اپنے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھی ۴۰ سالہ مالن اپنی ماں کے گھر لوٹنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہ اپنا پسندیدہ بوٹی دار بلاؤز اور ٹخنے تک لمبی اسکرٹ پہنے ہوئی ہیں۔ وہ مجھے دیکھتی ہیں، ان کا چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ پچھلی بار ملاقات کے سبب وہ مجھے پہچان لیتی ہیں۔ ’’آئی ناہی گھری [ماں گھر پر نہیں ہیں]،‘‘ وہ مجھے بتاتی ہیں جب میں اینٹ، پتھر اور مٹی کے دو کمروں والے ان کے گھر کے دروازے پر بیٹھتی ہوں۔

مالن مورے اپنی ۶۳ سالہ ماں راہی بائی اور ۸۳ سالہ والد نانا کے ساتھ واڈی گاؤں میں رہتی ہیں (ان کے نام، اور گاؤں کا نام بدل دیا گیا ہے)۔ یہ گاؤں پونہ ضلع کے مُلشی تعلقہ میں ہے، جہاں پر یہ فیملی تقریباً تین ایکڑ زمین پر دھان، گیہوں اور سبزیوں کی کھیتی کرتی ہے۔

مالن جب تقریباً ۱۸ سال کی تھیں، تو پونہ کے سسون جنرل اسپتال میں ان کی ’ذہنی معذوری‘ کا پتہ چلا تھا۔

اس سے پہلے ۱۲ سال تک، وہ ریاست کے ذریعے چلائے جا رہے مقامی پرائمری اسکول میں پڑھنے جاتی تھیں۔ ’’اس کے سبھی ہم جماعتوں نے جماعت ۴ پاس کر لیا اور آگے بڑھ گئے، لیکن وہ زمین پر رینگنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پائی،‘‘ راہی بائی بتاتی ہیں۔ ’’آخرکار، کلاس ٹیچر نے مجھ سے کہا کہ اسے اسکول سے نکال لوں۔‘‘ مالن اس وقت تقریباً ۱۵ سال کی تھیں۔

تب سے، مالن اپنی ماں کے ساتھ گھر میں چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے اپنا دن گزارتی ہیں، لیکن جب طبیعت کرتی ہے صرف تبھی۔ وہ بہت کم بات کرتی ہیں، اور جب کرتی ہیں، تو عام طور پر صرف راہی بائی اور کچھ دیگر کے ساتھ ہی کرتی ہیں۔ لیکن وہ بات کو سمجھتی اور بات کر سکتی ہیں۔ جب میں نے ان کے ساتھ بات کی، تو انہوں نے سر ہلایا، مسکرائیں اور تھوڑی دیر کے لیے بولیں۔

At the age of 18, Malan was diagnosed with ‘borderline mental retardation’; she spends her days doing small chores in the house along with her mother Rahibai
PHOTO • Medha Kale
At the age of 18, Malan was diagnosed with ‘borderline mental retardation’; she spends her days doing small chores in the house along with her mother Rahibai
PHOTO • Medha Kale

۱۸ سال کی عمر میں، مالن کی ’ذہنی معذوری‘ کا پتہ چلا تھا؛ وہ اپنی ماں راہی بائی کے ساتھ گھر میں چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے دن گزارتی ہیں

مالن کو پہلا حیض ۱۲ سال کی عمر میں آیا تھا۔ ’’خون آیا، خون آیا،‘‘ پہلی بار انہوں نے راہی بائی کو ایسے ہی بتایا تھا۔ ان کی ماں نے انہیں کپڑے کے پیڈ کا استعمال کرنا سکھایا۔ ’’لیکن میرے بیٹے کی شادی ہو رہی تھی اور گھر میں شادی کی رسمیں چل رہی تھیں۔ اس لیے، میری طرح، اس نے بھی [اپنے حیض کے دوران] ’باہر بیٹھنا‘ شروع کردیا،‘‘ راہی بائی کہتی ہیں، ان پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہ باورچی خانہ میں داخل نہیں ہونا ہے اور کمرے کے ایک کونے میں ہی رہنا ہے۔ مالن کے لیے ان کی ماں ہی حیض کے بارے میں معلومات کا واحد ذریعہ تھیں، اس لیے وہ راہی بائی کے طریقوں پر عمل کرنے لگیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ، راہی بائی کو صلاح دی گئی کہ وہ اپنی بیٹی کی بچہ دانی نکلوا دیں۔ ’’کبھی کبھی مالن کو پانچ یا چھ مہینے تک حیض نہیں آتا تھا، اور میں [حمل ٹھہرنے کے خوف سے] بیحد فکرمند ہو جاتی تھی۔ وہ زیادہ بولتی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہو جاتا، تو مجھے کیسے پتہ چلتا؟‘‘ راہی بائی کہتی ہیں۔ ’’میں اس کی جانچ کرانے کے لیے اسے دو بار پونہ کے فیملی پلاننگ [فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف انڈیا] کلینک لے گئی (جو واڈی گاؤں سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور ہے)، دوسری بار ۲۰۱۸ میں لے گئی تھی۔‘‘ حمل کی جانچ کرنے والا کِٹ دواؤں کی دکان پر آسانی سے دستیاب ہوتا ہے، لیکن راہی بائی کے ذریعے اسے مالن کے لیے حاصل کرنا مشکل ہوتا۔

اصل میں، پورے معاشرہ میں حیض کو کٹکٹ یا مسئلہ کے طورپر دیکھنے کی عادت ہے، اس لیے حیض کو روکنے کے لیے معذور لڑکیوں کے تولیدی اعضا کی ہسٹیریکٹومی یا بچہ دانی کو سرجری کے ذریعے نکال دیے جانے کا متبادل اختیار کیا جاتا ہے۔ اس میں جنسی تربیت اور معذور لڑکیوں اور عورتوں کے لیے خصوصی امداد کی کمی ہے۔

اس عمل نے پہلی بار ۱۹۹۴ میں سرخیاں بٹوریں، جب پونہ کے سسون جنرل اسپتال میں ۱۸ سے ۳۵ سال کی ذہنی طور پر معذور لڑکیوں کی بچہ دانی نکالی گئی۔ انہیں وہاں پونہ ضلع کے شیرور تعلقہ میں ذہنی طور پر معذور لڑکیوں کے لیے سرکار کی طرف سے منظور شدہ رہائشی اسکول سے لایا گیا تھا۔ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ حیض اور عورتوں کے ساتھ کسی بھی جنسی استحصال کے نتائج سے نمٹنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔

Illustration: Priyanka Borar

خاکہ نگاری: پرینکا بورار

’پونہ کلینک کے ڈاکٹروں نے [مالن کے لیے] بچہ دانی کو نکلوانے کا مشورہ دیا،‘ راہی بائی مجھے بتاتی ہیں۔ ’لیکن میں نے ان سے کہا کہ کیا وہ بچہ دانی کو نکالنے کی بجائے نس بندی کر سکتے ہیں‘

پونہ میں مقیم صحت عامہ کے کارکن ڈاکٹر اننت پھڑکے اور دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کی، جس میں الزام لگایا کہ یہ سرجری رضامندی کے بغیر اور ۱۰ سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی بھی کی گئی ہے۔ عرضی گزاروں نے کئی جگہوں پر معذور عورتوں کے ساتھ ہوئے جنسی استحصال، ان کی اندیکھی، عصمت دری اور جبراً اسقاطِ حمل کو اجاگر کیا۔ اس عرضی کے بعد لوگوں نے ہنگامہ کرنا شروع کر دیا جس کے بعد سرجری کو روک دیا گیا – لیکن تب تک کم از کم ۱۱ لڑکیوں کی سرجری کی جا چکی تھی، ایسا اس وقت کی رپورٹوں میں کہا گیا۔ پچھلے سال، عرضی دائر کرنے کے ۲۵ سال بعد، ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۹ کو، بامبے ہائی کورٹ نے ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس معاملے پر بحث مکمل ہو چکی ہے اور فیصلہ زیر التوا ہے۔

’’پونہ کلینک کے ڈاکٹروں نے [مالن کے لیے] بچہ دانی کو نکلوانے کا مشورہ دیا،‘‘ راہی بائی مجھے بتاتی ہیں۔ ’’لیکن میں نے ان سے کہا کہ کیا وہ بچہ دانی کو نکالنے کی بجائے نس بندی کر سکتے ہیں۔‘‘

بین الاقوامی سطح پر جہاں مانع حمل کے ایشو اور ذہنی طور سے معذور عورتوں کے لیے مانع حمل کے مستقل طریقوں پر بحث چل رہی ہے، وہیں دور دراز کے واڈی گاؤں میں راہی بائی اپنی بیٹی کی ضرورتوں کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ مالن کی چھوٹی بہن (جو شادی شدہ ہے اور پونہ میں رہتی ہے) اور چچیری بہنیں بھی ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔ ’’نوجوانی میں اسے کچھ نہیں ہوا۔ اب اسے درد میں کیوں مبتلا کیا جائے؟ چھوڑو،‘‘ انہوں نے کہا۔ اس لیے مالن کی نہ تو نس بندی ہوئی اور نہ ہی بچہ دانی کو نکالنے والی سرجری سے گزرنا پڑا۔

حالانکہ، کئی والدین اپنی معذور بیٹیوں کے لیے اس سرجری کا انتخاب کرتے ہیں، اور ہندوستان میں کئی رہائشی ادارے ذہنی طور سے معذور عورتوں کو ہسٹیریکٹومی کے بغیر اپنے یہاں داخلہ نہیں دیتے ہیں – اس بنیاد پر کہ یہ عورتیں کبھی شادی نہیں کریں گی یا بچے پیدا نہیں کریں گی، اس لیے ان کی بچہ دانی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ عمل لڑکیوں کو ان کے حیض کے مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس قسم کا فیصلہ عام طور پر جنسی استحصال اور اس کے نتیجہ میں حمل ٹھہرنے کے خوف سے کیا جاتا ہے۔

Sitting on a cot, Malan waits for her mother to come home
PHOTO • Medha Kale

چارپائی پر بیٹھی مالن، اپنی ماں کے گھر لوٹنے کا انتظار کر رہی ہیں

ان میں سے کچھ فکرمندیاں بلا وجہ ہوتی ہیں۔ ’’ذہنی معذوری والی زیادہ تر لڑکیاں یہ سمجھ سکتی ہیں کہ بلوغت کے دوران کیا ہوتا ہے اور انہیں حیض کے دوران خود سے اپنی دیکھ بھال کرنے کی ٹریننگ بھی دی جا سکتی ہے،‘‘ پونہ میں واقع تتھاپی ٹرسٹ کے سابق کوآرڈی نیٹر اچیوت بورگاوکر کہتے ہیں، یہ تنظیم معذوری اور جنسیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور ٹریننگ دینے کے لیے والدین، اساتذہ، صلاح کاروں اور نگہداشت فراہم کنندگان کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ ’’لیکن صحت عامہ اور تعلیم کے ہمارے نظام میں [معذوروں کے لیے زندگی کے ہنر اور جنسی تعلیم پر] کوئی پروگرام نہیں ہے۔‘‘

مضبوط صحت عامہ اور فلاح کے نظام اور فیملی اور سماج کی مسلسل حمایت کے بغیر معذور افراد کے جنسی اور تولیدی صحت و حقوق کی حفاظت کرنا بہت مشکل ہے، میدھا ٹینگشے کہتی ہیں۔

’’ہم بھی لاچار ہیں،‘‘ ذہنی طور سے معذور بالغوں کے لیے واڈی سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور، کول ون وادی میں ۱۹۹۴ میں (ایک رجسٹرڈ سوسائٹی کے طور پر) قائم کیے گئے رہائشی مرکز، سادھنا گاؤں کی بانی رکن، ٹینگشے کہتی ہیں۔ (راہی بائی گزشتہ ۲۰ برسوں سے سادھنا گاؤں کے لیے کام کر رہی ہیں اور معمولی تنخواہ پاتی ہیں)۔ ’’تقریباً ۱۵ سال پہلے، ہمیں ایماندار عورتیں ملیں، جو ہماری خواتین رہائشیوں کی ان کے حیض کے دوران دیکھ بھال کرتی اور ان کی مدد کرتی تھیں۔ اب وہ منظر بدل گیا ہے۔ ہم یہاں رہنے والی عورتوں کو اپنی بنیادی دیکھ بھال کرنے کے لیے ٹریننگ دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ہم بھی انتظام نہیں کر پاتے۔ اور پھر ہمیں سرجری کی صلاح دینی پڑتی ہے۔‘‘

قریب کے کول ون گاؤں میں، واڈی کے قریب ترین طبی ذیلی مرکز پر مضبوط پبلک ہیلتھ سپورٹ سسٹم کی کمی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ذہنی طور سے معذور عورتوں کی تولیدی صحت سے متعلق ضروریات کے بارے میں پوچھنے پر دو مرد طبی کارکن، ایک مرد میڈیکل آفیسر اور دو خواتین طبی کارکن نظریں چرانے لگتے ہیں۔ ’’ہم بالغ لڑکیوں اور عورتوں کو سینیٹری پیڈ تقسیم کرتے ہیں،‘‘ ایک معاون نرس دائی کہتی ہے۔ اور کیا کرتے ہو، میں پوچھتی ہوں۔ وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگتے ہیں۔

کُلے گاؤں میں، (تقریباً ۱۱ کلومیٹر دور) واڈی کے قریب پرائمری ہیلتھ سینٹر کی بھی یہی حالت ہے۔ ایک آشا (منظور شدہ سماجی صحت کارکن) سورنا سونار کہتی ہیں کہ کُلے میں دو لڑکیاں ہیں، جو ’دھیمی رفتار سے سیکھ رہی ہیں‘، اور کول وَن میں ایسی چار یا پانچ لڑکیاں ہیں۔ لیکن ان کے لیے کوئی بھی خاص طبی سہولت نہیں ہے، وہ بتاتی ہیں۔ ’’بالغ ہونے پر ان کا برتاؤ بدل جاتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ انہیں کیسے اور کیا بتانا ہے۔‘‘

معذور افراد کے حقوق پر اقوام متحدہ کی قرارداد کی دفعہ ۲۵ (اے)، جو ۳ مئی ۲۰۰۸ کو نافذ ہوئی، میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت معذور افراد کو عام جنسی اور تولیدی صحت سمیت تمام طبی خدمات برابری کی بنیاد پر فراہم کرنے کے لیے پابند ہے‘۔

Artwork from a recreation centre for persons with disability in Wadi
PHOTO • Medha Kale

واڈی میں معذور افراد کے تفریحی مرکز سے ایک آرٹ ورک

ہندوستان نے قرارداد کو منظور کر لیا ہے، لیکن ہندوستان میں معذور افراد کی رضامندی کے بغیر نس بندی پر روک ۲۰۱۶ میں لگائی گئی جب ملک میں معذور افراد کے حقوق کا قانون نافذ ہوا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سرکار ’جنسی اور تولیدی صحت سے متعلق خدمات فراہم کرے، خاص طور سے معذور عورتوں کو‘ اور ’یہ یقینی بنائے کہ معذور افراد کو تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ کے بارے میں مناسب معلومات حاصل ہو رہی ہیں‘۔

حالانکہ، اس قانون میں ذہنی طور سے معذور عورتوں کے جنسی اور تولیدی حقوق کے لیے کوئی خاص التزام نہیں ہے – یا ’ذہنی معذوری‘ والی عورتوں کے لیے بھی نہیں ہے، جن کی تعداد ہندوستان میں، وزارت برائے سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مطابق، ۶ لاکھ سے زیادہ ہے، جن میں سے ۴ لاکھ سے زیادہ دیہی علاقوں میں رہتی ہیں۔

زیادہ تر وقت، ذہنی طور سے معذور کو بغیر کسی جنسی خواہش یا حد سے زیادہ جنسی خواہش والے/والی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اپنی تولیدی ضروریات کو ’منظم‘ کرنے کی خواہش میں، محبت، رفاقت، مباشرت اور جنسی قربت کی ان کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ماں بننے کے ان کے حق کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، معذوری اور جنسیت سے متعلق ۲۰۱۷ کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے۔

کیا آپ نے کبھی مالن کی شادی کے بارے میں سوچا، میں نے راہی بائی سے سوال کیا۔ ’’کچھ لوگوں نے یہ مشورہ دیا تھا اور رشتہ بھی لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے اس کی شادی نہیں کرنے کا فیصلہ کیا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’وہ تو ساڑی بھی نہیں پہن سکتی، پھر وہ اپنی فیملی کیسے سنبھالے گی؟ اس کے [دو] بھائیوں نے بھی کہا، ’اسے یہیں اپنے گھر میں مرنے دو‘۔‘‘ راہی بائی یہ بھی جانتی تھیں کہ مالن جیسی کئی عورتیں اپنے شوہر کے گھر میں نئی زندگی کو منظم کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور آخرکار اپنے والدین کے گھر لوٹ آتی ہیں۔

حالانکہ، پونہ میں مقیم ماہر تعلیم، صلاح کار اور خصوصی ضروریات کے حامل ایک شخص کی ماں، ڈاکٹر سنیتا کلکرنی کہتی ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بالغ عورتوں اور خصوصی توجہ کے حامل مردوں کے بھی جنسی حقوق ہیں۔ ’’اور سیکس کا مطلب ہمیشہ مباشرت نہیں ہوتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’جنسیت کے بہت سارے پہلو ہیں۔ دوستی ہے، قربت ہے، تھوڑی بہت چھیڑخانی یا ایک کپ کافی شیئر کرنا ہے۔ لیکن ان سب چیزوں سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔‘‘

اس کی بجائے، جب ذہنی طور سے معذور بالغ لڑکیاں اور لڑکے اپنے جنسی جذبات کا اظہار کرتے ہیں، تو زیادہ تر کنبے اور نگہداشت فراہم کنندگان ان کی مخالفت کرتے ہیں، کئی سیکس ہارمون کو کنٹرول کرنے کے لیے دواؤں کا استعمال کرتے ہیں، اور کچھ لوگ کسی بھی قسم کے جنسی برتاؤ کو سخت سزا دیتے ہیں۔ ’’ان جذبات سے انکار کرکے ہم کیا حاصل کر لیتے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر سچن نگرکر پوچھتے ہیں، جو ۱۵ سالوں سے ملشی تعلقہ کے پوڈ گاؤں میں بالغوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ’’جنسی خواہش ایک فطری اور صحت مند اظہار ہے۔ آپ اسے روک نہیں سکتے، دبا نہیں سکتے یا اس سے انکار نہیں کر سکتے ہیں۔‘‘

خاکہ نگاری: پرینکا بورار

حالانکہ ان کی خود کی جنسی خواہش کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، لیکن معذور عورتوں اور لڑکیوں کا اکثر جنسی استحصال ہوتا ہے۔ مالن اور اس کی چچیری بہن روپالی کو اپنے گاؤں کے لڑکوں سے استحصال اور دست درازی کا سامنا کرنا پڑا

حالانکہ ان کی خود کی جنسی خواہش کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، لیکن معذور عورتوں اور لڑکیوں کا اکثر جنسی استحصال ہوتا ہے۔ مالن اور اس کی ۳۸ سالہ چچیری بہن روپالی (بدلا ہوا نام)، جو ذہنی طور سے معذور ہیں، دونوں نے نوجوانی میں اپنے گاؤں کے لڑکوں سے استحصال اور دست درازی کا سامنا کیا ہے۔ ’’کچھ لڑکے سیٹی بجاتے، انہیں چھونے کی کوشش کرتے، یا اگر کوئی آس پاس موجود نہیں ہوتا، تو گھر پر آ جاتے تھے،‘‘ راہی بائی مجھے بتاتی ہیں۔ وہ اس قسم کے استحصال اور اس کے نتائج سے لگاتار خوفزدہ رہیں۔

لیکن راہی بائی نے اپنی تشویشوں کو خود تک محدود نہیں رکھا۔ واڈی کی تقریباً ۹۴۰ لوگوں کی آبادی میں سے، چھ میں ذہنی معذوری ہے – جن میں مالن سمیت دو عورتیں اور چار مرد شامل ہیں۔ راہی بائی جس سیلف ہیلپ گروپ کی رکن ہیں، اس کی عورتوں نے نومبر ۲۰۱۹ میں ایک ساتھ مل کر گاؤں کے آنگن واڑی کمرے میں ’خاص دوستوں کا دیورائی مرکز‘ شروع کیا۔ یہاں، ہفتہ میں دو بار، واڈی سے رضاکار میوری گایکواڑ اور سنگیتا کالیکر، اور سادھنا گاؤں سے شالن کامبلے ان چھ ’مخصوص دوستوں‘ کے لیے تفریحی سرگرمیاں اور ٹریننگ (خود کی دیکھ بھال سمیت) کا انتظام کرتی ہیں۔ ’’گاؤں کے کچھ لوگ ہمیں دیکھ کر ہنستے ہیں کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ ان ’پاگل‘ بچوں کو پڑھانا بیکار ہے۔ لیکن ہم نہیں رکیں گے،‘‘ میوری کہتی ہیں۔

’’می کیلی [اسے میں نے بنایا ہے]،‘‘ مالن فخر سے مجھے ہرے اور سفید موتیوں کا ہار دکھاتے ہوئے کہتی ہیں، جسے انہوں نے ان سرگرمیوں کے دوران بنایا ہے۔

باقی دنوں میں، مالن اپنے گھر پر صبح کے گھریلو کام کے طور پر، فیملی کے استعمال کے لیے نل سے ڈبوں میں پانی بھرتی ہیں، اور غسل کرتی ہیں۔ پھر، ہمیشہ کی طرح، وہ مٹی کے چولہے پر تھوڑی سی چائے گرا دیتی ہیں اور اپنی ماں سے ڈانٹ کھاتی ہیں۔

پھر، بوٹی دار بلاؤز اور ٹخنے تک لمبی اپنی پسندیدہ اسکرٹ میں، اپنی معاون فیملی سے گھری ہوئی، مالن دن کے کاموں کے لیے تیار رہتی ہیں۔

مضمون نگار تتھاپی ٹرسٹ کی متعمد ہیں، جہاں انہوں نے ۱۸ سالوں تک کام کیا ہے۔

سادھنا گاؤں کی میدھا ٹینگشے اور وجیہ کلکرنی، اور پونہ کے تتھاپی ٹرسٹ کے اچیوت بورگاوکر کا شکریہ۔

کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Medha Kale

میدھا کالے پونہ میں مقیم ہیں اور عورتوں اور صحت کے شعبے میں کام کر چکی ہیں۔ وہ پاری (PARI) کے لیے ترجمہ بھی کرتی ہیں۔

Other stories by Medha Kale