسینیا میرینا) – جو کہ ان کی غذا کا ضروری حصہ ہوتے ہیں – کی تلاش میں ایک جزیرہ سے دوسرے جزیرہ تک تیرتے رہتے ہیں ۔

کارو میرو جاٹ بتاتے ہیں، ’’اگر اس نسل کے اونٹ لمبے عرصے تک آبی پیڑ پودوں کو نہ کھائیں، تو وہ بیمار پڑ سکتے ہیں، اور کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے، اس سمندری پارک کے اندر ہمارے اونٹوں کے جھنڈ آبی پیڑ پودوں کی تلاش میں ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں۔‘‘

Jethabhai Rabari looking for his herd of camels at the Marine National Park area in Khambaliya taluka of Devbhumi Dwarka district
PHOTO • Ritayan Mukherjee

دیو بھومی دوارکا ضلع کے کھمبلیا تعلقہ میں واقع میرین نیشنل پارک کے علاقہ میں اپنے اونٹوں کے جھنڈ کو تلاش کرتے جیٹھا بھائی رباری

میرین نیشنل پارک اور سینکچری میں کل ۴۲ جزیرے ہیں ، جن میں سے ۳۷ جزیرے میرین نیشنل پارک کے تحت آتے ہیں، جب کہ بقیہ ۵ جزیرے سینکچری والے علاقے میں پڑتے ہیں۔ یہ پورا علاقہ گجرات کے سوراشٹر خطہ کے تین ضلعوں- جام نگر، دیو بھومی دوارکا (جسے ۲۰۱۳ میں جام نگر کے کچھ حصوں کو کاٹ کر بنایا گیا تھا) اور موربی میں پھیلا ہوا ہے۔

موسیٰ جاٹ کہتے ہیں، ’’ہم یہاں پر کئی نسلوں سے رہ رہے ہیں۔‘‘ کارو میرو کی طرح، وہ بھی میرین نیشنل پارک کے اندر رہائش پذیر فقیرانی جاٹ قبیلہ کے ایک رکن ہیں۔ میرین نیشنل پارک اور سینکچری کے اندر ایک اور گروپ بھی رہتا ہے – بھوپا رباری، جیٹھا بھائی کا تعلق اسی قبیلہ سے ہے۔ یہ دونوں ہی گروپ روایتی گلہ بان ہیں، جنہیں یہاں کی زبان میں ’مال دھاری‘ کہا جاتا ہے۔ گجراتی زبان میں ’مال‘ کا مطلب ہے مویشی، اور ’دھاری‘ کا مطلب ہے مالک یا سرپرست۔ مال دھاری لوگ پورے گجرات میں گائے، بھینس، اونٹ، گھوڑے، بھیڑ اور بکریاں پالتے ہیں۔

میں ان دونوں ہی گروپ کے ممبران سے مل رہا ہوں جو اس سمندری پارک کے چاروں طرف بسے گاؤں میں رہتے ہیں، جہاں کی آبادی تقریباً ۱۲۰۰ افراد پر مشتمل ہے۔

موسیٰ جاٹ کہتے ہیں، ’’ہم اس سرزمین کی قدر کرتے ہیں۔ جام نگر کے راجا نے برسوں پہلے ہمیں یہاں آ کر بسنے کی دعوت دی تھی۔ ۱۹۸۲ سے بھی پہلے، جب اس مقام کو میرین نیشنل پارک قرار دے دیا گیا۔‘‘

Jethabhai Rabari driving his herd out to graze in the creeks of the Gulf of Kachchh
PHOTO • Ritayan Mukherjee

اپنے اونٹوں کو خلیج کچھّ کے آبی علاقوں میں چرانے کے لیے لے جاتے ہوئے جیٹھا بھائی رباری

بھُج میں سینٹر فار پیسٹورلزم چلانے والے ’سہجیون‘ نامی این جی او کی ریتوجا مترا بھی اس دعوے کی تصدیق کرتی ہیں۔ ’’ایسا کہا جاتا ہے کہ اس خطہ کا شہزادہ ان دونوں ہی قبیلوں کے گروپس کو اپنی نئی سلطنت ’نوا نگر‘ لے کر آیا تھا، جسے بعد میں ’جام نگر‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔ اور تبھی سے، ان گلہ بانوں کے وارثین یہاں کی زمینوں پر رہتے چلے آئے ہیں۔‘‘

سہجیون میں حقوق جنگلات قانون کے ریاستی رابطہ کار کے طور پر کام کرنے والی ریتوجا مزید بتاتی ہیں، ’’اس خطے کے کچھ گاؤوں کے نام سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کافی زمانے سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک گاؤں کا نام ہے اونٹھ بیٹ شمپر – جس کا ملتا جلتا ترجمہ ہے ’اونٹوں کا جزیرہ‘۔

اس کے علاوہ، اگر غور سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے میں لمبے عرصے سے رہنے کی وجہ سے ہی یہاں کے اونٹوں نے تیرنا سیکھ لیا ہوگا۔ ساسکس کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کی محقق، لائلا مہتہ کے مطابق : ’’اگر یہ اونٹ روایتی طور پر آبی پیڑ پودوں کے ساتھ زندگی بسر نہیں کرتے تو پھر تیرنا کیسے سیکھ پاتے؟‘‘

ریتوجا ہمیں بتاتی ہیں کہ میرین نیشنل پارک اور سینکچری کے اندر ۱۱۸۴ اونٹ چر سکتے ہیں۔ اور یہ اونٹ ۷۴ مال دھاری خاندانوں کے ہیں۔

جام نگر کا قیام ۱۵۴۰ میں عمل میں آیا جب اسے اس وقت کی نوا نگر شاہی ریاست کی راجدھانی بنایا گیا تھا۔ مال دھاری یہاں پر سب سے پہلے ۱۷ویں صدی میں کسی وقت آئے تھے، اور تبھی سے، بقول ان کے، یہیں پر آباد ہیں۔

The Kharai camels swim to the mangroves as the water rises with high tide
PHOTO • Ritayan Mukherjee

پانی کی اونچی لہروں کے ساتھ آبی پیڑ پودوں کی طرف تیر کر جاتے ہوئے کھرائی اونٹ

یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ وہ ’’اس سرزمین کی قدر‘‘ کیوں کرتے ہیں۔ خاص کر تب، جب آپ اسی علاقے میں رہتے ہوں اور یہاں کے حیرت انگیز سمندری تنوع کو اچھی طرح سمجھتے ہوں۔ اس پارک میں مونگے کی چٹانیں، آبی پیڑ پودوں کے جنگلات، ریتیلے ساحل، کیچڑ والے علاقے، آبی خلیج، چٹان والے ساحل، سمندری گھاس کے میدان وغیرہ موجود ہیں۔

اس ماحولیاتی خطہ کی دستاویز کاری ۲۰۱۶ کے ایک تحقیقی مقالہ میں کافی بہتر طریقے سے کی گئی ہے، یہ مقالہ انڈو-جرمن بائیو ڈائیورسٹی پروگرام ، جی آئی زیڈ نے شائع کیا تھا۔ اس علاقے میں ۱۰۰ قسم کی الجی (کائی)، ۷۰ قسم کے اسفنج، اور ۷۰ سے زیادہ قسم کے سخت اور ملائم مونگے پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ۲۰۰ قسم کی مچھلیاں، ۲۷ قسم کے جھینگے، ۳۰ قسم کے کیکڑے اور چار قسم کی سمندری گھاس بھی یہاں پائی جاتی ہے۔

اور یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رکتا۔ جیسا کہ مذکورہ تحقیقی مقالہ میں بتایا گیا ہے: آپ کو یہاں پر سمندری کچھوے اور سمندری ممالیے میں سے ہر ایک کی تین قسمیں، خول والے جانوروں کی ۲۰۰ سے زیادہ قسمیں، دوہانوں کی ۹۰ سے زیادہ، صدفیات کی ۵۵، اور پرندوں کی ۷۸ قسمیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

فقیرانی جاٹ اور رباری قبیلے کے لوگ اس علاقے میں کئی نسلوں سے کھرائی اونٹ چراتے چلے آ رہے ہیں۔ گجراتی زبان میں ’کھرائی‘ کا مطلب ہوتا ہے ’نمکین‘۔ کھرائی، اونٹوں کی ایک خاص نسل ہے جس نے خود کو اُس ماحولیاتی خطہ کی آب و ہوا کے مطابق ڈھال لیا ہے، جو عام طور پر اونٹوں کے رہنے والے علاقوں سے الگ ہے۔ وہ مختلف قسم کے پودے اور جھاڑیاں تو کھاتے ہی ہیں، لیکن جیسا کہ کارو میرو نے ہمیں بتایا، آبی پیڑ پودے ان کی غذا کا سب سے اہم حصہ ہیں۔

تیرنا جاننے والے ’ڈرومڈری‘ قسم کے یہ کوہان والے اونٹ اپنے گلہ بانوں کے ساتھ رہتے ہیں، جن میں مال دھاریوں یا ان کے مالکوں کے کنبوں کے رکن شامل ہوتے ہیں۔ عام طور پر اونٹوں کے ساتھ دو کی تعداد میں مال دھاری تیرتے ہیں۔ ان میں سے ایک مال دھاری کسی چھوٹی کشتی کے ذریعے کھانا اور پینے کا پانی ساتھ لے کر چلنے اور واپس اپنے گاؤں تک لوٹنے کا کام کرتا ہے۔ دوسرا چرواہا اپنے اونٹوں کے ساتھ جزیرے پر رہتا ہے۔ وہاں کھانا ختم ہو جانے پر وہ اونٹ کے دودھ سے اس کمی کو پورا کرتا ہے۔ یہ دودھ ان کی برادری کے کھانے کا ایک ضروری حصہ ہے۔

Jethabhai Rabari (left) and Dudabhai Rabari making tea after grazing their camels in Khambaliya
PHOTO • Ritayan Mukherjee

کھمبلیا میں اپنے اونٹوں کو چَرانے کے بعد چائے بناتے ہوئے جیٹھا بھائی رباری (بائیں) اور دودا بھائی رباری

لیکن، مال دھاریوں کے لیے حالات تیزی سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ جیٹھا بھائی رباری کہتے ہیں، ’’خود کو اور اپنے پیشہ کو برقرار رکھنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے چراگاہ سکڑتے جا رہے ہیں، کیوں کہ یہاں کے زیادہ تر علاقوں پر اب محکمہ جنگلات کا قبضہ بڑھتا جا رہا ہے۔ پہلے، آبی پیڑ پودوں تک ہم آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔ لیکن ۱۹۹۵ سے، یہاں جانوروں کو چرانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پھر، یہاں پر نمک کے کھیت بھی ہیں جو ہمیں پریشان کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اب ہجرت کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں بچا ہے۔ اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اوپر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم اپنے جانوروں کو حد سے زیادہ چرا رہے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘

ریتوجا مترا، جو اس علاقے میں لمبے عرصے سے ایف آر اے (حقوق جنگلات قانون) کے لیے کام کرتی رہی ہیں، وہ بھی ان چرواہوں کی باتوں کی تائید کرتی ہیں۔ ’’اگر ہم اونٹوں کے چرنے کی عادتوں پر غور کریں، تو پائیں گے کہ وہ پودوں کے اوپری حصے کو چرتے (یا کھاتے) ہیں، جس سے ان پودوں میں مزید پتیاں نکلتی ہیں! میرین نیشنل پارک کے بیٹس [جزیرے] ہمیشہ سے ہی [ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے] ان کھرائی اونٹوں کے پسندیدہ مقام رہے ہیں، جو ان آبی پیڑ پودوں اور دیگر متعلقہ گھاس اور پتیوں وغیرہ کو کھاتے ہیں۔‘‘

لیکن محکمہ جنگلات کی سوچ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کے ذریعے تحریر کردہ کچھ کاغذات، اور کچھ ماہرین تعلیم کی تحریروں میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بات کے کافی ثبوت موجود ہیں کہ اونٹوں کی وجہ سے ’بہت زیادہ چرائی‘ کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

جیسا کہ ۲۰۱۶ کے تحقیقی مقالہ میں بتایا گیا ہے، آبی پیڑ پودوں والے علاقوں کے ختم ہونے کے پیچھے کئی اسباب ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صنعت کاری اور دیگر وجوہات کی وجہ سے بھی ایسے علاقے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن، اس میں مال دھاریوں اور ان کے اونٹوں کو کہیں بھی اس کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔

اور ان حقیقی اسباب کا اثر بہت بڑے پیمانے پر پڑ رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیں: گجرات کے تیرنے والے بھوکے اونٹ

کھرائی اونٹ – جو اونٹوں کی واحد تیرنے والی نسل ہیں – اپنے مخصوص مال دھاری مالکوں پر مبنی گلہ بانوں کی ٹیم کے ساتھ چرنے جاتے ہیں

جام نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ۱۹۸۰ کی دہائی سے ہی صنعت کاری کا کام چل رہا ہے۔ ریتوجا بتاتے ہیں، ’’ان علاقوں میں نمک کی صنعت، تیل سے چلنے والی جیٹی (چھوٹی کشتیوں)، اور دیگر صنعت کاریوں کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کاروبار میں آسانی کے لیے، زمین کو اپنے استعمال کے حساب سے بدلواتے وقت انہیں بہت کم دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے! لیکن بات جب گلہ بانوں کے پیشہ کو برقرار رکھنے کی آتی ہے، تو وہی محکمہ محافظ بن جاتا ہے۔ جو کہ، اتفاق سے، آئین کی دفعہ ۱۹ (جی) کے برخلاف ہے، جس میں ’کسی بھی پیشہ کو اپنانے، یا کسی بھی پیشہ کو چلانے، تجارت یا کاروبار کرنے‘ کی گارنٹی دی گئی ہے۔

چونکہ میرین (سمندری) پارک کے اندر جانوروں کو چرانے پر پابندی ہے، اس لیے اونٹوں کے گلہ بانوں کو اکثر محکمہ جنگلات کی طرف سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے متاثر ہونے والے مال دھاریوں میں سے ایک آدم جاٹ بھی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’چند سال پہلے، محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے یہاں اونٹ چرانے کی وجہ سے مجھے حراست میں لے لیا تھا، تب مجھے ۲۰ ہزار روپے کا جرمانہ بھرنا پڑا تھا۔‘‘ یہاں کے دیگر گلہ بانوں نے بھی ہمیں اسی قسم کی باتیں بتائیں۔

ریتوجا مترا کہتی ہیں، ’’مرکزی حکومت کے ذریعے لایا گیا ۲۰۰۶ کا قانون اب بھی کسی کام کا نہیں ہے۔‘‘ حقوق جنگلات قانون ۲۰۰۶ کا سیکشن ۳(۱)(ڈی)، خانہ بدوش یا چرواہا برادریوں کو جنگلات کا استعمال کرنے اور اپنے جانوروں کو چرانے (چاہے وہ مقامی باشندے ہوں یا گھومنے پھرنے والے) اور روایتی موسمیاتی وسائل تک رسائی حاصل کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔

لیکن، بقول ریتوجا، ’’باوجود اس کے، اپنے جانوروں کو چرانے کے لیے مال دھاریوں کو فاریسٹ گارڈ کے ذریعے ہمیشہ سزا دی جاتی ہے، اور پکڑے جانے پر ان سے ۲۰ ہزار روپے سے لے کر ۶۰ ہزار روپے تک کا جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایف آر اے کے تحت کاغذ پر جتنے بھی تحفظاتی اقدامات کا ذکر ہے، وہ کسی کام کے نہیں ہیں۔

یہاں کئی نسلوں سے رہتے چلے آ رہے اور اس پیچیدہ علاقے کے بارے میں دوسروں سے کہیں بہتر جانکاری رکھنے والے ان گلہ بانوں کو شامل کیے بغیر آبی پیڑ پودوں والے علاقوں کو بڑھانے کی کوشش بیکار ہے۔ جگا بھائی رباری کہتے ہیں، ’’ہم اس علاقے کو سمجھتے ہیں، یہاں کے ماحولیاتی نظام کو سمجھتے ہیں، اور ہم حیاتیاتی انواع، آبی پیڑ پودوں کو بچانے کے لیے حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی پالیسیوں کے بھی خلاف نہیں ہیں۔ ہماری تو بس ایک چھوٹی سی درخواست ہے: اور وہ یہ ہے کہ کوئی بھی پالیسی بنانے سے پہلے ہماری بات بھی سنی جائے۔ ورنہ اس علاقے کے آس پاس رہنے والے تقریباً ۱۲۰۰ لوگوں، اور ان تمام اونٹوں کی بھی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘

The thick mangrove cover of the Marine National Park and Sanctuary located in northwest Saurashtra region of Gujarat
PHOTO • Ritayan Mukherjee

گجرات کے شمال مغربی سوراشٹر خطہ میں واقع میرین نیشنل پارک اور سینکچری میں گھنے آبی پیڑ پودوں والا علاقہ

Bhikabhai Rabari accompanies his grazing camels by swimming alongside them
PHOTO • Ritayan Mukherjee

اپنے چرتے ہوئے اونٹوں کے ساتھ تیر کر جانے والے بھیکا بھائی رباری

Aadam Jat holding his homemade polystyrene float, which helps him when swims with his animals
PHOTO • Ritayan Mukherjee

آدم جاٹ اپنے ہاتھوں میں گھر میں بنی ہوئی تیرنے والی پولیسٹرین کو پکڑے ہوئے ہیں، جو انہیں اپنے جانوروں کے ساتھ تیرنے میں مدد کرتی ہے

Magnificent Kharai camels about to get into the water to swim to the bets (mangrove islands)
PHOTO • Ritayan Mukherjee

یہ بیش قیمتی کھرائی اونٹ تیر کر بیٹس (آبی پیڑ پودوں والے جزیروں) پر جانے کے لیے بس پانی کے اندر داخل ہونے ہی والے ہیں

Kharai camels can swim a distance of 3 to 5 kilometres in a day
PHOTO • Ritayan Mukherjee

کھرائی اونٹ ایک دن میں ۳ سے ۵ کلومیٹر تیر کر جا سکتے ہیں

The swimming camels float through the creeks in the Marine National Park in search of food
PHOTO • Ritayan Mukherjee

چارے کی تلاش میں میرین نیشنل پارک کی طرف تیر کر جاتے ہوئے کھرائی اونٹ

Hari, Jethabhai Rabari's son, swimming near his camels. ‘I love to swim with the camels. It’s so much fun!’
PHOTO • Ritayan Mukherjee

جیٹھا بھائی رباری کا بیٹا ہری، اپنے اونٹوں کے قریب ہی تیر رہا ہے۔ ’مجھے اونٹوں کے ساتھ تیرنا پسند ہے۔ اس میں بڑا مزہ آتا ہے!‘

The camels’ movement in the area and their feeding on plants help the mangroves regenerate
PHOTO • Ritayan Mukherjee

اس علاقے میں اونٹوں کا چلنا پھرنا اور پیڑ پودوں کو چرنا آبی پیڑ پودوں میں نئی پتیاں نکلنے میں مدد کرتا ہے

A full-grown Kharai camel looking for mangrove plants
PHOTO • Ritayan Mukherjee

پوری طرح سے جوان ہو چکا ایک کھرائی اونٹ آبی پیڑ پودوں کو تلاش کر رہا ہے

Aadam Jat (left) and a fellow herder getting on the boat to return to their village after the camels have left the shore with another herder
PHOTO • Ritayan Mukherjee

ایک دوسرے گلہ بان کے ساتھ اونٹوں کے ساحل سے روانہ ہونے کے بعد، اپنے گاؤں لوٹنے کے لیے کشتی پر سوار ہوتے ہوئے آدم جاٹ (بائیں) اور ان کا ایک ساتھی گلہ بان

Aadam Jat, from the Fakirani Jat community, owns 70 Kharai camels and lives on the periphery of the Marine National Park in Jamnagar district
PHOTO • Ritayan Mukherjee

فقیرانی جاٹ برادری سے تعلق رکھنے والے آدم جاٹ کے پاس ۷۰ کھرائی اونٹ ہیں، اور وہ جام نگر ضلع میں میرین نیشنل پارک کے علاقے میں ہی رہتے ہیں

Aadam Jat in front of his house in Balambha village of Jodiya taluka. ‘We have been here for generations. Why must we face harassment for camel grazing?’
PHOTO • Ritayan Mukherjee

جوڈیا تعلقہ کے بلمبھا گاؤں میں اپنے گھر کے سامنے بیٹھے ہوئے آدم جاٹ۔ ’ہم یہاں پر کئی نسلوں سے آباد ہیں۔ پھر ہمیں اپنے اونٹوں کو چرانے کی وجہ سے کیوں ہراساں کیا جا رہا ہے؟‘

Jethabhai's family used to own 300 Kharai camels once. ‘Many died; I am left with only 40 now. This occupation is not sustainable anymore’
PHOTO • Ritayan Mukherjee

جیٹھا بھائی کی فیملی کے پاس بھی کسی زمانے میں ۳۰۰ کھرائی اونٹ ہوا کرتے تھے۔ ’ان میں سے کئی مر گئے؛ اب میرے پاس صرف ۴۰ اونٹ بچے ہیں۔ یہ پیشہ اب گزارہ کرنے کے لائق نہیں رہا‘

Dudabhai Rabari (left) and Jethabhai Rabari in conversation. ‘We both are in trouble because of the rules imposed by the Marine National Park. But we are trying to survive through it,’ says Duda Rabari
PHOTO • Ritayan Mukherjee

آپس میں بات کرتے ہوئے دودا بھائی رباری (بائیں) اور جیٹھا بھائی رباری۔ دودا بھائی رباری کہتے ہیں، ’میرین نیشنل پارک کے ذریعے تھوپے گئے ضابطوں کی وجہ سے ہم دونوں ہی پریشان ہیں۔ لیکن ہم کسی طرح گزر بسر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘

As the low tide settles in the Gulf of Kachchh, Jethabhai gets ready to head back home
PHOTO • Ritayan Mukherjee

خلیج کچھّ میں پانی کی اونچی لہروں کے تھم جانے کے بعد، گھر واپسی کی تیاری کرتے ہوئے جیٹھا بھائی

Jagabhai Rabari and his wife Jiviben Khambhala own 60 camels in Beh village of Khambaliya taluka, Devbhumi Dwarka district. ‘My livelihood depends on them. If they are happy and healthy, so am I,’ Jagabhai says
PHOTO • Ritayan Mukherjee

جگا بھائی رباری اور ان کی بیوی جیوی بین کھمبھالا کے پاس دیوبھومی دوارکا ضلع کے کھمبلیا تعلقہ کے بیہہ گاؤں میں ۶۰ اونٹ ہیں۔ جگا بھائی کہتے ہیں، ’میری روزی روٹی انہیں پر منحصر ہے۔ اگر وہ خوش اور تندرست ہیں، تو میں بھی خوش اور تندرست رہوں گا‘

A maldhari child holds up a smartphone to take photos; the back is decorated with his doodles
PHOTO • Ritayan Mukherjee

ایک مال دھاری بچہ اپنے اسمارٹ فون سے فوٹو کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے؛ فون کا پچھلا حصہ اس کے ڈوڈل سے سجا ہوا ہے

A temple in Beh village. The deity is worshipped by Bhopa Rabaris, who believe she looks after the camels and their herders
PHOTO • Ritayan Mukherjee

بیہہ گاؤں کا ایک مندر۔ بھوپا رباری لوگ یہاں کی دیوی کی پوجا کرتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ اونٹوں اور ان کے گلہ بانوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں

There are about 1,180 camels that graze within the Marine National Park and Sanctuary
PHOTO • Ritayan Mukherjee

میرین نیشنل پارک اور سینکچری کے اندر چرنے والے اونٹوں کی تعداد تقریباً ۱۱۸۰ ہے

رتائن مکھرجی، سینٹر فار پیسٹورلزم کی طرف سے ملنے والے ایک آزادانہ سفری گرانٹ کے ذریعے گلہ بان اور خانہ بدوش برادریوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہیں۔ سینٹر نے اس رپورتاژ کے مواد پر اپنے کسی ادارتی کنٹرول کا اظہار نہیں کیا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Photos and Text : Ritayan Mukherjee

Ritayan Mukherjee is a Kolkata-based photographer and a PARI Senior Fellow. He is working on a long-term project that documents the lives of pastoral and nomadic communities in India.

Other stories by Ritayan Mukherjee
Video : Urja

Urja is Senior Assistant Editor - Video at the People’s Archive of Rural India. A documentary filmmaker, she is interested in covering crafts, livelihoods and the environment. Urja also works with PARI's social media team.

Other stories by Urja

P. Sainath is Founder Editor, People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought' and 'The Last Heroes: Foot Soldiers of Indian Freedom'.

Other stories by P. Sainath
Photo Editor : Binaifer Bharucha

Binaifer Bharucha is a freelance photographer based in Mumbai, and Photo Editor at the People's Archive of Rural India.

Other stories by Binaifer Bharucha
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez