پونہ ضلع میں واقع ’نِمگاؤں کیتکی‘ گاؤں کی تین گلوکارہ، چکّی پر اناج پیسنے کے وقت اپنے بھائی کے لیے پیار بھرا گیت گاتی ہیں

نِمگاؤں کیتکی کی عورتیں گاتی ہیں، ’’میرا بھائی جتیندر جب جیپ چلاتا ہے، تو جیپ اچھی لگنے لگتی ہے۔‘‘ بھائی جب جیپ چلاتا ہے، تو جیپ کی قیمت بڑھ جاتی ہے، ایسی اس کی خاصیت ہے۔ او وی میں جن جتیندر کا نام آتا ہے وہ جتیندر میڈ ہیں، جو جی ایس پی (چکی کے گانوں کے پروجیکٹ) کی مرکزی ٹیم کے نوجوان محقق ہیں، اور ان گیتوں کو ریکارڈ کرتے وقت گاؤں میں موجود تھے۔

زمانے کے حساب سے ڈھلتے ہوئے، اِنداپور تعلقہ کے ’نمگاؤں کیتکی‘ گاؤں کی چنچواڑی بستی کی پھولا بھونگ، چندربھاگ بھونگ، اور بھاگو موہیتے نے اس اسٹوری میں شامل ۱۵ او وی گائے ہیں۔ ان او وی میں ایک بھائی کی کامیابی پر بہنوں کے فخر کا اظہار ہوتا ہے – جیسے، یہاں جتیندر کے امیر ہونے کے باوجود زمین سے جڑے ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

سال ۱۹۹۵ میں جی ایس پی ٹیم کے لیے ان گیتوں کو گاتے ہوئے، ہر عورت ایک دوسرے کو الفاظ کے سرے پکڑاتی جاتی تھی۔ جب وہ اپنی پیش رو خواتین سے سیکھے گئے ان گیتوں کے بول یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی تھیں، تو جتیندر بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اس کے ساتھ، باہمی تعاون کا ایک پیار بھرا ناطہ بھی قائم ہوتا رہا۔ ان خواتین گلوکاروں نے اس محقق کو اپنی دنیا کے اندر داخل ہونے دیا، اس کی منزلوں پر اس کا خیرمقدم کیا۔

پہلے دو او وی میں بھائی کے ذریعے اپنی بہن کے گھر کا سفر کرنے کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ بہن کہتی ہے:

جو رہتا ہے جیپ سوار، وہ پیدل گھر کو آتا ہے
بھیا جتیندر میرا امیر ہے، مگر پاؤں زمین پہ ٹکاتا ہے

بھائی بڑی چالاکی سے اپنی گاڑی کو ٹیڑھے میڑھے راستوں پر چلاتا ہے اور وہ فخریہ انداز سے اسے دیکھتی ہے۔ حالانکہ، وہ جیپ سے چلتا ہے، جو خوشحالی اور رفتار کی علامت ہے، لیکن جب وہ بہن کے گھر اس سے ملنے جاتا ہے، تو پیدل جاتا ہے۔ وہ اس کے دکھاوے سے دور رہنے کے مزاج کی تعریف کرتی ہے۔

ان او وی میں بھائی کو باکردار شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے – جو عقلمند اور خوبیوں کا مالک ہے، اور اپنے ذریعے حاصل کی گئی دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔ گلوکارہ ایک واقعہ کا ذکر کرتی ہے، جب دو بہنیں اپنے بھائی سے ملنے جا رہی ہوتی ہیں؛ ان میں سے ایک کی نظریں کسی اجنبی سے ملتی ہیں۔ اس اجنبی سے متاثر ہو کر – جس کی ’’نظر بہت ہے خاص‘‘ – وہ اس کے لیے اپنی دنیا اور اس کی محبت تک چھوڑ دینے کو تیار ہو جاتی ہے۔ لیکن، بھائی اسے محتاط رہنے کی صلاح دیتا ہے۔ بھائی جتیندر کہتے ہیں، ’’عزت کا خیال رکھنا۔‘‘ بھائی کی وارننگ کو اس کی محبت کی نشانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

PHOTO • Antara Raman

اپنے پیارے بھائی کو دولہے کے طور پر تیار کرنے کے لیے موتیوں پر خرچ کرنے کی بات سے، ان گیتوں میں ایک پیاری بہن کی محبت صاف جھلکتی ہے

کھانا کے ذریعے بھی او وی میں محبت کا ذکر ملتا ہے۔ بھلے ہی چولہے کی آگ بجھ چکی ہو، لیکن بہن اپنے بھائی کے لیے کھانا تیار کرنے کی خاطر اسے پھر سے جلاتی ہے۔ اس کا پسندیدہ کھانا تیار ہوتا ہے، اور بھائی بہن بات کرتے ہیں:

بڑے بھیا کے استقبال کے لیے، دال اور پیاز پکاتے ہیں
کتنا میں کیا میں کہوں بھائی، چل بوندی کے لڈو بناتے ہیں

بوندی کے لڈو، بیسن کے بے حد مہین اور چھوٹے چھوٹے دانوں سے بنتے ہیں، جنہیں تل کر چاشنی میں ڈبویا جاتا ہے۔

اس کے بعد آنے والے او وی میں، بہن اپنے چھوٹے بھائی کی شادی کی خبر ملنے کے بارے میں گاتی ہے۔ وہ گاتی ہے، ’’میرا چھوٹا بھیا، دولہا بنے گا بیساکھ [اپریل-مئی] ماہ میں۔‘‘ وہ اس کی شادی کی تقریب کے دوران اس کی پیشانی پر باندھنے کی خاطر مُنڈوَلیہ (موتیوں سے بنا زیور) بنانے کے لیے موتیوں کو ایک ساتھ پروتی ہے، اس کی حفاظت کے لیے کپڑے میں باندھ دیتی ہے۔ اپنے پیارے بھائی کو دولہے کی طرح تیار کرنے کے لیے موتیوں پر خرچ کرنے کی بات سے، ایک پیاری بہن کی محبت صاف جھلکتی ہے۔

بھاگو بائی موہیتے کے ذریعے گائے گئے آخری دو بند، ایسے سلسلہ وار جذبات کو ظاہر کرتے ہیں جنہیں بہن اپنے میکے کے لیے محسوس کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف اسے اپنے بھائی کی خوشحالی اور کامیابی پر فخر ہے، وہیں دوسری طرف رشک کی ایک دھیمی آواز بھی اس کی باتوں سے سنائی دیتی ہے۔ وہ گاتی ہے کہ کیسے اس کے بھائیوں کی بیویاں اپنے شوہروں کی خوشحالی اور ناموس کے دَم پر ’’راج‘‘ کر رہی ہیں۔ حق جتاتے ہوئے، تھوڑی رشک سے بھری بہن، گیہوں پیسنے کے اپنے کام میں لگ جاتی ہے۔ خاندانی رشتوں میں لگاؤ کی فطرت کو ظاہر کرتے ہوئے، یہ او وی پیار و محبت کے ساتھ موجود روزمرہ کی رسہ کشی کا بھی اظہار کرتے ہیں۔

گلوکارہ کہتی ہے کہ اس نے آج بھر کا آٹا پیس لیا ہے، اور ’’پوری طرح مطمئن‘‘ محسوس کر رہی ہے۔ اس کی کھڑکی پر سُپاری کا ایک ڈبہ رکھا ہے، جس سے سمجھ آتا ہے کہ وہ اب آرام کرے گی اور سُپاری چبانے کا مزہ لے گی۔ گویا اسے اچانک یاد آیا ہو، گلوکارہ کہنے لگتی ہے کہ اس کا شوہر بھی اس کے لیے قیمتی ہے – کسی نولکھے ہار کی طرح۔

گیتوں کے درمیان، جتیندر میڈ اور گلوکاروں نے جم کر مذاق مستی کی۔ جتیندر انہیں اپنی شادی میں مدعو کرتے ہیں کہ جب کبھی ان کی شادی ہوگی، گلوکاروں کو آنا ہوگا۔ گلوکارہ خواتین ہنسی مذاق کے درمیان کہتی ہیں، ’’جب آپ کی شادی ہوگی، تو ہم شادی کے گیت گائیں گے۔‘‘ پھر جلدی سے آگے کہتی ہیں، ’’لیکن آپ کو ہمیں لینے آنا ہوگا، ہم نہیں جانتے کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔‘‘

پھولا بھونگ، چندربھاگا بھونگ، اور بھاگو موہیتے کی آواز میں او وی سنیں

جو رہتا ہے جیپ سوار، پیدل میرے گھر آتا ہے
میرا بھائی جتیندر ہے تو امیر، مگر پاؤں زمین پر رکھتا ہے

یہ ٹیڑھے میڑھے راستے ہیں اس کے بنگلے تک جاتے
جیپ لگے ہے اچھی، بھائی جتیندر جب اسے چلاتے

راہ پر ملا اجنبی، نظر بہت ہے خاص
میں نے سب کچھ چھوڑ دیا، تاکہ آؤں تیرے پاس

بھائی جتیندر کہتے ہیں کہ عزت کا خیال رکھنا
آج تو ہم دونوں بہنوں کو، گاؤں کے در پر آنا

بھائی کھانے پر آیا ہے، اور چولہے کی آگ ہے ٹھنڈی
جتیندر، میرے بھائی کو، بہت پسند ہے بوندی

بڑے بھیا کے استقبال کے لیے، دال اور پیاز پکاتے ہیں
کتنا میں کیا میں کہوں بھائی، چل بوندی کے لڈو بناتے ہیں

بڑے بھیا کے استقبال کے لیے، میں دیتی ہوں پانی اور چائے
بھیا مجھ سے کہتا ہے کہ پانی کو میں لے جائے

صبح صبح کا وقت ہے، آنکھیں ہیں میری دھندلی
سنو میرے بیٹے تم یہ کہ پیالہ کدھر اور طشتری

صبح صبح کا وقت ہے، آنکھیں ہیں میری دھندلی
کہوں کہ یہ شیو راج، جگہ پر ہے پیالہ اور طشتری

ہم تو بھائی بہن ہیں، اور ہم میں تو ہے پیار
کتنا کیا میں کہوں تم کو، جھٹ سے چٹائی بچھا دے یار

بھائی کی شادی ہے، اور مجھے پتہ چلا ہے بیچ بازار
مُنڈوَلیہ کا موتی خریدا، لیا باندھ ساڑی کے ریشمی سار

بھائی کی شادی ہے، سنتی ہوں سسرال میں رہ کر
موتی کا مُنڈوَلیہ بُنتی ہوں برآمدے میں بیٹھ کر

موتی کا مُنڈوَلیہ ہے، رکھتی ہوں کپڑے میں باندھ کر
میرا چھوٹا بھیا، دولہا بنے گا بیساکھ ماہ میں

آٹا تو ہے پس گیا، من بھی بھر گیا ساتھ
بھائیوں کا جلوہ ہے، بھائی کرے ہیں راج

آٹا تو ہے پس گیا، آؤ! کھڑکی پر رکھی سُپاری چبائیں
سن لو سکھی، جو میرے شوہر، نولکھا ہار کہائیں



PHOTO • Hema Rairkar

پھولا بائی بھونگ

پرفارمر/گلوکارہ: پھولا بائی بھونگ اور چندر بھاگا بھونگ

گاؤں: نِمگاؤں کیتکی

بستی: چنچواڑی

تعلقہ: انداپور

ضلع: پونہ

ذات: پھول مالی


پرفارمر/گلوکارہ: بھاگو بائی موہیتے

گاؤں: نِمگاؤں کیتکی

بستی: بھونگ مستی

تعلقہ: انداپور

ضلع: پونہ

ذات: مراٹھا

تاریخ: تصویریں، گیت، اور اسٹوری میں شامل تمام قسم کی معلومات کو ۱۲ دسمبر، ۱۹۹۵ کے دن ریکارڈ کیا گیا تھا۔

پوسٹر: اورجا

’چکی کے گانوں کے پروجیکٹ‘ کے بارے میں پڑھیں ، جسے ہیما رائیرکر اور گی پائیٹواں نے شروع کیا تھا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Namita Waikar is a writer, translator and Managing Editor at the People's Archive of Rural India. She is the author of the novel 'The Long March', published in 2018.

Other stories by Namita Waikar
PARI GSP Team

PARI Grindmill Songs Project Team: Asha Ogale (translation); Bernard Bel (digitisation, database design, development and maintenance); Jitendra Maid (transcription, translation assistance); Namita Waikar (project lead and curation); Rajani Khaladkar (data entry).

Other stories by PARI GSP Team
Illustration : Antara Raman

Antara Raman is an illustrator and website designer with an interest in social processes and mythological imagery. A graduate of the Srishti Institute of Art, Design and Technology, Bengaluru, she believes that the world of storytelling and illustration are symbiotic.

Other stories by Antara Raman
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez