’’میں تیز دوڑ کے جاؤں گا اور کونو میں بس جاؤں گا۔‘‘

یہ چنٹو نام کے ایک چیتے کی کہی ہوئی بات ہے جو ہر اُس شخص کے لیے ہے جو اس کی بات کو پڑھنے یا سننے کا خواہش مند ہے، کیوں کہ یہ ایک پوسٹر پر لکھا ہوا ہے۔

یہ پوسٹر مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے ذریعہ چھ مہینے پہلے لگایا گیا تھا، جو محکمہ کے اعلیٰ افسران کے کہنے پر سرکاری حکم نامہ کے طور پر لگایا گیا ہے۔ یہ فرمان کونو نیشنل پارک کے آس پاس بسنے والے اُس سبھی لوگوں کے لیے ہے، جنہیں پوسٹر پر نظر آ رہا دوستانہ ’چنٹو‘ چیتا یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس پارک کو وہ اپنا گھر بنانا چاہتا ہے۔

جس گھر کی بات چنٹو کہہ رہا ہے، اسے ۵۰ اصلی افریقی چیتے آپس میں شیئر کریں گے۔ البتہ، اس گھر میں یہاں باگچا گاؤں میں رہنے والے اُن ۵۵۶ انسانوں کی کوئی شراکت داری نہیں ہوگی، کیوں کہ انہیں بے گھر یا اجاڑ کر کہیں اور بسایا جائے گا۔ اس نقل مکانی سے ان جنگلوں سے تقریباً اٹوٹ طریقے سے جڑے لوگوں اور بنیادی طور پر سہریا آدیواسیوں کی زندگی اور روزگار پر ہولناک بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

بہرحال، صرف ایسے سیاح جو کثیر رقم خرچ کرکے باہر سے منگائے گئے ان چیتوں کو دیکھنے کے لیے سفاری پر جائیں گے، وہی اس جنگل کو نیشنل پارک کا درجہ دینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن، اس پروجیکٹ سے مقامی لوگوں کی زندگی اور مفادات کو شامل نہیں کیا جانا افسوسناک ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

پوسٹر اور کارٹونوں میں اس ’پیاری‘ دھبے والی بڑی بلی کو دیکھ کر بہت سے مقامی لوگ پس و پیش میں مبتلا ہیں۔ اس وائلڈ لائف سینکچوری سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور پیرا جاٹو نام کی چھوٹی بستی میں رہنے والے آٹھ سال کے ستین جاٹو نے اپنے والد سے پوچھا، ’’کیا یہ کوئی بکری ہے؟‘‘ اس کے چھوٹے بھائی انورودھ نے بیچ میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضرور ایک قسم کا کتا ہوگا۔

Chintu Cheetah poster
PHOTO • Priti David
Village near Kuno National Park
PHOTO • Priti David

بائیں: کونو نیشنل پارک کے گیٹ پر ’چنٹو چیتا‘ کا ایک پوسٹر لگا ہوا ہے۔ دائیں: جنگل کے کنارے آباد باگچا گاؤں

چنٹو کے اعلان کے بعد پورے علاقے میں پوسٹروں کی شکل میں دو کامکس لگائے گئے ہیں، جس میں دو بچوں منٹو اور مینو کو چیتوں کے بارے میں معلومات شیئر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ جانور کبھی بھی آدمی پر حملہ نہیں کرتے ہیں اور تیندوے کی بہ نسبت کم خطرناک ہیں۔ بلکہ، منٹو نے تو یہاں تک سوچ رکھا ہے کہ وہ اُن چیتوں کے ساتھ دوڑ لگائے گا۔

امید ہے کہ اگر یہ جاٹو لڑکے کبھی چیتوں سے ٹکرا بھی جائیں، تو انہیں پالتو بنانے کے بارے میں کبھی نہیں سوچیں گے۔

اصل کہانی اب شروع ہوتی ہے، اور اس کا ہر لفظ درد میں ڈوبا ہوا ہے۔

ایسینونکس جوبیٹس (افریقی چیتا) ایک بے حد خطرناک اور بڑا ممالیہ یا پستانیہ (دودھ پلانے والا جانور) ہونے کے ساتھ ساتھ اس زمین پر سب سے تیز بھاگنے والا جانور ہے۔ یہ ایک ختم ہوتی نسل ہے اور اب ہندوستان میں نہیں پائی جاتی۔ بہرحال، ہندوستان آنے کے بعد یہ اپنی رہائش کے آس پاس بسے سینکڑوں کنبوں کو بے گھر کرنے کے لیے مجبور کر دے گا۔

*****

بلّو آدیواسی (۴۰ سال) اپنے گاؤں باگچا کے کنارے سے شروع ہونے والے کونو جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’اس سال ۶ مارچ کو وہاں محکمہ جنگلات کی چوکی پر ایک میٹنگ بلائی گئی تھی۔ ہم سے کہا گیا کہ یہ علاقہ نیشنل پارک بن گیا ہے اور ہمیں یہاں سے جانا ہوگا۔‘‘

مدھیہ پردیش کے شیو پور ضلع کی مغربی سرحد پر آباد باگچا گاؤں بنیادی طور پر سہریا آدیواسیوں کا علاقہ ہے۔ سہریا آدیواسی مدھیہ پردیش میں خصوصی طور پر غیر محفوظ قبائلی گروہ (پی وی ٹی جی) میں آتے ہیں، جن کی شرحِ خواندگی صرف ۴۲ فیصد ہے۔ ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، وجے پور بلاک کے اس گاؤں کی کل آبادی صرف ۵۵۶ ہے۔ یہ لوگ مٹی اور اینٹ سے بنے گھروں میں رہتے ہیں، جن کی چھتیں پتھر کی پٹیوں سے بنی ہوتی ہیں۔ یہ پورا علاقہ نیشنل پارک سے گھرا ہوا ہے۔ یہ جغرافیائی علاقہ کونو پالپور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیوں کہ کونو ندی یہیں سے بہتی ہوئی نکلتی ہے۔

ویڈیو دیکھیں: کونو نیشنل پارک کے آدیواسی، افریقی چیتوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے ہیں

سہریا، زمین کے چھوٹے ٹکڑوں پر بارش کے پانی پر منحصر کھیتی کرتے ہیں اور گزارے کی خاطر بنا لکڑیوں والی جنگلی پیداوار (این ٹی ایف پی) فروخت کرنے کے لیے کونو پر منحصر ہیں

کلّو آدیواسی کی عمر ۶۰ سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری شادی شدہ زندگی باگچا میں ہی گزاری ہے۔ ’’ہماری زمینیں یہیں ہیں، ہمارے جنگل یہیں ہیں، ہمارے گھر یہیں ہیں، جو کچھ بھی یہاں ہے، وہ ہمارے ہیں۔ اور، اب ہمیں یہاں سے چلے جانے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔‘‘ ایک کاشتکار، جنگل کی پیداوار جمع کرکے اپنی گزر بسر کرنے والی، اور اپنے ساتھ ہی رہنے والے سات بچوں اور کئی پوتے پوتیوں کی ماں کے طور پر وہ سوال کرتی ہیں، ’’چیتوں کے بسنے سے ہمیں کیا حاصل ہوگا؟‘‘

باگچا پہنچنے کے لیے شیوپور سے سیرونی شہر کی طرف جانے والے ہائی وے کو چھوڑ کر ایک گرد و غبار والی سڑک میں داخل ہونا ہوگا۔ اس پورے علاقے میں کردھئی ، کھَیر ، اور سلائی کے ہوادار سرسبز جنگل ملتے ہیں۔ تقریباً ۱۲ کلومیٹر آگے بڑھنے کے بعد ٹیلے پر بسا اور بڑی تعداد میں ادھر ادھر چرتے مویشیوں سے بھرا یہ گاؤں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں سے سب سے قریبی صحت عامہ کا مرکز گاؤں سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے، جہاں ۱۰۸ نمبر پر ڈائل کرنے کے بعد پہنچا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بیسک فون یا نیٹ ورک سروس کام کریں۔ باگچا میں ایک پرائمری اسکول ہے، لیکن پانچویں کلاس سے آگے کی پڑھائی کرنے کے لیے بچوں کو ۲۰ کلومیٹر دور اوچھا کے مڈل اسکول جانا ہوتا ہے، جہاں سے ان کی واپسی صرف اختتام ہفتہ پر ہی ہو پانا ممکن ہے۔

سہریا اپنی چھوٹی چھوٹی زمینوں پر بارش پر منحصر کھیتی کرتے ہیں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کونو میں پائی جانے والی نباتات اور قند یعنی بغیر لکڑی والی جنگلاتی پیداوار (این ٹی ایف پی) کی فروخت پر منحصر ہوتے ہیں۔ ان کی نقل مکانی کے بعد جنگلی نباتات اور جڑی بوٹیاں بھی دھیرے دھیرے ختم ہو جائیں گی۔ مثلاً صنوبر کے درخت سے نکالی گئی گوند ان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی وہ مختلف قسم کے پھل، قند، جڑی بوٹیاں اور تیندو کے پتے بھی بیچتے ہیں۔ اگر موسم نے ساتھ دیا، تو ہر ایک سہریا فیملی اپنے دس ممبران کے اوسط سے ان تمام ذرائع سے کم از کم ۳-۲ لاکھ روپے سالانہ کی کمائی کی امید رکھتی ہے۔ اس آمدنی میں وہ بی پی ایل (خط افلاس کے نیچے والے) کارڈ پر ملنے والے راشن کو بھی شامل رکھتے ہیں۔ راشن میں ملے اناج سے انہیں اگر کوئی ٹھوس تحفظ نہیں بھی ملتا ہے تو بھی اپنے غذائی نظام میں انہیں ایک بڑی استقامت ضرور محسوس ہوتی ہے۔

جنگل سے بے دخل ہونے کے بعد وہ ان تمام چیزوں کو گنواں دیں گے۔ ’’جنگل سے ہمیں جو سہولیات ملتی ہیں، وہ ختم ہو جائیں گی۔ صنوبر کے درختوں سے ملنے والی گوند پر ہمارا کوئی اختیار نہیں رہ جائے گا، جنہیں فروخت کرکے ہم اپنے لیے نمک اور تیل خریدتے ہیں۔ یہ سب ختم ہو جائے گا۔ ہمیں آمدنی کے لیے صرف اپنی محنت پر منحصر رہنا ہوگا اور ہماری حالت ایک مزدور سے زیادہ کچھ نہیں رہ جائے گی،‘‘ باگچا کے ایک سہریا، ہریتھ آدیواسی مایوسی سے بتاتے ہیں۔

Ballu Adivasi, the headman of Bagcha village.
PHOTO • Priti David
Kari Adivasi, at her home in the village. “We will only leave together, all of us”
PHOTO • Priti David

بائیں: باگچا گاؤں کے مکھیا، بلّو آدیواسی۔ دائیں: کاری آدیواسی، گاؤں میں واقع اپنے گھر پر۔ ’ہم صرف ایک ساتھ جائیں گے، سب کے سب‘

تحفظ سے متعلق نقل مکانی کی ماہر پروفیسر اسمیتا کابرا کے مطابق، نقل مکانی کے انسانی اور اقتصادی پہلو بے حد اہم ہیں۔ سال ۲۰۰۴ میں باگچا میں ان کے ذریعے کی گئی تحقیق کے مطابق، اُس وقت گاؤں کو جنگل کی قابل فروخت پیداوار سے اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی۔ وہ بتاتی ہیں، ’’اس وسیع و عریض جنگل سے جلانے والی لکڑی، تختے اور سلیاں، جڑی بوٹی، اور ادویات، پھل، مہوا اور بہت سی دیگر چیزیں وافر مقدار میں ملتی تھیں۔‘‘ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، کونو نیشنل پارک ۷۴۸ مربع کلومیٹر کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے اور بڑے کونو وائلڈ لائف ڈویژن کے تحت آتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ۱۲۳۵ مربع کلومیٹر کا جغرافیائی علاقہ ہے۔

اس جنگل کے علاوہ قابل کاشت زمینیں بھی ہیں، جن پر نسلوں سے لگاتار کھیتی ہوتی رہی ہے۔ بے گھر ہوئے کسانوں کے لیے اس نقصان کی تلافی ناممکن ہوگی۔ ہریتھ آدیواسی کہتے ہیں، ’’بارش کے دنوں میں ہم یہاں باجرا، جوار، مکئی، اڑد، تل، مونگ اور رماس (لوبیا) کے ساتھ ساتھ بھنڈی، کدو، توری جیسی سبزیاں اُگاتے ہیں۔‘‘

کلّو، جن کی فیملی ۱۵ بیگھہ (۵ ایکڑ سے تھوڑا کم) زمین پر کھیتی کرتی ہے، ان کی حمایت میں کہتی ہیں، ’’ہماری زمینیں بہت زرخیز ہیں۔ ہم اس جگہ سے جانا نہیں چاہتے ہیں، لیکن سرکار ہمیں زبردستی ہٹا سکتی ہے۔‘‘

پروفیسر کابرا کے مطابق، سہریا آدیواسیوں کو اُجاڑ کر جنگل کو چیتوں کے رہنے کے لیے پرسکون جگہ بنانے کے اس منصوبہ کو ایکو سسٹم کی کسی ٹھوس تحقیق کے بغیر ہی نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’آدیواسیوں کو جبراً جنگل سے باہر نکال دینا ایسے بھی بہت مشکل کام نہیں ہے، کیوں کہ محکمہ جنگلات تاریخی طور پر ان کے ساتھ سختی سے نمٹتا رہا ہے۔ محکمہ آدیواسی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کنٹرول کرتا رہا ہے۔‘‘

رام چرن آدیواسی کو کسی معقول وجہ کے بغیر بھی جیل میں ڈال دینے کا حالیہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ پچاس سال پہلے اپنی پیدائش کے بعد سے ہی وہ کونو کے جنگلوں میں بے خوف آتے جاتے رہے ہیں۔ پہلی بار وہ اپنی ماں کے ساتھ جلانے والی لکڑی لانے کے لیے جنگل کے اندر گئے تھے، لیکن گزشتہ ۶-۵ سالوں سے محکمہ جنگلات نے رام چرن کی برادری کے ذریعے جنگلاتی وسائل کے استعمال کے اس حق پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور اس کی وجہ سے ان کی آمدنی اب صرف آدھی ہی رہ گئی ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’پچھلے پانچ سالوں سے جنگل کے محافظوں نے ہمارے اوپر غیر قانونی شکار اور چوری کے جھوٹے معاملے چلائے، اور یہاں تک کہ ہمیں (رام چرن اور ان کے بیٹے کو) شیو پوری کی جیل میں بھی ٹھونس دیا۔ ہمیں اپنی ضمانت اور جرمانہ بھرنے کے لیے کسی طرح سے ۱۰ سے ۱۵ ہزار روپے کا انتظام کرنا پڑا۔‘‘

Residents of Bagcha (from left): Mahesh Adivasi, Ram Charan Adivasi, Bachu Adivasi, Hari, and Hareth Adivasi. After relocation to Bamura village, 35 kilometres away, they will lose access to the forests and the produce they depend on
PHOTO • Priti David

باگچا کے رہائشی (بائیں سے): مہیش آدیواسی، رام چرن آدیواسی، بچو آدیواسی، ہری، اور ہریتھ آدیواسی۔ تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور بمورا گاؤں میں منتقل ہونے کے بعد، وہ جنگلوں اور اس پیداوار تک رسائی کھو دیں گے جس پر وہ گزارہ کے لیے منحصر ہیں

جنگل سے بھگائے جانے کے ناگزیر خطروں اور محکمہ جنگلات کے ساتھ روز روز کی اس آنکھ مچولی کے کھیل کے باوجود باگچا کے یہ آدیواسی ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ مقامی لوگوں کے ایک گروپ میں گھرے ہوئے ہریتھ مضبوطی سے کہتے ہیں، ’’ہمیں ابھی بے دخل نہیں کیا جا سکا ہے، گرام سبھا کی میٹنگوں میں ہم نے اپنی مانگ پوری وضاحت کے ساتھ رکھی ہے۔‘‘ ستر سالہ یہ آدیواسی نو تشکیل گرام سبھا کے رکن ہیں۔ یہ گرام سبھا، بقول ان کے، محکمہ جنگلات کی پہل پر ہی ۶ مارچ، ۲۰۲۲ کو تشکیل دی گئی تھی، تاکہ باز آبادکاری کے منصوبہ کو رفتار دی جا سکے۔ حق جنگلات قانون، ۲۰۰۶ [دفعہ ۴ (۲)(ای)] کے تحت صرف گاؤں کی گرام سبھا کی تحریری منظوری کے بعد ہی خالی کرانے کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

دوسرے ممبران کے ذریعے گاؤں کے پردھان کا حوالہ دینے کے بعد، بلّو آدیواسی ہمیں بتاتے ہیں، ’’ہم نے عہدیداروں کو بتایا کہ آپ نے معاوضے کے لیے صرف ۱۷۸ اہل ناموں کی فہرست بنائی ہے، جب کہ گاؤں میں ہماری کل تعداد ۲۶۵ ہے۔ وہ ہماری بتائی ہوئی تعداد سے متفق نہیں تھے، تو ہم نے کہا کہ ہم تب تک نہیں جائیں گے، جب تک آپ ہم سب کو معاوضہ دینے کے لیے راضی نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ ۳۰ دنوں کے اندر ہماری مانگ پوری کر دیں گے۔‘‘

ایک مہینے بعد، ۷ اپریل ۲۰۲۲ کو میٹنگ بلائی گئی۔ ایک شام پہلے ہی پورے گاؤں سے کہا گیا تھا کہ اگلے دن کی میٹنگ میں تمام لوگ شامل ہوں۔ جب ۱۱ بجے صبح میٹنگ شروع ہوئی، تو سب سے ایک کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا گیا، جس پر لکھا گیا تھا کہ ان کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی جا رہی ہے اور وہ سبھی اپنی مرضی سے اپنے گاؤں سے جا رہے ہیں۔ کاغذ پر صرف ان ۱۷۸ لوگوں کے نام درج تھے، جن کو باز آبادکاری کے لیے معاوضہ دیا جا رہا تھا۔ گرام سبھا نے کاغذ پر دستخط کرنے سے منع کر دیا۔

سہریا آدیواسیوں کے اس قدم کو پڑوس کے ۲۸ گاؤوں کے ساتھ عہدیداروں کے ذریعے کیے گئے جھوٹے وعدوں کی یاد سے طاقت ملی تھی، جب کونو کے جنگلوں میں ہی ۱۹۹۹ میں تقریباً ۱۶۵۰ کنبوں کو گجرات سے آئے شیروں کے لیے آناً فاناً میں اپنا گھر چھوڑ دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ شک میں مبتلا بلّو بتاتے ہیں، ’’آج کے دن تک سرکار نے ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ وہ آج بھی اپنے بقایا کے لیے سرکاری دفتروں کے چکر لگا رہے ہیں۔ ہم ایسی حالت میں نہیں پھنسنا چاہتے ہیں۔‘‘

المیہ یہ ہے کہ جنگل میں کبھی شیر بھی نہیں دیکھے گئے، اور آج اس بات کو ۲۲ سال ہو گئے۔

*****

Painted images of cheetahs greet the visitor at the entrance of Kuno National Park in Madhya Pradesh's Sheopur district
PHOTO • Priti David

مدھیہ پردیش کے شیو پور ضلع میں کونو نیشنل پارک کے داخلی دروازہ پر چیتوں کے تصویری خاکے یہاں آنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہیں

اندھا دھند شکار کی وجہ سے ہندوستان میں ختم ہو چکے ایشیائی چیتے (ایکینونکس جوبیٹس ویناٹیکس) – بلی کی نسل کے یہ زرد اور چتّی دار جانور – اب تاریخ کی کتابوں اور شکاریوں کی بہادری کے قصوں میں ہی زندہ بچ گئے ہیں۔ ملک کے آخری تین ایشیائی چیتوں کو ایک چھوٹی ریاست کے اُس وقت کے مہاراجہ رامانُج  پرتاپ سنگھ دیو نے ۱۹۴۷ میں مار گرایا تھا۔

دیو کی اس حرکت نے ہندوستان کے رتبہ کو خاصا نقصان پہنچایا، کیوں کہ اس زمین پر ہندوستان ایک ایسا ملک بچا رہ گیا تھا، جہاں بلی کی نسل کے تمام چھ بڑے جانور – شیر، باگھ، چیتا، عام تیندوا، برفیلے علاقوں میں پائے جانے والے تیندوا اور کلاؤڈیڈ تیندوا پائے جاتے تھے۔ ان تیز رفتار اور طاقتور جانوروں – ’جنگل کے راجاؤں‘ کی تصویریں آج بھی ہمارے متعدد سرکاری نشانات کے طور پر قائم ہیں۔ ایشیائی شیروں سے لیس اشوک چکر کا استعمال ہماری سرکاری مہروں میں اور کرنسی نوٹوں پر ہوتا ہے۔ ان جانوروں کے غائب ہونے سے یقیناً ہماری قومی امتیاز کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی لیے چیتے کے خاتمہ کا موضوع سرکار کے تحفظ کی ترجیحات میں اہم مقام رکھتا ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے اس سال جنوری سے ’ہندوستان میں چیتا کے تعارف کا ایکشن پلان‘ نام سے ایک دستاویز تیار کیا ہے، جس میں یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’چیتا‘ لفظ کی ابتدا سنسکرت زبان سے ہوئی ہے، جس کا لغوی معنی ہے، وہ جس پر چتّیاں (دھبے) ہوں۔ اس لفظ کا ذکر وسطی ہندوستان کے غاروں کی پینٹنگ میں بنی تصویروں میں بھی ملتا ہے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں حکومت ہند نے ایران کے شاہ سے کچھ ایشیائی چیتوں کو ہندوستان لانے کے مقصد سے بات چیت بھی کی، تاکہ ہندوستان میں چیتوں کی آبادی کو استقامت عطا کی جاسکے۔

سال ۲۰۰۹ میں معاملے نے دوبارہ طول پکڑا، جب ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا سے ہندوستان میں چیتوں کے بسانے کے امکانات پر غور کرنے کی درخواست کی۔ آج ایشیائی چیتے صرف ایران میں پائے جاتے ہیں، لیکن ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ ان کی درآمد ناممکن ہے۔ یہی حالت نامیبیا اور جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے افریقی چیتوں کی ہے۔ ان چیتوں کی ابتدا کی تاریخ تقریباً ۷۰ ہزار سال پرانی ہے۔

وسطی ہندوستان کے دس جنگلاتی پناہ گاہوں کا سروے کرنے اور ۳۴۵ مربع کلومیٹر کی کینو سینکچوری کو ۲۰۱۸ میں شیروں کو بسانے کے مقصد سے تیار کرکے ۷۸۴ مربع کلومیٹر کونو پالپور نیشنل پارک میں تبدیل کرنے کے بعد اسے ہی افریقی چیتوں کے لیے سب سے مناسب مانا گیا۔ یہاں بس ایک ہی دقت تھی: باگچا گاؤں، جو پارک کے بالکل درمیان میں آ رہا تھا، اسے وہاں سے ہٹانے کی ضرورت تھی۔ جنوری ۲۰۲۲ میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے تمام آدیواسیوں کو سکتہ میں ڈالتے ہوئے ایک پریس ریلیز جاری کی، جس میں کونو کو ’’انسانوں سے پاک علاقہ‘‘ بتایا گیا تھا۔

Bagcha is a village of Sahariya Adivasis, listed as a Particularly Vulnerable Tribal Group in Madhya Pradesh. Most of them live in mud and brick houses
PHOTO • Priti David
Bagcha is a village of Sahariya Adivasis, listed as a Particularly Vulnerable Tribal Group in Madhya Pradesh. Most of them live in mud and brick houses
PHOTO • Priti David

باگچا، سہریا آدیواسیوں کا ایک گاؤں ہے، جسے مدھیہ پردیش میں خاص طور سے کمزور قبائلی برادریوں کے طور پر فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ مٹی اور اینٹ سے بنے گھروں میں رہتے ہیں

ایکشن پلان کے مطابق، کونو میں چیتوں کے بسنے سے ’’ماضی کی طرح شیروں، باگھوں، تیندوؤں اور چیتوں کے ایک ساتھ مل کر رہنے کا ماحول دوبارہ تیار ہوگا۔‘‘ بدقسمتی سے، اس بیان میں دو بڑے خامیوں کی آسانی سے نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ منصوبہ کے مطابق بسائے جانے والے چیتے افریقی ہیں، ہندوستان میں پائے جانے والے ایشیائی چیتے نہیں ہیں۔ اور، فی الحال کونو میں ایک بھی شیر نہیں بسائے جا سکے ہیں، کیوں کہ ۲۰۱۳ کے سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود، حکومت گجرات نے انہیں ابھی تک بھیجا نہیں ہے۔

رگھوناتھ آدیواسی بتاتے ہیں، ’’۲۲ سال گزر چکے ہیں اور شیر ابھی تک نہیں آئے ہیں، اور نہ ہی وہ مستقبل میں کبھی آئیں گے۔‘‘ باگچا میں طویل عرصے سے رہنے والے رگھوناتھ کو اپنے گھر سے بے دخل کر دیے جانے کی فکر ہے، کیوں کہ کونو سے ملحق گاؤوں کی اندیکھی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ پہلے بھی ان گاؤوں کے لوگوں کے مطالبات اور مفادات کو خارج کیا جاتا رہا ہے۔

’جنگل کے راجاؤں‘ کی منتقلی کے اس حوصلہ افزا منصوبہ کو جنگلی حیاتیات کے تحفظ کے ماہرین کی تشویشوں سے بھی شہ ملی ہے، کیوں کہ کچھ آخری بچے ہوئے ایشیائی شیر (پنتھیرا لیو لیو) اب پوری طرح سے ایک ہی مقام، یعنی گجرات کے سوراشٹر علاقے تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ کینائن ڈسٹیمپر وائرس کا انفیکشن، جنگل میں پھیلی آگ یا دوسرے خطرے ان کے وجود کو پوری طرح مٹا سکتے ہیں، اس لیے ان میں سے کچھ شیروں کو کہیں دوسری جگہ منتقل کرنا بہت ِضروری ہے۔

صرف آدیواسیوں نے ہی نہیں، بلکہ جنگل میں رہنے والے دلتوں اور پس ماندہ طبقے کے لوگوں نے بھی محکمہ جنگلات کو بھروسہ دلایا ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں۔ پیرا گاؤں کے پرانے رہائشی ۷۰ سالہ رگھولال جاٹو کہتے ہیں، ’’ہم نے سوچا کہ شیروں کے لیے ہمیں جنگل چھوڑ کر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم جانوروں کی فطرت سے واقف ہیں۔ ہمیں ان سے ڈر نہیں لگتا ہے۔ ہم اسی جنگل میں پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے ہیں۔ ہم بھی شیر ہیں!‘‘ ان کا گاؤں کبھی نیشنل پارک کے اندر تھا، اور وہاں انہوں نے اپنی زندگی کے ۵۰ سال گزارے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کچھ بھی، کبھی نہیں ہوا جیسے خلاف توقع کہا جا سکے۔

وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کے ڈین، اور تحفظاتی بائیو لوجسٹ ڈاکٹر یادویندر جھالا بتاتے ہیں کہ ماضی میں اور حال فی الحال میں ایسے واقعہ کا حوالہ نہیں ملتا، جب کسی چیتے نے آدمی پر حملہ کر دیا ہو۔ ’’انسانوں کے ساتھ ٹکراؤ ایک بڑا ایشو نہیں ہے۔ چیتوں کی مجوزہ رہائش بڑی تعداد میں گوشت خور جانوروں کے بسنے کی مناسب جگہ اس لیے بھی ہے کہ لوگوں کے ذریعے پالے گئے مویشی ان کے لیے آسان اور مناسب چارہ ہوتے ہیں۔ جنگل میں مویشی پروری، جانوروں اور انسانوں کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ کو کم از کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔‘‘ بقیہ مارے گئے مویشیوں کے نقصان کی تلافی کے لیے ممکن ہونے پر الگ بجٹ کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔

The Asiatic cheetah was hunted into extinction in India in 1947, and so the African cheetah is being imported to 're-introduce' the animal
PHOTO • Priti David

سال ۱۹۴۷ میں ایشیائی چیتے کو ہندوستان میں شکار کر کرکے ختم کر دیا گیا تھا، اور اس لیے افریقی چیتے کو اس کی جگہ لینے کے لیے درآمد کیا جا رہا ہے

میٹنگ ۷ اپریل، ۲۰۲۲ کو ہوئی تھی۔ اس سے پچھلی شام کو پورے گاؤں کو اگلے دن موجود رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔ جب میٹنگ صبح ۱۱ بجے شروع ہوئی، تو عہدیداروں نے انہیں ایک کاغذ پر دستخط کرنے کے لیے کہا، جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں نقل مکانی کے لیے مجبور نہیں کیا جا رہا ہے اور وہ یہاں سے جانے کے لیے راضی ہو گئے ہیں

بہرحال، مقامی لوگوں اور سائنس دانوں – دونوں کی اندیکھی کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے جنوری ۲۰۲۲ میں ایک پریس ریلیز کے ذریعے یہ اعلان کیا: ’’پروجیکٹ چیتا کا مقصد آزاد ہندوستان کے نایاب ہو چکے واحد بڑے ممالیہ – چیتا کو دوبارہ واپس لانا ہے۔‘‘ اس پہل سے ’’ایکو ٹورزم اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کو ترغیب حاصل ہوگی۔‘‘

افریقی چیتوں کے اس سال ۱۵ اگست تک ہندوستان پہنچ جانے کی امید ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہندوستان کی آزادی کا دن بھی یہی ہے۔

باگچا گاؤں اس پورے واقعہ کا پہلا شکار بنے گا۔

نقل مکانی کے اس پورے منصوبہ پر نظر رکھنے والے ضلع فاریسٹ افسر پرکاش ورما کہتے ہیں کہ ۳۸ اعشاریہ ۷ کروڑ کے چیتا منتقلی پروجیکٹ میں ۲۶ کروڑ ۵۰ لاکھ روپے آدیواسی کی نقل مکانی اور باز آبادکاری پر خرچ کیے جائیں گے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’تقریباً ۶ کروڑ روپے چیتوں کے لیے احاطہ بنانے، ان کے پینے کے پانی کا انتظام کرنے، ان کے آنے جانے کے لیے راستے بنانے اور چیتوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو ٹریننگ دینے پر خرچ ہوں گے۔‘‘

۲۵ مربع کلومیٹر کے علاقے کو چہار دیواری سے گھیر دیا جائے گا اور ہر دو کلومیٹر کی دوری پر جنگل کے محافظوں کے لیے ایک اونچا ٹاور بنا ہوگا۔ پہلی بار میں جو ۲۰ چیتے افریقہ سے منگائے جائیں گے، ان میں ہر ایک کے لیے چہار دیواری سے گھرا ۵ مربع کلومیٹر کا احاطہ ہوگا۔ چیتوں کی آسانی و سہولیات اور صحت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ یہ ضروری بھی ہے: افریقہ کی جنگلی حیاتیات پر مرکوز آئی یو سی این رپورٹ میں افریقی چیتے (ایکینونکس جوبیٹس) کا ذکر ایسے جاندار کے طور پر کیا گیا ہے، جو نایاب ہے۔ کئی دوسری رپورٹ میں بھی اس کی تعداد میں بھاری گراوٹ پر فکرمندی کا اظہار کیا گیا ہے۔

مختصراً یہ کہ ایک غیر مقامی اور خاتمہ کے دہانے پہنچ چکی نسل کو بالکل ایک نئی دنیا اور ماحول میں لانے – اور مقامی اور محروم قبائلی برادریوں کو ان کے لیے جگہ خالی کرنے کے لیے مجبور کرنے کے اس پروجیکٹ پر ۴۰ کروڑ روپے خرچ ہونے کا امکان ہے۔ یہ فیصلہ ’انسانوں اور جانوروں کے درمیان ٹکراؤ‘ میں یقیناً ایک نیا باب جوڑے گا۔

The enclosure built for the first batch of 20 cheetahs from Africa coming to Kuno in August this year.
PHOTO • Priti David
View of the area from a watchtower
PHOTO • Priti David

بائیں: اس سال اگست میں افریقہ سے کونو آنے والے ۲۰ چیتوں کی پہلی ٹکڑی کے لیے بنایا گیا باڑہ۔ دائیں: ایک واچ ٹاور سے اس علاقے کا منظر

پروفیسر کابرا بتاتی ہیں، ’’تحفظ کے لیے یہ بے دخل کرنے والا نظریہ – کہ انسان اور جنگلی جانور ایک ساتھ نہیں رہ سکتے – دکھائی نہیں دیتا ہے، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس سال جنوری میں شائع ’تحفظ کے لیے اخراج‘ موضوع پر ایک مقالہ تحریر کرنے میں تعاون کیا ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ حق جنگلات قانون، ۲۰۰۶ کے نافذ ہونے اور جنگل میں رہنے والوں کے حقوق کی حفاظت کے باوجود پورے ملک میں ۱۴۵۰۰ جتنی بڑی تعداد میں کنبوں کو ٹائیگر ریزرو سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ اس تیزی کے ساتھ بے دخلی کی وجہ یہ تھی کہ قانون اور اقتدار ہمیشہ ہی عہدیداروں کے حق میں رہے اور انہوں نے ہر کارگر اور ’جائز‘ ہتھ کنڈوں کا استعمال کیا، تاکہ گاؤں کے لوگ ’اپنی مرضی سے‘ نقل مکانی کے لیے راضی ہو جائیں۔

باگچا میں رہنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ انہیں اپنے گاؤں سے جانے کے عوض ۱۵ لاکھ روپے دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ وہ پوری رقم کو یا تو نقد کی شکل میں لے سکتے ہیں یا پھر گھر بنانے کے لیے زمین اور پیسے دونوں لے سکتے ہیں۔ رگھوناتھ بتاتے ہیں، ’’ایک متبادل یہ ہے کہ ۷ء۳ لاکھ روپے گھر کی تعمیر کے لیے اور باقی پیسوں کی قیمت کے برابر کی زمین جس پر وہ کھیتی کر سکیں۔ لیکن بجلی کی سپلائی، پختہ سڑک، ہینڈ پمپ، بورویل وغیرہ کے نام پر نقدی میں کٹوتی کا بھی التزام ہے۔‘‘

ان کے نئے گھروں کے لیے بامورہ کو مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ باگچا سے تقریباً ۴۶ کلومیٹر دور کراہل تحصیل کے گوراس نام کی جگہ کے قریب ہے۔ حیران و پریشان کلّو کہتی ہیں، ’’ہمیں جو نئی زمین دکھائی گئی ہے، وہ ہمارے موجودہ کھیتوں کی طرح بہت زیادہ زرخیز نہیں ہے۔ کچھ کھیت تو پوری طرح سے بنجر ہیں اور ان میں نہیں کے برابر پیداوار ہوتی ہے۔ انہیں زرخیز بنانے میں سالوں لگ جائیں گے، جب کہ شروعاتی تین سالوں تک ہمیں کسی طرح کی کوئی مدد نہیں ملے گی۔‘‘

*****

پروجیکٹ چیتا کے مطابق، افریقی چیتوں کو ہندوستان لانے کی وجہوں میں سے ایک ’ ایکو سسٹم کو بچانا ‘ بھی بتایا گیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر روی چیلّم جیسے جنگلی حیاتیات کے ماہرین کی نظر میں یہ بے تکی اور افسردہ دلیل ہے۔ میٹا اسٹرنگ فاؤنڈیشن کے سی ای او اور وائلڈ لائف بائیو لوجسٹ ڈاکٹر چیلّم کہتے ہیں، ’’چیتوں کو ہندوستان کے گھاس کے میدانوں کی حفاظت کے نام پر لایا جا رہا ہے۔ یہ بے تکی بات ہے کیوں کہ ہندوستان کے گھاس کے میدان میں پہلے سے بن بلاؤ یا سیاہ گوش (caracal)، کالے ہرن یا کرشن مرگ (black buck) اور گوڈاون یا سون چریا (great Indian bustard) جیسے نایاب جانور ہیں جو بحران کے شکار ہیں۔ ایسے میں افریقہ سے کسی دوسرے جانور کو لانے کا کیا جواز ہے؟‘‘

بلکہ، بقول اُن کے، سرکار کا یہ مقصد ہے کہ آئندہ ۱۵ سالوں میں چیتوں کی تعداد بڑھ کر ۳۶ ہو جائے گی، بہت پریکٹیکل نہیں محسوس ہوتا، اور شاید ہی پورا ہو پائے۔ ’’پورا پروجیکٹ آخرکار ایک مدح سرائی اور خرچیلے سفاری پارک میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا،‘‘ چیلّم جو ہندوستان میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق تحقیق اور تحفظ کو فروغ دینے والے نیٹ ورک، بایو ڈائیورسٹی کولیبوریٹو کے رکن بھی ہیں، آگے کہتے ہیں۔

Mangu Adivasi was among those displaced from Kuno 22 years ago for the lions from Gujarat, which never came
PHOTO • Priti David

گجرات کے شیروں کی وجہ سے ۲۲ سال پہلے کونو سے بے دخل کیے گئے لوگوں میں منگو آدیواسی بھی شامل تھے؛ مگر شیر کبھی لائے نہیں گئے

سہریا آدیواسیوں کے اس قدم کو پڑوس کے ۲۸ گاؤوں کے ساتھ عہدیداروں کے ذریعے کیے گئے جھوٹے وعدوں کی یاد سے طاقت ملی تھی، جب کونو کے جنگل میں ہی ۱۹۹۹ میں تقریباً ۱۶۵۰ کنبوں کو گجرات سے آئے شیروں کے لیے آناً فاناً میں اپنا گھر چھوڑ دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا

منگو آدیواسی کو، کونو میں اپنے گھر سے بے دخل ہوئے ۲۲ سال ہو چکے ہیں۔ جن شیروں کے لیے وہ وہاں سے نکالے گئے تھے، وہ آج تک نہیں آئے ہیں۔ آج وہ معاوضے میں ملی بنجر زمین سے کسی طرح اپنی گزر بسر چلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ منگو، چیلّم کی باتوں سے متفق ہیں: ’’چیتا صرف شان بڑھانے کے لیے آ رہے ہیں – ملک اور دنیا کو صرف یہ بتانے کے لیے ایسا کوئی بڑا تماشہ کونو میں ہوا ہے۔ جب ان چیتوں کو جنگل میں لا کر چھوڑا جائے گا، ان میں سے کچھ تو یہاں پہلے سے ہی رہنے والے جانوروں کے ذریعے مار ڈالے جائیں گے، کچھ چہار دیواری میں دوڑنے والے کرنٹ لگنے سے مارے جائیں گے۔ ہم صرف تماشہ دیکھیں گے۔‘‘

ایک اضافی خطرہ ان غیر ملکی جانوروں کے ساتھ آئے پیتھوجن کا بھی ہے، جس کی اندیکھی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کارتی کیئن واسودیون کہتے ہیں، ’’پروجیکٹ میں معلوم پیتھوجن سے ہونے والے انفیکشن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اسی طرح افریقی چیتے بھی مقامی جنگلی جانوروں سے پھیلنے والے انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘‘

کنزوریشن بائیو لوجسٹ اور حیدرآباد کے ’سینٹر فار سیلولر اینڈ مولیکیولر بائیولوجی‘ میں واقع ’لیباریٹری فار کنزوریشن آف انڈینجرڈ اسپیسیز‘ کے چیف سائنس داں ڈاکٹر کارتی کیئن ’’مقامی جنگلی جانوروں کو پریون اور دیگر بیماریوں کے ممکنہ انفیکشن، جانوروں کے طویل مدتی عددی توازن، اور ماحولیات میں موجود پیتھوجن ‘‘ کے تئیں آگاہ کرتے ہیں۔ ’’چیتوں کو سب سے زیادہ خطرہ انہی باتوں سے ہے۔‘‘

یہ افواہ بھی زور شور سے چل رہی ہے کہ چیتوں کی آمد – جو کہ پچھلے سال ہی ہونی تھی – کو کسی مخصوص تکنیکی رکاوٹ کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ ۱۹۷۲ کی دفعہ ۴۹ بی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہاتھی دانت کی تجارت، یہاں تک کہ اس کی درآمد پر پوری طرح پابندی ہے۔ غیر مصدقہ رپورٹوں کے مطابق، نامیبیا ہندوستان کوکوئی بھی چیتا تب تک تحفے میں نہیں دے گا، جب تک ہندوستان ’کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ اِن انڈینجرڈ اسپیسیز آف وائلڈ فونا اینڈ فلورا‘ (سی آئی ٹی ای ایس) کے تحت درج فہرست ہاتھی دانت کی تجارت سے اپنی پابندی نہیں ہٹائے گا۔ اس فہرست سے آزاد ہونے کے بعد ہاتھی دانت بین الاقوامی تجارتی پابندی سے آزاد ہو جائے گا۔ بہرحال، اس رپورٹ کی نہ تو کوئی سرکاری تصدیق ہوئی ہے، اور نہ ہی اسے خارج کیا گیا ہے۔

باگچا کا مستقبل ایسے میں ابھی بھی معلق ہے۔ صبح صبح جنگل میں گوند اکٹھا کرنے کے مقصد سے نکلے ہریتھ آدیواسی چلتے ہوئے اچانک رک جاتے ہیں اور کہتے ہیں، ’’ہم سرکار سے بڑے تو ہیں نہیں۔ تھک کر ہمیں وہی کرنا ہوگا جو سرکار چاہے گی۔ ہم یہاں سے جانا نہیں چاہتے ہیں، لیکن سرکار ہمیں جبراً بے دخل کر سکتی ہے۔‘‘

رپورٹر اس رپورتاژ کو لکھنے اور ایڈٹ کرنے میں سوربھ چودھری سے ملنے والے تعاون کے لیے ان کا دلی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Priti David

Priti David is a Journalist with the People’s Archive of Rural India, and Editor, PARI Education. She works with educators to bring rural issues into the classroom and curriculum, and with young people to document the issues of our times.

Other stories by Priti David
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez