گوپی ناتھ نائکواڑی، ممبئی تک پیدل مارچ کرنے کے ارادے سے ناسک آئے۔ ’’ہم نے ایک سال تک انتظار کیا، لیکن سرکار نے ہمارا ایک بھی مطالبہ پورا نہیں کیا۔ اس بار ہم تب تک واپس نہیں جائیں گے، جب تک کہ سرکار ان مطالبات کو پورا نہیں کر دیتی ہے،‘‘ مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے اکولا تعلقہ کے تامبھول گاؤں کے ۸۸ سالہ کسان نے کہا۔

نائکواڑی چار ایکڑ زمین پر کھیتی کیا کرتے تھے، جس میں سے وہ ایک ایکڑ کے مالک ہیں اور باقی زمین محکمہ جنگلات کی ہے۔ لیکن پچھلے ایک سال سے وہ صرف ایک ایکڑ میں ہی کھیتی کر رہے ہیں۔ ’’گاؤں میں پینے تک کا پانی نہیں ہے۔ ہم کھیتی کیسے کریں؟‘‘ انھوں نے مجھ سے ناسک ضلع کے وِلہولی گاؤں کے باہر سوال کیا، جہاں ۲۱ فروری کو دوپہر ڈھائی بجے ہزاروں کسان دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے رکے تھے۔ وہ ناسک کے مہامارگ بس اسٹینڈ سے یہاں تک، ۱۰ کلومیٹر کی دوری تین گھنٹے میں طے کرنے کے بعد یہاں پہنچے تھے۔ نائکواڑی بھی اکولا تعلقہ کے تقریباً ۲۵۰ کسانوں کے ساتھ وہاں سے چلے تھے۔

ان کے کھیت پر لگا بورویل ایک سال پہلے سوکھ گیا تھا۔ اب، ہر چھ دن میں ایک بار، سرکاری پانی کے ٹینکر سے گاؤں میں پینے کے پانی کی سپلائی کی جاتی ہے

نائکواڑی اور ان کا کنبہ ہر سال سویابین، بھوئی مُگ (مونگ پھلی)، مونگ، موٹھ، پیاز اور باجرا کی کھیتی کرتا تھا۔ لیکن ان کے کھیت پر لگا بورویل ایک سال پہلے سوکھ گیا۔ اب، ہر چھ دن میں ایک بار، سرکاری پانی کے ٹینکر سے گاؤں میں پینے کے پانی کی سپلائی کی جاتی ہے۔ نائکواڑی نے ۲۰۱۸ میں ولیج کوآپریٹو سوسائٹی سے ۲۷۰۰۰ روپے کا فصلی قرض لیا تھا۔ ’’ہم نے ۲۰ گُنٹھا [آدھا ایکڑ] پر پیاز اُگایا۔ لیکن میرے سارے پیاز جل گئے کیوں کہ پانی نہیں ہے...‘‘ انھوں نے بتایا۔ ۸۸ سالہ بزرگ اب قرض چکانے کو لے کر فکرمند ہیں۔ ’’میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘ انھوں نے افسردگی سے سوال کیا۔

نائکواڑی نے ۲۰۱۸ میں ممبئی سے ناسک تک کے لمبے مارچ میں حصہ لیا، پھر نومبر میں کسان مُکتی مورچہ کے لیے دہلی گئے۔ ان کی بیوی بجلا بائی ان احتجاجی مظاہروں میں شامل نہیں ہو سکیں، کیوں کہ ’’وہ گاؤں میں ایک گائے اور دو بکریوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں،‘‘ نائکواڑ نے بتایا۔ ان کا بیٹا، بالا صاحب (۴۲) ایک کسان ہے، اور دو بیٹیاں – وِٹھا بائی اور جنا بائی، دونوں اپنی عمر کے ۵۰ویں سال میں – شادی شدہ اور خاتون خانہ ہیں۔ دو اور بیٹیوں، بھاگیارتھی اور گنگوبائی کا انتقال ہو گیا۔

ایک دہائی قبل، گوپی ناتھ اور بجلا بائی گزر بسر کے لیے اپنے گاؤں میں بیڑی بناتے تھے۔ ’’۱۰۰۰ بیڑیاں بنانے کے بدلے ٹھیکہ دار ہمیں ۱۰۰ روپے دیتے تھے۔‘‘ اس سے انھیں تقریباً ۲۰۰۰ روپے کی ماہانہ آمدنی ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن، وہ بتاتے ہیں کہ تیندو کے پتے دستیاب نہ ہونے کے سبب، اکولا تعلقہ میں تقریباً ایک دہائی قبل بیڑی صنعت بند ہو گئی۔

PHOTO • Sanket Jain

گوپی ناتھ نائکواڑی اُن ہزاروں کسانوں میں سے ایک ہیں، جو ممبئی کے دوسرے لمبے مارچ میں حصہ لینے کے لیے ناسک سے آئے تھے

نائکواڑی اب بنیادی طور پر فیملی کے مویشیوں کے لیے چارے کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اور کبھی کبھار ہی کھیتی کا کام کرتے ہیں؛ ان کا بیٹا ان کی زمین کی رکھوالی کرتا ہے۔ سنجے گاندھی نرادھار پنشن یوجنا کے تحت انہیں ہر ماہ ۶۰۰ روپے ملتے ہیں۔ ’’ان ۶۰۰ روپیوں میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ پنشن کو بڑھا کر ۳۰۰۰ روپے کیا جانا چاہیے۔‘‘

’’اس بار، اگر سرکار ہمارے مطالبات کو نافذ نہیں کرتی ہے، تو ہم ممبئی نہیں چھوڑیں گے۔ ممبئی میں ہی مر جانا بہتر ہے۔ ویسے بھی، گاؤں میں کھیتی ہمیں ہلاک کر رہی ہے۔‘‘

پوسٹ اسکرپٹ: مارچ منعقد کرنے والی آل انڈیا کسان سبھا نے سرکاری نمائندوں کے ساتھ پانچ گھنٹے تک بات چیت کرنے کے بعد، جس میں انھیں تحریری طور پر یقین دہانی کرائی گئی کہ سرکار کسانوں کے سبھی مطالبات پورے کرے گی، ۲۱ فروری کو دیر رات احتجاجی مظاہرہ ختم کر دیا گیا۔ ’’ہم ہر مسئلہ کو متعینہ مدت کے اندر سلسلہ وار طریقے سے حل کریں گے اور ہر دو مہینے میں ایک تجزیاتی میٹنگ کریں گے،‘‘ وزیر مملکت برائے آبی وسائل، گریش مہاجن نے مجمع میں اعلان کیا۔ ’’آپ کو [کسانوں اور زرعی مزدوروں کو] ممبئی تک پیدل چل کر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی سرکار ہے جو سنتی ہے۔ اب ہم ان یقین دہانیوں کو نافذ کریں گے تاکہ آپ کو کوئی دوسرا مارچ نہ نکالنا پڑے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sanket Jain

سنکیت جین، مہاراشٹر کے کولہا پور میں مقیم ایک آزاد دیہی صحافی اور پاری والنٹیئر ہیں۔

Other stories by Sanket Jain