اس فلم کو ۶۳ویں نیشنل فلم ایوارڈس ۲۰۱۶ میں بہترین پروموشنل فلم کے لیے سلور لوٹس (رجت کمل) ایوارڈ دیا گیا ہے۔

مہیشور، مدھیہ پردیش میں ندی کے کنارے واقع ایک خوبصورت قصبہ ہے، جس کا تاریخ میں نمایاں مقام ہے۔ اٹھارویں صدی میں، اہلیا بائی ہولکر، جنہوں نے اندور کی شاہی ریاست پر حکومت کی، نے یہاں پر ہاتھ سے بُنائی کو فروغ دیا۔ آج دو صدیوں کے بعد بھی، یہ قصبہ مہیشوری ساڑیوں کے لیے مشہور ہے۔ سال ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۵ کے درمیان، یہاں پر ہتھ کرگھا صنعت میں بڑھتے ہوئے مواقع کو دیکھتے ہوئے ۲۰۰ سے زیادہ بُنکر دوسری جگہوں سے ہجرت کرکے مہیشور آ چکے ہیں۔ بہت سے لوگ اترپردیش کے بارہ بنکی سے یہاں آئے ہیں۔ یہ اُس صنعت کے لیے انہونی اور عجیب سی بات ہے، جو کہ خود ہی زوال کی شکار ہے۔ یہ بھی عجیب سی بات ہے کہ اس دست کاری کو دوبارہ زندہ کرنے میں سب سے بڑا رول نوجوان بُنکر ادا کر رہے ہیں۔ وہ اس تاریخی شہر کی بُنکر برادری کے لیے حوصلے کا باعث ہیں۔

اس فلم میں، نوجوان بُنکر اپنی اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

NIdhi Kamath & Keya Vaswani

ندھی کامتھ اور کے یا واسوانی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کرافٹس اینڈ ڈیزائن، جے پور سے گریجویٹس ہیں۔ یہ دونوں اسٹوری لوم فلمس کی شریک بانی اور منیجنگ پارٹرنس ہیں۔ یہ فلم ان کی مشترکہ پاری فیلوشپ ۲۰۱۵ کا حصہ ہے۔

Other Stories by NIdhi Kamath & Keya Vaswani