کپڑوں کے گٹھر اب سمیتا کی رہائش گاہ سے آگے اور پیچھے کے اپارٹمنٹ میں آتے جاتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ دو مہینے پہلے تک، ہر صبح، وہ واڈا شہر کے اشوک ون کامپلیکس میں رہنے والے کنبوں سے ملے جلے کپڑے جمع کرتی تھیں۔ اپنے ہاتھوں اور سر پر گٹھروں کو اٹھائے ہوئے، وہ اسی شہر کی بھانو شالی چال میں واقع اپنے گھر تک کی دو کلومیٹر کی دوری طے کرتی تھیں۔ وہاں، وہ ان کپڑوں کو آئرن کرتیں اور قرینے سے تہہ لگاتی تھیں، اور اسی شام ان کنبوں کو واپس پہنچا دیتی تھیں۔

’’جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے، میرے زیادہ تر آرڈر ملنا بند ہو گئے ہیں،‘‘ ۳۲ سالہ سمیتا مورے، آئرن کیے جانے والے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ۲۴ مارچ کو لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل سمیتا کو ایک دن میں کم از کم چار ’آرڈر‘ ملتے تھے، لیکن اب پورے ہفتہ میں صرف ایک یا دو ہی مل پاتا ہے۔ اور ان کی آمدنی ۱۵۰-۲۰۰ روپے یومیہ سے گھٹ کر اپریل میں صرف ۱۰۰ روپے ہفتہ وار ہو گئی تھی – وہ ایک شرٹ یا پینٹ کو آئرن کرنے کے ۵ روپے اور ایک ساڑی کے ۳۰ روپے لیتی ہیں۔ ’’اتنے کم پیسے پر میں زندہ کیسے رہ پاؤں گی؟‘‘ وہ سوال کرتی ہیں۔

سمیتا کے شوہر، ۴۸ سالہ سنتوش آٹورکشہ ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے، لیکن ۲۰۰۵ میں ان کی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی، جب واڈا کے پاس سفر کرتے وقت کسی نے ان کے ٹیمپو پر پتھر پھینک دیا تھا۔ ’’میں آئرن کرنے میں اپنی بیوی کی مدد کرتا ہوں کیوں کہ میں کوئی دوسرا کام نہیں کر سکتا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’آئرن کرنے کے لیے روزانہ چار گھنٹے کھڑے رہنے سے میرے پیر میں درد ہوتا ہے۔‘‘

سنتوش اور سمیتا ۱۵ سال سے کپڑے آئرن کر رہے ہیں۔ ’’ان کے ساتھ حادثہ ہو جانے کے بعد ہمیں کھانے اور اپنے دو بیٹوں کو اسکول بھیجنے کے لیے پیسے کی ضرورت تھی، اس لیے میں نے یہ کام شروع کیا،‘‘ سمیتا کہتی ہیں۔ ’’لیکن یہ لاک ڈاؤن واقعی میں ہمارے لیے بہت برا رہا ہے۔‘‘ اس فیملی نے پچھلے کچھ ہفتوں میں اپنی معمولی بچت کا استعمال کیا اور کیرانے کا سامان خریدنے اور تقریباً ۹۰۰ روپے کے اپنے ماہانہ بجلی بل کی ادائیگی کے لیے رشتہ داروں سے ۴۰۰۰ روپے قرض لیے ہیں۔

Santosh and Samita More have been ironing clothes for 15 years; they have used up their modest savings in the lockdown weeks and borrowed from relatives
PHOTO • Shraddha Agarwal
Santosh and Samita More have been ironing clothes for 15 years; they have used up their modest savings in the lockdown weeks and borrowed from relatives
PHOTO • Shraddha Agarwal

سنتوش اور سمیتا مورے ۱۵ سال سے کپڑے آئرن کر رہے ہیں؛ انہوں نے لاک ڈاؤن کے ہفتے میں اپنی معمولی بچت کا استعمال کیا اور رشتہ داروں سے قرض لیا ہے

مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے واڈا شہر میں سمیتا جس گلی میں رہتی ہیں، اسی گلی میں ۴۵ سالہ انیتا راؤت بھی رہتی ہیں۔ وہ بھی کپڑے آئرن کرکے گزر بسر کر رہی ہیں۔ ’’چھ سال پہلے جب میرے شوہر کا انتقال ہو گیا، تب بھی میں کسی طرح سے کام چلا رہی تھی۔ لیکن اس لاک ڈاؤن کے دوران ہمارا کاروبار پوری طرح سے بند ہو گیا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ فالج مارنے سے جب انیتا کے شوہر اشوک کا انتقال ہوا تھا، تب وہ صرف ۴۰ سال کے تھے۔

وہ اپنے ۱۸ سالہ بیٹے، بھوشن کے ساتھ رہتی ہیں، جو کپڑے آئرن کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ ’’میرے شوہر، ان کے والد اور ان کے دادا سبھی اس کام کو کرتے تھے،‘‘ انتیا بتاتی ہیں، جن کا تعلق پریٹ ذات سے ہے جو او بی سی برادری، دھوبی کے طور پر درج فہرست ہے۔ (یہاں جن دیگر کنبوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ مراٹھا یا دیگر او بی سی برادریوں سے ہیں۔) ’’دن میں ۵-۶ گھنٹے کھڑے ہو کر کپڑے آئرن کرنے سے ان کے پیر میں ورم پڑ جاتا ہے۔ تب میں کام سنبھالتا ہوں اور شہر سے لیے گئے آرڈر کو خود ہی پہنچانے جاتا ہوں۔‘‘ بھوشن کہتے ہیں، جو واڈا کے ایک جونیئر کالج میں ۱۲ویں کلاس میں پڑھتے ہیں۔

’’ان مہینوں [اپریل سے جون] میں شادیاں ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں اس موسم میں ساڑیوں اور ڈریسوں [شلوار قمیض] کو آئرن کرنے کے لیے کئی آرڈر ملتے ہیں۔ لیکن اب وائرس کے سبب تمام شادیاں ردّ ہو گئی ہیں،‘‘ انیتا کہتی ہیں، جو کھلے ہوئے نالے کے پاس ایک کمرے کا ۱۵۰۰ روپے ماہانہ کرایہ دیتی ہیں۔ ’’پچھلے سال مجھے یومیہ اخراجات کے لیے اپنی بہن سے کچھ پیسے قرض لینے پڑے،‘‘ وہ بتاتی ہیں، اور انہوں نے چھ سال پہلے فالج مارنے کے بعد اشوک کو اسپتال میں داخل کرانے کے لیے بھی اپنی بہن سے قرض لیا تھا۔ ’’میں نے اِسی مہینے پیسے واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ہمارے پاس کوئی کام نہیں تھا۔ اب میں اسے کیسے لوٹاؤں گی؟‘‘ وہ کہتی ہیں۔

۴۷ سالہ انل دُرگُڑے، جو واڈا کے اسی علاقے میں رہتے ہیں، وہ بھی اپریل سے جون تک کی مدت میں آئرن کرنے کے اضافی کام کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں اپنے دائیں پیر کی نسوں کے کمزور ہو جانے سے متعلق ایک بیماری کی سرجری کرانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہے۔ ’’یہ مرض مجھے دو سال سے ہے۔ اس کا، واڈا سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر دور ایک پرائیویٹ اسپتال میں آپریشن کرانے میں ۷۰ ہزار روپے لگیں گے۔

’’لیکن اس لاک ڈاؤن کے سبب میرا کاروبار بند ہو گیا ہے،‘‘ انل کہتے ہیں، جن کو اپنے پیروں میں لگاتار درد کی شکایت رہتی ہے۔ ’’مجھے کپڑے آئرن کرنے کے دوران دن میں کم از کم چھ گھنٹے کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ میرے پاس سائیکل نہیں ہے، اس لیے میرے گاہک اپنے کپڑے میرے گھر پر چھوڑ جاتے ہیں اور میں انہیں واپس آکر ان کپڑوں کو لے جانے کا وقت دیتا ہوں۔‘‘ لاک ڈاؤن سے پہلے، انل ایک مہینہ میں تقریباً ۴۰۰۰ روپے کما لیتے تھے۔ گزشتہ دو مہینے سے انہوں نے ۱۰۰۰-۱۵۰۰ روپے ہی کمائے ہیں، اور اپنی بچت سے کسی طرح کام چلا رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں۔

Left: Anita Raut, son Bhushan (centre) and nephew Gitesh: 'Our [ironing] business has shut down'. Right: Anil and Namrata Durgude: 'We are losing our daily income'
PHOTO • Shraddha Agarwal
Left: Anita Raut, son Bhushan (centre) and nephew Gitesh: 'Our [ironing] business has shut down'. Right: Anil and Namrata Durgude: 'We are losing our daily income'
PHOTO • Shraddha Agarwal

بائیں: انیتا راؤت، بیٹا بھوشن (درمیان میں) اور بھتیجہ گتیش: ’ہمارا [آئرن کرنے کا] کاروبار بند ہو گیا ہے‘۔ دائیں: انل اور نمرتا دُرگُڑے: ’ہم اپنی یومیہ آمدنی کھو رہے ہیں‘

’’میری بیوی نمرتا آئرن سے ہونے والی گرمی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ وہ گھر کے سارے کام کرتی ہے اور ہمارے آرڈر کا حساب کتاب بھی سنبھالتی ہے۔ ہمارے بچے نہیں ہیں، لیکن ہم اپنے متوفی بھائی کے دو بیٹوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے ایک حادثہ میں میرے چھوٹے بھائی کی موت ہو گئی تھی،‘‘ انل بتاتے ہیں۔ لڑکوں کی ماں سلائی کا کام کرتی ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے سبب ان کی آمدنی بھی کم ہوئی ہے، جو ماہانہ ۵۰۰۰ روپے ہوا کرتی تھی۔ ’’ہم اس لاک ڈاؤن کے پیچھے کی وجوہات کو پوری طرح سے سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ حالات دوبارہ کم معمول پر لوٹیں گے،‘‘ انل کہتے ہیں۔ ’’ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہماری یومیہ آمدنی ختم ہو رہی ہے۔‘‘

لاک ڈاؤن نے سنیل پاٹل کی آمدنی کو بھی متاثر کیا ہے – ۲۵ مارچ سے پہلے، وہ کپڑے آئرن کرکے روزانہ تقریباً ۲۰۰ روپے اور ’مہالکشمی کیرانہ اور جنرل اسٹور‘ نام کی ایک چھوٹی سی دکان چلاکر ۶۵۰ روپے کماتے تھے، جہاں پر وہ دال، چاول، تیل، بسکٹ، صابن اور دیگر سامان فروخت کرتے ہیں۔ ’’اب میری کمائی گھٹ کر صرف ۱۰۰-۲۰۰ روپے روزانہ رہ گئی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

اکتوبر ۲۰۱۹ میں اپنی بیوی انجو اور اپنے تین بچوں کے ساتھ واڈا آنے سے قبل، انل ایک کیرانے کی دکان میں معاون کے طور پر کام کرتے تھے، جہاں انہیں ۱۵۰ روپے روزانہ ملتے تھے۔ ’’میری بہن نے مجھے واڈا کی اس دکان کے بارے میں بتایا تھا، اس لیے میں نے اس سے ۶ لاکھ روپے قرض لیکر اس جنرل اسٹور کو خرید لیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اپنی دکان خریدنا فیملی کے لیے، امید سے بھرا ایک بڑا قدم تھا۔

سنیل نے آئرن کرنے کے لیے اپنی دکان کے باہر ایک میز لگائی ہے اور، لاک ڈاؤن سے پہلے، عام طور پر انہیں ایک دن میں ۴-۵ آرڈر ملتے تھے۔ ’’میں نے آئرن کرنا شروع کیا کیوں کہ اس سے مجھے مستحکم آمدنی ہوتی تھی؛ وہاں پر دکان بھی ہے، لیکن اس سے ہم کبھی پیسے کماتے ہیں اور کبھی نہیں۔‘‘

۴۸ سالہ انجو کہتی ہیں، ’’میں کپڑے آئرن کرنے میں اپنے شوہر کی مدد کرنا چاہتی ہوں، لیکن اگر میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک کھڑی رہوں تو میری پیٹھ میں درد ہونے لگتا ہے۔ اس لیے میں اس دکان کو چلانے میں مدد کرتی ہوں۔ اب ہم صرف تین گھنٹے [صبح ۹ بجے سے دوپہر] تک دکان کھول سکتے ہیں۔ آج میں نے صرف دو پیکٹ پارلے جی بسکٹ بیچے ہیں۔ گاہک اگر آتے بھی ہیں، تو ہم انہیں کیا فروخت کریں؟ آپ دیکھ سکتی ہیں کہ ہماری دکان خالی ہے۔‘‘ دکان، مہالکشمی، میں لاک ڈاؤن سے پہلے کچھ سامان تھے، لیکن اب الماریوں میں بہت کم اسٹاک ہے۔ ’’اسٹاک کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں،‘‘ سنیل کہتے ہیں۔

ان کی ۲۳ سالہ بیٹی، سویدھا کی آمدنی بھی رک گئی ہے -  جو واڈا شہر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر ہر مہینے ۱۲۰۰ روپے کما لیتی تھیں – کلاسز بند ہیں۔ ’’لاک ڈاؤن کے سبب اپریل میں ہمیں سویدھا کی منگنی ردّ کرنی پڑی،‘‘ سنیل بتاتے ہیں۔ ’’دولہے کے والد نے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے انہیں شادی کے خرچ کے لیے ۵۰ ہزار روپے نہیں دیے، تو وہ سکھرپوڑا [منگنی] توڑ دیں گے، کیوں کہ لاک ڈاؤن میں انہیں بھی نقصان ہوا ہے۔‘‘

پاٹل فیملی کا راشن کارڈ واڈا شہر میں قبول نہیں کیا جاتا ہے، اس لیے وہ بازار سے گیہوں اور چاول خریدتے ہیں۔ وہ بھی تب، جب ان کی باقاعدہ آمدنی ہوتی ہے

ویڈیو دیکھیں: ’آج تو میں زندہ رہ سکتا ہوں، لیکن کل کے لیے میرے پاس کھانا نہیں ہے‘

ان کے دیگر دو بچے، ۲۱ سالہ انیکیت اور ۲۶ سالہ ساجن کام کی تلاش میں ہیں۔ ’’میرا بڑا بیٹا بھیونڈی میں کیمرے کی مرمت کی ایک دکان میں کام کرتا تھا، لیکن [لاک ڈاؤن سے پہلے] وہ کاروبار بند ہو گیا۔ انیکیت نے کچھ دن پہلے ہی گریجویشن کی پڑھائی پوری کی ہے،‘‘ سنیل بتاتے ہیں۔ ’’کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں تناؤ سے خود کشی کر لوں، لیکن تب مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہی حالت تو سبھی کی ہے۔ بغل والے حجام نے کئی دنوں سے ایک بھی پیسہ نہیں کمایا ہے۔ اس لیے، میں کبھی کبھی اسے اپنی دکان سے کچھ بسکٹ اور [بچی ہوئی] دال دے دیتا ہوں۔‘‘

پاٹل فیملی کا راشن کارڈ واڈا شہر میں قبول نہیں کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ بھیونڈی میں رجسٹرڈ ہے۔ پی ڈی ایس سے انہیں ۲ روپے کلو گیہوں اور ۳ روپے کلو چاول ملا ہوتا۔ اس کے بجائے، سنیل کہتے ہیں، ’’میں بازار سے ۲۰ روپے کلو گیہوں اور ۳۰ روپے کلو چاول خریدتا ہوں۔‘‘ وہ بھی تب، جب ان کی باقاعدہ آمدنی ہوتی ہے۔ ’’اب میں اسٹور سے کچھ پیسے کمانے کے بعد ہفتہ میں ایک بار ہی کچھ راشن خرید پاتا ہوں۔ جس دن دکان پر کوئی سامان فروخت نہیں ہوتا، اس دن ہم صرف ایک وقت کا ہی کھانا کھا پاتے ہیں،‘‘ سنیل اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کہتے ہیں۔

دیگر کنبوں نے بھی لاک ڈاؤن سے نمٹنے کا انتظام کیا ہے۔ انیتا نے ۱ اپریل سے پاس کی ایک عمارت میں گھریلو کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے انہیں ہر مہینے ۱۰۰۰ روپے ملتے ہیں۔ ’’اگر میں کام کے لیے باہر نہیں جاتی، تو ہمارے پاس کھانے کے لیے کھانا نہیں ہوتا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں نے ایک پرانے کپڑے سے ماسک بنایا ہے۔ کام پر جاتے وقت میں اسی کو پہنتی ہوں۔‘‘

انتیا اور سمیتا دونوں کے کنبوں کو اپریل اور مئی میں پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت ۵۰۰ روپے ملے ہیں۔ اور مئی میں (لیکن اپریل میں نہیں) دونوں کو ان کے راشن کارڈ پر ۵ کلو کے علاوہ فی کس ۵ کلو اضافی چاول مفت ملا ہے۔ جب بھی ممکن ہوتا ہے، سمیتا کچھ کپڑے آئرن کرتی رہتی ہیں۔ ’’اس لاک ڈاؤن میں بھلے ہی کوئی شرٹ اور پینٹ نہ پہنے، لیکن اگر مجھے کوئی آرڈر ملتا ہے تو میں باہر جاتی ہوں۔ میرے بیٹے مجھے گھر سے باہر جانے کے لیے منع کرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ مجھے کسی طرح ان کے لیے پیسہ کمانا ہے،‘‘ سمیتا کہتی ہیں۔

کپڑے جمع کرنے اور واپس پہنچانے کے بعد گھر لوٹنے پر، وہ اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوتی ہیں – جیسا کہ ان کے بیٹے نے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد انہیں بتایا تھا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Shraddha Agarwal

Shraddha Agarwal is a reporter and content editor at the People’s Archive of Rural India.

Other stories by Shraddha Agarwal