آج اگر وِشال زندہ ہوتا، تو وہ کیا کر رہا ہوتا؟ نوعمر وِشال شاید پتنگ اُڑا رہا ہوتا، یا پھر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا ہوتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ خاندان کے دو ایکڑ کھیت پر کام کر رہا ہوتا یا پھر ایک مزدور کی طرح کچھ اور کر رہا ہوتا، جیسا کہ وہ کبھی کبھار کیا کرتا تھا۔

لیکن وِشال کھُلے کی پچھلے سال نومبر میں دیوالی کے ٹھیک ۱۰ دن بعد اُس وقت موت ہوگئی، جب اس نے اپنے والد کے ذریعے کھیت میں لگے کیڑوں کو مارنے والی دوائی کی پوری بوتل پی لی۔ اُس دن وِشال نے سفید رنگ کی ایک شکن زدہ قمیض اور نیلی پینٹ پہن رکھی تھی، جیسا کہ پولس ریکارڈ میں درج ہے۔ وِشال ابھی ۱۶ سال کا بھی نہیں ہوا تھا۔


02-IMGP0670(Feature Image)-JH-This is the darkest period of our life.jpg

اکولا کے دادھم گاؤں میں: وِشال کے والد، وشوناتھ کھُلے اور اس کی غم زدہ ماں شیلا (دائیں جانب)؛ بڑا بھائی ویبھو اور ان کے پڑوسی جانکی رام کھُلے، وِشال کے ’کاکا‘ (بائیں جانب)


’’وہ یہاں پر گرا تھا،‘‘ اس کے والد، وشوناتھ کھُلے نے دو کمروں والی جھونپڑی، جہاں پر یہ خاندان رہتا ہے، کی کھڑکی سے نیچے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’اس کی ماں بغل کے باورچی خانہ میں چپاتی (روٹی) بنا رہی تھی۔ میں وہاں باہر بیٹھا ہوا تھا،‘‘ سامنے کے دالان کی طرف دیکھتے ہوئے انھوں نے مزید بتایا۔ جب ان کا بیٹا دَھم کی آواز کے ساتھ زمین پر گرا، تو شیلا کھُلے کمرے کی طرف بھاگیں، جہاں ان کا بیٹا وِشال زمین پر پڑا ہوا تھا، ’’اس کے منھ سے سفید جھاگ نکل رہا تھا۔‘‘ کیڑے مار دوا کی خالی بوتل اس کے بغل میں پڑی ہوئی تھی۔ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وِشال کی موت ہو گئی۔


03-IMGP0674-JH-This is the darkest period of our life.jpg

دو کمروں والے گھر کا وہ حصہ، جہاں وِشال نے کیڑے مار دوا کی شیشی پی لی تھی


’’یہ ہماری زندگی کا سب سے سیاہ دور ہے،‘‘ وشوناتھ نے کہا۔

۱۵۰۰ کی آبادی والا دادھم اس علاقے کے سب سے غریب گاؤوں میں سے ایک ہے۔ مغربی وِدربھ، مہاراشٹر کا وہ علاقہ جو کاٹن اور سویابین کی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے، کے سب سے بڑے شہر اکولا سے یہ گاؤں ۲۵ کلومیٹر دور ہے۔ یہ علاقہ ۱۹۹۰ کی دہائی کے وسط سے ہی کسانوں کی لگاتار خودکشی کے سبب خبروں میں رہا ہے۔ اس علاقے میں قحط کا سلسلہ لگاتار جاری ہے اور کئی برسوں سے یہاں کاشت کاری کا بحران چلا آ رہا ہے، جو کہ خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے۔

وِدربھ اور مراٹھواڑہ، جو کہ مہاراشٹر کے مشرقی اور وسطی علاقے ہیں، کے کسانوں کی خودکشی کی رپورٹنگ ہوتی رہی ہے اور حکومت بھی اسے تسلیم کرتی ہے، لیکن اسی سے جڑا ہوا ایک اور المیہ ہے، جس پر ابھی تک کسی کی توجہ نہیں گئی ہے اور وہ ہے قرض کے بوجھ سے لدے ہوئے کسانوں کے نوجوان بچوں کی خودکشی۔ (یہاں کے کسانوں کے بچے ماضی میں بھی خودکشی کرتے رہے ہیں، لیکن اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق پچھلے دو برسوں میں اس میں کافی اضافہ ہوا ہے۔)

ہندوستان میں زراعت کی خستہ حالی کے سبب کتنے بچوں (۱۸ سال کی عمر سے کم؛ یا ۲۰ سال سے چھوٹے نوجوانوں) نے خودکشی کی ہے، اس کی کوئی مستند تعداد تو موجود نہیں ہے، لیکن سال ۲۰۰۵ میں مہاراشٹر حکومت کے ذریعے گھر گھر جاکر حاصل کی گئی معلومات اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز اور اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ ریسرچ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کسانوں کے گھروں میں پرورش پا رہے بچوں پر قرض اور زرعی خستہ حالی کا اثر پڑ رہا ہے۔ کسانوں کے بہت سے نوعمر بچوں کو اپنے والدین کا قرض وراثت میں ملتا ہے، جس کی وجہ سے انھیں بالغوں کی ذمہ داریاں نبھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، انھیں اپنا اسکول چھوڑنا پڑتا ہے، کھیتوں کی جُتائی کرنی پڑتی ہے، یہاں تک کہ یہ بچے تناؤ کے بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف اس قرض کی وجہ سے کم عمری میں ہی لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے، تاکہ گھر پر کم لوگوں کو کھلانے کا بوجھ والدین پر آئے۔

راقم الحروف نے اس قسم کی خودکشی کے متعدد واقعات کو قلم بند کیا ہے، خاص کر ان گھروں کے جہاں پہلے ہی خودکشیاں کی جا چکی ہیں۔ بعض دفعہ کسانوں کے بچے اس لیے خود کشی کر لیتے ہیں، کیوں کہ انھیں اس بات کا خوف لاحق ہوتا ہے کہ اگر وہ نہیں کریں گے، تو ان کے والدین ’بے غرض خودکشی‘ کے شکار ہو جائیں گے۔ اسی طرح کا ایک نہایت ہی تکلیف دہ واقعہ ۲۰۰۵ کا ہے، جب ۱۹ سالہ نیتا بھوپٹ نے مہاراشٹر کے آسرا گاؤں میں پھانسی کا پھندہ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔

خودکشی سے قبل مراٹھی زبان میں صاف اور خوشخط تحریر میں اس نے لکھا تھا کہ ’’اگر میں خودکشی نہیں کروں گی، تو میرے والد (اپنی زندگی ختم کر لیں گے)؛ میری فیملی ایک مہینہ میں ہزار روپے بھی نہیں کما سکتی۔ میری دو چھوٹی بہنیں ہیں۔ میرے والدین ہماری شادی کا بھی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے، کیوں کہ ہمارے پاس کھانے تک کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس لیے میں اپنی زندگی ختم کر رہی ہوں۔‘‘ اس نے لکھا تھا کہ اس کے اس فیصلہ کے لیے کسی اور کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ خودکشی ہی وہ ذریعہ تھا، جس کے توسط سے وہ اپنے والدین کے تناؤ کو کچھ حد تک کم کر سکتی تھی۔

قحط اور جد و جہد

اگلی خریف (مانسون) کی فصل کو اُگنے میں ابھی چند مہینے باقی ہیں، لیکن دادھم کے لوگ اب بھی وِشال کھُلے کی خودکشی کو بھول نہیں پائے ہیں۔ پانی کی زبردست کمی گرمی کے اس موسم میں پہلے سے ہی گاؤں والا کا امتحان لے رہی ہے۔ پورا ہی علاقہ بنجر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مقامی اخبارات کی رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ دادھم کے لوگوں کو پانی کے لیے ہر دوسرے دن ٹینکر سے سپلائی کا انتظار کرنا پڑتا ہے، یا پھر پینے کا پانی لانے کے لیے کئی کلومیٹر پیدل جانا پڑتا ہے۔ ان کی مصیبت یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ گاؤں میں ان کے لیے کام بھی کوئی نہیں بچا ہے۔

تین موسم سے قحط کی وجہ سے ’’یہ نہایت ہی خستہ سال ہے‘‘۔ یہ بات اکولا کے ڈسٹرکٹ کلکٹر جی سری کانتھ نے سال کے شروع میں اپنے آفس میں کہی تھی۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’’ہم نے پچھلے (سال) ستمبر میں آئندہ گرمی کے موسم کی تیاری شروع کر دی تھی،‘‘ حالانکہ سرکاری طور پر ۲۰۱۵ کا مانسون پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔

پچھلے سال مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ، وِدربھ اور مشرقی علاقوں کی طرح، اکولا ضلع میں بھی سالانہ بارش کا صرف ۶۰ فیصد، یعنی ۶۹۲ ملی میٹر پانی ہی برسا۔ ’’یعنی تقریباً ۵۰۰ ملی میٹر بارش،‘‘ شری کانتھ نے کہا، ’’جو کہ بہت خراب نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس میں سے دو دنوں میں ۴۰۰ ملی میٹر 

بارش ہوئی، ۴ اور ۵ اگست کو۔‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ کھیتوں میں پانی بھر گیا اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کا موقع نہیں مل سکا۔

ہندوستانی محکمۂ موسمیات اور پُنے کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹریولوجی اور موسمیاتی تبدیلی کا مطالعہ کرنے والے دیگر تحقیقی اداروں کے مطابق، مانسون کا اس قسم کا بدلتا پیٹرن نیا اور خطرناک ہے، جس میں ایک ہی دن میں اتنا پانی برس جاتا ہے اور بارش کے دنوں میں لمبا وقفہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اکولا میں پچھلے سال، ۵ اگست کے بعد اگلے ۴۱ دنوں تک پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں برسا، جس کی وجہ سے لمبے عرصے تک سوکھا پڑا رہا۔ کلکٹر نے مزید کہا کہ ’’ہر فصل برباد ہو گئی، چاہے وہ سویابین ہو، کاٹن ہو یا پھر تور‘‘۔

چونکہ بیچنے کے لیے کوئی فصل نہیں تھی، اور گھریلو اخراجات اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیسہ نہیں تھا، لہٰذا کھُلے فیملی کو ساہوکار سے پیسہ قرض لینا پڑا۔ ان کے بینک ریکارڈس کے مطابق، پچھلے پانچ برسوں سے ان کے اوپر بینک کا بھی ۵۰ ہزار روپیہ بقایا تھا۔

کھُلے برادری کا تعلق اندھ قبیلہ سے ہے اور یہ نہایت غریب کسان ہیں۔ وہ صرف کھانے بھر پیسہ ہی کما پاتے ہیں اور وِشال کھُلے کی موت نے ان کی زندگی کو مزید خستہ حال بنا دیا ہے۔ حال ہی میں نائب تحصیل دار کے طور پر سرکاری نوکری سے ریٹائر ہونے والے ان کے پڑوسی، جانکی ناتھ کھُلے بتاتے ہیں کہ اس کی ماں مشکل سے ہی بول پاتی ہے۔ وِشال کی دو بہنیں، جو شادی شدہ ہیں، باری باری سے ماں کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر آتی رہتی ہیں، جیسا کہ انھوں نے بتایا۔ وِشال کا بڑا بھائی وَیبھو، جو ۱۸ سال کا ہے، اس نے ۱۰ویں جماعت کے بعد اسکول چھوڑ دیا اور اب وہ چھوٹا موٹا کام کر لیتا ہے۔


04-IMGP0671-JH-This is the darkest period of our life.jpg

دَھم کی آواز کے ساتھ جب ان کا بیٹا گرا، تو شیلا بغل کے باورچی خانہ سے اس کے کمرے کے طرف بھاگیں، جہاں وِشال زمین پر پڑا ہوا تھا


گاؤں کے بزرگ، جانکی ناتھ کھُلے کے مطابق، وِشال کی خودکشی، غریبی کی وجہ سے بڑھتا ہوا اس کا تناؤ اور احساسِ محرومی کا امتزاج تھی۔

’’وہ مجھ سے اکثر گاؤں کی غربت اور اپنے اور اپنے ہم جماعت بچوں کے درمیان فرق کا ذکر کیا کرتا تھا،’’ کھُلے نے بتایا، جنہیں وِشال پیار سے کھُلے کاکا کہہ کر بلایا کرتا تھا۔ ’’(وشال نے) اپنے والدین کی پریشانیوں کے بارے میں بتایا تھا، اور یہ بات اس کے دل میں گھر کر گئی تھی کہ ان کی یہ حالت کبھی بہتر نہیں ہوگی۔‘‘

حالیہ برسوں میں، وشال اور ویبھو کھیتوں پر اپنے والد کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ سال ۲۰۰۵ میں خریف کی فصل، خاص کر سویابین کی فصل خراب ہو گئی۔ حالانکہ انھوں نے کھیتوں پر جو دالیں اُگائی تھیں، وہ اچھی قیمتوں پر فروخت ہوئیں، لیکن کم بارش کی وجہ سے باقی فصلیں برباد ہو گئیں۔ وِشال کے والد نے سردی کے موسم میں مونگ کی دال بوئی تھی، کیوں کہ صوبائی حکومت نے جد و جہد کر رہے ان کسانوں کے درمیان اس کے بیج مفت تقسیم کیے تھے۔ لیکن گاؤں والوں کے مطابق، راحت رسانی کا یہ قدم بھی کوئی کام نہ آسکا، کیوں کہ پودے کے لیے ضروری پانی یا نمی کھیتوں میں نہیں تھی۔

وشو ناتھ کھُلے نے بتایا کہ، چونکہ کھیتوں میں اب کوئی کام باقی نہیں رہ گیا تھا، اس لیے دونوں بھائی اسکول کی چھٹی میں کام کی تلاش میں اکولا گئے، تاکہ روزانہ کی کوئی مزدوی تلاش کر سکیں، لیکن انھیں خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔ کھُلے کاکا نے آگے بتایا کہ وِشال اس بات کو لے کر کافی پریشان تھا کہ وہ اپنے لیے ایک جوڑی کپڑا بھی نہیں بنوا سکتا، یا پھر قرض چکانے میں اپنے والد کی مدد نہیں کر سکتا۔

اس قسم کی خودکشی صرف وِشال ہی نے نہیں کی۔ پچھلے سال اکتوبر میں، اکولا سے ۴۰۰ کلومیٹر دور لاتور ضلع میں، ایک کسان کی ۱۷ سالہ بیٹی نے بھی خودکشی کر لی تھی۔ وہ جونیئر کالج کی ایک طالبہ تھی۔

اپنی تحریر میں سواتی پِٹالے نے کچھ تفصیل کے ساتھ یہ بتایا تھا کہ وہ خود کشی کیوں کر رہی ہے۔ اس نے مراٹھی میں لکھا تھا کہ وہ اپنے والد کے دُکھ کو برداشت نہیں کرسکتی، اور ان کا بوجھ نہیں بننا چاہتی۔ وہ جلد ہی شادی کے لائق ہونے والی تھی، اور نہیں چاہتی تھی کہ اس کی شادی کے انتظامات کے لیے اس کے والد کو مزید پیسے خرچ کرنے پڑیں۔ اپنی تحریر میں اس نے اپنے والد کو قرض دینے والے بینک اور ساہوکار سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کے والد کو ہراساں نہ کریں، کیوں کہ بقول اس کے، وہ اپنا قرض اس کی بڑی بہن کی شادی ہوتے ہی ضرور چُکا دیں گے۔

سواتی نے کچھ دنوں سے کالج جانا بھی بند کر دیا تھا، کیوں کہ اس کا ماہانہ بس پاس ختم ہو گیا تھا اور اس کے والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اسے نیا پاس بنانے کا پیسہ دے سکیں۔ اس کی ماں نے ایک پڑوسی سے پاس کے لیے ۲۶۰ روپے قرض لیے تھے، لیکن چونکہ سواتی اہم کلاسوں میں شریک نہیں ہو سکی تھی، اس لیے امتحان نہیں دے پائی۔ مقامی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق، سواتی نے جس وقت کن گاؤں میں واقع اپنے کھیت میں حشرہ کش دوا پی تھی، اس وقت اس کے والد کام کی تلاش میں کرناٹک گئے ہوئے تھے۔

دادھم میں ویبھو بے چین دکھائی دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ گھر کا چولھا جلتا رہے، اس کے لیے اسے کوئی نہ کوئی کام کرنا ہی پڑے گا۔ ۱۸ سال کی عمر میں وہ اپنے والد کا آخری سہارا ہے، اور شاید اکلوتا بھی۔


 (مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

جے دیپ ہاردیکر ایک صحافی، مصنف، محقق، کرکٹ شائق اور ’پاری‘ والنٹیئر ہیں۔ وہ انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلی گراف‘ کے وسطی ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار اور ’اے وِلیج اویٹس ڈومس ڈے‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں:  @journohardy


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar