بندو گھورمڑے کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے کہ وہ سپلائی کرنے والے ایجنٹ سے ۵۰۰ روپے کے پرانے نوٹ قبول کرے اور بیگن کی اپنی تازہ فصل کے ۴۰ کلو کے ہر کیرٹ پر ۲۰۰ روپے کا نقصان برداشت کرے۔

’’اگر میں ایسا نہیں کرتا، تو میری پوری فصل برباد ہو جاتی،‘‘ ۴۰ سال کی عمر میں چل رہے اس کسان نے بتایا جو ناگپور سے ۵۰ کلومیٹر دور چِکولی میں گاجر، پالک، بیگن اور بھنڈی کی کھیتی کرتے ہیں۔ ’’جو لوگ اپنے کھیتوں پر اناج یا کاٹن اُگاتے ہیں، وہ اپنی فصل کو بچا کر رکھ سکتے ہیں؛ میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘

گھورمڑے، کئی برسوں سے اکتوبر سے دسمبر تک ہر صبح کو اپنے ٹیمپو پر چار کوئنٹل (۴۰۰ کلو) سبزیاں لاد کر ناگپور میں ریاستی حکومت کے ذریعہ چلائی جا رہی  ایگریکلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی، یعنی منڈی تک لے جاتے ہیں جہاں لائسنس شدہ تاجر ایجنٹوں کے ذریعے کسانوں کی پیداوار کو خریدتے ہیں۔

گزشتہ ۸ نومبر سے، جب بڑے نوٹ بند کر دیے گئے تھے، گھورمڑے روزانہ خسارے پر اپنی سبزیاں بیچ رہے ہیں، جب کہ ان کا بیٹا پاس کے پانچ کلومیٹر دور واقع بینک جاتا ہے اور ان نوٹوں کو جمع کرانے کے لیے اسے لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

تاہم، گھورمڑے کچھ نہ کچھ کما لیتا ہے، کیوں کہ وہ پرانے نوٹ کو لینے کے لیے تیار ہے۔ جب کہ کچھ دیگر کسان بند ہو چکے ان نوٹوں کو لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کی وجہ سے انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔


02-DSC01997(Crop)-JH-Demonetisation has Wrecked Farmers.jpg

ناگپور اے پی ایم سی میں چندر بھان جھوڑے اپنی پالک کی پیداوارکے ساتھ: اچھے مانسون کی وجہ سے اس سال فصل بھی اچھی ہوئی ہے اور ملک کے کئی حصوں میں لگاتار خشک سالی کے بعد اس دفعہ کسانوں کو اچھی کمائی کی امید ہے


اخباروں کی رپورٹوں کے مطابق، تھانے اور پُنے کے بہت سے کسانوں نے بازاروں میں خریداروں کے نہ ہونے کی وجہ سے اپنی فصلوں کو خود ہی برباد کر دیا ہے۔

ناگپور سے تقریباؑ ۱۶۰ کلومیٹر دور امراوتی کے ہیروکھیڑ گاؤں میں سنترے پیدا کرنے والے کسانوں نے تیزی سے گرتی قیمت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے پھل کے انبار سڑکوں پر لگا دیے ہیں۔

قیمتیں اس لیے گریں، کیوں کہ تاجروں نے خریدنا بند کر دیا۔ تاجر اس لیے نہیں خرید رہے ہیں، کیوں کہ زیادہ تر کسان پرانے نوٹوں کو لینے کو راضی نہیں ہیں۔

کیا کسانوں کی یہ پریشانی صرف بغیر سوچے سمجھے نوٹ بندی کے فیصلہ کی وجہ سے ہے، یا پھر اس لیے کہ وہ قابل استعمال نقدی ہی لینے کی ضد کر رہے ہیں؟

* * *

ناگپور سے تقریباً ۷۰ کلومیٹر دور، وردھا ضلع کے سیلو شہر کی منڈی میں ۱۶ نومبر بروز بدھ کو، ۳۸ سالہ سدام پوار واحد کسان تھے، جو اپنا ۹ کلو کاٹن بیچ رہے تھے۔

تاجر نے ان کے بینک اکاؤنٹ میں سیدھے پیسہ ٹرانسفر کرنے کی پیشکش کی۔ آم گاؤں کے سابق سرپنچ، پوار راضی ہو گئے۔ پیسہ فوراً ٹرانسر ہو گیا، بغیر کسی پریشانی کے۔

اس دن بعد میں پوار نے کہا، ان کے جاننے والے مزید ۸ کسانوں نے منڈی میں ۸۰ کوئنٹل کاٹن بیچے اور پرانے نوٹ لیے۔ چونکہ اس دن منڈی میں کوئی اور مال نہیں پہنچا تھا، اس لیے تاجروں نے ان کے کاٹن کو ۵۰۰۰ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے خریدا، جب کہ بازار میں اس کی قیمت عام طور سے ۴۷۵۰ سے لے کر ۴۹۰۰ روپے تک ہے۔

پھر اور کسان ان کے نقشِ قدم پر کیوں نہیں چل رہے ہیں؟ پوار اس کا جواب یوں دیتے ہیں:

زیادہ تر کسان اپنی کمائی کو اپنے بینک کھاتے میں ڈالنے سے اس لیے ڈرتے ہیں، کیوں کہ ان کے یہ کھاتے انھیں بینکوں میں ہیں، جہاں سے انھوں نے قرض لیے ہیں۔ اکثریت ایسے کسانوں کی ہے، جنہوں نے قرض کا پیسہ لمبے عرصے سے واپس نہیں چکایا ہے، کیوں کہ کئی برسوں سے انھوں نے اتنا نہیں کمایا ہے کہ وہ قرض کا پیسہ بھی واپس کر سکیں اور اپنی فیملی کا بھی پیٹ پال سکیں۔

اگر ان کی کمائی ایک بار ان کھاتوں میں پہنچ گئی، تو انھیں ڈر ہے کہ بینک ان پیسوں کو واپس نکالنے نہیں دیں گے، اور اس بات کی ضد کریں گے کہ مارچ تک وہ لیے گئے اپنے قرض کے برابر پیسے ان کھاتوں میں جمع کرائیں۔ زیادہ تر کسان جانتے ہیں کہ اس سے ان کی پریشانی بڑھ جائے گی۔

سرکار کی طرف سے اب تک ایسا کوئی آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے کہ بینک کسانوں کے کھاتے سے یک طرفہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے قرضے کے پیسے واپس لے لیں، لیکن بینک ماضی میں دباؤ بنانے کے لیے ایسا کر چکے ہیں، اس حقیقت کو جانتے ہوئے کہ کسان انھیں اس لیے ناراض نہیں کر سکتے، کیوں کہ اگلے سال انھیں دوبارہ قرض لینے کی ضرورت پڑے گی۔

’’میں اپنے پیسہ کو ٹرانسفر کرانے کے لیے اس تیار ہوں، کیوں کہ میرے نام پر کوئی قرض نہیں ہے، نہ ہی مجھے فوراً نقدی کی ضرورت ہے،‘‘ پوار کا کہنا ہے۔ ’’ہمارا فصل کا قرض میرے والد کے کھاتے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے بینک اس پیسے کو واپس لینے کے لیے میرے کھاتہ سے پیسہ کاٹ نہیں سکتا۔‘‘

اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ منڈی میں دیگر ۸ کسانوں کو بھی نقدی کی فوری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ’’لیکن اکثر چھوٹے کسان، جن کے پاس گزر بسر کا واحد ذریعہ کھیتی ہے اور اس کے علاوہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے، وہ نہ تو چیک لے سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا پیسہ بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرا سکتے ہیں۔‘‘

* * *

’’نوٹ بندی نے کسانوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے،‘‘ رام کرشن اُماتھے کہتے ہیں، جو ایک کسان ہیں اور سیلو کی ایگریکلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی (اے پی ایم سی) منڈی کے ڈپٹی چیئرمین ہیں۔ اس منڈی میں ان ۱۰۰ گاؤوں کے کسان آتے ہیں، جو عام طور سے اپنے کھیتوں پر سویابین اور کاٹن اُگاتے ہیں۔ ’’تقریباً ایک ہفتہ سے، ہمارا بازار خریدنے اور بیچنے والوں سے خالی پڑا ہوا ہے۔‘‘


03-IMG-20161122-WA0008-JH-Demonetisation has Wrecked Farmers.jpg

وردھا ضلع کے سیلو ٹاؤن کی اے پی ایم سی میں سویابین کے تازہ تازہ بورے


لہٰذا قلی، ٹرانسپورٹر اور دوسرے متعلقہ لوگ بھی آج کل کام کے بغیر چل رہے ہیں، اسسٹنٹ مارکیٹ سکریٹری مہندر بھنڈارکر نے بتایا۔

’’یہ سال کا وہ وقت ہے جب مال تیزی سے بکتا ہے، لیکن ۸ نومبر کے بعد سے یہاں کی سپلائی رک گئی ہے،‘‘ اُماتھے نے بدھ کو بتایا۔

ایک دن میں ۵۰۰۰ کوئنٹل سے گھٹ کر اب بازار میں سپلائی صفر پر پہنچ گئی ہے، انھوں نے بتایا۔ ’’کل، ۱۰۰ بورے (کوئنٹل) آئے۔‘‘

اُماتھے نے بتایا کہ یہاں کے تاجر چیک اور منی ٹرانسفر کی پیشکش کر رہے ہیں، لیکن کسان انھیں اس لیے لینے کو تیار نہیں ہیں کہ بینک ’’فصل لون کاٹ لیں گے‘‘۔

’’یہاں کے زیادہ تر کھیتوں میں سینچائی کا کوئی انتظام نہیں ہے؛ کسان پہلے سے ہی مالی تناؤ کے بوجھ سے لدے ہیں۔ انھیں نقدی قرض چکانا ہے اور ساتھ ہی قرض پر لیے گئے سامان کا پیسہ بھی دینا ہے، اور دکانداروں وغیرہ کا پیسہ لوٹانا ہے،‘‘ اُماتھے بتاتے ہیں۔

’’اگر کچھ پیسہ بچ جاتا ہے، تو اسے بینک میں جمع کر دیا جاتا ہے، ورنہ بینک کا قرض ادا ہی نہیں ہو پائے گا۔‘‘

* * *

پیداوار کی خرید اور قیمتیں دوسری وجہ سے بھی نیچے گر رہی ہیں: اور وہ وجہ ہے رٹیل مارکیٹ میں کھپت میں گراوٹ۔ ’’آگے کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے،‘‘ راجیش ٹھکر کہتے ہیں، جو ناسک میں ٹماٹر کے ہول سیل تاجر ہیں۔

مثال کے طور پر، ناگپور منڈی میں سنترے آنے اس لیے بند ہوگئے، کیوں کہ کولکاتا اور شمالی ہندوستان میں نوٹ بندی کی وجہ سے ان کی فروخت پر برا اثر پڑا، ایسا راجیش چھبرانی کا ماننا ہے، جو ناگپور اے پی ایم سی کے ڈائرکٹر اور خود سنترے کے ایک تاجر ہیں۔

’’آج (منگل کو) سنترے کی قیمت فی ٹن ۴۰ ہزار روپے سے گھٹ کر ۲۵ سے ۳۰ ہزار روپے پر آگئی، یعنی قیمت میں ۲۵ سے ۳۵ فیصد تک کی گراوٹ،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اس منڈی سے روزانہ ۱۰ سے ۱۲ ٹرک سنترے لاد کر کولکاتا کے لیے روانہ ہوتے تھے؛ اب یہ سلسلہ رک گیا ہے۔‘‘

مدھوسودن ہرین، جو کہ وردھا ضلع کے ہنگن گھاٹ ٹاؤن کی اے پی ایم سی کے ڈائرکٹر ہیں، کہتے ہیں، ’’ہماری اے پی ایم سی ۸ نومبر سے ہی بند ہو چکی ہے۔‘‘

وہ نوٹ بندی کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ’’ہماری منڈی میں سالانہ ۱۵۰۰ کروڑ روپے کا بزنس ہوتا ہے، جس میں سے آدھا سے زیادہ اکتوبر سے دسمبر کے درمیان ہوتا ہے، جو کہ زرعی بازاروں کے لیے سب سے اچھا موسم ہوتا ہے،‘‘ انھوں نے بتایا۔

بدقسمتی سے، اچھے مانسون کی وجہ سے اس سال جو اچھی فصل ہوئی تھی اور کسان ملک کے کئی علاقوں میں لگاتار کئی برسوں کی خشک سالی کے بعد اچھی کمائی کی امید کر رہے تھے، اس پر بھی پانی پھر گیا۔

تصویر: جے دیپ ہاردیکر

یہ مضمون (یہاں تھوڑی ترمیم کے ساتھ) پہلی بار ٹیلی گراف، کولکاتا میں ۲۲ نومبر، ۲۰۱۶ کو شائع ہوا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar