پھول وتیا اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں، جب کہ ان کا چھوٹا بھائی، ۱۲ سالہ شنکر لال، دن میں آخری بار اپنی سائیکل چلا رہا ہے – قریب کے نیم کے درخت تک۔ ’’آج میں خود سے تھوڑی دور تک چلاؤں گی اور جلدی واپس آ جاؤں گی،‘‘ ۱۶ سالہ پھول وتیا کہتی ہیں۔ ’’کل سے اگلے پانچ دنوں تک، میں ویسے بھی سائیکل نہیں چلا پاؤں گی۔ کپڑے کا استعمال کرتے ہوئے یہ جوکھم بھرا ہوتا ہے،‘‘ وہ سڑک کنارے کتّے کے ایک بچہ کو پیار کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

پھول وتیا (بدلا ہوا نام) کو اپنا حیض کل سے شروع ہونے کی امید ہے۔ لیکن اس بار – پہلے کے مہینوں کے برعکس – انہیں اپنے اسکول سے مفت سینیٹری نیپکن نہیں ملے گا۔ ’’ہمیں وہاں سے عام طور پر ہمارے پیریڈ شروع ہونے پر ہی پیڈ ملتے ہیں۔ لیکن اب میں کپڑے کے جس ٹکڑے کا بھی استعمال کر سکوں، کروں گی۔‘‘

اترپردیش کے چترکوٹ ضلع میں ان کا اسکول، ملک کے دیگر سبھی اسکولوں کی طرح ہی، کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب بند ہے۔

پھول وتیا اپنے والدین اور دو بھائیوں کے ساتھ، کروی تحصیل کے تروہا گاؤں کی ایک بستی، سونپور میں رہتی ہیں۔ ان کی دو بہنیں بھی ہیں، جو شادی شدہ ہیں اور کہیں اور رہتی ہیں۔ پھول وتیا نے ۱۰ویں کلاس کے امتحانات دیے تھے اور ۱۰ دن کی چھٹی کے بعد دوبارہ اسکول جانے ہی والی تھیں کہ تبھی ۲۴ مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا۔ وہ کروی بلاک کے راجکیہ بالیکا انٹرکالج میں پڑھتی ہیں۔

’’میں کپڑے کا کوئی ایسا ٹکڑا تلاش کروں گی، جس کا کوئی اور استعمال نہ ہو رہا ہو – اور اس کا استعمال کروں گی۔ اسے دوسری بار استعمال کرنے سے پہلے میں اسے دھوؤں گی،‘‘ پھول وتیا کہتی ہیں۔ غبار کی ایک لکیر – شاید ننگے پاؤں چلنے سے – پالش کیے ان کے پیر کے چمکتے ہوئے ناخنوں پر جم گئی ہے اور ان کے سانولے پیروں کی خوبصورتی بڑھا رہی ہے۔

Phoolwatiya, 16, says, 'We normally get pads there [at school] when our periods begin. But now I will use any piece of cloth I can'
PHOTO • Jigyasa Mishra

۱۶ سالہ پھول وتیا کہتی ہیں، ’ہمیں وہاں سے [اسکول میں] عام طور پر ہمارے پیریڈ شروع ہونے پر ہی پیڈ ملتے ہیں۔ لیکن اب میں کپڑے کے جس ٹکڑے کا بھی استعمال کر سکوں، کروں گی‘

پھول وتیا اکیلی نہیں ہیں۔ اترپردیش میں ان کے جیسی ۱۰ ملین (۱ کروڑ) سے زیادہ لڑکیاں مفت سینیٹری پیڈ کے لیے اہل ہیں – جسے انہیں اسکولوں کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہوتا۔ ہم یہ معلوم نہیں کر سکے کہ درحقیقت پھول وتیا جیسی کتنی اور لڑکیوں کو یہ مل رہے تھے۔ لیکن پھر بھی، اگر یہ اس تعداد کا ۱۰واں حصہ بھی ہوتا، تو غریب گھروں کی ایسی دس لاکھ سے زیادہ لڑکیاں ہوں گی جنہیں اس وقت مفت سینیٹری نیپکن نہیں مل پا رہا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کی ہندوستان میں اسکولی تعلیم نامی ایک رپورٹ کے مطابق، یوپی میں کلاس ۶ سے ۱۲ تک کی لڑکیوں کی تعداد ایک کروڑ ۸۶ ہزار ہے۔ یہ ۲۰۱۶-۱۷ کا ڈیٹا ہے، جس کے بعد کے برسوں کا کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

کشوری سُرکشا یوجنا (ملک کے ہر بلاک کا احاطہ کرنے والا حکومت ہند کا ایک پروگرام) کے تحت، کلاس ۶ سے ۱۲ تک کی لڑکیاں مفت سینیٹری نیپکن پانے کی حقدار ہیں۔ اترپردیش میں اس پروگرام کی شروعات ۲۰۱۵ میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے ذریعے کی گئی تھی۔

*****

کپڑے کو دھونے کے بعد وہ اسے کہاں سکھاتی ہیں؟ ’’میں اسے گھر کے اندر کسی ایسی جگہ پر رکھ دیتی ہوں، جہاں کسی کی نظر نہ پڑے۔ میں اپنے والد یا بھائیوں کو اسے دیکھنے نہیں دے سکتی،‘‘ پھول وتیا کہتی ہیں۔ حیض میں استعمال کیے گئے اور دھوئے ہوئے کپڑے کو دھوپ میں نہیں سُکھانا یہاں کی بہت سی لڑکیوں اور عورتوں کے درمیان ایک عام بات ہے – جیسا کہ دیگر مقامات پر بھی ہوتا ہے – تاکہ اسے گھر کے مردوں کی نظروں سے چھپایا جا سکے۔

Before the lockdown: Nirasha Singh, principal of the Upper Primary School in Mawaiya village, Mirzapur district, distributing sanitary napkins to students
PHOTO • Jigyasa Mishra

لاک ڈاؤن سے پہلے: مرزاپور ضلع کے مویا گاؤں کے اپر پرائمری اسکول کی پرنسپل نراشا سنگھ، طالبات کو سینیٹری نیپکن تقسیم کرتے ہوئے

کپڑے کو دھونے کے بعد وہ اسے کہاں سُکھاتی ہیں؟ ’میں اسے گھر کے اندر کسی ایسی جگہ پر رکھ دیتی ہوں، جہاں کسی کی نظر نہ پڑے۔ میں اپنے والد یا بھائیوں کو اسے دیکھنے نہیں دے سکتی،‘ پھول وتیا کہتی ہیں۔ حیض میں استعمال کیے گئے اور دھوئے ہوئے کپڑے کو دھوپ میں نہیں سُکھانا ایک عام بات ہے

جیسا کہ یونیسیف کا کہنا ہے، ’’حیض کے بارے میں معلومات کی کمی سے غلط فہمیاں اور تفریق پیدا ہوتی ہے، اور اس سے لڑکیاں بچپن کے عام تجربات اور سرگرمیوں سے محروم رہ سکتی ہیں۔‘‘

’’حیض کے خون کو جذب کرنے کے لیے نرم سوتی کپڑے کا استعمال کرنا محفوظ ہے، مگر اسے ٹھیک سے صاف کیا، دھویا اور پھر دھوپ میں سیدھے سُکھایا گیا ہو۔ صرف تبھی جراثیم کے حملے سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر دیہی علاقوں میں اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے، اسی لیے اُن [لڑکیوں اور نوجوان عورتوں] کے شرمگاہوں میں انفیکشن ایک عام مسئلہ ہے،‘‘ لکھنؤ کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں خواتین کے امراض کی سینئر ڈاکٹر نیتو سنگھ کہتی ہیں۔ پھول وتیا جیسی لڑکیاں اب پیڈ کے بجائے میلے کپڑوں کا استعمال کرنے لگی ہیں – جس سے انہیں ایلرجی اور بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

’’اسکول میں ہمیں جنوری میں ۳-۴ پیکیٹ دیے گئے تھے،‘‘ پھول وتیا کہتی ہیں۔ ’’لیکن وہ اب ختم ہو گئے ہیں۔‘‘ اور ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ انہیں بازار سے خرید سکیں۔ اس کے لیے انہیں ہر مہینے کم از کم ۶۰ روپے خرچ کرنے ہوں گے۔ سب سے سستا، چھ کا ایک پیکیٹ ۳۰ روپے میں آتا ہے۔ انہیں ہر مہینے ایسے دو پیک کی ضرورت ہوگی۔

ان کے والد، ماں اور بڑے بھائی – سبھی یومیہ زرعی مزدور ہیں، جو عام دنوں میں ایک ساتھ مل کر تقریباً ۴۰۰ روپے روزانہ کما لیتے ہیں۔ ’’اب یہ گھٹ کر صرف ۱۰۰ روپے رہ گیا ہے اور کوئی بھی ہمیں کھیتوں میں کام نہیں دینا چاہتا ہے،‘‘ پھول وتیا کی ماں، ۵۲ سالہ رام پیاری اپنی پوتی کو کھچڑی کھلاتے ہوئے کہتی ہیں۔

تقسیم کے متبادل چینل یہاں موجود نہیں ہیں۔ ’’ہم ابھی بنیادی ضرورتوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، جو کہ راشن اور کھانا ہے۔ اس حالت میں زندگی کو بچانا ایک واحد ترجیح ہے،‘‘ چترکوٹ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شیش منی پانڈے نے بتایا۔

Ankita (left) and her sister Chhoti: '... we have to think twice before buying even a single packet. There are three of us, and that means Rs. 90 a month at the very least'
PHOTO • Jigyasa Mishra
Ankita (left) and her sister Chhoti: '... we have to think twice before buying even a single packet. There are three of us, and that means Rs. 90 a month at the very least'
PHOTO • Jigyasa Mishra

انکت (بائیں) اور اس کی بہن، چھوٹی: ’...ہمیں ایک سنگل پیکیٹ خریدنے کے لیے بھی دو بار سوچنا پڑتا ہے۔ ہم تین ہیں، اور اس کا مطلب ہے مہینے کے کم از کم ۹۰ روپے خرچ کرنا‘

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس۔۴) ہمیں بتاتا ہے کہ سال ۲۰۱۵-۱۶ میں ملک میں ۱۵-۲۴ سال کی ۶۲ فیصد نوجوان عورتیں حیض میں حفاظت کے طور پر ابھی بھی کپڑے کا استعمال کر رہی تھیں۔ اترپردیش میں یہ تعداد ۸۱ فیصد تھی۔

۲۸ مئی کو جب حیض کے دوران صاف صفائی کا دن آئے، تو اس محاذ پر خوش ہونے کے لیے بہت کچھ نہیں ہوگا۔

*****

یہ مسئلہ تمام ضلعوں میں عام ہے۔ ’’ہمیں لاک ڈاؤن سے ٹھیک ایک دن پہلے بہت سے نئے پیڈز ملے تھے اور اس سے پہلے کہ ہم انہیں لڑکیوں میں بانٹ پاتے، اسکول بند کرنا پڑا۔ لکھنؤ ضلع کے گوسائیں گنج بلاک میں واقع سلولی گاؤں کے اپر پرائمری اسکول کی پرنسپل، یشودانند کمار کہتی ہیں۔

’’میں نے اپنی طالبات کی حیض سے متعلق صحت کو ہمیشہ یقینی بنایا ہے۔ انہیں نیپکن دینے کے علاوہ، میں ہر مہینے لڑکیوں اور خواتین ملازمین کے ساتھ ایک میٹنگ کرتی ہوں، تاکہ حیض کے دوران صفائی کی اہمیت کے بارے میں ان سے بات کی جا سکے۔ لیکن اب اسکول تقریباً دو مہینے کے لیے بند ہو گیا ہے،‘‘ نراشا سنگھ فون پر بتاتی ہیں۔ وہ مرزاپور ضلع کے اپر پرائمری اسکول مویا گاؤں کی پرنسپل ہیں۔ ’’میری کئی طالبات کی رسائی پاس کی ان دکانوں تک نہیں ہے، جہاں سے انہیں پیڈ کا پیکیٹ مل سکتا ہے۔ اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کئی دیگر اس پر ہر مہینے ۳۰-۶۰ روپے خرچ نہیں کر رہی ہوں گی۔

واپس چترکوٹ ضلع میں، ۱۷ سالہ انکیتا دیوی اور ان کی ۱۴ سالہ بہن، چھوٹی (دونوں کے نام بدل دیے گئے ہیں) یقیناً اتنا پیسہ خرچ نہیں کر رہی ہوں گی۔ پھول وتیا کے گھر سے تقریباً ۲۲ کلومیٹر دور، چترا گوکل پور گاؤں میں رہنے والی دونوں نوجوان لڑکیوں نے بھی کپڑے کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کی ایک اور بہن بھی ایسا ہی کر رہی ہے، جو ان سے بڑی ہے، میں جب ان سے ملنے گئی تھی تو وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ دونوں بہنیں ایک ہی اسکول – چترا گوکل پور کے شیواجی انٹر کالج میں پڑھتی ہیں، جہاں انکیتا کلاس ۱۱ میں ہیں جب کہ چھوٹی کلاس ۹ میں۔ ان کے والد، رمیش پہاڑی (بدلا ہوا نام)، مقامی سرکاری دفتر میں ایک معاون کے طور پر کام کرتے ہیں اور تقریباً ۱۰ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پاتے ہیں۔

The Shivaji Inter College (let) in Chitara Gokulpur village, where Ankita and Chhoti study, is shut, cutting off their access to free sanitary napkins; these are available at a pharmacy (right) three kilometers from their house, but are unaffordable for the family
PHOTO • Jigyasa Mishra
The Shivaji Inter College (let) in Chitara Gokulpur village, where Ankita and Chhoti study, is shut, cutting off their access to free sanitary napkins; these are available at a pharmacy (right) three kilometers from their house, but are unaffordable for the family
PHOTO • Jigyasa Mishra

چترا گوکل پور گاؤں کا شیواجی انٹر کالج (بائیں)، جہاں انکیتا اور چھوٹی پڑھتی ہیں، بند پڑا ہے، جس کی وجہ سے انہیں مفت سینیٹری نیپکن نہیں مل پا رہے ہیں؛ یہ ان کے گھر سے تین کلومیٹر دور دوا کی ایک دکان (دائیں) پر دستیاب ہیں، لیکن اس فیملی کے لیے کافی مہنگے ہیں

’’معلوم نہیں ہمیں ان دو مہینوں کی تنخواہ ملے گی بھی یا نہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’گھر کا کرایہ دینا ابھی باقی ہے، یہ یاد دلانے کے لیے میرا مکان مالک مجھے فون کرتا رہتا ہے۔‘‘ رمیش بنیادی طور سے اترپردیش کے باندہ ضلع کے رہنے والے ہیں، اور کام کرنے کے لیے یہاں آئے تھے۔

انکیتا کا کہنا ہے کہ دوا کی قریب ترین دکان تین کلومیٹر دور ہے۔ ان کے گھر سے بمشکل ۳۰۰ میٹر کی دوری پر ایک جنرل اسٹور ہے، جہاں سینیٹری نیپکن کا ذخیرہ رہتا ہے۔ ’’لیکن ہمیں ۳۰ روپے کا ایک سنگل پیکیٹ خریدنے کے لیے بھی دو بار سوچنا پڑتا ہے،‘‘ انکیتا کہتی ہیں۔ ’’یاد رہے کہ ہم تین بہنیں ہیں، اور اس کا مطلب ہے مہینے کے کم از کم ۹۰ روپے خرچ کرنا۔‘‘

یہ واضح ہے کہ یہاں کی زیادہ تر لڑکیوں کے پاس پیڈ خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ’’لاک ڈاؤن کے بعد سینیٹری پیڈز کی فروخت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے،‘‘ رام برسیا کہتے ہیں، جن سے میں نے چترکوٹ کے سیتاپور شہر میں واقع ان کی دوا کی دکان پر بات کی تھی۔ اور ایسا لگتا ہے کہ دوسری جگہوں کا بھی یہی حال ہے۔

انکیتا مارچ میں اپنے ہائی اسکول کے امتحان میں بیٹھی تھیں۔ ’’وہ اچھے ہوئے تھے۔ میں کلاس ۱۱ میں بایو لوجی لینا چاہتی ہوں۔ بلکہ، میں نے کچھ سینئرز سے بایولوجی کی ان کی پرانی نصابی کتابیں مانگی تھیں، لیکن تبھی اسکول بند ہو گئے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

بایولوجی کیوں؟ ’’لڑکیوں اور عورتوں کا علاج کروں گی،‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’لیکن مجھے ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس پر آگے کیسے بڑھنا ہے۔‘‘

کور کا خاکہ: پرینکابورار نئے میڈیا کی ایک آرٹسٹ ہیں جو معنی اور اظہار کی نئی شکلوں کو تلاش کرنے کے لیے تکنیک کا تجربہ کر رہی ہیں۔ وہ سیکھنے اور کھیلنے کے لیے تجربات کو ڈیزائن کرتی ہیں، باہم مربوط میڈیا کے ساتھ ہاتھ آزماتی ہیں، اور روایتی قلم اور کاغذ کے ساتھ بھی آسانی محسوس کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گرہوں کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

 

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jigyasa Mishra

جِگیاسا مشرا اترپردیش کے چترکوٹ میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔ وہ بنیادی طور سے دیہی امور، فن و ثقافت پر مبنی رپورٹنگ کرتی ہیں۔

Other stories by Jigyasa Mishra