گدھے کا ایک لیٹر دودھ ۷ ہزار روپے میں؟ کسی بھی چیز کے ایک لیٹر کی اتنی قیمت؟ عجیب لگتا ہے، لیکن گجرات کے سوراشٹر کے ہلاری گدھوں کے دودھ کے بارے میں ستمبر ۲۰۲۰ میں اخباروں نے یہی سرخیاں لگائیں۔ اور یہ سچ بھی نکلا – بھلے ہی اس کے صرف ایک معاملہ کی ہی تصدیق ہو سکی۔ اور گجرات کی ہلاری گدھے پالنے والی برادریاں آپ کو دیکھتے ہی ہنسنا شروع کر دیں گی اگر آپ ان سے یہ کہیں گے کہ انہیں اتنی قیمت ہمیشہ ملتی ہے۔

مبینہ طور پر نایاب ادویاتی خصوصیات سے بھرپور، اس قسم کے دودھ کی قیمت گجرات میں زیادہ سے زیادہ ۱۲۵ روپے فی لیٹر رہی ہے۔ اور یہ قیمت اس تنظیم نے ادا کی تھی، جس نے اپنی تحقیق کے لیے محدود مقدار میں دودھ خریدا تھا۔

اور اس طرح، اخبار کی سرخیوں کا پیچھا کرتے ہوئے، میں سوراشٹر پہنچ گیا۔ راجکوٹ ضلع کے بنجر کپاس کے کھیتوں میں میری ملاقات کھولا بھائی جوجو بھائی بھارواڑ سے ہوئی، جن کی عمر تقریباً ۶۰ سال ہے اور وہ دیو بھومی دوراکا ضلع کے بھنواڑ بلاک کے جمپار گاؤں کے رہنے والے ہیں، جو اس وقت اپنی فیملی کے ہمراہ سالانہ مہاجرت کے راستے پر تھے۔ ان کے پاس بکریوں اور بھیڑوں کا ریوڑ، اور پانچ ہلاری گدھے تھے۔

’’ہلاری گدھے صرف ریباری اور بھرواڑ برادریوں کے پاس ہوتے ہیں،‘‘ کھولا بھائی نے بتایا۔ اور ان کے درمیان بھی، کچھ ہی کنبے ’’اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جانور خوبصورت ہیں لیکن ہمارے معاش کے لیے مستحکم نہیں ہیں۔ ان سے صفر آمدنی ہوتی ہے۔‘‘ کھولا بھائی اور ان کے پانچ بھائیوں کے پاس مشترکہ طور پر ۴۵ گدھے ہیں۔

خانہ بدوش مویشی پروروں کی آمدنی کا حساب لگانا غلط فہمیوں سے بھرا ہو سکتا ہے۔ ان کی آمدنی نہ تو مستحکم ہوتی ہے اور نہ ہی متعین۔ اور دوسرے لوگوں کی طرح انہیں ایندھن اور بجلی پر بھی ماہانہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن ’سہجیون‘ این جی کے بھُج میں واقع مویشی پروری مرکز کے محققین بتاتے ہیں کہ پانچ لوگوں کی فیملی کی سالانہ آمدنی مجموعی طور پر ۳-۵ لاکھ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے (جو ان کے ریوڑ کے سائز پر منحصر ہے) اور (تمام اخراجات کو گھٹانے کے بعد) کل آمدنی سالانہ ۱-۳ لاکھ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے، لیکن اس آمدنی کو عمومی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ آمدنی انہیں بکریوں اور بھیڑ کے اون اور دودھ کو فروخت کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔

گدھوں سے انہیں بہت ہی معمولی آمدنی حاصل ہوتی ہے یا بالکل بھی نہیں ہوتی۔ مویشی چرانے والوں کی آمدنی اب چونکہ ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے ہلاری گدھوں کی پرورش کرنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

کھولا بھائی جوجو بھائی دیو بھومی دوارکا ضلع کے جمپار گاؤں میں ہلاری گدھوں کے اپنے جھنڈ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

مویشی پروری مرکز کے رمیش بھٹی کہتے ہیں کہ ریوڑ کا اوسط سائز اسے رکھنے والی فیملی کے سائز پر منحصر ہوتا ہے۔ چار بھائیوں کی فیملی جو ان مویشیوں کی پرورش کر رہے ہیں، ان کے پاس ۳۰ سے ۴۵ گدھے ہو سکتے ہیں۔ وہ ان جانوروں کو احمد آباد کے پاس دیوالی کے بعد لگنے والے سالانہ میلہ میں فروخت کرتے ہیں۔ دوسری جانب مہاجرت کرنے والے کنبے، جو گدھوں کو سامان ڈھونے کے لیے استعمال کرتے ہیں، چار سے پانچ مادہ گدھے رکھتے ہیں۔

ان مویشیوں کی افزائش کرنے اور چرانے والوں کو حالیہ دنوں تک گدھے کے دودھ کا کوئی بازار نہیں ملا تھا۔ ’’گدھے کا دودھ عام زندگی کی کوئی شے نہیں ہے،‘‘ بھٹی کہتے ہیں، ’’یہ دودھ دینے والے جانور نہیں ہیں۔ حالانکہ ۲۰۱۲-۱۳ میں دہلی میں ’آرگینکو‘ نام کی ایک سماجی کمپنی نے گدھے کے دودھ سے بننے والی کاسمیٹک مصنوعات کو متعارف کرانا شروع کیا تھا، لیکن ہندوستان میں اب بھی اس کا کوئی باقاعدہ بازار نہیں ہے۔‘‘

ہلاری گدھے سوراشٹر کی دیسی نسل ہیں، جن کا نام ہلار خطے پر پڑا ہے، جو کہ موجودہ ضلعے جام نگر، دیو بھومی دوارکا، موربی اور راجکوٹ پر مشتمل مغربی ہندوستان کا ایک تاریخی علاقہ ہے۔ گدھے کی اس نسل کے بارے میں مجھے پہلی بار رمیش بھٹی نے بتایا۔ سفید رنگ اور مضبوط قد اور جسامت کے یہ گدھے ایک دن میں ۳۰-۴۰ کلومیٹر تک چل سکتے ہیں۔ انہیں جانوروں کو چرانے کے لیے سالانہ مہاجرت کے دوران سامان ڈھونے اور گاڑیاں کھینچنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ہلاری گجرات کا پہلا ایسا جانور تھا، جسے نیشنل بیورو آف اینیمل جینیٹک ریسورسز نے دیسی گدھے کی نسل کے طور پر رجسٹر اور تسلیم کیا تھا۔ ملک گیر سطح پر، یہ ہماچل پردیش کے اسپیتی گدھے کے بعد دوسرا اور گجرات کے ہی کچھی گدھے سے ٹھیک آگے تھا۔

مویشیوں کی ۲۰ویں مردم شماری ۲۰۱۹ کے مطابق ہندوستان بھر میں گدھوں کی آبادی تیزی سے گھٹ رہی ہے – سال ۲۰۱۲ میں ان کی تعداد ۳ لاکھ ۳۰ ہزار تھی جو ۲۰۱۹ میں گھٹ کر ایک لاکھ ۲۰ ہزار ہی رہ گئی تھی، جو کہ تقریباً ۶۲ فیصد کی کمی ہے۔ گجرات میں اس کمی کو ہلاری گدھوں کی تعداد میں گراوٹ کے ساتھ ساتھ ان کی افزائش کرنے والوں کی تعداد میں کمی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

’سہجیون‘ کے ذریعہ ۲۰۱۸ میں شروع کیا گیا مطالعہ (جسے حکومت گجرات کے محکمہ مویشی پروری کو جمع کروایا گیا تھا) بتاتا ہے کہ پانچ سالوں کے دوران تمام قسم کے گدھوں کی آبادی میں ۴۰ اعشاریہ ۴۷ فیصد کی کمی آئی ہے۔ گجرات کی جن ۱۱ تحصیلوں میں ہلاری گدھے اور ان کی افزائش کرنے والے لوگ رہتے ہیں، وہاں پر ان جانوروں کی تعداد ۲۰۱۵ میں ۱۱۱۲ تھی، جو ۲۰۲۰ میں گھٹکر صرف ۶۶۲ رہ گئی ہے۔ اور اسی مدت میں ہلاری کی افزائش کرنے والے مویشی پروروں کی تعداد ۲۵۴ سے گھٹ کر ۱۸۹ ہو چکی ہے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

منگا بھائی جاڈا بھائی بھرواڑ جمپار میں ہلاری گدھوں کے جھنڈ پر نظر رکھے ہوئے ہیں؛ خانہ بدوش طرزِ زندگی میں ہو رہی تبدیلیوں کے بارے میں ان کی گہری سمجھ ہے

کمی کے اسباب کیا ہیں؟ ’’گدھوں کے چرنے کے لیے زمین کہاں ہے؟‘‘ جمپار گاؤں کے ۵۰ سالہ خانہ بدوش چرواہے، منگا بھائی جاڈا بھائی بھرواڑ سوال کرتے ہیں۔ ’’زیادہ تر چراگاہوں پر اب کھیتی ہونے لگی ہے۔ ہر جگہ کھیتی ہی کھیتی۔ ہم جنگل میں بھی اپنے مویشیوں کو نہیں چرا سکتے۔ قانوناً اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔‘‘ اور، وہ آگے کہتے ہیں، ’’ہلاری نر کی دیکھ بھال کرنا مشکل کام ہے۔ ان کی عادت بری ہوتی ہے۔ ان کی تعداد تیزی سے نہیں بڑھتی۔‘‘

بدلتے موسمیاتی حالات اور بے ترتیب بارش سے بھی مویشی چرواہوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ اس سال سوراشٹر میں بہت زیادہ بارش ہوئی، جس سے کئی بھیڑ بکریوں کی موت ہو گئی۔ ’’اس سال، بارش کی وجہ سے میرے ریوڑ کے ۵۰ فیصد جانور مر گئے،‘‘ جمپار گاؤں کے ہی ۴۰ سالہ حمیر ہاجا بھوڈیا کہتے ہیں۔ ’’جولائی میں لگاتار کئی دنوں تک بارش ہوتی رہی۔ شروع میں مجھے لگا کہ میرا کوئی جانور نہیں بچے گا، لیکن بھگوان کرشن کا شکریہ، کچھ بچ گئے۔‘‘

’’پہلے سب کچھ متوازن تھا،‘‘ بھاو نگر ضلع کے گھڑاڈا بلاک کے بھنڈاریا گاؤں کے ۴۰ سالہ مویشی چرواہے، رورا بھائی کانھا بھائی چھڑکا کہتے ہیں۔ ’’نہ تو بہت زیادہ بارش ہوتی تھی اور نہ ہی دھوپ۔ جانوروں کو چرانا آسان ہوا کرتا تھا۔ اب تو ایک ہی بار میں اتنی ساری بارش ہوتی ہے، میری بکریاں اور بھیڑ مر جاتی ہیں۔ اور دوسرے مویشیوں سے ہونے والی آمدنی میں کمی کی وجہ سے، ہمارے لیے ہلاری کے بڑے جھنڈ رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘ مہاجرت کے راستوں میں مویشی پروری سے متعلق افسروں کی غیر موجودگی کی وجہ سے بھی مویشی چرواہوں کو مزید مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ جانوروں کے بیمار پڑنے پر ان کا علاج کرنے والا کوئی دستیاب نہیں ہوتا۔

کچھ کنبوں نے اپنے گدھے فروخت کر دیے ہیں۔ ’’نوجوان نسل گدھوں کی پرورش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی،‘‘ پوربندر بلاک اور ضلع کے پرواڑہ گاؤں کے ۶۴ سالہ کمیونٹی لیڈر اور ہلاری پرور رانا بھائی گووند بھائی نے کہا۔ ’’مہاجرت کے دوران گاڑیوں کو کھینچنے کے علاوہ اب ان جانوروں کا کیا کام بچا ہے؟ اب ہم اس کا انتظام چھوٹے ٹیمپو سے کر لیتے ہیں۔‘‘ (چرواہے اب اپنے راستے میں اگلے مقام تک بھاری سامان لے جانے کے لیے کبھی کبھی چھوٹے ٹیمپو کرایے پر لیے لیتے ہیں تاکہ وہ اپنے ریوڑ پر زیادہ دھیان دے سکیں)۔

رانا بھائی کہتے ہیں کہ گدھے پالنے کو لیکر سماجی طعنے بھی جھیلنے پڑتے ہیں۔ ’’کون یہ سننا چاہتا ہے – ’دیکھو گدھیڑا جا رہا ہے‘ – کوئی بھی دوسرے سے یہ الفاظ نہیں سننا چاہتا۔‘‘ خود رانا بھائی کے ریوڑ پچھلے دو سالوں میں ۲۸ سے گھٹ کر ۵ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کئی ہلاری گدھے اس لیے فروخت کر دیے کیوں کہ وہ ان کی دیکھ بھال نہیں کر پا رہے تھے اور انہیں پیسوں کی ضرورت تھی۔

احمد آباد ضلع کے ڈھولکا تعلقہ میں واؤتھا میں لگنے والے میلہ میں ایک ہلاری گدھے کی قیمت ۱۵-۲۰ ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ خریدار ریاست کے اندر سے ہی یا دیگر ریاستوں سے ہو سکتے ہیں – دوسری خانہ بدوش برادریوں سے، یا جنہیں سامان ڈھونے والے مضبوط جانوروں کی ضرورت ہو – مثال کے طور پر، کانکنی کے علاقوں کے لیے یا پھر گاڑیاں کھینچنے کے لیے۔

تو پھر ۷ ہزار روپے فی لیٹر گدھے کے دودھ والی وہ سنسنی کیا تھی؟ اس کی شروعات مقامی اخبار سے ہوئی جس نے صرف ایک لیٹر کی فروخت کے بارے میں رپورٹنگ کی تھی، جسے جام نگر کے دھارول بلاک کے موٹا گریڑیا گاؤں میں ۷ ہزار روپے میں بیچا گیا تھا۔ اور وہ قیمت حاصل کرنے والے خوش قسمت چرواہے وشرام بھائی ٹیڑھا بھائی تھے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ خود انہوں نے کسی اور چرواہے کو اتنی قیمت پانے کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔

’اگر کوئی جانور بیمار پڑتا ہے، تو یہاں پر اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ ہمیں ہی اسے انجیکشن دینا پڑتا ہے۔ یہاں پر جانوروں کا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے‘

ویڈیو دیکھیں: ’اب لوگوں نے ان سبھی کو فروخت کر دیا ہے‘

وشرام بھائی نے بتایا کہ اس سال ستمبر میں، مدھیہ پردیش سے ایک آدمی ان کے پاس ہلاری گدھے کا دودھ خریدنے کے لیے آیا تھا۔ جام نگر کے مال دھاری اکثر و بیشتر گدھے کا دودھ خود استعمال نہیں کرتے۔ (مال دھاری کی اصطلاح گجرات کے دو لفظوں سے مل کر بنی ہے، مال – مویشی – اور دھاری – مالک – یعنی مویشی پرور)۔ بعض دفعہ، جب لوگ طبی مقاصد سے ان کے پاس آتے ہیں، جیسے کہ کسی بچے کے علاج کے لیے، تو وہ انہیں مفت میں دودھ دے دیتے ہیں۔ لیکن مدھیہ پردیش سے آنے والے شخص نے دودھ خریدنے کا مقصد نہیں بتایا تھا۔ وشرام بھائی نے اپنے گدھے کا دودھ نکالا اور ایک لیٹر کے ۷ ہزار روپے مانگے! اور خریدار نے خود حیرانگی کے ساتھ مویشی چرواہے کو نقد پیسے ادا کیے، نامہ نگاروں نے بتایا۔

اس خبر کے بعد، کئی صحافی گریڑیا پہنچنے لگے۔ لیکن کوئی بھی اس بات کا پتا نہیں لگا پایا کہ خریدار کو اس ایک لیٹر دودھ کی ضرورت کیوں تھی۔

گائے کے برعکس، گدھوں کو شاید ہی کبھی دودھ دینے والے جانور کے طور پر پالا جاتا ہے۔ ’’ایک گدھا ایک دن میں ایک لیٹر دودھ دے سکتا ہے،‘‘ مویشی پروری مرکز کے بھٹی کہتے ہیں۔ ’’حالانکہ، ایک لیٹر زیادہ سے زیادہ ہوگا – جو کہ یہاں گائے سے انہیں ملنے والے دودھ کے مقابلے ۱۰ گنا کم ہے۔ اور وہ بھی گدھے کے بچے کی پیدائش کے بعد صرف ۵-۶ مہینے تک ہی۔‘‘ اس لیے چرواہوں نے گدھے کو کبھی بھی دودھ دینے والے جانور کے طور پر نہیں دیکھا ہے۔

اگست میں، گھوڑوں کے قومی تحقیقی مرکز (این آر سی ای) نے گجرات کے مہسانہ ضلع سے کچھ ہلاری گدھے تحقیق کے لیے اپنے بیکانیر فارم میں لائے تھے۔ سہجیون کی رپورٹ کے مطابق این آر سی ای نے ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ’’ہلاری گدھے کے دودھ میں دیگر جانوروں کی نسل/قسم سے حاصل ہونے والے دودھ کے مقابلے اینٹی- ایجنگ اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔‘‘

رمیش بھٹی بتاتے ہیں کہ اسی رپورٹ کی وجہ سے دودھ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ہلاری گدھے پالنے والوں میں نئی دلچسپی پیدا ہوئی۔ خود بھٹی کو ملک کے مختلف حصوں سے اس نسل کے بارے میں مختلف قسم کے کئی سوالات موصول ہوئے ہیں۔ دریں اثنا، آدوِک فوڈز جیسی کمپنیاں، جس نے ۲۰۱۶ میں کچھّ میں اونٹ کے ۱۰۰۰ لیٹر دودھ والی ڈیئری شروع کی تھی، گدھے کے ۱۰۰ لیٹر دودھ کی ڈیئری قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ’’کاسمیٹکس میں گدھے کا دودھ کافی مقبول ہے اور ایسی کہانیاں مشہور ہیں کہ یونان، عرب [اور مصر کی] شہزادیاں گدھے کے دودھ سے غسل کرتی تھیں،‘‘ بھٹی کہتے ہیں۔ ’’ہندوستان میں اور مغربی ممالک میں کاسمیٹک انڈسٹری میں اس کے لیے بازار بن رہا ہے۔‘‘

انہیں شک ہے کہ اس کی قیمت دوبارہ ۷ ہزار روپے فی لیٹر ہوگی، بھلے ہی اس کی ڈیئری کیوں نہ بن جائے۔ ’’حالیہ دنوں میں آدوِک نے بعض تحقیق کے لیے مویشی پروروں سے ۱۲ سے ۱۵ لیٹر دودھ خریدے ہیں،‘‘ وہ مجھے بتاتے ہیں، ’’اور انہوں نے مالکوں کو فی لیٹر ۱۲۵ روپے ادا کیے ہیں۔‘‘

جو کہ اتنی اونچی قیمت نہیں ہے کہ گدھے پالنے والے دن میں ہی خواب دیکھنا شروع کر دیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

سوراشٹر کے سفید رنگ کے ہلاری گدھے تندرست اور طاقتور ہوتے ہیں اور مویشی چرواہوں کی مہاجرت کے دوران ایک دن میں ۳۰-۴۰ کلومیٹر تک چل سکتے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

کھولا بھائی جوجوبھائی اور حمیر ہاجا بھوڈیا رشتے میں بھائی ہیں جن کے پاس مشترکہ طورپر ۲۵ ہلاری گدھے ہیں، جو کہ شاید کسی ایک فیملی کے پاس ان گدھوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

راجکوٹ ضلع کے دھوراجی گاؤں کے چانا بھائی روڈا بھائی بھارواڑ۔ مہاجر بھارواڑ برادری بھیڑ بکریوں کی دیسی نسل کے ساتھ ہلاری گدھے بھی رکھتی ہے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

چانا بھائی روڈا بھائی بھارواڑ بتا رہے ہیں کہ ہلاری کا دودھ کیسے نکالا جاتا ہے۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ یہ دودھ قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے اور اس میں کئی ادویاتی خوبیاں ہوتی ہیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

ایک مویشی پرور (یا مال دھاری؛ یہ اصطلاح گجراتی کے دو لفظوں سے مل کر بنی ہے، مال کا مطلب ہے کہ مویشی اور دھاری کا مطلب ہے مالک یا مویشی پرور) برگد کے پتّے سے بنے کپ میں چائے پی رہا ہے۔ خانہ بدوش پلاسٹک سے پاک، ماحولیات دوست طرزِ زندگی پر عمل کرتے ہیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

پوربندر ضلع کے پرواڑا گاؤں کے رانا بھائی گووند بھائی بھارواڑ ہلاری گدھے رکھنے والے سب سے مشہور مویشی پروروں میں سے ایک ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے ۲۰ گدھے فروخت کر دیے اور اب ان کے پاس صرف پانچ بچے ہیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

رانا بھائی گووند بھائی کسی زمانے میں اپنے پاس موجود ہلاری گدھوں کے ایک بڑے ریوڑ کی تصویروں کے ساتھ۔ انہیں سنبھالنا بہت مشکل ہے، وہ کہتے ہیں، اس لیے چھوٹے ریوڑ رکھنا ہی بہتر ہے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بھارواڑ برادری کے نوجوان رکن، جگنیش اور بھابیش بھارواڑ جام نگر کے اسکولوں میں داخلہ لینے کے باوجود مویشی پروروں کی روایتی طرز زندگی کو پسند کرتے ہیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بھاو نگر ضلع کے بھنڈاریا گاؤں کے ساما بھائی بھارواڑ لکڑی کا ایک ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں جس میں گدھا اپنا بوجھ اٹھاکر چلے گا۔ اس مڑے ہوئے ڈھانچہ کو گدھے کے پیٹ سے لگا ہونا چاہیے تاکہ توازن کو برقرار رکھا جاسکے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

کچھّ ضلع کے بنّی میں گدھے کی خوبصورتی کی ایک نمائش کے دوران اچھی طرح سے سجایا ہوا ایک گدھا۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

برادری کے بزرگ سوا بھائی بھارواڑ، جو راجکوٹ ضلع کے سنچت گاؤں میں رہتے ہیں، ان کے پاس کسی زمانے میں بکریوں، گدھوں اور بھینسوں کا ایک بڑا ریوڑ تھا۔ لیکن سکڑتے چراگاہوں کی وجہ سے انہیں بھینسوں کو چھوڑ کر باقی تمام جانوروں کو فروخت کرنا پڑا۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

گلہ بان حمیر ہاجا بھوڈیا دیو بھومی دوارکا ضلع کے جمپار گاؤں میں رات کے وقت کھیتوں میں اپنے بچوں اور بھتجے بھتیجیوں کے ساتھ۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

حمیر ہاجا رات کے وقت کی سکیورٹی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر گدھوں کو ٹھیک سے باندھا نہیں گیا تو وہ اکثر بھاگ جاتے ہیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

اس خانہ بدوش چرواہا برادری کے ارکان عام طور سے رات میں کھلے آسمان کے نیچے اسی کمبل کو اوڑھ کر سوتے ہیں جسے وہ مہاجرت کے دوران اپنے ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ وہ کھیتوں میں یا سڑک کے کنارے جو عارضی پناہ گاہ بناتے ہیں، انہیں ’نسّ‘ کہا جاتا ہے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

ہلاری ایک خوبصورت نسل ہے، جس کی آنکھیں بھی خوبصورت ہوتی ہیں: ’یہ جانور خوبصورت تو ہیں لیکن ہمارے معاش کے لیے مستحکم نہیں ہیں‘، جمپار گاؤں کے کھولا بھائی جوجو بھائی بھارواڑ کہتے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Ritayan Mukherjee

Ritayan Mukherjee is a Kolkata-based photographer and a 2016 PARI Fellow. He is working on a long-term project that documents the lives of pastoral nomadic communities of the Tibetan Plateau.

Other stories by Ritayan Mukherjee