گن پتی بال یادو پچھلے ہفتہ سائیکل سے غروب آفتاب کی جانب روانہ ہو گئے۔ مجاہد آزادی اور زیر زمین انقلابیوں کے قاصد نے اپنی زندگی کی ایک صدی مکمل کر لی تھی اور اب ۱۰۱ سال کے ہونے ہی والے تھے کہ مختصر عارضہ کے بعد، وہ آدمی جو زندگی کے آخری مہینے تک اپنی پرانی سائیکل سے روزانہ ۵-۲۰ کلومیٹر کی دوری طے کرتا رہا، آخرکار آسمان کی جانب روانہ ہو گیا۔

اُن سے ۲۰۱۸ میں جس دن ہماری ملاقات ہوئی – تب وہ ۹۷ سال کے تھے – انہوں نے تقریباً ۳۰ کلومیٹر سائیکل چلائی تھی، ہمیں تلاش کرنے کے لیے۔ ’ہمیں‘ یعنی پاری کی ٹیم جسے دیر ہو گئی تھی، لیکن جو اُن سے ملنے کے لیے بے قرار تھی تاکہ وہ ہمیں اپنی کہانی سنا سکیں۔ وسط مئی کا مہینہ تھا، وہ کئی گھنٹوں سے سڑک پر تھے، اور ان کی سائیکل میوزیم کی کسی شے کی طرح نظر آ رہی تھی، لیکن ان کے لیے ان باتوں کے کوئی معنی نہیں تھے۔ وہ آدمی اب نہیں رہا، لیکن ان کی کہانی موجود ہے: عظیم کارناموں سے بھری گن پتی یادو کی زندگی ۔

۱۹۲۰ میں پیدا ہوئے گن پتی بال یادو، پرتی سرکار کی مسلح شاخ، طوفان سینا سے وابستہ مجاہد آزادی تھے۔ ستارا کی عارضی، زیر زمین حکومت، پرتی سرکار نے اسلحہ بلند کرتے ہوئے ۱۹۴۳ میں برطانوی حکومت سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ وہ برطانوی حکومت کے خلاف ان کی تمام کارروائیوں میں شریک رہے۔ ’گنپا دادا‘ اُس انقلابی ٹیم کا بھی حصہ تھے جس نے جی ڈی باپو لاڈ اور ’کیپٹن بھاؤ‘ کی قیادت میں جون ۱۹۴۳ میں، ستارا ضلع کے شینولی میں ٹرین کو لوٹنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا تھا۔

اکثر، کئی سالوں تک، جیسا کہ انہوں نے ہمیں بتایا: ’’میں نے اپنے لیڈروں (جو جنگل میں چھپے ہوئے تھے) کو کھانا پہنچایا۔ میں ان سے ملنے کے لیے رات میں جاتا تھا۔ لیڈر کے ساتھ ۱۰-۲۰ لوگ ہوا کرتے تھے۔‘‘ پتا چلنے پر انگریز ان کو – اور ان سبھی ۲۰ لوگوں کو – پھانسی پر چڑھا دیتے۔ یادو اپنی سائیکل سے اُن دنوں زیر زمین ’کھانے کی ہوم ڈلیوری‘ کی خدمت انجام دیتے تھے۔ انہوں نے انقلابی گروپوں کے درمیان انتہائی اہم پیغامات پہنچانے کا بھی کام کیا۔

The day we met him in 2018 – he was then 97 – he had cycled close to 30 kilometres in search of the PARI team
PHOTO • P. Sainath
The day we met him in 2018 – he was then 97 – he had cycled close to 30 kilometres in search of the PARI team
PHOTO • P. Sainath

اُن سے ۲۰۱۸ میں جس دن ہماری ملاقات ہوئی – تب وہ ۹۷ سال کے تھے – پاری ٹیم کی تلاش میں انہوں نے تقریباً ۳۰ کلومیٹر سائیکل چلائی تھی

میں اُن کی سائیکل کے بارے میں ذرہ برابر بھی نہیں بھول سکتا۔ میں اس پرانی مشین کو لگاتار گھورتا رہا۔ اس قسم کی سائیکل کا استعمال انڈا فروش، پاو والے، دھوبی اور گاؤوں، یہاں تک کہ شہروں کے گھروں میں خدمات پہنچانے والے دیگر افراد آج بھی کرتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے صرف ایک بار اپنی تیوری چڑھائی۔ یہ بائک، انہوں نے بتایا، ’’صرف‘‘ پچیس سال پرانی ہے۔ کسی نے ان کی اس سے پہلے والی سائیکل چرا لی تھی، جس سے انہیں بہت پیار تھا اور جسے انہوں نے تقریباً ۵۵ سالوں تک استعمال کیا تھا۔ میرے ذہن میں آیا کہ اسے شاید پرانی چیزوں کے کسی سوداگر نے چرایا ہوگا۔

گن پتی یادو سے ہمارا تعارف ہمارے دوست، صحافی سمپت مورے نے کرایا تھا جن کے دادا کے گھر پر، مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کے شرگاؤں میں ہم اُن سے پہلی بار ملے تھے۔ پھر ہم وہاں سے ۵ کلومیٹر دور، خود اُن کے گاؤں رامپور گئے، جہاں ہماری ان سے کئی گھنٹوں تک گفتگو ہوئی۔ انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ ۹۷ سال کی عمر میں اُن کا سائیکل چلانا ہماری لیے اتنی حیرانی کی بات کیوں ہے، لیکن ہماری درخواست پر انہوں نے اگلے آدھے گھنٹے تک سائیکل چلائی، جب پاری فیلو سنکیت جین اور ہماری ویڈیو ایڈیٹر سنچیتا ماجی ان کے اس معمول کو ریکارڈ کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ اس کے لیے سنکیت اس گرد آلودہ سڑک پر لیٹ گئے، جس پر وہ ہمیشہ سائیکل چلاتے تھے۔ سنچیتا نے ایک اسکوٹر کے پیچھے، اُلٹی پوزیشن میں بیٹھ کر یہ کام کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسکوٹر ان کے آگے آگے چلے، تاکہ وہ گنپا دادا کو اُس سڑک پر سائیکل چلاتے ہوئے فلم بنا سکیں، جس پر وہ ہمیشہ، بلکہ روزانہ چلا کرتے تھے۔

پاری کے بھرت پاٹل اور نمیتا وائکر نے اُس انٹرویو کے دوران ہمارے لیے ایک چالاک ترجمان کا کام کیا، جس کا کوئی بھی لمحہ میں بھول نہیں سکتا۔

سمپت مجھے بتاتے ہیں کہ اگلے دو سال تک جب بھی اس بزرگ ہستی سے ان کی ملاقات ہوتی، وہ یہی کہتے کہ میں اور پاری ٹیم نے ’’مجھے مشہور کر دیا۔ میں تو کچھ بھی نہیں تھا، جدوجہد آزادی کا صرف ایک قاصد تھا۔ لیکن انہوں نے میرے رول کو اہمیت کی نظر سے دیکھا اور اتنا اعزاز بخشا۔‘‘ اس اسٹوری کی وجہ سے انہیں خود اپنے گاؤں اور علاقے میں جو پہچان ملی، اس سے وہ کافی متاثر ہوئے – اور یہ ان کے لیے کافی اہم تھا۔

When it was time to part, Dada (Ganpati Bal Yadav) knew only from the body language that this man is now going. Dada was overcome with emotion
PHOTO • P. Sainath
When it was time to part, Dada (Ganpati Bal Yadav) knew only from the body language that this man is now going. Dada was overcome with emotion
PHOTO • Sanket Jain

جب جدا ہونے کا وقت آیا، تو دادا (گن پتی بال یادو) کو صرف جسمانی حرکت سے پتا چل گیا کہ یہ آدمی اب جا رہا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ پائے

یہ انکساری وہ خوبی ہے جو مجھے ہندوستان کے آخری بچے مجاہدین آزادی میں سے متعدد کے یہاں دیکھنے کو ملی: یہ وہ سطح ہے جہاں وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ، ان کا وقت اور ان کی دنیا بہت خاص تھی۔ پھر بھی، ایک دوسری سطح ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا، اپنی ذمہ داری نبھائی – جس کا مقصد انعام حاصل کرنا نہیں تھا۔ گنپا دادا جیسے بہت سے لوگوں نے اس پنشن کو کبھی قبول نہیں کیا، جو انہیں ہندوستانی ریاست کی طرف سے ۱۹۷۲ میں پیش کی گئی۔

میں واقعی یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے تمام قارئین اور دیگر حضرات اکثر ہمارے اس خاص گوشہ ہندوستان کے آخری بچے مجاہدین آزادی کو ملاحظہ کریں۔ پانچ سالوں میں، ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ آنے والی نسل کو انہیں دیکھنے، ان سے بات کرنے یا انہیں سننے کا کبھی موقع نہیں ملے گا جنہوں نے برطانوی سامراج کی غلامی سے نجات دلاتے ہوئے، اس ملک کو آزادی دلائی۔

اب وہ جا چکے ہیں، ہندوستان کی تیزی سے گم ہوتی سنہری نسل سے ایک اور کی جدائی۔ ہم پاری کے لوگ – ہمیں واقعی میں فخر ہے کہ انہوں نے اپنی کہانی سنانے کے لیے ہمارا انتخاب کیا – ان کے انتقال پر غم کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کی زندگی کا جشن مناتے ہیں۔ ایک کسان جو اپنے ۱۰۰ویں سال میں بھی سرگرمی سے کھیتی کرتا رہا۔ ایک آدمی جس نے، جب میں ان سے جدا ہو رہا تھا، کہا کہ ان کے پاس کچھ ہے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے، بڑی فیملی کے احاطہ میں خود اپنے ایک کمرہ کے گھر میں، مجھے دینا چاہتے ہیں۔ اور وہ چیز تھی ایک کپ تازہ دودھ۔ اُس لمحہ، ہم دونوں واقعی میں جذباتی ہوگئے۔

کسی اور نے اُس لمحہ کو سمپت مورے سے بہتر انداز میں بیان نہیں کیا جنہوں نے بعد میں لکھا: ’’سائی ناتھ سر انگریزی میں بول رہے تھے جب کہ گنپا دادا مراٹھی میں بات کر رہے تھے۔ لیکن جب جدا ہونے کا وقت آیا، تو دادا، جو انگریزی نہیں سمجھ سکتے تھے، صرف جسمانی حرکت سے انہیں پتا چل گیا کہ یہ آدمی اب جا رہا ہے۔ دادا اپنے جذبات کو قابو میں نہیں کر سکے۔ وہ کھڑے ہوئے اور سر کے ہاتھ کو خود اپنے ہاتھوں میں لیکر اسے زور سے پکڑ لیا۔ دادا کی آنکھیں نم تھیں۔ سر نے بھی دادا کے ہاتھ کو دیر تک پکڑے رکھا، اور ہم دیکھ سکتے تھے کہ دونوں نے باہم گفتگو کی جس میں کسی زبان کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

P. Sainath is Founder Editor of the People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought'.

Other stories by P. Sainath