نندا گوترنے نے کہا، ’’ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے گاؤں میں کوئی تہوار ہے۔‘‘ ہر سال اکتوبر کے آخر میں ان کے کھیت کے بغل والی خالی زمین مڑائی (دَونی یا ڈنٹھل سے دھان کے دانے الگ کرنے کا عمل) کے لیے ایک مشترکہ جگہ میں تبدیل ہو جاتی تھی، جہاں گیٹس بُدرُک کے کسان بیلوں کی مدد سے کاٹے گئے دھان کی مڑائی کے لیے اکٹھا ہوتے تھے۔ نصف نومبر گزر جانے تک وہ سب اسی کام میں مصروف رہتے تھے۔

اس سال یہ خالی زمین اور گاؤں کے سارے کھیت پچھلے مہینہ کے درمیان میں ہی ایک دلدلی زمین میں تبدیل ہو گئے تھے۔ اپنی فصل کو کاٹ کر اس کی مڑائی کرنے کی بجائے نندا اور ان کے شوہر کیلاش، دونوں ہی ۱۶ اور ۱۷ اکتوبر کو اپنے دو ایکڑ میں پھیلے کھیت سے فصل کو ہٹانے کے کام میں لگ گئے تھے۔

دو دنوں کے بعد بھی ان کے کھیت میں ایڑیوں کے ڈوبنے بھر پانی جمع تھا، اور ۴۲ سالہ نندا دھان کی گیلی فصل کو دھوپ میں سکھا رہی تھیں۔ ساڑی کے پلّو کے کونے سے اپنے آنسوؤں کو پونچھتی ہوئی وہ بولیں، ’’میں کہہ نہیں سکتی کہ یہ سُکھانا کام آئے گا بھی یا نہیں…‘‘ (بہرحال، ان کی محنت پوری طرح سے رائیگاں نہیں گئی اور مڑائی کے بعد وہ اس فصل سے اوسط درجے کا چھ کوئنٹل دھان حاصل کرنے میں کامیاب رہیں – حالانکہ، اس سے پچھلے سال کی ۱۵ کوئنٹل کی پیداوار سے یہ بہت کم تھا)۔ نندا کے ۴۷ سالہ شوہر کیلاش، واڈا تعلقہ کے ایک پرائیویٹ دفتر میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور تقریباً ۸۰۰۰ روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ دونوں کی ۱۴ سال کی ایک بیٹی اور ۱۰ سال کا ایک بیٹا ہے۔ دونوں بچے ایک مقامی ضلع پریشد اسکول میں پڑھتے ہیں۔

اکتوبر میں آئی اس اچانک بارش نے ۱۱۳۴ لوگوں کی آبادی والے ایک چھوٹے سے گاؤں، گیٹس بدرک میں نندا کی فیملی اور دوسرے کسانوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

کامنی گوترنے کا کھیت بھی ایک دلدل میں بدل گیا تھا۔ انہوں نے بتایا، ’’دھان کی فصل بری طرح تر بتر ہو چکی ہے اور پورے کھیت میں کیچڑ بھر گیا ہے۔‘‘ وہ اور ان کے شوہر منوج بھی اکتوبر میں اپنے چار ایکڑ کے کھیت سے تباہ ہو چکی فصل کو ہنسیا سے کاٹ کر سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے۔ آس پاس کے چار دوسرے کسان بھی ان کی مدد کر رہے تھے – گاؤں کا ہر ایک آدمی دوسرے کے کھیتوں میں بات چیت یا مدد کے لیے آ جا رہا تھا۔

Nanda Gotarne drying paddy stalks; the accumulated water in her farm, which damaged the crop, remained after the stalks were cut (right)
PHOTO • Jyoti Shinoli
Nanda Gotarne drying paddy stalks; the accumulated water in her farm, which damaged the crop, remained after the stalks were cut (right)
PHOTO • Jyoti Shinoli

دھان کے پودوں کو سُکھاتی ہوئیں نندا گوترنے؛ پودوں کی کٹائی کے بعد بھی ان کے کھیت میں جمع پانی نے فصلوں کو نقصان پہنچایا (دائیں)

’’ان بڑی بڑی جڑوں کو دیکھئے۔ ان میں یہ پھپھوند اس لیے اُگ گئی ہے کیوں کہ کٹائی کے بعد بھی پودے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن اس دھان سے نکلے چاول کسی کام کے نہیں،‘‘ ۴۵ سالہ منوج نے مجھ سے یہ بات اس وقت کہی، جب میں ۱۹ اکتوبر کو ان کے کھیت پر گئی تھی۔ ’’تیار ہو چکی فصل کے لیے ایک بوند بھی نقصاندہ ہے۔ ہمارا تقریباً ۸۰ فیصد دھان اب تباہ ہو چکا ہے۔‘‘

حالانکہ، بارش بہت زیادہ نہیں ہوئی تھی – یہ اوسط سے صرف ۹ ملی میٹر ہی زیادہ تھی۔ لیکن اتنی بارش پانی کے جمع ہونے کے ساتھ ساتھ فصلوں کو تباہ کر دینے کے لیے کافی ہے۔ مہاراشٹر کے واڈا تعلقہ میں جہاں گیٹس بدرک گاؤں واقع ہے، میں یکم اکتوبر اور ۲۱ اکتوبر کے درمیان تقریباً ۷ء۵۰ ملی میٹر بارش ہوئی – جب کہ اس مدت میں اوسطاً ۸ء۴۱ ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات نے ۱۳ اکتوبر کو کونکن اور آس پاس کے علاقوں میں بھاری بارش اور تیز ہوا کی وارننگ جاری کر دی تھی۔

بارش اور ساتھ میں چلنے والی تیز ہوا نے دھان کی فصل کو گرا دیا۔ کامنی اور منوج کے کھیت کی فصل بھی ۱۳ اکتوبر سے تین دن تک پانی میں ڈوبی رہی۔ عام طور پر ہر سال اس فیملی کو اکتوبر کے آخر میں اپنے کھیتوں سے واڈا کولم نسل کی ۱۵ سے ۲۰ کوئنٹل چاول کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ وہ ۷ سے ۸ کوئنٹل چاول ۲۰۰۰ سے ۲۲۰۰ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے مہامنڈل (فوڈ کارپوریشن آف انڈیا، مہاراشٹر خطہ) میں فروخت کر دیتے ہیں، اور بچے ہوئے بقیہ چاول کو اپنے کھانے کے لیے رکھتے ہیں۔ ڈوبے دھانوں کے درمیان کھڑی کامنی نے کہا، ’’لیکن اس سال ہم اس دھان کا چاول نہیں کھائیں گے، نہ ہی اسے اپنی گائے بھینسوں کو کھلا سکتے ہیں۔‘‘

سینچائی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے گوترنے فیملی ربیع کی کھیتی کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے منوج بھی گاؤں میں ایک کیرانے کی دکان چلاتے ہیں، جس میں وہ آٹا، صابن، بسکٹ، نوٹ بک اور دوسری چیزیں بیچتے ہیں۔ اس دکان سے انہیں اور کامنی کو ہر مہینے ۱۰ ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ ان کا تعلق اگری برادری سے ہے جو دیگر پس ماندہ طبقہ (او بی سی) میں آتی ہے۔ ان کی ایک ۱۳ سال کی بیٹی ویشنوی ہے، جو ضلع پریشد کے ایک مقامی اسکول میں ساتویں کلاس میں پڑھتی ہے۔

اس سال جون میں انہوں نے دھان روپنے کے لیے تقریباً ۱۵ ہزار روپے خرچ کیے تھے۔ یہ پیسے بیجوں کی خریداری، کھاد، مزدوروں اور ٹریکٹر کے کرایے پر خرچ ہوئے تھے۔ پالگھر میں جون کے مہینہ میں اوسطاً ۹ء۴۱۱ ملی میٹر کے برعکس اس سال جون میں صرف ۲۰۳ ملی میٹر ہوئی بارش، موسم کے آخر یعنی ستمبر میں خاصی تیز ہو گئی تھی، اور منوج اور کامنی کو اچھی پیداوار ہونے کی امیدیں تھیں۔

Across the fields of Palghar, the paddy got spoilt (left) with the unexpected October rain, and farmers tried hard to save some of it
PHOTO • Jyoti Shinoli
Across the fields of Palghar, the paddy got spoilt (left) with the unexpected October rain, and farmers tried hard to save some of it
PHOTO • Jyoti Shinoli

پالگھر کے کھیت، اور بے موسم ہونے والی اکتوبر کی بارش میں تباہ ہو چکی دھان کی فصل (بائیں)، اور تھوڑی بہت فصل کو بچانے کے لیے جی توڑ محنت کرتے کسان

پچھلے سال بھی اکتوبر میں آئی غیر متوقع بارش نے اچھی پیداوار کی امید کو نقصان پہنچایا تھا اور فیملی نے صرف ۱۲ کوئنٹل ہی چاول اگایا تھا۔ آدھا انہوں نے خود کے کھانے کے لیے رکھا اور باقی بچے اناج کو بیچ دیا۔ منوج نے کہا، ’’پچھلا سال اتنا برا نہیں تھا۔ حالانکہ، چاول بہت عمدہ تو نہیں تھے، پھر بھی کھانے لائق تو وہ تھے ہی۔ سال ۲۰۱۸ میں اگست کے بعد بارش نہیں ہوئی۔ سال ۲۰۱۹ میں بھی اکتوبر میں بارش ہو گئی، اور اس سال بھی یہی پریشانی پھر سے ہو گئی۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ بارش کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘

پورے پالگھر میں ایسے بہت سے کسان ہیں جو اکتوبر میں ہونے والی اس بے موسم کی بارش سے ہونے والی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کونکن علاقہ (جس کا ایک حصہ پالگھر ضلع ہے) اور خشک سالی سے متاثرہ مراٹھواڑہ، وسطی مہاراشٹر، اور مغربی مہاراشٹر کے ’چینی والا علاقہ‘ میں اس سال یکم اکتوبر سے ۲۱ اکتوبر کے درمیان بھاری بارش درج کی گئی۔ یہ معلومات ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے فراہم کی ہیں۔ اس تباہی نے ان علاقوں میں ۲۷ جانیں بھی لے لیں، جس کی تصدیق کئی میڈیا رپورٹوں سے بھی ہو چکی ہے۔

کونکن علاقہ میں اس موسم میں متوقع ۶ء۷۳ ملی میٹر کی بجائے اس سال ۷ء۱۷۱ ملی میٹر بارش درج کی گئی۔ یہ تفصیل مہاراشٹر کے محکمہ زراعت کی طرف سے فراہم کی گئی ہے۔ تیز بوندوں نے مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں خریف، سویابین، کپاس، مکئی، جوار اور دوسری کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا۔

گیٹس بدرک سے تقریباً ۴۶ کلومیٹر دور، جوہار تعلقہ کے ایک بہت چھوٹے سے گاؤں کھڑکی پاڑہ کے ۴۴ سالہ دامو بھوئے بھی کافی مایوس تھے۔ انہوں نے مجھے دکھایا کہ ان کے تین ایکڑ کے نسبتاً اونچے کھیت میں لگی اُڑد کی فصل کو کیڑے کیسے کتر کر برباد کر رہے تھے۔ ستمبر میں پودوں کی حالت اچھی تھی۔ لیکن اکتوبر میں آئی اچانک بارش نے کیڑوں کی تعداد بے تحاشہ بڑھا دی۔

دامو نے کہا، ’’میرا پورا کھیت اب کیڑوں سے بھر گیا ہے۔ وہ لگاتار پتوں اور پھلیوں کو کھاتے رہتے ہیں۔ اکتوبر کا مہینہ ہمارے لیے بڑا نازک ہوتا ہے، کیوں کہ مہینہ کے عین بیچ میں ہم پھلیوں کو توڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اچانک آئی بارش اپنے ساتھ کیڑوں کو بھی لے آئی، پودوں کے جڑ سڑ گئے، اور پھلیاں بھی پوری طرح نہیں پک پائیں۔ میں نے بیج اور کھاد پر تقریباً ۱۰ ہزار روپے خرچ کیے تھے۔ سارے پیسے برباد ہو گئے۔‘‘

In Khadkipada hamlet, Damu Bhoye said, 'My farm is filled with bugs [due to the unseasonal rain], eating all the leaves and pods'
PHOTO • Jyoti Shinoli
In Khadkipada hamlet, Damu Bhoye said, 'My farm is filled with bugs [due to the unseasonal rain], eating all the leaves and pods'
PHOTO • Jyoti Shinoli

کھڑکی پاڑہ گاؤں میں دامو بھوئے کا کہنا ہے، ’میرا کھیت (بے موسم بارش کی وجہ سے) کیڑوں سے بھرا ہوا ہے، جو فصل کی پتیوں اور پھلیوں کو لگاتار چبائے جا رہے ہیں‘

کھیتی کے علاوہ دامو اور ان کی ۴۰ سالہ بیوی گیتا پاس کے گاؤوں کی خواتین صارفین کے لیے بلاؤز سیتے ہیں اور کھیتی پر خرچ کرنے لائق پیسے بچاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’ہم مہینے میں تقریباً ۱۰۰۰ روپے، اور کئی بار ۱۵۰۰ روپے بچا لیتے ہیں۔‘‘

اور ہر سال نومبر کے آخر سے تقریباً مئی کے وسط تک وہ ممبئی یا تھانے کے تعمیراتی مقامات پر کام کرنے جاتے ہیں۔ دامو نے مجھے آگے بتایا، ’’تعمیراتی مقامات پر کام کرکے ہم ۵۰ سے ۶۰ ہزار روپے کماتے ہیں، لیکن ہم اپنے کمائے پیسوں میں سے کچھ بھی نہیں بچا پاتے ہیں۔‘‘

ان کا بڑا بیٹا ۲۵ سالہ جگدیش، پالگھر کے ہی وکرم گڑھ تعلقہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں بطور لیباریٹری ٹیکنیشین کام کرتا ہے۔ دامو بتاتے ہیں، ’’اس کی تنخواہ ۱۵ ہزار روپے ماہانہ ہے، اس سے ہمیں کافی مدد مل جاتی ہے۔ ہم اس کی تنخواہ میں سے تھوڑی بچت بھی کر لیتے ہیں۔‘‘ دامو اور گیتا کی بیٹی آٹھویں کلاس میں پڑھتی ہے، اور ان کا چھوٹا بیٹا گاؤں کے ضلع پریشد اسکول میں پانچویں کلاس کا اسٹوڈنٹ ہے۔

دہارے بستی کے باہری علاقے میں کاتکری برادری – جسے مہاراشٹر میں انتہائی پس ماندہ قبیلہ کا درجہ ملا ہوا ہے – کے ۲۵ خاندانوں سے آباد اس چھوٹے سے گاؤں کے زیادہ تر ارکان جنگل کی زمین پر دھان، راگی، اور اڑد دال کی کھیتی پر منحصر ہیں۔ یہ کھیت سائز میں صرف ایک سے تین ایکڑ تک کے ہیں۔ دامو نے بتایا، ’’۱۹۹۵ سے لگاتار مطالبہ کرنے کے بعد ہم سب کو ۲۰۱۸ میں جنگل کی اس زمین کا مالکانہ حق حاصل ہوا ہے۔‘‘

ان کے کھیت کے قریب ہی تھوڑی گہری زمین والا تین ایکڑ کا ایک اور کھیت ہے، جس پر ۴۵ سالہ چندرکانت بھوئے اور ان کی ۴۰ سالہ بیوی شالو کھیتی کرتے ہیں۔ اکتوبرمیں ہوئی بارش سے ہوئے نقصان نے انہیں بھی نہیں چھوڑا، اور ۱۴-۱۳ اکتوبر کو ان کی دھان کی فصل بھی پانی میں ڈوب گئی۔ چندرکانت کہتے ہیں، ’’دونوں دن چار پانچ گھنٹے اچھی خاصی بارش ہوئی اور ساتھ میں تیز ہوائیں بھی چلیں۔‘‘

Chandrakant Bhoye and his family were counting on a good yield this time to be able to repay a loan
PHOTO • Jyoti Shinoli
Chandrakant Bhoye and his family were counting on a good yield this time to be able to repay a loan
PHOTO • Jyoti Shinoli

چندرکانت بھوئے اور ان کی فیملی اس بار اچھی پیداوار، اور اس کے عوض میں اپنا قرض اتار دینے کی امید کر رہی تھی

فیملی کو اس سال اچھی پیداوار کی امید تھی اور یہ یقین تھا کہ وہ اپنا ۱۵ ہزار روپے کا قرض چکا دیں گے، جو انہوں نے اپنے ایک رشتہ دار سے لیا تھا۔ چندرکانت نے مایوسی سے کہا، ’’میرے پاس بیج اور کھاد خریدنے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے میں نے قرض لیا۔ میں اپنی پیداوار کبھی نہیں بیچتا ہوں، لیکن اس سال میں نے سوچا تھا کہ ۸-۷ کوئنٹل اناج مہامنڈل کو بیچ دوں گا، تاکہ اپنے قرض کا بوجھ اتار سکوں۔‘‘

وہ اور شالو ہر سال ۱۲-۱۰ کوئنٹل اناج پیدا کر لیتے ہیں۔ دونوں، نومبر سے مئی تک تقریباً ۸۰ کلومیٹر دور واقع دہانو میں اینٹ بھٹے پر بھی کام کرتے ہیں، اور اس سے ہونے والی آمدنی کو کھیتی کے کاموں میں لگا دیتے ہیں۔ سال ۲۰۱۹ میں بھٹہ پر کام کرنے سے ۵۰ ہزار روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔ اپنی دو کمرے کی مٹی سے بنی جھونپڑی کے باہر بیٹھے چندرکانت نے بتایا، ’’بند (لاک ڈاؤن) مارچ میں شروع ہو گیا، اس لیے بھٹے کے مالک نے ہمارے پیسے نہیں دیے۔ ہم پیدل چل کر اپنے گھر واپس لوٹ آئے۔‘‘ ان کے ساتھ ان کی چار سال کی بیٹی، روپالی اور تین سال کا بیٹا، روپیش بھے تھے۔

اب انہیں اپنے قرض کی فکر ستائے جا رہی ہے۔ انہوں نے جیسے خود سے ہی وعدہ کیا، ’’اس بار ہمیں اینٹ کے بھٹے پر اور زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ اس سال ہم صرف پانچ کوئنٹل ہی دھان پیدا کر پائے۔ لیکن مجے بھروسہ ہے کہ اس بار میں اینٹ بھٹے سے پچھلے سال کے مقابلے زیادہ پیسے کما لوں گا۔‘‘ انہوں نے فون پر ۸ نومبر کے دن مجھ سے یہ بات کہی۔

چندرکانت اور شالو، دونوں ۲۳ نومبر کو دہانو کے اینٹ بھٹے پر کام کرنے کے لیے روانہ ہونے کی سوچ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ روپالی اور روپیش بھی جائیں گے۔ انہیں امید ہے کہ  اس موسم میں وہ اچھی کمائی کریں گے اور بے موسم کی بارش سے ہوئے نقصان کی تلافی کر پائیں گے۔

Unexpected rainfall in October hit all the farmers in Gates Budruk, a village of 1,134 people
PHOTO • Jyoti Shinoli
Unexpected rainfall in October hit all the farmers in Gates Budruk, a village of 1,134 people
PHOTO • Jyoti Shinoli
Unexpected rainfall in October hit all the farmers in Gates Budruk, a village of 1,134 people
PHOTO • Jyoti Shinoli

اکتوبر کی غیر متوقع بارش نے ۱۱۳۴ لوگوں کی آبادی والے گیٹس بدرک کے تمام کاشتکاروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا

*****

ریاست کے راحت اور باز آباد کاری وزیر، وجے وادیتیوار نے ۲۱ اکتوبر کو TV9 مراٹھی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’واقعی میں بھاری نقصان ہوا ہے۔ ابتدائی اندازہ کے مطابق، ۱۰ لاکھ ہیکٹیئر سے زیادہ کی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘

پالگھر ضلع کلکٹر آفس کے اہلکاروں نے ۲۲ اکتوبر کو مجھے بتایا کہ ’’۱۶ اکتوبر سے جانچ کا عمل جاری ہے‘‘ اور انہوں نے پیداوار کے نقصان یا متاثرہ کسانوں کا کوئی تخمینہ مجھے فوراً نہیں دیا۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اودھو ٹھاکرے نے ۲۳ اکتوبر کو بھاری بارش سے متاثرہ ریاست کے کسانوں کے لیے ۱۰ ہزار کروڑ روپے کے راحت پیکیج کا اعلان کیا۔

واڈا تعلقہ کے تلاٹھی دفتر کے ملازمین نے ۲۷ اکتوبر کو گیٹس بدرک کا معائنہ کیا۔ اس سے پہلے گاؤں کے کسانوں نے تلاٹھی دفتر کو اپنی فصل کے نقصان کے بارے میں بتایا تھا۔ منوج نے مجھ سے کہا، ’’انہوں نے سبھی کیچڑ والے کھیتوں کو دیکھا، پھپھوند لگے دھان کی تصویریں لیں، اور ہم سے کہا کہ وہ ہمیں معاوضہ کے بارے میں جانکاری دیں گے۔‘‘

جب پالگھر ضلع کے تمام متاثرہ کھیتوں کے معائنہ کا کام پورا ہو چکا ہے، اور نقصان کا اندازہ بھی لگایا جا چکا ہے، تو امید ہے کہ کسانوں کو ان کی تباہ ہو چکی فصل کا معاوضہ جلد ہی ملے گا۔

لیکن بدقسمتی سے ابھی تک یہ ہو نہیں پایا ہے، بلکہ کامنی، منوج اور پالگھر کے دوسرے کسانوں کو کوئی معاوضہ ملنے کی اب کوئی امید بھی نہیں ہے۔ کامنی کہتی ہیں، ’’مجھے پچھلے سال ہوئے نقصان کا بھی کوئی معاوضہ نہیں ملا تھا؛ اس سال بھی مجھے کوئی امید نہیں ہے۔ تلاٹھی آفس کے ملازمین جھوٹ بولتے ہیں کہ اگلے مہینے آپ کو پیسے مل جائیں گے، اگلے مہینے ضرور مل جائیں گے، لیکن ہمیں آج تک کوئی بھی مدد نہیں ملی ہے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Jyoti Shinoli is a Senior Reporter at the People’s Archive of Rural India; she has previously worked with news channels like ‘Mi Marathi’ and ‘Maharashtra1’.

Other stories by Jyoti Shinoli
Editor : Sharmila Joshi

Sharmila Joshi is former Executive Editor, People's Archive of Rural India, and a writer and occasional teacher.

Other stories by Sharmila Joshi
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez