’’روئیے مت۔ ہم کچھ کرتے ہیں۔ میں کوشش کروں گی کہ آپ کو فوراً مدد مل جائے،‘‘ سنیتا بھوسلے کہتی ہیں۔ فون کال احمد نگر ضلع کے شری گونڈا تعلقہ کے کنسیواڑی گاؤں سے ہے۔

تقریباً ۸۰ سال کے شانتا رام چوہان کو گاؤں کے کچھ لوگوں کو اپنے کھیت میں پانی کی کیاری بنانے کے لیے بری طرح پیٹا ہے۔ ان کی بیٹی پِنٹی، انھیں احمد نگر کے سول اسپتال لے کر گئی ہیں۔ یہ ۴۰ سالہ پِنٹی ہیں جنہیں سنیتا فون پر بھروسہ دلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اس کے بعد وہ احمد نگر کے ایک رضاکار کو فون کرتی ہیں۔ ’’چوہان کو پھر پیٹا گیا ہے۔ ابھی پولس تھانے جاؤ۔ انھیں دفعہ ۳۰۷ [تعزیراتِ ہند کے تحت قتل کی کوشش] کے تحت معاملہ درج کرنے کے لیے کہو۔ اور مجھے مطلع کرتے رہو،‘‘ سنیتا کہتی ہیں اور فون کاٹ دیتی ہیں۔

کچھ پل کی خاموشی کے بعد، وہ غصہ سے کہتی ہیں، ’’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ ان کی زمین ہے۔ ان کے اوپر یہ دوسرا حملہ ہے۔ وہ ان کا ایک ہاتھ پہلے ہی توڑ چکے ہیں۔ کیا وہ اب انھیں مار دینا چاہتے ہیں؟‘‘

Sunita listening to a case over the phone
PHOTO • Jyoti Shinoli

سنیتا بھوسلے کو پاردھی مدد کے لیے اکثر فون کرتے رہتے ہیں

چوہان کی طرح ۳۳ سالہ سنیتا بھوسلے بھی پھانسے پاردھی برادری سے ہیں، جسے آدیواسی معاملوں کی وزارت کے ذریعے درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے طور پر درج بند کیا گیا ہے۔ یہ برادری کئی دہائیوں سے تفریق اور تشدد کا شکار ہوتی رہی ہے۔

نوآبادیاتی برطانوی حکومت کے ذریعے پاردھیوں کو، کئی دیگر آدیواسیوں کے ساتھ، مجرمانہ آدیواسی قانون (سی ٹی اے) کے تحت ’مجرم‘ قرار دیا گیا تھا۔ ’’۱۸۷۱ کا سی ٹی اے اور اس کے بعد کی ترامیم میں ۱۲۰ سے زیادہ برادریوں کو ’مجرمانہ آدیواسیوں‘ کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ برادری پیدائشی مجرم تھی اور یہ جرم کو پیشہ کے طور پر مانتے تھے۔ قانون نے نوآبادیاتی حکومت کو، خانہ بدوش برادریوں کو نامزد کرنے، سزا دینے، الگ کرنے اور جبراً ملک مخالف قرار دینے کی طاقت فراہم کی،‘‘ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، ممبئی کے سینٹر فار کرمنلوجی اینڈ جسٹس کے ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے، جس کا عنوان ہے ’اے رپورٹ آن دی اسٹیٹس آف پاردھیز اِن ممبئی‘ (ممبئی شہر کے پاردھیوں کی حالت پر ایک رپورٹ)۔

حکومت ہند نے ۱۹۵۲ میں اس قانون کو منسوخ کر دیا، اور آدیواسیوں کو ’ڈی نوٹیفائی‘ کر دیا گیا۔ اُن میں سے کچھ اب درج فہرست ذات کی فہرست میں شامل ہیں، کچھ درج فہرست قبائل کے طور پر، اور کچھ دیگر پس ماندہ طبقہ کے زمرے میں۔

مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق، تقریباً ۲۲۳۵۲۷ پاردھی مہاراشٹر میں رہتے ہیں، اور کچھ چھتیس گڑھ، گجرات، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بھی ہیں۔ پاردھیوں کے اندر مختلف ذیلی برادریاں ہیں، جنہیں بنیادی طور پر ان کے پیشوں یا دیگر تفصیلات کے مطابق نامزد کیا گیا جیسے کہ پال پاردھی (جو ٹینٹ میں رہتے تھے)، بھیل پاردھی (جو آتشیں اسلحوں کا استعمال کرتے تھے)، اور پھانسی پاردھی (جو پھندے کا استعمال کرکے شکار کرتے تھے)۔

نیشنل کمیشن فار ڈی نوٹیفائیڈ، نومیڈک اینڈ سیمی- نومیڈک ٹرائبس کے ذریعے درج فہرست ہندوستان کی تقریباً ۱۵۰۰ خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش برادریوں، اور ۱۹۸ ڈی نوٹیفائیڈ آدیواسیوں میں پاردھی تعلیم، روزگار اور دیگر سہولیات کے معاملے میں سب سے زیادہ پس ماندہ ہیں؛ انھیں ابھی بھی اکثر مجرم کے طور پر دیکھا جاتا اور بدنام کیا جاتا ہے۔

’’ہمیں اب بھی مجرم کہا جاتا ہے،‘‘ سنیتا کہتی ہیں۔ ’’گاؤں میں ہونے والے کسی بھی جرم کے لیے، پولس عام طور پر پاردھی کو ہی قصوروار ٹھہراتی ہے کیوں کہ وہ آسان شکار ہیں۔ جب کہ [پاردھیوں کے خلاف] سنگین مظالم ہوتے ہیں، جیسا آپ نے ابھی تک دیکھا۔ ہمارے خلاف یہ بدنامی ختم ہونی چاہیے۔‘‘

سنیتا کی پہچان پاردھیوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والی خاتون کے طور پر بن چکی ہے۔ لیکن یہ ان کے لیے ایک لمبا سفر رہا ہے۔

پونہ ضلع کے شیرور تعلقہ کے آمبلے گاؤں میں، اپنے ضلع پریشد اسکول میں انھیں بھی استحصال کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں سے انھوں نے کلاس ۶ تک پڑھائی کی ہے۔ ’’اپنی برادری کی وجہ سے مجھے بہت چڑھایا جاتا تھا۔ مجھے حیرانی ہوتی کہ وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘

سنیتا کے والد ایکناتھ، کبھی کبھی کھانے کے لیے چھپکلی، تیتر، خرگوش اور دیگر چھوٹے جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ ان کی ماں شانتا بائی، اپنی بڑی بہن انیتا کے ساتھ کھانے کے لیے بھیک مانگتی تھیں؛ ان کا چھوٹا بھائی اویناش گھر پر ہی رہتا تھا۔ ’’ہم اکثر بھوکے رہتے تھے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’مجھے یاد ہے کہ اسکول میں ہمیں دودھ ملتا تھا۔ میں اسے پیٹ بھر کر پیتی، کیوں کہ کھانے کے لیے گھر پر کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے ٹیچر ایک اچھے انسان تھے، میں جتنا مانگتی وہ مجھے اتنا دودھ دیتے تھے۔ وہ پاردھیوں کی حالت کو جانتے تھے۔ بھیک سے جمع کیا گیا کھانا چار ممبران کی فیملی کے لیے کافی نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں بھاکھری شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملتی تھی۔‘‘

Sunita Bhosale with her mother
PHOTO • Jyoti Shinoli

شانتا بائی (بائیں) کہتی ہیں، ’مجھے اپنی بیٹی کو ہمارے سماج کے لیے کچھ کرتے ہوئے دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے‘

یہ فیملی گاؤں کے باہری علاقے میں ایک جھونپڑی میں رہتی تھی۔ سنیتا جب صرف تین سال کی تھیں، تو ان کے والد نے ایک تشدد کے دوران ان کی ماں کا ہاتھ توڑ دیا تھا۔ ’طبی سہولت ہمارے پہنچ سے باہر تھی،‘ وہ کہتی ہیں۔ ’اس لیے ان کے ہاتھ کو لقوہ مار گیا ہے...‘

یہ فیملی اس وقت گاؤں کے باہری علاقے میں پلاسٹک اور ٹن کی چادروں سے بنی ایک جھونپڑی میں رہتی تھی۔ سنیتا جب صرف تین سال کی تھیں، تو ان کے والد نے ایک تشدد کے دوران ان کی ماں کا بایاں ہاتھ توڑ دیا تھا۔ ’’طبی سہولت ہماری پہنچ سے باہر تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اس لیے ان کے ہاتھ کو لقوہ مار گیا ہے...‘‘

اس واقعہ کے تین مہینے بعد، ان کے والد کی لاش احمد نگر کے رنجن گاؤں روڈ ریلوے ٹریک پر ملی۔ ’’پولس نے کہا کہ یہ ایک حادثہ تھا، لیکن میری ماں کا خیال تھا کہ ان کا قتل کیا گیا ہے اور چاہتی تھیں کہ اس کی جانچ ہو،‘‘ سنیتا بتاتی ہیں۔ ’’لیکن کسی کو فرق نہیں پڑا کیوں کہ وہ ایک پاردھی تھے، اور جب بھی کوئی قتل یا ڈکیتی ہوتی، تو پولس شک کی بنیاد پر انھیں گرفتار کر لیتی تھی۔ انھوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولس سے ملنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن کچھ نہیں ہوا۔‘‘

سنیتا اپنی برادری کے اندر تفریق کے رواج کو بھی اچھی طرح جانتی تھیں: ’’پاردھیوں کے اسکول چھوڑنے کی ایک بنیادی وجہ بچپن کی شادی بھی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’خواتین کو ابھی بھی نچلی سطح کا مانا جاتا ہے۔ شادی شدہ خاتون اپنا سامان گھر کے اندر نہیں رکھ سکتی۔ وہ گھر کے اندر غسل نہیں کر سکتی۔‘‘ پاردھی جان پنچایت کے من مانے فیصلے بھی، جو اکثر خواتین کی ’ناپاکی‘ کے تصورات پر مبنی ہوتے ہیں، پاردھیوں میں خود پیدا کرتے ہیں۔

Clothes of a married woman of a Pardhi house have been kept outside her home
PHOTO • Jyoti Shinoli

پاردھی کنبوں میں، شادی شدہ خاتون اپنے کپڑے گھر کے اندر نہیں رکھ سکتی؛ انھیں باہر، ایک الگ کمرے میں رکھا جاتا ہے

وقت کے ساتھ، تعلیم کو فروغ دینے اور ضلع میں پاردھیوں کے خلاف ظلم کے معاملوں کو سلجھانے والے کارکنوں کے ساتھ کام کرنے سے سنیتا، تعزیرات ہند کی دفعات اور شیڈولڈ کاسٹ اینڈ شیڈولڈ ٹرائب (پریونشن آف ایٹروسٹیز) ایکٹ سے شناسا ہو گئیں۔ ’’میں چاہتی ہوں کہ ہر پاردھی ان قوانین کو جانتے، تاکہ پولس والے انھیں بیوقوف نہ بنا سکیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

انھوں نے شیرور تعلقہ اور پونہ میں مورچہ اور مجالس میں شریک ہونا شروع کر دیا، جہاں وہ ایکناتھ آواڈ اور رجندر کالے جیسے مشہور کارکنوں سے ملتیں یا ان کی تقریروں کو سنتی تھیں۔ ’’وہ حوصلہ کے باعث رہے ہیں۔ وہ پاردھی بستیوں کا دورہ کرتے تھے اور میں نے دیکھا کہ کس طرح وہ برادری میں پھیلی غلط فہمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے سمجھ میں آیا کہ اس حالت سے باہر نکلنے کے لیے ہمیں بیدار ہونا اور خود کو تعلیم یافتہ کرنا پڑے گا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

سنیتا نے بھی آمبلے اور آس پاس کے پاردھی گھروں کا دورہ کرنا شروع کر دیا، جہاں وہ انھیں تعلیم کی اہمیت، ان کے رسم و رواج کے منفی اثرات کے بارے میں بتاتی ہیں۔ ساتھ ہی، وہ اپنی بہن اور بھائی کے ساتھ ان کے کھیتوں پر کام کرتی رہیں۔

انھوں نے پاردھیوں کو کئی دیگر مسائل کا سامنا کرتے ہوئے بھی دیکھا – وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے، بھیک مانگتے، شکار یا کوئی اور کام کرتے تھے، جس کا مطلب تھا کہ ان کے پاس راشن کارڈ، ووٹر آئی ڈی کارڈ، ایک مستحکم تعلیم یا طبی خدمات تک رسائی نہیں ہے۔ سنیتا نے اپنی برادری کے لیے خود کو پوری طرح سے وقف کرنے کا فیصلہ کیا اور اس لیے کبھی شادی نہیں کی۔

اپنے کام کو منظم کرنے کے لیے، انھوں نے ۲۰۱۰ میں ’کرانتی‘ نامی ایک غیر منافع بخش تنظیم شروع کی۔ کرانتی اب پونہ ضلع کے دونڈ اور شیرور تعلقہ، اور احمد نگر ضلع کے شری گونڈا تعلقہ کے ۲۲۹ گاؤوں میں کام کرتا ہے، وہ بتاتی ہیں۔

سنیتا کا اندازہ ہے کہ ان ۲۲۹ گاؤوں میں پاردھیوں کی کل آبادی تقریباً ۲۵ ہزار ہے۔ وہ ۵۰ رضاکاروں اور کارکنوں کی مدد سے، ہفتہ میں کم از کم تین معاملوں کو سنبھالتی ہیں، جس میں پِٹائی سے لے کر عصمت دری اور لوٹ اور قتل کے جھوٹے الزام تک شامل ہوتے ہیں۔ وہ متاثر شخص سے ملتی ہیں، اس سے بات کرتی ہیں، ضرورت پڑنے پر پولس میں شکایت درج کرانے میں مدد کرتی ہیں، وکیل کا انتظام کرتی ہیں، قانون فیس ادا کرتی ہیں اور مقدموں پر نظر رکھتی ہیں۔ ’’ظلم کے ایک بھی معاملے میں انصاف نہیں ہوا ہے۔ جھوٹے الزامات کے معاملوں میں، ۹۹ فیصد لوگ بے گناہ ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

Aarti Kale is a girl from Pardhi community who wants to study further and not get married
PHOTO • Jyoti Shinoli
Sunita Bhosale in Karade village with children from Pardhi community. She works for their education
PHOTO • Jyoti Shinoli

پاردھیوں میں اب زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہیں اور ایسا کرنے میں اہل بھی ہیں؛ کرڈے گاؤں کی ۱۰ویں کلاس میں پڑھنے والی آرتی کالے (بائیں) پولس دستہ میں شامل ہونا چاہتی ہیں

وقت کے ساتھ، سنیتا کو مہاراشٹر کی مختلف تنظیموں سے کئی فیلوشپ اور ایوارڈ ملے ہیں، جس میں سے زیادہ تر پیسے کا استعمال انہی اسکولی بچوں یا اپنی برادری میں طبی ضرورت والے لوگوں کی مدد میں کیا ہے۔ ان کی تنظیم کے لیے بھی پیسہ ذاتی عطیہ سے ہی آتا ہے۔ ’’اس کاز کو زندہ رکھنے کے لیے مجھے چھوٹی رقم ملتی ہے۔ خود میرے ساتھ کام کرنے والے رضاکار بھی پاردھی ہیں۔ میں اپنی نو ایکڑ زمین پر جوار، باجرا اور ہربھرا اُگاتی ہیں اور سالانہ تقریباً ۱۵۔۲۰ کوئنٹل پاتی ہوں، اس لیے کچھ رضاکاروں کو دے دیتی ہوں۔ میں انھیں پیسے نہیں دے سکتی، لیکن اگر انھیں پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، تو مدد ضرور کرتی ہوں کیوں کہ ان میں سے زیادہ تر بے روزگار یا زرعی مزدور یا نوجوان طالب علم ہیں۔‘‘

سُنیتا کا ایک ہدف اپنی برادری کے سبھی لوگوں کو ذات کا سرٹیفکیٹ دلوانا ہے، جس سے وہ سرکاری اسکیموں تک آسانی سے پہنچ سکیں۔ ’’میں پاردھیوں کا ایک بڑا ڈیٹا بیس بھی بنانا چاہتی ہوں، جو حقیقت میں پالیسیوں کو ماثر طریقے سے لاگو کرنے کے لیے سرکار کے ذریعے بنایا جانا چاہیے تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’کوئی بھی سرکاری اسکیم ہم تک نہیں پہنچ پائی ہے۔‘‘

’’[درج فہرست ذات کے لیے] ہزاروں کروڑ روپے کے بجٹ مختص کرنے کے باوجود، اس برادری کی ترقی پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا ہے،‘‘ وکیل پلّوی رینکے کہتی ہیں، جو نوٹیفائیڈ اور ڈی نوٹیفائیڈ قبائلیوں کے قومی اتحاد، لوک دھارا کی قومی کوآرڈی نیٹر اور مہاراشٹر کی ریاستی صدر ہیں۔ ۲۰۱۶ میں شائع انڈیا اسپینڈ سیریز سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ۳۵ برسوں میں، مڈ ڈے میل، وظیفہ اور فصل بیمہ جیسی اسکیموں کے توسط سے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی فلاح کے لیے مختص ۸ء۲ لاکھ کروڑ روپے خرچ ہی نہیں کیے گئے۔

Sunita Bhosle with Ambedkar and Savitribai Phule’s photo
PHOTO • Jyoti Shinoli

سنیتا: ’میں امبیڈکر اور ساوتری بائی پھُلے کے نقش قدم پر چلتی ہوں‘

’[درج فہرست قبائل کے لیے] ہزاروں کروڑ روپے کے بجٹ مختص ہونے کے باوجود، اس برادری کی ترقی پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا ہے‘، وکیل پلّوی رینکے کہتی ہیں، جو نوٹیفائیڈ- ڈی نوٹیفائیڈ آدیواسیوں کے قومی اتحاد، لوک دھارا کی قومی کوآرڈی نیٹر اور مہاراشٹر کی ریاستی صدر ہیں

سُنیتا کا اندازہ ہے کہ ۲۲۹ گاؤوں کے ۵۰ فیصد پاردھیوں کے پاس اب ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ ہیں۔ اور والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے بھی تیار ہیں – ایک ضروری قدم جب مہاراشٹر کی اس برادری میں شرحِ خواندگی صرف ۶۴ فیصد ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)۔ ’نوجوان نسل آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

’’تعلیم حقیقت میں ہماری زندگی کو بدل دیتی ہے۔ اب میرا مقصد ایک اچھی نوکری پانا اور اپنی فیملی کے لیے اچھی کمائی کرنا ہے،‘‘ کرڈے گاؤں (جہاں پاردھیوں کے ۱۰ کنبے رہتے ہیں) کے ۲۴ سالہ جتیندر کالے کہتے ہیں، جن کے والدین زرعی مزدور ہیں۔ انھوں نے زراعت میں ڈپلومہ کیا ہے؛ ان کا چھوٹا بھائی پولس بھرتی امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔ اسی طرح، کرڈے کے ضلع پریشد اسکول میں ۱۰ویں کلاس کی طالبہ، ۱۵ سالہ آرتی کالے بھی پولس دستہ میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ ’’میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں اور میں یہ ضرور کروں گی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

سُنیتا اب اپنی ماں کے ساتھ دو کمروں والے پختہ مکان میں رہتی ہیں، جسے ان کی فیملی نے ۲۰۰۳ میں آمبلے گاؤں میں بنایا تھا۔ ان کی بہن کی شادی ہو چکی ہے، اور بھائی پونہ کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں مالی کے طور پر کام کرتے ہیں، جہاں وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے۔ سُنیتا کی ماں کو اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ ’’مجھے ایک خاتون کے طور پر بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔ ہمارے سماج میں عورتوں کی حالت دیگر خواتین کے مقابلے بدتر ہے۔ آج مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری بیٹی ہمارے سماج کے لیے کچھ کر رہی ہے،‘‘ شانتا بائی کہتی ہیں۔

نئے گھر میں ان کی تنظیم کی فائلوں اور دستاویزوں سے بھری ایک الماری ہے۔ ’’میں بابا صاحب امبیڈکر اور ساوتری بائی پھُلے کے نقش قدم پر چلتی ہوں – انھوں نے برابری، تعلیم اور پس ماندہ برادریوں کے حقوق کی لڑائی لڑی تھی،‘‘ سنیتا کہتی ہیں۔ ’’لیکن ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ اور اس کے لیے مجھے تعاون کی ضرورت ہے... ہماری کوئی سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ ایسے میں ہمارے لیے کون آواز اٹھائے گا...؟‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی ممبئی میں مقیم ایک صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی کانٹینٹ کوآر ڈی نیٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli