فوٹوگرافی کے عالمی دن، ۱۹ اگست، کے موقع پر ’پاری‘ کرناٹک کے باندی پور نیشنل پارک کی شاندار تصویریں پیش کر رہا ہے۔ وہاں کے جنگلات، جنگلی حیات اور انسانوں کو کسی سیاح یا پروفیشنل فوٹوگرافر کے لینس سے نہیں، بلکہ اس پارک کے اندر اور اس کے ارد گرد رہنے والے باشندوں کی آنکھوں سے دیکھیں۔

تصویر پر مبنی یہ مضامین اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ کیسے انفرادی طور پر کچھ لوگ کسی اور کا موضوع بننے کی بجائے، فوٹوگرافی کے ذریعے خود اپنی کہانی بیان کر سکتے ہیں۔ میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر خوبصورتی سے کھینچی گئی تصویروں کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن ان لوگوں کی کہانیوں کا کیا جو دنیا سے غائب ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے، اور سب سے خطرناک جانوروں کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں؟ اس ماحول میں زندگی کیسی ہوگی جہاں انسانوں اور جانوروں دونوں میں ایک دوسرے کو مارنے، اور مارے جانے کا امکان ہو؟ ویسی کہانیاں کسے بیان کرنی چاہئیں؟

اسی نے باندی پور کی کتاب تیار کرنے پر آمادہ کیا۔ سال ۲۰۱۵-۲۰۱۶ میں چھ مہینے کے دوران، چھ افراد – کسانوں، مزدوروں، جنگلی حیات کے ماہرین، آدیواسیوں اور دیگر نے باندی پور نیشنل پارک کے کنارے اپنی روزمرہ کی زندگیوں اور زندگی کے تجربات کو دستاویزی شکل دی۔ یہ شیر (ٹائیگر)، تیندوا، ہاتھی اور دیگر قابل ذکر جنگلی جانوروں کے لیے دنیا کی سب سے اہم پناہ گاہوں میں سے ایک ہے۔

اس دستاویز کے کئی تخلیق کاروں نے کیمرے کا استعمال پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ البتہ وہ ایک گروپ کی شکل میں اس موضوع پر بات چیت کرنے کے لیے آپس میں میٹنگ ضرور کرتے تھے کہ کیسے کام کرتے وقت، کھیل کے دوران اور غیر متوقع طور پر ان کا سامنا غیر انسانی زندگی سے ہو جاتا ہے۔ ان کے مضامین سے پتہ چلتا ہے کہ باندی پور میں سماجی زندگی کی کئی سطحیں ہیں۔ اس دنیا کو منظر عام پر لانا، اس کی آواز سننا بھی اس پروجیکٹ کا ایک حوصلہ افزا عنصر تھا۔

ان میں سے کچھ فوٹوگرافروں کے مطابق، باندی پور اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کیسے جنگلی حیات کے تحفظ کے نام پر صدیوں سے چلی آ رہی ان برادریوں کی زمین کو ہڑپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ لوگوں کی نظر میں باندی پور جیسے علاقوں کی خاص طور پر حفاظت کرنا ہندوستان کی خطرے میں پڑ چکی جنگلی حیات کو بچانے کا واحد راستہ ہے۔ مجموعی طور پر، ان کے تصویری مضامین ہمیں جنگلی حیات کے تحفظ کے متعلق سماجی انصاف کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، یہ تصویریں آپ کو یہ بھی بتاتی ہیں کہ مستقبل میں تحفظ کے بارے میں سوچتے وقت ہمیں بطور ’’ماہرین‘‘ کس کی جانب رخ کرنا چاہیے۔

PHOTO • Jayamma Belliah

جَیَمّا بیلیہ جینو کُروبا آدیواسی ہیں، جو ہندوستان میں شیروں کے سب سے بڑے مسکن میں سے ایک، باندی پور نیشنل پارک کے کنارے واقع اننجی ہُنڈی گاؤں میں رہتی ہیں۔ وہ ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر اپنی روزی روٹی کماتی ہیں۔

ان کی اسٹوری پڑھیں: جب جَیَمّا نے تیندوے کو دیکھا

PHOTO • Nagi Shiva

ناگی شوا ہندوستان میں شیروں کے سب سے بڑے مسکن میں سے ایک، باندی پور نیشنل پارک کے کنارے واقع لوکّیر گاؤں میں رہتی ہیں۔ وہ ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر اپنی روزی روٹی کماتی ہیں۔

ان کی اسٹوری پڑھیں: ’ہمارے پاس پہاڑیاں اور جنگل ہیں، ہم یہیں رہتے ہیں‘

PHOTO • K. Sunil

کے سنیل سولیگا آدیواسی ہیں، جو کرناٹک میں باندی پور نیشنل پارک کے کنارے واقع کنیان پورہ کالونی میں رہتے ہیں۔ وہ سائنس کے طلبہ کے لیے بطور فیلڈ گائیڈ کام کرتے ہیں۔

ان کی اسٹوری پڑھیں: باندی پور میں فصل والے گھر

PHOTO • K.N. Mahesha

کے این مہیشا ایک تربیت یافتہ نیچری اور کاشت کار ہیں، جو کُناگ ہلّی گاؤں میں رہتے ہیں؛ وہ کرناٹک کے باندی پور نیشنل پارک میں کام کرتے ہیں۔

ان کی اسٹوری پڑھیں: باندی پور کے پرنس سے قریبی سامنا

PHOTO • M. Indra Kumar

ایم اندر کمار کرناٹک کے باندی پور نیشنل پارک کے قریب واقع منگلا گاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ مقامی جنگلی حیات کی ایک یادگاری دکان میں بطور مینیجر کام کرتے ہیں۔

ان کی اسٹوری پڑھیں: ’یہی وہ جگہ ہے جہاں تیندوا اور ٹائیگر حملہ کرتے ہیں‘

PHOTO • N. Swamy Bassavanna

این سوامی بَسّوَنّا ایک کسان ہیں، جو ہندوستان میں شیروں کے سب سے بڑے مسکن میں سے ایک، باندی پور نیشنل پارک کے کنارے رہتے ہیں۔

ان کی اسٹوری پڑھیں: ’میں نے جب یہ تصویر کھینچی اس کے بعد ہی یہ بچھڑا غائب ہوگیا‘

اس کام کو جیئرڈ مارگلیز نے کرناٹک کے منگلا گاؤں میں واقع مریَمّا چیریٹیبل ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا۔ یہ ۲۰۱۶۔ ۲۰۱۵ کے فل برائٹ نہرو اسٹوڈنٹ ریسرچ گرانٹ کی وجہ سے ممکن ہو پایا، جو کہ یونیورسٹی آف میری لینڈ بالٹی مور کاؤنٹی  کا ایک گریجویٹ اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن ریسرچ گرانٹ ہے، ساتھ ہی اسے مریما چیریٹیبل ٹرسٹ سے بھی مدد ملی۔ لیکن اس میں سب سے بڑی شراکت خود فوٹوگرافرز کی رہی، جنہوں نے پوری تندہی اور محنت سے کام کیا۔ متن کا ترجمہ کرتے وقت بی آر راجیو کا قیمتی تعاون بھی شامل حال رہا۔ تمام تصویروں کے کاپی رائٹس، پاری کے کریٹو کامنس یوز اور ری پروڈکشن پالیسیوں کے مطابق، پوری طرح سے فوٹوگرافرز کے پاس محفوظ ہیں۔ ان کے استعمال یا دوبارہ اشاعت سے متعلق کوئی بھی سوال پاری سے کیا جا سکتا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez