پونہ کے مُلشی تعلقہ میں جائی ساکھلے ایک ماں کے بارے میں نو اشعار گاتی ہیں، جو نئی نئی ماں بنی اپنی بیٹی کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ، اس سے متوقع سماجی رسم و رواج اور اصولوں پر عمل کرنے کی صلاح دے رہی ہے

’’تمہاری پنڈلیاں اتنی گوری ہیں، اپنی ساڑی کی تہ کو ذرا ڈھیلا کرو اور انہیں ڈھانپو۔‘‘ ایک حاملہ عورت کی ماں دھیرے سے اپنی بیٹی کو یہ بات کہتی ہے۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ تم ماں بننے والی ہو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ’با اخلاق‘ عورت ہونے کی معاشرہ کی امید کو نظر انداز کر دیا جائے۔

پونہ کے مُلشی تعلقہ کے لوہردے گاؤں کی جائی ساکھلے اپنے گیت میں ایک ماں کی خوشی بیان کر رہی ہیں، جو اپنی بیٹی کے پہلے حمل اور بچے کی پیدائش پر مسرت سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی صحت کو لے کر فکرمند ماں، بیٹی کو گھریلو نسخے کے بارے میں کچھ صلاح دیتی ہے۔

ماں غور کرتی ہے کہ زچگی کے بعد اس کی بیٹی کی ایڑیاں زرد پڑ گئی ہیں۔ اس کے لیے، وہ اسے سونف اور ہلدی کی دھومن لینے کی صلاح دیتی ہے۔ وہ اس سے کہتی ہے، ’’یہ تمہارے لیے دوسرے جنم کی طرح ہے، خود کو گرم رکھنے کے لیے اپنے شوہر کی گھونگڑی [کمبل] لے لو۔‘‘

’میری بٹیا تم، بڑی حسین تم، زرد چمیلی جیسی چمکتی تم‘۔ خاکہ: لابنی جنگی

ماں کو اچھی طرح یاد ہے کہ کیسے اس کی بیٹی کو اپنے والدین اور رشتہ داروں سے ملنے پر، اپنے حاملہ ہونے کی بات پر شرم آ جاتی تھی۔ ان کے داماد نے اپنی بیوی کو حمل کے نو مہینوں کے دوران بہت پیار محبت سے رکھا۔ صبح کے وقت متلی آنے پر، اس نے اسے ماؤتھ فریشنر کے طور پر سپاری کھلائی۔ جب اسے آم کھانے کی خواہش ہوتی تھی، تو وہ اس کے لیے پکے پھل توڑ کر لاتا تھا۔ جیسے جیسے حمل کا وقت بڑھتا رہا، نوجوان لڑکی ’’چنبیلی کے زرد پھول کی طرح‘‘ دمکنے لگی۔ ماں کو اپنی بیٹی اور داماد، دونوں پر فخر محسوس ہوتا ہے۔

جائی ساکھلے کی مترنم آواز میں نو اشعار سنیں

بس ابھی ابھی ہی بچہ ہوا ہے، تمہیں غسل کو جاتے دیکھ رہی ہوں
زچگی کے درد کی وجہ سے، تمہاری ایڑیاں زرد دیکھ رہی ہوں

ماں نئی نویلی، سن لے میری، ذرا سونف کے بیج کا دھومن لے
اپنے شوہر کا کھردرا کمبل اوڑھ، تاکہ جسم کو تمہارے گرمی ملے

بس ابھی ابھی ہی بچہ ہوا ہے، تازہ دم ہونے کو ہلدی لگا
پیاری بٹیا اب تجھ کو ملا، زندگی کا دوسرا ساتھ لگا

ماں باپ کے دروازے پر، حاملہ بٹیا تو لاج چڑھا لیتی ہے
پیاری بیٹی، بٹیا میری، ساڑی کا سرا لے کر پیٹ ڈھانپ لیتی ہے

اس حاملہ لڑکی کو صبح پہر بڑی زور سے متلی آتی ہے
اس کا پیارا شوہر لے آتا ہے اور یہ چکنی سپاری کھاتی ہے

اس حاملہ لڑکی کو ملتا ہے پیار ذرا تم دیکھو تو
پیارا شوہر چڑھا درخت پر اور توڑتا پکتے آم ذرا تم دیکھو تو

اس حاملہ لڑکی کی پنڈلیوں کا رنگ ہے گورا تاکو تو
او لڑکی تو سن لے میری، ساڑی کے چُنّٹ-سلوٹ سے اسے ڈھانپو تو

او لڑکی، او حاملہ! کیسی نظر آ رہی اس حال میں تم؟
میری بٹیا تم، بڑی حسین تم، زرد چنبیلی جیسی چمکتی تم

او لڑکی، او حاملہ! تیرے گال گلابی ہیں، کیا بات تمہاری ہے
وہ ماہ کون سا تھا جب تم کو ہوا حیض آخری ہے

پرفارمر / گلوکارہ: جائی ساکھلے

گاؤں: لوہردے

تعلقہ: مُلشی

ضلع: پونہ

ذات: نیو بدھسٹ

عمر: سال ۲۰۱۲ میں انتقال ہو گیا تھا

تعلیم: نہیں ملی

اولاد: ۱ بیٹی (لیلا بائی شندے – ’چکی کے گانے کے پروجیکٹ‘ کی معاون)

تاریخ: ۵ اکتوبر، ۱۹۹۹ کو ان کے گیت ریکارڈ کیے گئے تھے

پوسٹر: اورجا

اصل ’چکی کے گانے کے پروجیکٹ‘ کے بارے میں پڑھیں ،جسے ہیما رائیرکر اور گی پائیٹواں نے شروع کیا تھا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Namita Waikar is a writer, translator and Managing Editor at the People's Archive of Rural India. She is the author of the novel 'The Long March', published in 2018.

Other stories by Namita Waikar
PARI GSP Team

PARI Grindmill Songs Project Team: Asha Ogale (translation); Bernard Bel (digitisation, database design, development and maintenance); Jitendra Maid (transcription, translation assistance); Namita Waikar (project lead and curation); Rajani Khaladkar (data entry).

Other stories by PARI GSP Team
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez