05-DSC_1293.jpg

یہ رہنمائی والی ہجرت ہے۔ جس میں انسان بھینسوں کے جھُنڈ کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اڈیشہ کے جگت سنگھ پور ضلع کے گوالے (مویشیوں سے دودھ نکالنے والے) ہر سال، بھینسوں کے ایک بڑے جھُنڈ کو دیوی ندی سے پار کراتے ہیں۔ یہ شدید گرمی کے موسم میں تب ہوتا ہے، جب انھیں ندی کے اُس پار نئے چراگاہوں کی تلاش ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ تیر کر واپس آ جاتے ہیں۔ یہ سیرینگیٹی نیشنل پارک کی ہجرت تو نہیں ہے، لیکن پورا نظارہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔

میں نے اس نظارہ کو ایک دن نہرانا گرام پنچایت کے قریب دیکھا۔ یہ گاؤں دیوی ندی کے کنارے واقع ہے۔ یہ ندی ساحلی اڈیشہ کے جگت سنگھ پور اور پوری ضلعوں سے ہوکر گزرتی ہے اور مہاندی میں جاکر مل جاتی ہے۔


01-DSC_1437.jpg

نہرانا گرام پنچایت کے گنڈاکل گاؤں کے قریب دیوی ندی کے کنارے۔ دائیں جانب واقع مٹی کا ڈھیر منوڈیہہ ہے


نہرانا گرام پنچایت کے آس پاس کے گاؤوں میں ماہی گیروں کی کئی برادریاں رہتی ہیں۔ دیوی ندی ان کا ایک بڑا ذریعہ معاش ہے۔ اس ساحلی علاقہ میں بڑی تعداد میں دودھ کا کاروبار کرنے والے گوالے بھی رہتے ہیں۔ بہت سے دوسرے گھروں میں بھی مویشی پالے جاتے ہیں، جو اِن کنبوں کی اضافی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔

اڈیشہ اسٹیٹ کوآپریٹو مِلک پروڈیوسرس فیڈریشن یہاں اچھا کام کر رہا ہے۔ یہاں کے گوالوں اور گائے و بھینس پالنے والے دوسرے لوگوں کو اپنا سامان بیچنے کے لیے بازار تلاش کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں پڑتی، کیوں کہ فیڈریشن ان سے یہ سامان خرید لیتی ہے۔


02-DSC_1438.jpg

دیوی ندی کھارے پانی کی مچھلیوں کا گہوارہ ہے، جہاں ماہی گیر جال سے مچھلیاں نکالنے میں مصروف ہیں


ندی کا دہانہ نہرانا سے مشکل سے ۱۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، اور چونکہ ندی کا یہ دہانہ کافی چوڑا ہے، اس لیے گاؤوں میں بہت سے ڈیلٹا بن چکے ہیں۔ ندی کے کٹاؤ کی وجہ سے جن مقامی کسانوں کے کھیت اس میں مل گئے، وہ ان ڈیلٹاؤں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور کہیں کہیں انھوں نے کچھ وقت کے لیے جھونپڑیاں بھی بنا لی ہیں۔ ان ڈیلٹاؤں میں ہرے بھرے چراگاہ بھی موجود ہوتے ہیں۔

پاس کی برامُنڈلی گرام پنچایت کے پاتر پاڑہ گاؤں میں گوالوں کی ایک فیملی اپنے ذریعہ پالی گئی ۱۵۰ بھینسوں کے دودھ بیچتی ہے۔اس قسم کے کنبوں کے لیے، جو روایتی طور پر زمینوں کے مالک نہیں ہیں، اتنی ساری بھینسوں کے لیے جھونپڑیاں بنانا یا ان کے لیے چراگاہ تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے میں دیوی ندی کے کنارے اور ڈیلٹا ان کے لیے غنیمت کا کام کرتے ہیں۔ اپنی بھینسوں کو اِن ڈیلٹا کی سبز چراگاہوں پر چرانے کے لیے گوالے چراگاہوں کے مالکوں کو سالانہ ۲ لاکھ روپے ادا کرتے ہیں۔ رات میں بھینسیں، ندی کے کنارے جنگلی جھاؤ کے درختوں کے نیچے آرام کرتی ہیں اور دن میں ندی پار کرکے ڈیلٹا کی طرف چرنے چلی جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ مانسون سے پہلے اس وقت تک چلتا رہتا ہے، جب ان ڈیلٹاؤں پر تازہ پانی جمع نہیں ہو جاتا، جسے پی کر بھینسیں اپنی پیاس بجھاتی ہیں۔

درج ذیل تصویریں بھینسوں کے روزانہ کے معمول میں شامل چراگاہ کی جانب جاتے ہوئے ایک طرف کے سفر کی عکاسی کر رہی ہیں۔


03-DSC_1232.jpg

بھینسیں جھاؤ کے درختوں سے نکل کر چلنا شروع کرتی ہیں


04-DSC_1233.jpg 

وہ وہاں تک یونہی چلتی رہتی ہیں، جہاں سڑک اور ڈیلٹا کے درمیان دوری کم ہے، تاکہ انھیں تیرتے وقت کم دوری طے کرنی پڑے


05-DSC_1293.jpg

بھینسیں سڑک سے نیچے اتر رہی ہیں تاکہ ندی کو پار کر سکیں۔ ان میں سے کچھ پانی میں داخل ہونے سے کتراتی ہیں، لیکن کچھ اپنی مرضی سے اس میں کود جاتی ہیں

 

06-DSC_1305.jpg

تین دن کا ایک بچھڑا اپنی ماں کے ساتھ چلتا ہوا 


07-DSC_1345.jpg

بھینسیں جھنڈ میں تیرتی ہیں۔ انہیں چرانے والے ان کے پیچھے موٹر بوٹ سے چلتے ہیں

 

08-DSC_1353.jpg

وہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے جھنڈ میں تیرتی ہیں، تاکہ بچھڑوں جیسے اپنے سے کمزوروں کو بچا سکیں۔ کم تیرنے والی بھینسیں دوسروں کے اوپر جھک جاتی ہیں، تاکہ آسانی سے تیر کر پار ہو سکیں

 

09-DSC_1333.jpg

ندی کے بیچ میں دوسروں کی مدد سے پہنچنے کے بعد تین دن کے بچھڑے کی مشق رُک جاتی ہے۔ وہ بڑی بھینسوں جتنی تیزی سے نہیں تیر سکتا اور وہیں پھنس جاتا ہے۔ اس کی ماں بھی بے سہارا محسوس کرتی ہے

 

10-DSC_1334.jpg

جھنڈ کا مالک بوٹ سے اس کے پاس پہنچتا ہے اور بچھڑے کو اوپر کھینچ لیتا ہے

 

11-DSC_1339.jpg

ایسا لگتا ہے کہ بچھڑے کو چین آ گیا، لیکن وہ اب بھی پریشان ہے

 

12-DSC_1340.jpg

وہ اپنی ماں کو متوجہ کرنے کے لیے مسلسل آواز نکال رہا ہے

 

13-DSC_1343.jpg

اس کی ماں، بھینس بوٹ اور بچھڑے کو تاکتی رہتی ہے، جب کہ بقیہ بھینسیں تیرنے میں لگی ہوئی ہیں

 

14-DSC_1361.jpg

جب کنارہ آتا ہے، تو بچھڑا باہر کودنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے، جلدی سے اپنی ماں کے پاس پہنچنا چاہتا ہے

 

15-DSC_1374.jpg

جھنڈ منو ڈیہہ کے پاس پہنچنے والا ہے

 

16-DSC_1379.jpg

بچھڑے کو سب سے پہلے بوٹ سے باہر نکالا جاتا ہے 


17-DSC_1384.jpg

بچھڑے کی ماں جذباتی ہوکر اس کے پاس پہنچ جاتی ہے

 

18-DSC_1389.jpg

بقیہ بھینسیں ڈیلٹا پر پہنچتے ہی چرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں 


19-DSC_1403.jpg

یہ موٹا تگڑا بھینسہ جھنڈ سے الگ ہوکر اطمینان سے چرنے میں لگا ہوا ہے

 

20-DSC_1386.jpg

ماں بھینس گھاس کے میدان کی طرف جا رہی ہے اور بچھڑا اس کے پیچھے پیچھے آتا ہوا

 

21-DSC_1426.jpg

بھینسوں کو بحفاظت ڈیلٹا پر پہنچانے کے بعد، گوالے اپنے گاؤں کی طرف واپس چلے جاتے ہیں


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

دلیپ موہنتی ایک اسپورٹس براڈکاسٹ نیٹ ورک کے لیے کام کرتے ہیں، لیکن ان کے دوسرے بہت سے مشغلے بھی ہیں، جو دیہی ہندوستان سے لے کر فوٹوگرافی تک پر محیط ہیں۔