چکن پاڑہ میں جاگرن رات ساڑھے دس بجے سے شروع ہوا۔ محلہ کے باقی لوگ تو پہلے ہی سو چکے تھے، لیکن ساند کا گھر گیت اور منتروں سے گونج رہا تھا۔

پلاسٹک کی بوریوں سے بنی ایک چٹائی پر کالو جنگلی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ رسم پوری کرانے کے لیے پڑوس کی ایک بستی، پنگڑی سے آئے تھے۔ کا ٹھاکر آدیواسی برادری کے کئی مہمان اینٹ اور مٹی سے بنے گھر کے سامنے والے کمرے میں جمع تھے، جہاں وہ فرش اور پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جاگرن – رات بھر بھکتی گیت گاکر وانی دیوی کی پوجا کرنے کی رسم – میں شرکت کرنے آئے تھے۔

کمرے کے درمیان میں، ۵۰ سالہ کالو کی سرپرستی میں پوجا کے سامان رکھے ہیں، جن میں چاول کے دانے، تانبے کے برتن پر ایک ناریل جو لال رنگ کے کپڑے سے ڈھکا ہے (جسے مقامی لوگ اورمل کہتے ہیں) اور اگربتیاں ہیں۔

’’یہ رسم آخری مرحلہ کے طور پر پوری کی جاتی ہے، جب مریض پر بھگت کی دواؤں کا اثر ہو جاتا ہے اور بری نظر سے بچانے کے لیے بھی،‘‘ چکن پاڑہ سے کالو کے ساتھ آئے ایک بھگت، جیتہ دیگھا نے کہا، ’جو ایک روایتی طبیب بھی ہیں۔

Kalu Jangali (left, in a white vest)  had confirmed the diagnosis – Nirmala (centre) had jaundice. But, he said, 'She was also heavily under the spell of an external entity', which he was warding off along with fellow bhagat Jaitya Digha during the jagran ceremony in Chikanpada hamlet
PHOTO • Shraddha Ghatge
Kalu Jangali (left, in a white vest)  had confirmed the diagnosis – Nirmala (centre) had jaundice. But, he said, 'She was also heavily under the spell of an external entity', which he was warding off along with fellow bhagat Jaitya Digha during the jagran ceremony in Chikanpada hamlet
PHOTO • Shraddha Ghatge

کالو جنگلی (بائیں، سفید بنیان میں) نے مرض کی تصدیق کی تھی – نرملا (درمیان میں) کو پیلیا تھا۔ لیکن، انہوں نے کہا، ’اس کے اوپر بدروح کا زبردست سایہ بھی تھا‘، جس کا وہ چکن پاڑہ بستی میں جاگرن کے دوران ساتھی بھگت، جیتیہ دیگھا کے ساتھ علاج کر رہے تھے

ایک پرانی نیلی میکسی پہنے اور شال اوڑھے لاغر، ۱۸ سالہ نرملا فرش پر بیٹھ گئی، خاموشی سے سر ہلاتے ہوئے اور کالو کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہوئے۔ جب بھی اس سے کہا جاتا، وہ کھڑی ہو جاتی۔ جیتیہ نے اسٹیل کی ایک پلیٹ پر چاول کے دانے کی جانچ کی، ’’یہ سمجھنے کے لیے اجداد سے جواب مانگتے ہوئے کہ کیا کوئی منفی طاقت نرملا کو آگے بھی پریشان کرے گی۔‘‘

’’اسے تیز بخار تھا، بھوک نہیں لگ رہی تھی، بدن میں کافی درد تھا،‘‘ نرملا کے والد شترو ساند نے کہا، جو دھان کی کھیتی کرتے ہیں اور جن کے پاس ایک ایکڑ سے کم زمین ہے۔ ’’[ستمبر کی شروعات میں] ہم اسے موکھاڈا کے دیہی اسپتال لے گئے تھے۔ پیلیا (یرقان) کا پتہ چلا تھا۔ لیکن انہوں نے جو دوائیں دیں، اس نے کوئی اثر نہیں کیا۔ اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ اس کا وزن کافی گھٹ گیا، ٹھیک سے نیند نہیں آتی تھی اور یہ ہر وقت خوفزدہ، تھکی ہوئی اور چڑچڑی رہتی تھی۔ ہم ڈرے ہوئے تھے کہ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے۔ اسی لیے ہم اسے کالو کے پاس لے گئے۔‘‘

شترو آگے بتاتے ہیں کہ بھگت نے اسے اگربتی کی راکھ سے بھری ایک ٹیٹ (چاندی کی تعویذ) اور ادویاتی جڑی بوٹیوں کا پاؤڈر دیا، جسے وہ کچھ دنوں سے کھا رہی تھی۔ ’’اس سے فائدہ ہوا اور ہم نے اس جاگرن کا انتظام کیا تاکہ بری نظر کا اثر پوری طرح سے ختم ہو جائے۔‘‘

کالو نے بھی مرض کی تصدیق کی تھی – ہاں، نرملا کو پیلیا تھا۔ لیکن، انہوں نے کہا، ’’اس کے اوپر بدروح کا زبردست سایہ بھی تھا۔‘‘ کالو نے ’منفی طاقت‘ کو باہر نکالنے کے لیے اورمل کے چاروں طرف ہاتھ لہرائے اور ایک رسی کو سر سے پیر تک اور پھر آگے پیچھے گھمایا۔

ویڈیو دیکھیں: چکن پاڑہ میں بھگت، اعتقاد اور تشویش

بھگت رسم و ریت سے زیادہ ادویاتی جڑی بوٹیوں کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں، ’لیکن اگر کوئی چیز ہمارے قابو سے باہر ہوئی، تو ہم انہیں اسپتال جاکر علاج کرانے کے لیے کہتے ہیں‘

وسط ممبئی سے تقریباً ۱۸۰ کلومیٹر دور، پالگھر کے موکھاڈا تعلقہ میں، چاس گرام پنچایت کے پانچ پاڑوں (بستیوں) میں ان کے ذریعے علاج، اور بھگتوں کو ساند فیملی کی طرف سے دعوت کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

’’چاس ہی نہیں، بلکہ موکھاڈا تعلقہ کے زیادہ تر گاؤوں میں، بہت سے لوگ شدت سے مانتے ہیں کہ آپ کی پیش رفت میں بد روح یا بد نظر یا جادو سے رخنہ پڑ سکتا ہے،‘‘ چاس گاؤں کے کملاکر وارگھڑے کہتے ہیں۔ ان مقامی اعتقادات کے بارے میں انہیں شک ہے، لیکن وہ اس سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔ ساند فیملی کی طرح، وہ بھی کا ٹھاکر آدیواسی برادری سے ہیں، اور مقامی پروگراموں میں ایک بینڈ کے ساتھ آرگن، ہارمونیم اور کی بورڈ بجاتے ہیں۔ ’’عام طور پر، جب آدمی بیمار ہوتا ہے یا کسی پروجیکٹ یا سرگرمی میں رکاوٹ آتی ہے۔ جب ڈاکٹر بھی مسئلہ کی وجہ کا پتہ نہیں لگا پاتے، تو فیملی کے لوگ بھگت کے پاس جاتے ہیں۔‘‘

مقامی طبیبوں پر یہ انحصار موکھاڈا میں صحت عامہ کے نظام کی غیر یقینیت سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ پانچ بستوں کے لیے، قریبی طبی سہولت چکن پاڑہ سے تقریباً دو کلومیٹر دور، چاس گاؤں میں ریاست کے ذریعے چلایا جانے والا ایک ذیلی مرکز ہے۔

’’ڈاکٹر کا دورہ منگل کو ہوتا ہے، لیکن یہ طے نہیں ہوتا کہ ہم ان سے کب مل پائیں گے،‘‘ وارگھڑے کہتے ہیں۔ ’’ایک بہن [نرس] روزانہ آتی ہے، لیکن صرف بخار، کھانسی یا سردی کی ہی دوا سکتی ہے۔ دواؤں کی مناسب فراہمی نہیں ہوتی، کوئی انجیکشن نہیں ہے، صرف گولیاں (ٹیبلیٹس) ہیں۔ آشا کارکن [منظور شدہ سماجی صحت کارکن] گھر کا دورہ تو کرتی ہیں، لیکن اگر کسی مریض کی حالت سنگین ہوئی، تو وہ ہمیں موکھاڈا [اسپتال] جانے کا مشورہ دیتی ہیں۔‘‘

Left: Nirmala's mother Indu, on the night of the the jagran, says she is relieved. Right: Kamlakar Warghade (here with his daughter Priyanka) of Chas village is sceptical but also sympathetic about the local belief systems
PHOTO • Shraddha Ghatge
Left: Nirmala's mother Indu, on the night of the the jagran, says she is relieved. Right: Kamlakar Warghade (here with his daughter Priyanka) of Chas village is sceptical but also sympathetic about the local belief systems
PHOTO • Shraddha Ghatge

بائیں: جاگرن کی شب، نرملا کی ماں اندو کہتی ہیں کہ وہ راحت محسوس کر رہی ہیں۔ دائیں: چاس گاؤں کے کملاکر وارگھڑے (یہاں اپنی بیٹی پرینکا کے ساتھ) کو شک ہے، لیکن وہ مقامی اعتقادات کے ساتھ ہمدردی بھی رکھتے ہیں

تو اہم بیماریوں – نمونیا، پیلیا، ہڈی ٹوٹنے، حادثہ یا ناگہانی زچگی سمیت – کے لیے چاس گاؤں اور اس کی بستیوں کے ۲۶۰۹ لوگ تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور، موکھاڈا دیہی اسپتال جاتے ہیں۔

اس میں قریبی بس اسٹاپ تک پیدل چلنا بھی شامل ہے، جو چاس سے تین کلومیٹر (اور کچھ بستیوں سے اور بھی زیادہ) دور ہے۔ یا فیملی کے لیے جیپ کرایے پر لیتے ہیں، جس سے انہیں آنے جانے کے لیے دونوں طرف کے ۵۰۰ روپے دینے پڑتے ہیں۔ کبھی کبھی، وہ یہاں پر مشترکہ بولیرو کا انتظار کرتے ہیں، جس میں کچن پاڑہ سے موکھاڈا تک ایک سیٹ کا کرایہ ۱۰ یا ۲۰ روپے ہے۔ لیکن ان کی تعداد کم ہے اور وہ بہت دیر میں ملتے ہیں۔

’’اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ چھوٹے کسان اور زرعی مزدور ہیں، جو روزانہ ۲۵۰ روپے تک کماتے ہیں۔ کسی بھی اسپتال کے خرچ کے علاوہ صرف نقل و حمل کے لیے ۵۰۰ روپے کی ادائیگی یقینی طور سے ان کے لیے ایک مسئلہ ہوتا ہوگا،‘‘ کملاکر کہتے ہیں۔

صحت کی دیکھ بھال سے متعلق یہی وہ کمیاں ہیں جن کی بھگت بھرپائی کرتے ہیں – اور برادری کے لوگ انہیں طویل عرصے سے قابل اعتماد روایتی طبیبوں کے طور پر جانتے ہیں۔ اس لیے بخار یا پیٹ میں درد جیسی نسبتاً چھوٹی بیماریوں کے لیے، چاس کی بنیادی طور پر آدیواسی آبادی – کا ٹھاکر، ما ٹھاکر، کولی مہادیو، ورلی اور کاتکری جیسی برادریوں کے لوگ بھگتوں کے پاس جاتے ہیں۔ اور کبھی کبھی وہ ’بد نظر‘ سے خود کو بچانے کے لیے بھی ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔

Chas village (left): the Sanad family’s invitation to the bhagats is not unusual in the five padas (hamlets) of Chas gram panchayat. The local PHCs are barely equipped, and Mokhada Rural Hospital (right) is around 15 kilometres away
PHOTO • Shraddha Ghatge
Chas village (left): the Sanad family’s invitation to the bhagats is not unusual in the five padas (hamlets) of Chas gram panchayat. The local PHCs are barely equipped, and Mokhada Rural Hospital (right) is around 15 kilometres away
PHOTO • Shraddha Ghatge

چاس گاؤں (بائیں): بھگتوں کو ساند فیملی کی دعوت چاس گرام پنچایت کے پانچ پاڑوں (بستیوں) کے لیے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ مقامی ابتدائی طبی مراکز میں سہولیات کی کمی ہے، اور موکھاڈا دیہی اسپتال (دائیں) تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور ہے

زیادہ تر بھگت مقامی ہیں (اور سبھی مرد ہیں)، جو ان کنبوں کے لیے پوری طرح شناسا ہیں جو اُن سے مدد حاصل کرتے ہیں۔ کالو جنگلی، جو نرملا کا علاج کر رہے تھے، کا ٹھاکر قبیلہ سے ہیں۔ وہ ۳۰ برسوں سے مقامی طبیب ہیں۔ ’’یہ رسوم ہمیشہ سے ہماری آدیواسی ثقافت کا اندرونی حصہ رہے ہیں،‘‘ انہوں نے مجھے جاگرن کی شب بتایا۔ ’’نرملا کے معاملے میں، اس جاگرن کے بعد اگلی صبح کو، ہم ایک مرغ کی بلی (قربانی) دیں گے اور اس کے پوری طرح صحت مند ہونے کے لیے پرارتھنا کریں گے۔ یہ رسم تبھی انجام دی جاتی ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مریض کے ارد گرد کوئی منفی طاقت ہے۔ ہم ان منتروں (دعائیہ کلمات) کو جانتے ہیں جو اس بری طاقت کو دور کر سکتے ہیں۔‘‘

حالانکہ، بھگت زیادہ تر ادویاتی خصوصیات والی جڑی بوٹیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ’’ہم مناسب پھول، پتیاں اور گھاس چننے جنگل جاتے ہیں، اور درخت کی چھال کے ٹکڑے اکھاڑتے ہیں،‘‘ کالو کہتے ہیں۔ ’’پھر ان سے ہم کاڑھا تیار کرتے ہیں یا کبھی کبھی جڑی بوٹیوں کو جلاکر ان کی راکھ مریضوں کو کھانے کے لیے دیتے ہیں۔ یہ عام طور پر تب کام کرتی ہے، جب آدمی کو کوئی منفی طاقت نہ گھیرے ہو۔ لیکن اگر کچھ ہمارے قابو سے باہر ہوا، تو ہم انہیں اسپتال جا کر علاج کرانے کے لیے کہتے ہیں۔‘‘

جس طرح سے کالو طبی سہولیات کے رول کو تسلیم کرتے ہیں، اسی طرح ابتدائی طبی سہولیات (پی ایچ سی) اور ڈاکٹر بھی روایتی طبیبوں کو خارج نہیں کرتے۔ چاس سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور، واشلا گاؤں کے پی ایچ سی میں میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر پُشپا گواری کہتی ہیں، ’’ہم انہیں [اپنے مریضوں کو] کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے علاج سے مطمئن نہیں ہیں، تو بھگتوں سے بھی صلاح لے لیں۔ اگر آدیواسی بھگت کے علاج سے مطمئن نہیں ہیں، تو وہ دوبارہ ڈاکٹروں کی صلاح لیتے ہیں۔‘‘ اس سے ڈاکٹروں کو مقامی برادریوں کے تئیں مخالفت نہیں جتانے میں مدد ملتی ہے، وہ کہتی ہیں۔ ’’یہ اہم ہے کہ لوگوں کا اعتماد طبی سہولیات اور ڈاکٹروں میں بھی بنا رہے۔‘‘

’’وہ [ڈاکٹر] اکثر ایسے کچھ معاملوں میں ہماری مدد لیتے ہیں، جنہیں وہ سمجھا نہیں سکتے،‘‘ واشلا کے ۵۸ سالہ بھگت، کاشی ناتھ کدم کہتے ہیں۔ ’’مثال کے طور پر، ایک عورت تھی، جو کچھ مہینے پہلے، بغیر کسی معقول وجہ کے، پاگل ہو گئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اوپر بھوت پریت ہو۔ تب میں نے اسے زوردار تھپڑ مارا اور منتروں کا جاپ کرکے اسے خاموش کرنے میں کامیاب ہوا۔ بعد میں اسے ڈاکٹروں نے دوا دی۔‘‘

Left: Bhagat Kalu Jangali at his home in Pangri village in Mokhada taluka. Right: Bhagat Subhash Katkari with several of his clients on a Sunday at his home in Deharje village of Vikramgad taluka in Palghar district
PHOTO • Shraddha Ghatge
Left: Bhagat Kalu Jangali at his home in Pangri village in Mokhada taluka. Right: Bhagat Subhash Katkari with several of his clients on a Sunday at his home in Deharje village of Vikramgad taluka in Palghar district
PHOTO • Shraddha Ghatge

بائیں: بھگت کالو جنگلی، موکھاڈا تعلقہ کے پنگڑی گاؤں میں اپنے گھر پر۔ دائیں: بھگت سبھاش کاتکری، پالگھر ضلع کے وکرم گڑھ تعلقہ کے دیہارجے گاؤں میں اتوار کو اپنے کئی صارفین کے ساتھ

دیگر بھگتوں کی طرح، کدم بھی اپنے کسی ’مریض‘ سے فیس نہیں مانگتے۔ وہ تین ایکڑ میں دھان اور دالوں کی کھیتی سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ میں نے جتنے بھی مقامی طبیبوں سے بات کی، انہوں نے یہی کہا کہ ان کے پاس آنے والے لوگ جتنا چاہیں دے سکتے ہیں – ۲۰ روپے سے شروعات کرکے۔ کچھ لوگ پرساد کے طور پر ناریل یا شراب لاتے ہیں۔ اور علاج کرانے والی فیملی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دعوت (جیسے کہ جاگرن) دیں گے اگر انہیں لگتا ہے کہ بھگت نے مریض کو ٹھیک کر دیا ہے۔

اور یہاں کے دیگر روایتی طبیب کی طرح، کاشی ناتھ بھی اپنے ذریعے استعمال کی جانے والی جڑی بوٹیوں کی تفصیل بتانے سے انکار کرتے ہیں۔ ’’کوئی بھی بھگت آپ کو یہ نہیں بتائے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اگر ہم کسی اور کو اپنے علم کی باتیں بتا دیں، تو ہماری دوا کا اثر کم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، ہر مریض کے لیے دوا الگ الگ ہوتی ہے۔ ہم گردے کی پتھری، آنت کا زخم، پیلیا، دانت میں درد، سر درد، پیٹ درد، بخار، مرد و خواتین میں بانجھ پن، اسقاط حمل اور حمل میں پریشانی جیسی بیماریوں کے لیے خشک جڑی بوٹیوں کے کاڑھا یا رس کا استعمال کرتے ہیں۔ اور بری نظر سے دور رکھنے، کسی کے برتاؤ کو خاص طریقے سے متاثر کرنے اور ٹیٹ [تعویذ] میں تحفظاتی منتر پھونکنے کے لیے۔‘‘

موکھاڈا کے اوسرویرا گاؤں کی پسوڈی پاڑہ بستی کے بھگت، کیشو مہالے تھوڑا آگے چلنے والے ہیں۔ ’’ہم کسی بھی طرح کی بیماری کے لیے تلسی، کچی ادرک، ایلوویرا، پہاڑی پودینہ اور دیگر ادویاتی جڑی بوٹیوں اور پودوں کا استعمال اسی وقت سے کر رہے ہیں، جب جنگل میں رہنے والے ہر کسی کے لیے صرف ہم ہی ’ڈاکٹر‘ ہوا کرتے تھے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’آج، طب میں پیش رفت کے ساتھ، یہ واضح ہے کہ لوگ ڈاکٹروں کے پاس جانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارے پاس بھی تب ضرور آتے ہیں، جب دواؤں سے ان کا کام نہیں چلتا۔ بقائے باہمی میں کوئی برائی نہیں ہے۔‘‘ کیشو کے پاس تقریباً دو ایکڑ زمین ہے، جس پر وہ دھان اُگاتے ہیں۔

Keshav and Savita Mahale (left) in Pasodipada hamlet: 'With advances in medicine, people prefer doctors. But they come to us when medicines fail them. There is no harm in co-existing'. Bhagat Kashinath Kadam (right) with his wife Jijabai in Washala village: 'The doctors often seek our help in cases which they can’t explain'
PHOTO • Shraddha Ghatge
Keshav and Savita Mahale (left) in Pasodipada hamlet: 'With advances in medicine, people prefer doctors. But they come to us when medicines fail them. There is no harm in co-existing'. Bhagat Kashinath Kadam (right) with his wife Jijabai in Washala village: 'The doctors often seek our help in cases which they can’t explain'
PHOTO • Shraddha Ghatge

پسوڈی پاڑہ بستی میں کیشو اور سویتا مہالے (بائیں): ’طب میں پیش رفت کے ساتھ، لوگ ڈاکٹروں کے پاس جانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارے پاس بھی تب ضرور آتے ہیں، جب دواؤں سے ان کا کام نہیں چلتا۔ بقائے باہمی میں کوئی برائی نہیں ہے‘۔ بھگت کاشی ناتھ کدم (دائیں) واشلا گاؤں میں اپنی بیوی جیجا بائی کے ساتھ: ’ڈاکٹر اکثر ایسے معاملے میں ہماری مدد لیتے ہیں جنہیں وہ سمجھا نہیں سکتے‘

اور پالگھر کے وکرم گڑھ تعلقہ کے دیہرجے گاؤں کے کاتکری پاڑہ کے مشہور و معروف بھگت، سبھاش کاتکری اُن خواتین کے لیے اپنے کچھ علاجوں کا ’انکشاف‘ کرتے ہیں جو حاملہ نہیں ہو سکتیں یا جنہیں حاملہ ہونے میں پریشانی ہوتی ہے: ’’اس میں حمل کے دوران مخصوص غذا کھانا اور پرہیز کرنا شامل ہے۔ عورت جب ہماری دواؤں کی وجہ سے حاملہ ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اسے کھانا بناتے وقت تیل کا استعمال بند کرنا ہوگا۔ اسے نمک، ہلدی، چکن، انڈے، گوشت، لہسن اور مرچ نہیں کھانا چاہیے۔ اسے گھر کا سارا کام خود سے نہیں کرنا چاہیے، جس میں پانی لانا بھی شامل ہے، اور اسے آخری سہ ماہی تک بھگت کی دواؤں کے علاوہ کوئی بھی دوا لینا بند کر دینا چاہیے۔ ہم عورت کو اور بعد میں اس کے بچے کو ایک ٹیٹ بھی دیتے ہیں، تاکہ وہ دونوں کسی بھی بری طاقت سے محفوظ رہیں۔‘‘

’’بدقسمتی سے،‘‘ موکھاڈا دیہی اسپتال کے میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر دتاتریہ شندے کہتے ہیں، ’’یہ [غذا اور دیگر پرہریز] یہاں کی حاملہ آدیواسی خواتین میں کم غذائیت کو بڑھاتا ہے، جس کے سبب وہ کم وزن والے بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ میں نے موکھاڈا میں ایسے معاملے دیکھے ہیں۔ بداعتقادی ابھی بھی موجود ہے اور لوگوں کو سمجھانا بہت مشکل ہے، کیوں کہ بھگتوں میں ان کا قوی اعتقاد ہے۔‘‘ (دراصل، پالگھر ضلع، جہاں تقریباً ۳۷ فیصد آبادی درج فہرست ذاتوں کی ہے، بچوں کی کم غذائیت کے سبب موت کی وجہ سے طویل عرصے سے خبروں میں رہا ہے۔ لیکن وہ ایک الگ کہانی ہے۔)

واپس چکن پاڑہ میں، نرملا کی ماں، ۴۰ سالہ اندو کو جاگرن کی رات راحت ملی۔ ’’اب جب کہ کالو اور جیتیہ نے بری طاقت کو میری بیٹی کے اوپر سے ہٹا دیا ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

رپورٹر نے پبلک ہیلتھ، ۲۰۱۹ میں ایک تفتیشی رپورٹنگ کے تحت اس مضمون پر کام کیا، انہیں اس کے لیے ٹھاکر فاؤنڈیشن، امریکہ نے گرانٹ دیا تھا۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Shraddha Ghatge

شردھا گھٹگے ممبئی میں مقیم ایک آزاد صحافی اور محقق ہیں۔

Other stories by Shraddha Ghatge