ماجلگاؤں کی ماں بیٹی نے نوجوان بھیم راؤ امبیڈکر اور رما بائی کے لیے عشق و محبت کے گیت گائے، اور اُن دونوں کو اپنے گھر کا حصہ بنا لیا

رما بائی پیشانی پر کُم کُم لگاتی ہیں
’رما میرے ساتھ چلو‘ بھیم پلین سے انہیں بلاتے ہیں

اس اووی کے ساتھ، پاروَتی بھادرگے ہمیں نوجوان بھیم راؤ امبیڈکر اور رما بائی کی زندگی کی ایک جھلک دکھاتی ہیں۔ اس گیت کے دو مطلب ہیں: پہلا، واضح طور پر ایک نوجوان شوہر اور بیوی کے درمیان اٹوٹ عشق کو دکھاتا ہے؛ اور دوسرا، جو کئی سالوں تک دونوں کے ایک دوسرے سے دور رہنے کو مجبور ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جب بھیم راؤ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے گئے ہوئے تھے اور رما بائی گھر پر رہ کر فیملی کی دیکھ بھال کرتی تھیں؛ اور اس طرح دونوں کو غم فراق سے گزرنا پڑا۔

کچھ اووی میں، گلوکارہ بھیم راؤ کے والد رام جی امبیڈکر کی خوشحالی کو بیان کرتی ہیں۔ وہ ان کے بہت سارے گھوڑوں کی گنتی کرتی ہیں، اور جانوروں کے لیے میٹھے پانی کی ٹنکی کے بارے میں گاتی ہیں۔ بابا صاحب امبیڈکر اور رما بائی کے تئیں ان کی فخریہ وابستگی، کبھی کبھی ان کے خیال کو بال و پر عطا کر دیتی ہے، جو حقیقت سے تھوڑی دور ہو سکتی ہے۔ بھیم راؤ اور رما بائی کی شادی کیسے ہوئی؟ وہ موقع اصل میں تھا کیسا؟

سال ۱۹۰۶ میں جب ان کی شادی ہوئی، تب وہ بہت چھوٹے تھے۔ اس وقت کی روایت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ شادی کے وقت بھیم راؤ ۱۴ سال کے تھے اور تب تک انہوں نے میٹرک کی تعلیم مکمل کر لی تھی اور ان کی بیوی رامی ولنگکر صرف ۹ سال کی تھیں۔ امبیڈکر جی کے والد رام جی سکپال نے اپنے بیٹے کے لیے دلہن کا انتخاب کیا تھا۔ رامی، کونکن علاقے کے ونند گاؤں کے ایک غریب خاندان سے تھیں، جہاں ان کے والد قلی کا کام کرتے تھے۔ والدین کے انتقال کے کچھ دنوں بعد ہی، رامی اور ان کے چھوٹے بھائی بہن اپنے چچا کے ساتھ ممبئی کے بھائیکھلا سبزی بازار میں واقع ایک چال میں رہنے لگے تھے۔ بھیم راؤ اور رامی کی شادی یہیں رات کے وقت ہوئی تھی، جب پورا بازار خریداروں اور فروشوں کے بغیر خالی پڑا تھا۔

شادی کے بعد رامی کا نام رما بائی کر دیا گیا۔ بھیم راؤ انہیں پیار سے ’رامو‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ ’رامو‘ کے لیے بھیم راؤ ہمیشہ ’صاحب‘ تھے، جو اپنے شوہر کے لیے ایک بیوی کے عشق، عزت، اور عقیدت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب بھیم راؤ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملک سے باہر چلے گئے اور اُن دنوں جس مشکل گھڑی سے رما بائی کو گزرنا پڑا، اس نے انہیں دوبارہ جدوجہد کے درمیان بڑی ہونے والی رامی بنا دیا۔ ان کے پانچ بچے ہوئے، جن میں سے چار کی بچپن میں ہی موت ہو گئی۔ بھیم راؤ کی غیر موجودگی میں، رما بائی کو اکیلے ہی اپنے بچوں سمیت تمام عزیزوں کی موت کا غم برداشت کرنا پڑا۔

بیڈ ضلع کے ماجلگاؤں تعلقہ میں واقع بھیم نگر بستی کی پاروَتی بھادرگے کے ذریعے اپنی بیٹی رنگو پوٹ بھرے کے ساتھ گائے ان ۲۲ اووی کی شروعات اس خوبصورت خیال کے ساتھ ہوتی ہے: ’’تیری میری آواز کو ایک ہو جانے دو…جیسے خاموش بہتی گنگا کی موجیں ہوں‘‘۔ گلوکارہ اپنی پڑوسن سے کہتی ہیں کہ بھیم راؤ اور رما بائی امبیڈکر ان کے گھر آ رہے ہیں اور وہ ان کے لیے بھروا پورن پولی مٹھائی بنا رہی ہیں۔

Dr. Babasaheb Ambedkar with Ramabai Ambedkar in 1934
PHOTO • Courtesy: Wikipedia
At their Rajagriha bungalow, Bombay in February 1934. From left:  son Yashwant, Dr. Ambedkar, Ramabai, Babasaheb's brother's wife Laxmibai, nephew Mukundrao, and their dog Tobby
PHOTO • Courtesy: Wikipedia

بائیں: سال ۱۹۳۴ میں رما بائی امبیڈکر کے ساتھ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر۔ دائیں: فروری ۱۹۳۴ میں بامبے میں واقع اپنے راج گرہ بنگلے پر۔ بائیں سے: بیٹا یشونت، ڈاکٹر امبیڈکر، رما بائی، بابا صاحب کے بھائی کی بیوی لکشمی بائی، بھتیجے مکند راؤ، اور ان کا کتا ٹوبی

عورتیں فخر سے رام جی سکپال کے گھوڑوں کے بارے میں گاتی ہیں، خاص کر ان کی خوبصورت گھوڑی کے بارے میں، جس کی سواری نوجوان بھیم کرتے ہیں۔ اس گھوڑی کی قیمت ایک ہزار روپے ہے اور اس کی پیٹھ پر بیٹھنے کے لیے ۳۰۰ روپے کی زین بچھی ہوئی ہے۔ گلوکارہ، گھر میں دولت اور خوشحالی کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ماں لکشمی راستے میں کئی جگہ رکنے کے بعد بھیم راؤ کے گھر آتی ہیں۔ دراصل، ان کی فیملی بالکل بھی خوشحال نہیں تھی۔ رام جی سکپال ریٹائرڈ صوبیدار تھے، اور فیملی ممبئی کے لوور پریل میں ڈبک چال میں رہتی تھی۔ گلوکارہ کی نظر میں بھیم گلاب کے پھول کی طرح ہیں۔ وہ خیالوں میں سوچتی ہیں کہ بھیم اور رما بائی، رام جی کے گھر میں ہو رہی اپنی شادی کی تقریب میں روایتی باسنگ (سر پر پہنے جانے والے زیورات) پہنے ہوئے تھے۔

ایک دوسری اووی میں، گلوکارہ بیان کرتی ہیں کہ ان کی جوانی کے ۱۲ سال چکّی پر اناج پیستے ہوئے گزرے ہیں۔ کام کے دوران وہ پسینے سے سرابور ہو جاتی تھیں۔ ان کے مطابق، رما بائی یا رامی نے انہیں بچپن میں افیون (افیم) کے ساتھ جائیفل دے کر ان کے بازوؤں کو مضبوط بنایا اور اس مشکل کام کو کرنے کی طاقت دی۔

جب بھیم راؤ ملک سے باہر تھے، تو ان سالوں کے دوران رما بائی نے اپنی قربانی اور عزت نفس سے رامی یا ’ماں رما بائی‘ کے طور پر نام حاصل کیا۔ حالانکہ، انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے دوستوں اور بہی خواہوں سے پیسے کی مدد کی پیشکش کو قبول کرنے سے منع کر دیا۔ ایک بار جب رما بائی اپنی اُس دوست کے گھر رہنے گئیں جو ایک رہائشی اسکول چلاتی تھیں، تو انہوں نے پایا کہ سرکاری راشن ملنے میں ہو رہی تاخیر کی وجہ سے، بچے کچھ دنوں سے بھوکے پیٹ سو رہے ہیں۔ ان سے بچوں کی یہ حالت دیکھی نہیں گئی اور انہوں نے اپنے سونے کے زیورات بیچنے یا گروی رکھنے کے لیے دے دیے، تاکہ بچوں کے لیے کھانا خریدا جا سکے۔ بچوں نے اس رحم دلی اور پیار کے سبب انہیں ’رما آئی‘ یا ’رمائی‘ نام دیا۔ وہ پیارا نام آج تک استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک اووی میں گلوکارہ ننھے بھیم کا تصور کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ جب وہ اپنے والدین کے گھر جائیں گی اور ان کے جھولے کو ہلائیں گی، تو انہیں بے حد خوشی ملے گی۔ ایک دوسری اووی میں، بھیم راؤ ان کے بھائی ہیں، اور رما بائی مہربان بھابھی ہیں، جن کی موجودگی سے آبائی گھر میں گلوکارہ کو سکون ملتا ہے۔

آخری اووی میں، گلوکارہ کی خوشی چاروں طرف پھیل جاتی ہے، اور وہ گاتی ہیں کہ ان کا گھر مہمانوں سے بھرا ہے اور وہ بابا صاحب امبیڈکر کا ’جے بھیم‘ کے ساتھ خیر مقدم کرتی ہیں!

An old photo of Parvati Bhadarge
PHOTO • Vinay Potbhare
Rangu Potbhare in Majalgaon's Bhim Nagar on Ambedkar Jayanti in 2021
PHOTO • Vinay Potbhare

بائیں: پاروَتی بھادرگے کی ایک پرانی تصویر۔ دائیں: سال ۲۰۲۱ میں ماجلگاؤں کے بھیم نگر میں امبیڈکر جینتی کے موقع پر رنگو پوٹ بھرے

پاروَتی بھادرگے اور رنگو پوٹ بھرے کی آواز میں او وی سنیں

تیری میری آواز کو ایک ہو جانے دو
جیسے خاموش بہتی گنگا کی موجیں ہوں

گھر پہ مہمان آیا؛ پڑوسی پوچھے میرا ’کہاں سے آیا؟‘
میرے امبیڈکر بابا کا تانگہ باہر سڑک پر آیا

میں جلدی جلدی پورن پولی بناتی ہوں
بھیم کے ساتھ رما بائی گھر کو آتی ہیں

رما بائی پیشانی پر کُم کُم لگاتی ہیں
’رما میرے ساتھ چلو‘ بھیم پلین سے انہیں بلاتے ہیں

او سکھی سن، کتنے لوگ تھے گھوڑے پر اور کتنے تھے پیدل
رات کو میرے رام جی بابا بہو کو دیکھنے گئے تھے

او سکھی، چھ لوگ تھے گھوڑے پر اور گن کتنے تھے پیدل
میرے رام جی بابا بہو کو دیکھنے گئے تھے

یہ کون سا ہے شخص پیارا، کرتا رام رام گھوڑے پر سے
وہ ہے امبیڈکر بابا، میری پیاری رما کا دولہا

بجتا ہے گانا اور دولہے کے سر پر باسِنگ سونے کا
معلوم ہے، بابا رام کے گھر پہ بیاہ ہو رہا بھیمے کا

لکشمی گھر پر آئی ہے، رک رک کر رستے بھر میں
پوچھتے سب سے بھیم کا گھر، رک رک کر رستے بھر میں

او سکھی، گھر کی دہلیز کُم کُم سے سجاؤ نا
میری پیاری رما بائی گھر پر ابھی نہیں ہے نا

سہاگنوں کو بلاؤ، دور سے مہمان آیا ہے نا
لالٹین لاؤ اور بھیم کی رانی ڈھونڈ لاؤ نا

او سکھی، بھری بجریا، جیسے کہ اس میں سو کلو کا سونا ہو
پہچان نہیں پائی بابا بھیم کو، خوبصورت شال پہنے آیا وہ

سیاہی کی ڈبیہ اور قلم بستر کے سرہانے رکھا ہے
میرا بھانجے سے پوچھتی، کتنی دھرتی تم نے جیتا ہے؟

او سکھی، اناج پیستی میں اور ڈبے میں آٹا بھر رہی
پیارے چھٹکو بھیما کے لیے، جو دہلی میں ہے ابھی

او سکھی سن، ہزار روپے کی گھوڑی، اور تین سو کا گدّا ہے
اس پر بھیما بابا بیٹھا، جیسے کھلا گلاب بیٹھا ہے

میں جب تب چکّی گھماؤں، میری کلائی ہے مضبوط بڑی
مجھ کو افیون کے ساتھ ماں رما نے جائیفل کھلائی کھڑی

چکّی چلا چلا کر، نہیں معلوم چلے کب تھک گئے
جوانی کے بارہ سال چکّی چلانے میں ہی کھٹ گئے

او سکھی، میکے جاؤں گی، بہت مزہ آئے گا نا
میرا دوست بھیم، پیارا بھیم راجا میرے ساتھ ہوگا،
چچی، تم بیٹھ جاؤ نا

او سکھی، میکے جاؤں گی، وہاں آرام تو کہاں ملے گا!
ننھے بھیم کا پالنا ہاتھوں میں، اسے پیار سے جھلانا ہوگا

او سکھی، میکے جاؤں گی، میری آئی وہاں ہوگی
سب سے پیاری رما بائی ہی تو میری سہارا بنے گی

میرے گھر کے کونے کونے میں مہمان آکر ہیں بیٹھے
امبیڈکر بابا کا خیر مقدم کرتی، جے بھیم میں کہہ کے

پرفارمر/گلوکارہ: پاروَتی بھادَرگے (ماں)، رنگو پوٹ بھرے (بیٹی)

گاؤں: ماجلگاؤں

بستی: بھیم نگر

تعلقہ: ماجلگاؤں

ضلع: بیڈ

ذات: نیو بدھسٹ

پیشہ: پاروتی بھادرگے ایک کسان اور زرعی مزدور تھیں۔ رنگو پوٹ بھرے، کچھ سالوں تک اپنی فیملی کے کھیتوں میں کام کرتی رہیں۔

پوسٹر: اورجا

ماجلگاؤں کے راج رتن سالوے اور ونے پوٹ بھرے کا ان کی مدد کے لیے خاص طور سے شکریہ۔

’چکی کے گانے‘ کے پروجیکٹ کے بارے میں پڑھیں ، جسے ہیما رائیرکر اور گی پائٹواں نے شروع کیا تھا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Namita Waikar is a writer, translator and Managing Editor at the People's Archive of Rural India. She is the author of the novel 'The Long March', published in 2018.

Other stories by Namita Waikar
PARI GSP Team

PARI Grindmill Songs Project Team: Asha Ogale (translation); Bernard Bel (digitisation, database design, development and maintenance); Jitendra Maid (transcription, translation assistance); Namita Waikar (project lead and curation); Rajani Khaladkar (data entry).

Other stories by PARI GSP Team
Translator : Qamar Siddique

Qamar Siddique is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Qamar Siddique