قومی شاہراہ ۳۰ پر، آپ چھتیس گڑھ کی راجدھانی، رائے پور شہر سے بستر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرس، جگدل پور جا سکتے ہیں۔ اس سڑک پر، کانکیر ضلع میں ایک چھوٹا سا ٹاؤن ہے چرما۔ چرما سے ٹھیک پہلے ایک چھوٹا سا گھاٹ ہے۔ چند ہفتے قبل جب میں اس گھاٹ سے نیچے کی جانب گاڑی چلاتے ہوئے جا رہا تھا، تو میں نے وہاں ۱۰ سے ۱۵ گاؤں والوں کو دیکھا، جن میں سے زیادہ تر عورتیں تھیں، جو پاس کے جنگل سے لکڑیوں کا بوجھ سر پر لادے ہوئے واپس لوٹ رہی تھیں۔

یہ ساری عورتیں دو گاؤوں کی تھیں، جو کہ شاہراہ سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ پہلا گاؤں تھا کانکیر ضلع کا کوچواہی اور دوسرا بالوڈ ضلع کا مچندرو گاؤں۔ یہ زیادہ تر گونڈ قبیلے کے لوگ ہیں جو غریب کسان ہیں یا زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔


02-DSC09578-PT-Headloads on the highway.jpg

03-PT-PT-Headloads-on-the-highway.png


گروپ میں شامل چند مرد لکڑی کے گٹھر سائیکلوں پر باندھے ہوئے تھے، جب کہ ایک کو چھوڑ کر باقی تمام عورتوں نے اسے اپنے سروں پر اٹھا رکھا تھا۔ میں نے ان سے بات کی؛ انھوں نے بتایا کہ وہ گھر سے صبح سویرے نکل جاتے ہیں اور ۹ بجے صبح تک واپس لوٹتے ہیں، عام طور سے اتوار اور منگل کو، اپنے گھروں کے لیے جلانے کی لکڑیاں جمع کرنے کے بعد۔


04-PT-PT-Headloads-on-the-highway.png


تاہم، ان میں سے ہر ایک اپنے گھریلو استعمال کے لیے لکڑیاں جمع نہیں کرتا۔ میرا خیال ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ جلانے کی لکڑیاں جمع کرنے کے بعد بازار لے جاکر انھیں بیچتے ہیں۔ یہ غریب لوگ ہیں، اور یہاں پر ان کی تعداد کافی ہے۔ وہ لکڑیاں بیچ کر معمولی پیسے کما لیتے ہیں۔ اس بحران زدہ علاقے میں یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش یہی ایک کمزور لکڑی ہے۔


05-DSC09341(Crop)-PT-Headloads on the highway.jpg

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur