Grindmill songs project_2.1.jpg

کُسُم سوناوَنے کی پیدائش پُنے ضلع کے مُلشی تعلقہ کے نند گاؤں میں ایک نہایت غریب فیملی میں ہوئی۔ وہ اسکول جانا چاہتی تھیں، لیکن ان کی ماں نے اس کی اجازت نہیں دی، بجائے اس کے انھوں نے لڑکی کو مویشی چرانے کو مجبور کیا۔ لہٰذا، کُسُم کا اسکول جانے کا خواب پورا نہیں ہوا۔

۱۲ سال کی عمر میں کُسُم کی شادی ہو گئی؛ ان کے سسرال والے ساتھے سائی گاؤں میں رہتے تھے، یہ بھی مُلشی میں ہی ہے۔ ان کے شوہر ممبئی میں پتھر توڑنے والی ایک اکائی میں کام کرتے تھے۔ مزدوروں کی ہڑتال کے دوران، ان کی نوکری چلی گئی اور وہ گاؤں واپس آ گئے، جہاں وہ مزدور کے طور پر کام کرنے لگے۔ سال ۱۹۸۰ میں کُسُم غریب ڈونگری سنگٹھن میں شامل ہو گئیں، یہ تنظیم ضلع کے پہاڑی علاقوں میں دیہی غریبوں کے درمیان کام کرتی ہے۔

اس آڈیو میں، کُسُم چار گانے (اووی) گا رہی ہیں، اور عورتوں کی سماجی شناخت اور مردوں کے غلبہ والے معاشرہ میں خود انھوں نے جن مظالم اور دباؤ کا مسلسل سامنا کیا ہے، اس پر اپنے ردِ عمل کو بیان کر رہی ہیں۔

کلب کا آغاز کُسُم کے ذریعے ایک تعارفی تبصرے سے ہوتا ہے، جس کے بعد اووی ہے۔ بعد کے گانے اور تبصرے یہاں پر اسی ترتیب سے رکھے گئے ہیں، جیسا کہ انھیں آڈیو میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

کُسُم سوناوَنے: اُس قسم کے گانے موجود ہیں، ہاں۔ کیوں کہ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں عورتیں سماجی دباؤ کی وجہ سے تنگ آ چکی ہیں، شوہروں کے ظلم اور بھائیوں کے غلبہ کی وجہ سے، جب وہ تھک جاتی ہیں، وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ زندگی بیکار ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ اس قسم کی زندگی بے معنی ہے، یہ غیر مستحکم ہے۔ جب وہ گاتی ہیں، تو اس اووی میں اسے جذبے کا اظہار کرتی ہیں۔

جلاؤ، جلاؤ، جوانی، کیوں کہ ایک نوجوان عورت پر الزام لگا ہے،

اس وقت بھی جب وہ صرف کھڑی ہوئی ہے،

ایک بچہ ہمیشہ الزام سے پاک ہوتا ہے، بچپن سب سے بہتر ہے

لہٰذا وہ کہتی ہیں کہ بچپن بہتر ہے، یہ اچھا ہے۔ لیکن جب آپ بڑی ہوتی ہیں، ۱۸ سال کی، تو اس نوجوان کو جلا دو، (ہمیں) اس کی ضرورت نہیں ہے!

(کیا آپ گانا گا سکتے ہیں …؟)




اووی ۱

राजामधी राज बाळपणी राज बेस
जळू तरुणपण अुभ्या रािहल्याचा दोष

rājāmadhī rāja bāḷapaṇī rāja bēsa
jaḷū taruṇapaṇa aubhyā rāihalyācā dōṣ

 

ایک بچی الزام سے بری ہوتی ہے چاہے وہ جو کرے، سب سے زیادہ خوشی بچپن میں ہوتی ہے

اس جوانی کو جلا دو بھلے ہی وہ جہاں بھی کھڑی ہو جب نوجوان ہونا ایک برائی ہے۔

کُسُم کا تبصرہ: ہوتا کیا ہے کہ عورت تھک جاتی ہے۔ وہ محسوس کرتی ہے کہ اس نوجوان کو برباد کر دیا جائے، اسے آگ میں پھینک دو اور اس سے چھٹکارہ پا لو۔

اووی ۲

बाई जळू तरुणपण, अाग लागू दे अुभारीला
अशी बोलच लागतो, माता ना गंधारीला

bāī jaḷū taruṇapaṇa āga lāgū dē aubhārīlā
aśī bōlaca lāgatō mātā nā gandhārīlā

 

اس جوانی کو جلا دو، میرے اندر جو عورت کھِل رہی ہے اسے جلا دو

میری ماں گندھاری پر الزام لگتا ہے

کُسُم کے تبصرے: اگر کوئی لڑکی بدتمیزی سے پیش آتی ہے، بدتمیزی سے رہتی ہے یا دوسرے لوگ اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، تو سماج اسی پر الزام لگاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فلاں عورت کی بیٹی ہے۔ لہٰذا، ساری غلطی اس کی ماں کی ہوتی ہے؛ اس کی پوری فیملی کی غلطی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن الزام صرف اس کی ماں پر لگتا ہے۔ اس لیے اس نوجوان کو جانے دو، اسے آگ میں پھینک دو اور اسے جلا دو۔ اس سے چھٹکارہ حاصل کرو۔

نوٹ: گندھاری، مہابھارت میں کورووں کی ماں، ایک ایسی عورت ہے جس پر اپنے بیٹوں کے برے اعمال کا الزام لگایا گیا، حالانکہ وہ ایک اچھی بیوی اور ماں تھیں۔

اووی ۳

बाई ना अस्तुरी जलम, ठाव असता आले नसते
अशी ना देवाच्या दारची, तुळस झाले असते

bāī nā asturī jalama ṭhāva asatā ālē nasatē
aśī nā dēvācyā dāracī tuḷasa jhālē asatē

 

اگر میں یہ جانتی کہ میں ایک عورت کے طور پر پیدا ہوں گی،

تو میں پیدا ہونے سے انکار کر دیتی

میں بھگوان کے دروازے پر تُلسی کا پودا بن جاتی

نوٹ: گانے والی یہ کہنا چاہتی ہے کہ اگر وہ تُلسی کا پودا ہوتی، تو لوگ اس کی عزت کرتے اور اس کی پوجا ہوتی۔

اووی ۴

अशी ना अस्तुरी जलम, कुणी घातीला येड्यानी
अशी ना परक्याच्या घरी, माझा देह राबतो भाड्यानी

aśī nā asturī jalama kuṇī ghātīlā yēḍyānī
aśī nā parakyācyā gharī mājhā dēha rābatō bhāḍyānī

 

کس بیوقوف نے ایک عورت کو جنم دیا ہے؟

میرا بدن کسی اور کے گھر میں کرایے پر محنت کر رہا ہے

کُسُم کے تبصرے: اگر میں یہ جان رہی ہوتی کہ میں ایک عورت کی شکل میں پیدا ہوں گی، تو میں کبھی پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن یہ ایک جسم ہے۔ یہ پہلے بنا، یہ بڑا ہوا اور پھر اس بدن کو محنت کرنے کے لیے غلام بنا لیا گیا، یہ کسی اور کے گھر میں کرایے پر مسلسل محنت کر رہا ہے۔ (عورت کی) کوئی قیمت نہیں ہے۔

Kusum Sonawane.jpg

پرفارمر/ گلوکار: کُسُم سوناوَنے

گاؤں: نند گاؤں

تعلقہ: مُلشی، کولوان وادی

ضلع: پُنے

صنف: عورت

ذات: نو بودھا (نیو بدھسٹ)

عمر: ۵۲

تعلیم: کچھ نہیں

بچے: ۲ بیٹے اور ۲ بیٹیاں

پیشہ: کسان جو دھان پیدا کرتے ہیں

تاریخ: ان گانوں اور تبصروں کو ۵ اکتوبر، ۱۹۹۹ کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔


آڈیو ریکارڈنگ، ٹرانس کرپشن اور ترجمہ پاری چکّی کے گانوں کا پروجیکٹ ٹیم کے ذریعہ

تصویریں: برنارڈ بیل

مصنف: پاری چکّی کے گانوں کا پروجیکٹ ٹیم

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پاری چکّی کے گانوں کا پروجیکٹ ٹیم