یہ پینل تصاویر پر مبنی نمائش – ’کام ہی کام، عورتیں گُمنام‘ کا حصہ ہے، جس کے تحت دیہی خواتین کے ذریعے کیے جانے والے مختلف قسم کے کاموں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ تمام تصویریں پی سائی ناتھ کے ذریعے سال ۱۹۹۳ سے ۲۰۰۲ کے درمیان ملک کی ۱۰ ریاستوں کا دورہ کرنے کے دوران کھینچی گئی ہیں۔ یہاں، پاری نے ایک انوکھے انداز سے تصویر پر مبنی اس نمائش کو ڈیجیٹل شکل میں پیش کیا ہے۔ پہلے یہ نمائش کئی سالوں تک ملک کے زیادہ تر حصوں میں طبیعی طور پر لگائی جاتی رہی ہے۔

کھیت تو ہے، مگر اپنا نہیں

زمین کے مالک کو تصویر کھنچوانے پر فخر ہو رہا تھا۔ وہ وہیں تن کر کھڑا تھا، جب کہ اتنی دیر میں اس کے کھیت پر روپائی کرنے والی ۹ خواتین مزدوروں کی قطار دو گنی ہو چکی تھی۔ اُس نے بتایا کہ وہ اِنہیں ایک دن کے ۴۰ روپے دیتا ہے۔ عورتوں نے بعد میں ہمیں بتایا کہ اُس نے انہیں صرف ۲۵ روپے دیے تھے۔ یہ سبھی اوڈیشہ کے رائے گڑھ کی بے زمین عورتیں تھیں۔

ہندوستان میں، اُن خاندان کی عورتوں کو بھی مالکانہ حق حاصل نہیں ہیں، جن کے پاس اپنی زمینیں ہیں۔ یہ حق نہ تو انہیں میکے میں ملتا ہے اور نہ ہی سسرال میں۔ اکیلی، بیوہ یا طلاق شدہ عورتیں اپنے رشتہ داروں کے کھیتوں پر مزدوری کرنے کو مجبور ہوتی ہیں۔

ویڈیو دیکھیں: پی سائی ناتھ کہتے ہیں، ’لینس سے دیکھنے پر مجھے جو نظر آیا، وہ یہ تھا: زمیندار اکیلا اور سیدھا تن کر کھڑا ہے؛ مزدور عورتیں جھک کر کام کر رہی ہیں‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان میں خواتین مزدوروں کی تعداد ۶۳ ملین (یعنی ۶ کروڑ ۳۰ لاکھ) ہے۔ ان میں سے ۲۸ ملین یا ۴۵ فیصد عورتیں زرعی مزدور ہیں۔ حالانکہ یہ تعداد بھی گمراہ کن ہے۔ اس میں وہ خواتین شامل نہیں ہیں، جنہیں چھ مہینے یا اس سے زیادہ عرصے تک روزگار نہیں ملتا۔ یہ اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان لاکھوں خواتین کو قومی معیشت میں تعاون کرنے والے کارکنوں کے طور پر شمار ہی نہیں کیا جاتا۔ براہِ راست زرعی کام کرنے کے علاوہ، دیہی خواتین جتنے بھی دوسرے کام کرتی ہیں، انہیں’گھریلو کام‘ کہہ کر خارج کر دیا جاتا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کے ذریعے جس کام کو ’معاشی سرگرمی‘ تصور کیا جاتا ہے، اس میں بھی سب سے کم تر مزدوری والا زرعی کام ہی واحد ایسا شعبہ ہے جو عورتوں کے لیے کھلا ہوا ہے۔ لیکن پہلے بے زمین مزدوروں کو جتنے دن کام ملتا تھا، اب نہیں مل رہا ہے۔ یہ سب اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ مشینوں کا بڑھتا استعمال اسے مزید آگے بڑھا رہا ہے۔ نقدی فصلوں کی جانب رخ کرنے سے مسئلہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ٹھیکہ پر مبنی نیا نظام اسے اور بگاڑ رہا ہے۔

PHOTO • P. Sainath
PHOTO • P. Sainath
PHOTO • P. Sainath

آندھرا پردیش کے اننت پور میں، دو چھوٹی لڑکیاں کھیت میں کیڑے تلاش کر رہی ہیں۔ ان کے گاؤں میں، بالوں والی لال سونڈی ڈھونڈنا اُجرت (مزدوری) والا کام ہے۔ کھیت کا مالک، انہیں فی کلو سونڈی چُننے کے بدلے ۱۰ روپے دیتا ہے۔ یعنی ایک کلو پورا کرنے کے لیے، انہیں تقریباً ایک ہزار کیڑے ڈھونڈنے پڑیں گے۔

زمین جیسے وسائل پر براہ راست اختیار نہ ہونے کی وجہ سے، عام طور سے غریبوں اور تمام عورتوں کی حالت کمزور ہو رہی ہے۔ ملکیت اور سماجی رتبہ کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ بہت کم عورتیں ایسی ہوں گی جو زمین کی مالک ہوں یا اُس پر اِن کا اختیار ہو۔ اگر زمین سے متعلق اُن کے اس حق کو یقینی بنا دیا جائے، تو پنچایتی راج سسٹم میں ان کی حصہ داری اور بھی بہتر طریقے سے کام کرے گی۔

PHOTO • P. Sainath

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ بے زمینوں میں سب سے بڑی تعداد دلتوں کی ہے (جنہیں ذات پات کے نظام میں ’اچھوت‘ مانا جاتا ہے)۔ تقریباً ۶۷ فیصد خواتین زرعی مزدور دلت ہیں۔ سب سے زیادہ استحصال کی شکار ان عورتوں کے لیے طبقہ، ذات اور صنف – تینوں ہی سب سے خراب دنیا ہیں۔

زمین کا مالکانہ حق ملنے سے غریب اور نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی عورتوں کی حالت بہتر ہوگی۔ اس کے بعد اگر انہیں کبھی دوسروں کے کھیتوں پر کام کرنا بھی پڑا، تو اس سے انہیں بہتر مزدوری کے لیے مول تول کرنے میں مدد ملے گی۔ اور پیسے تک اُن کی رسائی میں اضافہ ہوگا۔

اس سے خود اُن کی اور ان کے گھر والوں کی غریبی کم ہوگی۔ مرد اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ خود اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں، جب کہ عورتیں اپنی پوری کمائی فیملی پر خرچ کرتی ہیں۔ اور اس سے سب سے زیادہ فائدہ بچوں کا ہوتا ہے۔

PHOTO • P. Sainath

یہ خود اُن کے لیے اچھا ہے، ان کے بچوں اور فیملی کے لیے اچھا ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان سے اگر غریبی کو مٹانا ہے، تو عورتوں کے زمین سے متعلق حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔ مغربی بنگال جیسی ریاستوں نے از سر نو تقسیم کی گئی زمین کے ۴ لاکھ معاملوں میں مشترکہ پٹّہ دے کر اس کی شروعات کی ہے۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

چونکہ عورتوں کے کھیت جوتنے پر پابندی ہے، اس لیے پرانا نعرہ ’’زمین اُس کی جو کھیت جوتے‘‘ کو ہٹا کر یہ نعرہ دینے کی ضرورت ہے، ’’کھیت اُس کا جو اُس پر کام کرے‘‘۔

PHOTO • P. Sainath

مترجم: محمد قمر تبریز

P. Sainath is Founder Editor, People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought'.

Other stories by P. Sainath
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez