Master Page-Independence day 2015-3.jpg

دیہی ہندوستانی آزادی کے پیدل سپاہی بھی تھے اور نوآبادیات کے خلاف اب تک لڑی جانے والی سب سے بڑی لڑائیوں میں سے کچھ کے لیڈر بھی۔ ان میں سے لاتعداد ہزاروں لوگوں نے ہندوستان کو برطانوی حکومت سے آزاد کرانے کے لیے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ اور ان میں سے بہت سے اُن سخت مظالم کے باوجود ہندوستان کو آزاد دیکھنے کے لیے زندہ بچ گئے، تو انھیں جلد ہی بھُلا دیا گیا۔ ۱۹۹۰ کی دہائی کے آگے سے، میں نے آخری بچے مجاہدینِ آزادی میں سے متعدد کی زندگیوں کو ریکارڈ کیا ہے۔ یہاں پر آپ کو ان میں سے پانچ کی کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی:

جب سالیہان نے راج سے لوہا لیا MAIN THUMBNAIL-02-Salihan_1002-PS-When_Salihan_took_on_the_.max-165x165.jpg




پنی مارا کے آزادی کے پیدل سپاہی ۔ ۱ MAIN THUMBNAIL-01-1002-PS-Foot_Soldiers_of_Freedom-Panimara.max-165x165.jpg




پنی مارا کے آزادی کے پیدل سپاہی ۔ ۲ MAIN THUMBNAIL-03-2006-PS-Foot_Soldiers_of_Freedom-Panimara.max-165x165.jpg




لکشمی پانڈا کی آخری لڑائی MAIN THUMBNAIL-dsc01711.max-165x165.jpg





عدم تشدد کی نو دہائیاں MAIN THUMBNAIL-bhaji_mohammad_nabrangpur_1826_ev.max-165x165.jpg





اس کے ساتھ ہی پانچ دیگر کہانیوں کا ایک سیٹ بھی ہے، جو سب سے پہلے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوئی تھیں، انھیں یہاں دوبارہ مزید تصویروں کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ ’بُھلائی جا چکی آزادیاں‘ سیریز کا تانا بانا اُن گاؤوں کے ارد گرد بُنا گیا ہے جو عظیم بغاوتوں کا گہوارہ تھے۔ ہندوستانی آزادی شہری امیروں کے ایک مجمع کی کہانی نہیں تھی۔ دیہی ہندوستانیوں نے اس میں کہیں بڑی تعداد میں حصہ لیا اور وہ بھی ایک سے کہیں زیادہ قسم کی آزادی کے لیے۔ مثال کے طور پر، ۱۸۵۷ کی بہت سی لڑائیاں، گاؤوں میں اسی وقت لڑی جا رہی تھیں، جب ممبئی اور کولکاتا کے امراء انگریزوں کی کامیابی کے لیے دعا کرنے کے واسطے میٹنگیں کر رہے تھے۔ آزادی کے ۵۰ویں سال، یعنی ۱۹۹۷ میں، میں نے اُن میں سے چند گاؤوں کا دورہ کیا، جہاں کے بارے میں آپ کو درج ذیل کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی:

شیرپور: بڑی قربانی، چھوٹی یاد MAIN THUMBNAIL-01-MISC-12_28A-PS-Sherpur-big_sacrifice_shor.max-165x165.jpg

https://ruralindiaonline.org/articles/sherpur-big-sacrifice-short-memory/


گوداوری: اور پولیس کو اب بھی حملے کا انتظار ہے MAIN THUMBNAIL-01-TOI-FS_21-PS-Godavari-and_the_police_stil.max-165x165.jpg




سوناکھن: جب ویر نارائن سنگھ دو بار مرے MAIN THUMBNAIL-06-MISC_039_18A-PS-Sonakhan-when_Veer_Naraya.max-165x165.jpg




کلیاسیری: سوموکان کی تلاش میں MAIN THUMBNAIL-01-008-PS-_Kalliasseri-In_Search_of_Sumukan.max-165x165.jpg




کلیاسیری: ۵۰ کی عمر میں بھی لڑتے ہوئے MAIN THUMBNAIL-01-011-PS-Kalliasseri-Still_Fighting_at_50.max-165x165.jpg





دس کہانیاں، ہندوستان کے ۶۹ویں یومِ آزادی کے موقع پر یاد کرنے کے لیے۔

آزادی کی دس کہانیاں۔

( پاری ، آخری بچ گئے مجاہدینِ آزادی، جو اَب اپنی عمر کے ۹۰ویں سال میں ہیں، کا پتہ لگانے اور ان کی زندگیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مسلسل کوشاں ہے ) ۔

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

P. Sainath is Founder Editor of the People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought'.

Other stories by P. Sainath