سکّم میں ۳۰۰ ہمالیائی یاکوں کی بھوک سےموت

شمالی سکّم میں برف میں پھنسے تقریباً ۳۰۰ یاکوں کی بھوک سے موت

پگھلتی برف نےسکّم کے یاک کے دردناک حادثہ کا انکشاف کیا

اس سال ۱۲ مئی کی اِن سرخیوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ایک فوٹو جرنسلٹ کے طور پر ہمالیہ کے اپنے دوروں سے مجھے معلوم ہے کہ ان مویشیوں کی پرورش کرنے والے خانہ بدوش انھیں بچانے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ ان بلند و بالا کے اہم حصوں کے اُس پار، کافی اونچائی پر رہنے والے چرواہوں کے لیے یہ یاک زندگی کی شہ رگ ہیں – خانہ بدوش چرواہے ان مویشیوں کو گرمی اور سردی کے مقررہ چراگاہوں پر موسم کے حساب سے لے جاتے ہیں۔ یاک ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ اور سردیوں کے دوران ایک غذائی وسیلہ ہیں۔

اِن سرخیوں والے کچھ مضامین نے یاک کی اموات کو گلوبل وارمنگ سے جوڑ دیا۔ یہ صاف تھا کہ اگر ان بہادر جانوروں پر اتنی مار پڑ رہی ہے، تو ان کے مالک بھی مصیبت میں ہوں گے۔ اسی لیے میں نے لداخ کی ہانلے وادی کے چانگپا کنبوں کے پاس دوبارہ جانے اور یہ دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ وہ دونوں کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ہندوستان میں چانگ تھانگ خطہ – تبتی پٹھار کی ایک مغربی توسیع – کے چانگپا کشمیری اون کی پیداوار کرنے والے سرکردہ لوگوں میں سے ایک ہیں، اور وہ یاک بھی پالتے ہیں۔ لیہہ ضلع کے نیوما بلاک کی ہانلے وادی چانگپا کی مختلف چرواہا اکائیوں – ڈیک، کھرلوگ، ماک، راک اور یَلپا – کی آماجگاہ ہے۔ ڈیک اور راک وہاں یاک کے شاید بہترین چرواہے ہیں۔

’’ہم بہت سارے یاک کھو رہے ہیں،‘‘ ہانلے میں ماہر ڈیک چرواہے، ۳۵ سالہ جھامپال چھیرِنگ کہتے ہیں۔ ’’اب، یہاں [اونچے پہاڑوں] کا موسم غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔‘‘ میں وادی کے کھلڈو گاؤں کے سونم دورجی کی بدولت چھیرنگ سے مل پایا۔ سونم ہانلے میں ہندوستانی فلکیاتی تجربہ گاہ میں کام کرتے ہیں۔ چھیرنگ نے ہم سے تقریباً ۱۴ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع تکناکپو چراگاہ میں، اپنے لمبے چوڑے کھُر (لداخی زبان میں فوج کے خیمہ) میں بات کی۔

سکّم میں مئی ۲۰۱۹ کی آفت سے تین سال پہلے، نیپال میں واقع انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ نے ایک پیپر شائع کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ’’بھوٹان، ہندوستان اور نیپال میں یاک کی آبادی میں حالیہ برسوں میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔‘‘ محققین نے پایا کہ ہندوستان میں یاک کی تعداد میں کمی آئی ہے اور یہ ’’۱۹۷۷ کے ۱۳۲ ہزار سے ۱۹۹۷ میں ۵۱ ہزار پر آ گئی ہے۔‘‘ صرف تین دہائیوں میں ۶۰ فیصد سے زیادہ کی گراوٹ۔

مقامی مویشی پروری اور دودھ کی پیداوار کے محکمہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ لیہہ ضلع میں یاک کی آبادی ۱۹۹۱ کے ۳۰ ہزار سے گھٹ کر ۲۰۱۰ میں ۱۳ ہزار ہو گئی۔ یہ دو دہائیوں میں ۵۷ فیصد کی گراوٹ ہے۔ مقامی اعداد و شمار اور ’سرکاری‘ اعداد و شمار میں فرق دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۲ میں اس ضلع میں یاک کی آبادی ۱۸۸۷۷ تھی (یہ بھی ۲۱ برسوں میں ۳۷ فیصد کی گراوٹ ہے)۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

لداخ کی ہانلے وادی کے بلند و بالا چراگاہ میں پوری طرح سے بالغ ایک ہمالیائی یاک – یہ جانور صدیوں سے چانگپا خانہ بدوش چرواہوں کے لیے زندگی کی شہ رگ ہے۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/پاری)

ڈیک بستی تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ ان کے چراگاہ دیگر چرواہا اکائیوں کے مقابلے زیادہ اونچائی پر ہیں۔ اس کے علاوہ، جن علاقوں میں وہ خیمہ لگاتے ہیں، وہ ہند-چین سرحد کے قریب ہیں، جہاں شہریوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ چونکہ یہ موسمِ بہار تھا، اس لیے سونم دورجی کی مدد سے میں وہاں تک پہنچ گیا۔

’’یاک انوکھے جاندار ہیں،‘‘ جھامپال چھیرِنگ کہتے ہیں۔ ’’یاک ٹھنڈے موسم کے عادی ہیں اور صفر سے ۳۵ یا ۴۰ ڈگری سیلسیس کم درجہ حرارت میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ حالانکہ، جب درجہ حرارت ۱۲ یا ۱۳ ڈگری تک بڑھ جاتا ہے، تب یہ ان کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ سخت سردیوں کے دوران، اپنی دھیمی میٹابولزم کے سبب، وہ جسم کی گرمی کا تحفظ کر سکتے ہیں اور زندہ رہ سکتے ہیں۔ لیکن موسم میں اتار چڑھاؤ یاک کو مشکل میں ڈال دیتا ہے۔‘‘

ڈیک بستی سے تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور کالا پری (کالا پہاڑ) میں، میں چھیرنگ چونچم سے ملا، جو ہانلے وادی میں یاک کی کچھ خواتین مالکوں میں سے ایک تھیں۔ ’’پہلے کے مقابلے آجکل کا موسم چونکہ گرم ہے، اس لیے بھیڑ، پشمینہ بکریوں اور یاک کے جسم پر زیادہ گھنے بال نہیں اُگتے ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ اب یہ بال بہت کم اور دھیمی رفتار سے اُگتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’وہ کمزور لگ رہے ہیں۔ کمزور یاک کا مطلب ہمارے لیے کم پیداواریت ہے۔ کم دودھ، کم آمدنی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں یاک سے ہماری آمدنی میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔‘‘ چونچم راک چرواہا اکائی کی ایک موسمی مہاجر ہیں۔ آزاد محققین کے ذریعے کیے گئے مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۰۱۲ میں یہاں کے چرواہا کنبہ کی اوسط ماہانہ آمدنی، تمام ذرائع کو ملاکر تقریباً ۸۵۰۰ روپے تھی۔

یاک کا دودھ مویشی پروروں کی آمدنی کا ایک اہم حصہ ہے اور کل آمدنی کا ۶۰ فیصد حصہ یاک کی پرورش سے حاصل ہو سکتا ہے۔ چانگپا کی بقیہ آمدنی کھُلو (یاک کے بال) اور اون سے آتی ہے۔ اس لیے یاک کی کم ہوتی تعداد اور دودھ کی پیداوار میں گراوٹ سے، ان کی کمائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یہ تمام تبدیلیاں یاک سے جڑی اقتصادیات کو بڑے تناؤ میں ڈال رہی ہیں۔

’’اب وقت پر نہ تو بارش ہوتی ہے اور نہ ہی برفباری،‘‘ چھیرنگ چونچم کہتی ہیں۔ ’’اس لیے پہاڑوں پر وافر گھاس نہیں ہے۔ اس وجہ سے، یہاں آنے والے [چرواہا] خانہ بدوشوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ میں کہوں گی کہ ان تبدیلیوں کے سبب، گھاس کی کمی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کے سبب ان کی تعداد [یہاں کے چرواہوں کے تخمینی کنبوں میں سے] ۴۰ فیصد کم ہوئی ہے۔

’’میرا بیٹا مقامی تجربہ گاہ میں کام کرتا ہے – جو مجھے کچھ راحت دیتا ہے۔ چانگپا کنبوں کے کئی نوجوانوں نے بارڈر روڈ آرگنائزیشن یا جنرل ریزرو انجینئر فورس کے سڑک بنانے کے پروجیکٹوں پر یومیہ مزدور کی شکل میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔‘‘ بہت سے لوگ نوکریوں کی تلاش میں کہیں اور چلے گئے ہیں۔

مقامی تجربہ گاہ میں کام کرنے والا یہ بیٹا سونم دورجی ہے، جس نے اس سفر کو مکمل کرنے میں میری کی ہے۔ سونم خود پہاڑوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے محتاط تجزیہ کار رہے ہیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

’موسم میں کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ جب میں ۱۵ سال کا تھا، تب یہاں بہت ٹھنڈ ہوا کرتی تھی...جو لوگ جانتے تھے وہ بتاتے کہ یہ گھٹ کر صفر سے ۳۵ ڈگری سیلسیس تک نیچے پہنچ جائے گا‘

’’موسم میں کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’جب میں ۱۵ سال کا تھا (میں ابھی ۴۳ سال کا ہوں، تو میں تقریباً ۳۰ سال پہلے کی بات کر رہا ہوں) تب یہاں بہت ٹھنڈ ہوا کرتی تھی۔ میں نے تب درجہ حرارت کو نہیں ناپا تھا، لیکن جو لوگ جانتے تھے وہ بتاتے کہ یہ صفر سے ۳۵ ڈگری نیچے تک جائے گا۔ اس لیے لوگوں کے کپڑوں کو اس قسم کی سخت ٹھنڈک کو برداشت کرنے کے لیے موافق ہونا پڑتا تھا۔ سنتھیٹک میٹریل والا جیکٹ نہیں جو وہ اب پہنتے ہیں۔ وہ جو کچھ بھی پہنتے وہ پشمینہ بکریوں کے اون سے بُنا ہوتا تھا – ٹوپی، کپڑے، سب کچھ۔ جوتے کے تلوے اندر کی طرف یاک کی جلد کے ایک چپٹے حصہ کے طور پر ہوتے تھے اور جوتے کو مقامی کپڑے سے بنایا جاتا تھا اور اسے باندھنے کے لیے اس میں ڈوریاں ہوتی تھیں، گھٹنے کی لمبائی تک۔ اب آپ ان قسموں کو کہیں بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں۔‘‘

درجہ حرارت گرم ہوتا جا رہا ہے، مغربی ہمالیائی خطہ کے لداخ اور لاہول اور اسپیتی میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات عنوان سے اپنے ۲۰۱۶ کے تحقیقی مضمون میں محققین ٹُنڈوپ آنگمو اور ایس این مشرا کہتے ہیں۔ ’’محکمہ موسمیات [ایئرفورس اسٹیشن، لیہہ) سے حاصل اعداد و شمار واضح طور پر اشارہ کرتے ہیں کہ گزشتہ ۳۵ برسوں میں سردیوں کے سبھی مہینوں میں لیہہ کا کم از کم درجہ حرارت تقریباً 1ºC اور گرمیوں کے مہینوں میں تقریباً 0.5ºC بنا رہتا ہے۔ نومبر سے مارچ تک واضح ترسیب کی کیفیت رہتی ہے یعنی برفباری کم ہوتی ہے۔‘‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں: ’’گزشتہ چند برسوں میں، لداخ اور لاہول اسپیتی میں عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے دکھائی دے رہے ہیں۔ بارش اور برفباری کے پیٹرن بدل رہے ہیں؛ چھوٹے گلیشیئر اور مقامی برف کے تودے پگھل رہے ہیں، جس سے ندیوں/چشموں میں پانی کی روانی متاثر ہو رہی ہے، اور درجہ حرارت اور نمی میں اضافہ حشرات اور کیڑوں کے حملے کے لیے موافق حالات تیار کر رہی ہے۔‘‘

اُدھر، جھامپال چھیرنگ کے خیمہ میں، ان کے دوست سنگدا دورجی نے ہم سے پوچھا تھا: ’’آپ نے اس بار کتنے ریبو کو دیکھا ہے؟‘‘

چانگپا خیمہ میں رہتے ہیں، جو ریبو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ریبو بنانے کے لیے کنبوں کے ذریعے یاک کے اون سے دھاگوں کی کتائی ہوتی ہے، پھر ان کی ایک ساتھ بُنائی اور سلائی کی جاتی ہے۔ یہ میٹریل حد سے زیادہ ٹھنڈ اور برفیلی ہواؤں سے خانہ بدوشوں کی حفاظت کرتا ہے۔

’’زیادہ تر کنبوں کے پاس [اب] ریبو نہیں ہیں،‘‘ سنگدا کہتے ہیں۔ ’’نئے ریبو کی سلائی کے لیے اون کہاں ہے؟ گزشتہ چند برسوں میں یاک کے اون کی مقدار میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ ریبو کے بغیر، ہماری خانہ بدوش طرزِ زندگی کا ایک اہم حصہ ختم ہو گیا ہے، جس کے لیے میں گرم سردیوں کو قصوروار مانتا ہوں۔‘‘

مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ سکّم میں مئی کا واقعہ پوری طرح سے اتفاقی نہیں تھا۔ آئندہ اس سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔ چرواہے موسمیاتی تبدیلی لفظ کا استعمال نہیں کرتے ہیں، لیکن اس کے اثرات کو اچھی طرح بیان کرتے ہیں۔ اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بہت بڑی تبدیلی ہوئی ہے، جیسا کہ سونم دورجی اور چھیرنگ چونچم کے الفاظ ہمیں دکھاتے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کچھ اہم تبدیلی، یہاں تک کہ تبدیلیوں کو بھی انسانی ایجنسی کے ذریعے اہمیت کے ساتھ فروغ دیا گیا ہے۔ شاید اسی لیے، ۶۰ کی دہائی میں چل رہے تجربہ کار چرواہے، گُمبو تاشی نے مجھے بتایا تھا: ’’ہاں، مجھے پتہ ہے کہ پہاڑوں میں موسم پیچیدہ ہوتا ہے۔ غیر یقینی۔ پہاڑ کے دیوتا کو ہم نے شاید ناراض کر دیا۔‘‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

اُن بلند و بالا پہاڑوں کے اہم حصوں کے اُس پار، کافی اونچائی پر رہنے والے چرواہوں کے لیے یہ یاک زندگی کی شہ رگ ہیں، ان کی کمائی کا بنیادی ذریعہ اور سردیوں کے دوران ایک غذائی وسیلہ۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

موسم کی تبدیلی چانگپا خانہ بدوش برادریوں کے جانوروں – یاک، پشمینہ بکریاں، بھیڑ – کو متاثر کر رہی ہے، جو چرائی کے لیے بلند و بالا چراگاہوں پر منحصر ہیں۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

زندگی کے طور طریقوں میں تبدیلی کے سبب، زیادہ تر چانگپا کنبے اب روایتی ریبو کا استعمال نہیں کرتے ہیں، جو یاگ کے دھاگے سے بنے خیمہ میں رہتے ہیں؛ اس کے بجائے، وہ لیہہ شہر سے خریدے گئے فوج کے ٹینٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

پھر بھی، کئی برادریاں یاک سے حاصل مختلف دیگر سامانوں کو بنانا جاری رکھے ہوئی ہیں۔ یہاں، چھوٹا ڈونچن یاک کے اون سے بنے کمبل میں آرام سے سو رہا ہے، جب کہ اس کی ماں فیملی کے مویشیوں کو چرانے باہر گئی ہوئی ہیں۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

چانگ تھانگ پٹھار کے خانہ بدوش چرواہا برادریوں کے لیے یاک غذا – دودھ اور گوشت – کا بھی وسیلہ ہیں۔ گوشت کے لیے جانوروں کو مارنا سماجی روایت کے برخلاف ہے، لیکن اگر یاگ کی قدرتی طور پر موت ہو جاتی ہے، تو فیملی اس کے کچھ گوشت کا استعمال کرتے ہیں تاکہ انھیں طویل اور شدید سردیوں میں زندہ رہنے میں مدد مل سکے۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

گُمبو تاشی، جو چانگپا برادری کی راک اکائی سے وابستہ ہیں، کے پاس تقریباً ۸۰ یاک ہیں۔ وہ اور یہاں موجود دیگر لوگ خانہ بدوش چرائی والی اپنی روایتی زندگی کی چنوتیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

گونپو ڈونڈروپ قریب کے چراگاہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جہاں پر اب گھاس نہیں اُگتی ہے، اور انھیں اپنے یاک کے لیے چارہ کی تلاش میں اور بھی اونچائی پر چڑھائی کرنی پڑتی ہے۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

چھیرنگ چونچم یاک کے ایک یتیم بچھڑے کے ساتھ۔ وہ ہانلے وادی کی چند خواتین یاک مالکوں میں سے ایک ہیں۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

اپنے جانوروں کے لیے گھاس کے میدانوں کی بڑھتی کمی کے سبب، خانہ بدوش چرواہے اپنے مقام، ماضی کے مقابلے زیادہ تیزی سے بدل رہے ہیں۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

یہاں کی سخت سردیوں میں زندگی انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے مشکل ہے۔ یہاں، ایک چانگپا چرواہا اپنی فیملی کے لیے دوائیں لانے لیہہ شہر جا رہا ہے۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

PHOTO • Ritayan Mukherjee

ہانلے وادی کے ایک اونچے میدان میں، کرما رنچین (نورلا ڈونڈروپ کے ساتھ کور فوٹو میں بھی) بنجر زمین میں چل رہے ہیں جہاں چراگاہیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ (تصویر: رِتایَن مکھرجی/ پاری)

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

#ladakh #global-warming #yaks #climate-change #changing-weather-patterns #changthang #changpa

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Ritayan Mukherjee

رِتائن مکھرجی کولکاتا میں مقیم ایک پرجوش فوٹوگرافر اور ۲۰۱۶ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک لمبے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جو تبتی پٹھار کی خانہ بدوش کمیونٹیز کی زندگی کا احاطہ کرنے پر مبنی ہے۔

Other stories by Ritayan Mukherjee