مہاراشٹر کے اورنگ آباد شہر کے مضافات میں واقع چکل تھانہ گاؤں میں ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا بغیر نقدی والی اقتصادیات کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو چکا ہے۔ یہاں پر کسی کے بھی پاس نقد پیسہ نہیں ہے۔ نہ تو بینک کے پاس ہے، نہ اے ٹی ایم مشینوں میں، اور نہ ہی ان کے ارد گرد لائنوں میں لگے حیران و پریشان لوگوں میں سے کسی کے پاس ہے۔ یہاں تک کہ بینک کی شاخوں کے باہر گاڑیوں میں بیٹھے پولس والوں کی جیبوں میں بھی پیسہ نہیں ہے۔

لیکن، مبارک ہو۔ ان تمام لوگوں کی انگلیوں پر جلد ہی سیاہی کے نشان لگنے والے ہیں۔

 فصیل بند شہر اورنگ آباد کے شاہ گنج علاقہ میں واقع اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد (ایس بی ایچ) میں، آپ وہاں کے اسٹاف کو بھی واضح طور پر حیران و پریشان دیکھ سکتے ہیں، جو اپنے غریب ہو چکے صارفین کی مدد کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس شہر کی ہر ایک بینک برانچ میں جمع ہو چکے ۵۰ اور ۱۰۰ روپے کے کروڑوں کی قیمت کے نوٹ، جنہیں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو بھیجا جانا تھا، نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد دوبارہ جاری کیے جا رہے ہیں۔ آر بی آئی کو یہ سب معلوم ہے، لیکن وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔


02-DSC_1696-AR-The-Cashless-Economy-of-Chikalthana.jpg

فصیل بند شہر اورنگ آباد کے شاہ گنج میں لوگوں کی بھیڑ تو کافی لمبی ہے، لیکن ان کا غصہ جلدی پھوٹ رہا ہے


”ہمارے پاس کیا چارہ بچا ہے؟“ ان بینکوں میں کام کرنے والے لوگ سوال کرتے ہیں۔ ”اس وقت لوگوں کو چھوٹے نوٹوں کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے سبھی کام اور لین دین ٹھپ ہیں۔“ ہم بینک کے اندر جب وہاں کے اسٹاف سے بات کر رہے تھے، تبھی اتوار کے روز بینک کے باہر تقریباً ایک کلومیٹر تک لگی ہوئی لمبی لائن سے نکل کر جاوید حیات خان ہمارے پاس آئے۔ وہ ایک چھوٹے دکاندار ہیں۔ وہ ہمیں اپنی بیٹی راشدہ خاتون کی شادی کا کارڈ دیتے ہیں اور کہتے ہیں، ”میرے کھاتہ میں کل ۲۷ ہزار روپے پڑے ہیں۔ تین ہفتے بعد میری بیٹی کی شادی ہونے والی ہے اور میں ان پیسوں میں سے صرف ۱۰ ہزار روپے نکالنا چاہتا ہوں۔ لیکن، مجھے وہ پیسہ نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔“ بینک نے انھیں مزید پیسہ نکالنے سے اس لیے منع کردیا، کیوں کہ پچھلے دن انھوں نے اپنے کھاتہ سے ۱۰ ہزار روپے نکالے تھے، حالانکہ انھیں آج بھی اتنے ہی پیسے نکالنے کا حق ہے۔ بینک والے ایسا اس لیے کر رہے ہیں، کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ لائن میں لگی ہوئی اتنی بھیڑ کو بانٹنے کے لیے پیسہ وافر مقدار میں نہیں ہے۔ اوران کی کوشش ہے کہ وہ لائن میں کھڑے ہر شخص کو تھوڑا تھوڑا پیسہ ضرور بانٹیں۔ ان میں سے کچھ لوگ خان کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ وہ لوگ بتاتے ہیں کہ خان کے کھاتہ میں یہ پیسہ ان کے اس فکسڈ ڈپوزِٹ کو توڑنے سے آیا ہے، جو انھوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے کھولا تھا۔


03-thumb_IMG_1543_1024-2-PS-The Cashless-Economy of Chikalthana.jpg

جاوید حیات خان کسی بھی طرح اپنے کھاتہ سے پیسہ نکالنا چاہتے ہیں، کیوں کہ ان کی بیٹی کی شادی ہونے میں صرف تین ہفتے بچے ہیں


جیسا کہ متعدد مضمون نگاروں، تجزیہ کاروں اور سرکاری رپورٹوں کے ذریعہ کہا جا چکا ہے کہ ہندوستان میں زیادہ تر’کالا‘ دھن ہیرے جواہرات، بے نامی ملکیت اور غیر ملکی کرنسی کی شکل میں جمع کرکے رکھا گیا ہے۔ یہ کالا دھن نانی دادی کے نوٹوں کے ڈبوں میں بند نہیں ہے۔ یہ بات سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز کے چیئرمین نے ”ہندوستان اور بیرونِ ملک موجود بلیک منی سے نمٹنے کے طریقے“ عنوان سے جاری کی گئی ۲۰۱۲ کی اپنی رپورٹ میں کہی تھی۔ رپورٹ میں (صفحہ ۱۴، باب دوئم، ۱ء۹) یہ بھی کہا گیا تھا کہ ماضی میں دو بار، یعنی ۱۹۴۶ اور ۱۹۷۸ میں نوٹ بندی کی ایسی ہی کوشش ”بری طرح ناکام“ ہوئی تھی۔ اس کے باوجود، بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے یہ قدم پھر اٹھایا ہے۔ ٹی وی کے چنندہ اینکروں اور اسی قسم کے دوسرے جوکر وں نے ”مودی کا ماسٹر اسٹروک“ جیسی نئی اصطلاح نکالی ہے اور وہ اس ناقابل یقین بیہودہ قدم کی تعریف کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر کے گاؤوں، دیہاتوں میں لوگوں کی اذیت و پریشانی لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر یہ کوئی ’اسٹروک‘ (دورہ) ہے، تو ملک کی دیہی اقتصادیات کا دل اس سے متاثر ہوا ہے۔

اس (دل کے) دورہ سے باہر نکلنے کا وقت وزیر خزانہ اور ان کی پارٹی کے دیگر لیڈروں نے ۳ ۔ ۲ دن بتایا تھا اور کہا تھا کہ پریشانی صرف اتنے ہی وقت تک ہوگی۔ ڈاکٹر جیٹلی نے اس کے بعد، اس میں ترمیم کرتے ہوئے اسے ۳ ۔ ۲ ہفتے بتایا۔ اس کے فوراً بعد، ان کے سینئر سرجن، نریندر مودی نے کہا کہ مریض کو پوری طرح صحت یاب ہونے کے لیے ۵۰ دنوں کی ضرورت ہے۔ یعنی اس طرح کے علاج کے لیے ہم پہلے سے ہی ۲۰۱۷ میں پہنچ چکے ہیں۔ دریں اثنا، ہمیں نہیں معلوم کہ لائنوں میں لگے ہوئے کتنے لوگوں کی ملک بھر میں موت ہو چکی ہے، لیکن ان کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔

’’ناسک ضلع کے لاسل گاؤوں میں، نقدی پیسہ اپنے پاس نہ ہونے سے پریشان کسانوں نے پیاز کے بازاروں کو بند کر دیا ہے،“ ہفتہ وار اخبار ’آدھونک کسان‘ کے ایڈیٹر، نشی کانت بھلے راؤ نے یہ بات بتائی۔ ”وِدربھ اور مراٹھ واڑہ میں کاٹن یا سوت کی قیمتیں اچانک ۴۰ فیصد فی کوئنٹل گر چکی ہیں۔‘‘ ایک دو لین دین کو چھوڑ کر، خریداری پوری طرح رک چکی ہے۔ ’ٹیلی گراف‘ کے ناگپور کے رپورٹ، جے دیپ ہاردیکر کہتے ہیں، ’’کسی کے بھی پاس نقد پیسہ نہیں ہے۔ کمیشن ایجنٹوں سے لے کر پروڈیوسرز اور خریدار تک، سبھی حد سے زیادہ پریشان ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ’’بینک کی دیہی شاخوں میں چیک جمع کرنا ہمیشہ ایک ٹیڑھی کھیر رہا ہے اور اب، چیک نکالنا مصیبت بن چکا ہے۔‘‘

یعنی، بہت کم ہی کسان ایسے ہوں گے جو چیک لیں گے۔ ان کا گھر کیسے چلے گا، اگر وہ چیک سے پیسہ نکالنے کا انتظار کریں گے؟ زیادہ تر کے پاس تو چلنے والے بینک کھاتے بھی نہیں ہیں۔

اس ریاست میں پبلک سیکٹر کا ایک بڑا بینک ایسا بھی ہے، جس کے پورے ملک میں کل ۹۷۵ اے ٹی ایم ہیں۔ ان میں سے ۵۴۹ اے ٹی ایم مشینوں میں پیسہ ہی نہیں ہے، وہاں سے لوگوں کو صرف مایوسی ہاتھ لگ رہی ہے۔ کام نہ کرنے والی یہ اے ٹی ایم مشینیں زیادہ تر دیہی علاقوں میں ہیں۔ ایسے میں ایک انوکھی اور پاگل پن پر مبنی دلیل یہ دی جا رہی ہے ہے کہ ”دیہی علاقوں میں کام قرضے پر چل رہا ہے۔ نقد کا مطلب کچھ بھی نہیں۔“ واقعی میں؟ اس کا مطلب ہے ہر چیز۔

چھوٹے پیمانے پر ہونے والے تمام لین دین نقدی میں ہی ہوتے ہیں۔ بینک ملازمین کو صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ اگر دیہی علاقوں کی ان چھوٹی چھوٹی بینک شاخوں میں ایک ہفتہ کے اندر چھوٹے نوٹ نہیں آئے، تو قانون اور نظم و نسق کی حالت خراب ہو سکتی ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ بحران تو ابھی سے پیدا ہو چکا ہے اور ایک ہفتہ میں کچھ نقدی آ بھی گئی، تب بھی حالات کو بگڑنے سے نہیں بچایا جا سکتا۔

اورنگ آباد میں ایک دوسری لائن میں کھڑے کنسٹرکشن سپروائزر، پرویز پٹھان کو ڈر ہے کہ ان کے مزدور کبھی بھی تشدد اختیار کر سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’وہ جو کام مکمل کر چکے ہیں، اس کی انھیں مزدوری چاہیے۔ لیکن، میں نقدی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔‘‘ چکل تھانہ گاؤں کی رئیسہ اختر خان کہتی ہیں کہ وہ اور ان جیسی نوجوان ماؤں کو اپنے بچوں کو کھانا کھلانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انھیں کھانا تب ملتا ہے، ’’جب کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے، کیوں کہ ہم دن میں زیادہ تر وقت لائنوں میں کھڑے ہوئے گزار رہے ہیں۔ بچوں کو اپنے وقت پر کھانا نہیں مل رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ گھنٹوں بھوکے رہتے ہیں۔‘‘

لائن میں کھڑی ہوئی زیادہ تر عورتوں کا یہی کہنا ہے کہ ان کے گھر میں اب صرف ۴ ۔ ۲ دنوں کا ہی راشن بچا ہے۔ انھیں یہ سوچ سوچ کر ڈر ستا رہا ہے کہ نقدی کا مسئلہ اتنے وقت میں حل ہونے والا نہیں ہے۔ افسوس، یہ مسئلہ حل ہوگا بھی نہیں۔

کسانوں، بے زمین مزدوروں، گھریلو نوکروں، پنشن خواہوں، چھوٹے تاجروں، اور ان کے ساتھ ساتھ دیگر طبقوں پر بھی اس فیصلہ کا بہت منفی اثر پڑا ہے۔ بہت سے لوگ تو قرضدار بننے والے ہیں، اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مزدوروں سے کام لیتے ہیں، کیوں کہ انھیں مزدوری دینے کے لیے پیسے اُدھار لینے پڑ رہے ہیں۔ باقی لوگ کھانا خریدنے کے لیے قرض لے رہے ہیں۔ ”ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ہماری لائنیں بڑھ رہی ہیں، کم نہیں ہو رہیں،“ اورنگ آباد میں ایس بی ایچ کی اسٹیشن روڈ برانچ کے ایک بینک ملازم نے بتایا۔ یہاں کے بعض ملازم تو لائن میں لگی اتنی بھاری بھیڑ کے غصے کو کنٹرول کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسٹاف کے ایک بندہ نے شناختی کارڈ اور دیگر تفصیلات کی جانچ کرنے سے متعلق سوفٹ ویئر میں خرابی آ جانے کے بارے میں بتایا، جسے ٹھیک کرنے کے لیے باہر بھیجا گیا ہے۔

لوگوں کو ۵۰۰ روپے کے زیادہ سے زیادہ آٹھ نوٹ یا ۱۰۰۰ روپے کے چار نوٹ کے بدلے ۲۰۰۰ روپے کے دو نوٹ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایسا ایک بار ہی کیا جاسکتا ہے۔ ’’جی ہاں، آپ نے اگر دوسرے دن بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کی، تو آپ کو خالی ہاتھ واپس بھیج دیا جائے گا۔ البتہ آپ ویسا ہی تب کر سکتے ہیں، جب آپ کسی دوسرے شناختی کارڈ کا استعمال کریں۔ آج اگر آپ آدھار کارڈ استعمال کر رہے ہیں، تو کل اپنا پاسپورٹ لے کر آئیے، پرسوں پین کارڈ لائیے، تب آپ پکڑے نہیں جائیں گے۔‘‘


04-thumb_IMG_1538_1024-2-PS-The Cashless-Economy of Chikalthana.jpg

پریشان حال لوگ اسٹیٹ بینک آف حیدر آباد کی شاہ گنج برانچ کے اندر جوق در جوق آ رہے ہیں۔ باہر تقریباً ایک کلومیٹر لمبی لائن لگی ہوئی ہے


اب تک، ایسا کچھ ہی لوگ کر پائے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہے۔ لیکن حکومت کا ردِ عمل ناسمجھ لوگوں پر مبنی ہے۔ انھوں نے لائن میں کھڑے لوگوں کی انگلیوں پر سیاہی لگانے کا فیصلہ کیا ہے (نوٹ بدلوانے کے بعد)، جیسا کہ وہ ووٹنگ کے دوران کرتے ہیں۔ دائیں ہاتھ کی انگلی پر، تاکہ کچھ ریاستوں میں جو لوگ ضمنی انتخابات میں آتے ہیں، ان کو لے کر کوئی کنفیوژن نہ ہو۔

’’حکومت چاہے جو حکم یا ہدایت جاری کرے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،‘‘ اسٹیشن روڈ کی لائن میں کھڑے ایک چھوٹے ٹھیکہ دار، آر پاٹل بتاتے ہیں۔ ’’سچائی یہ ہے کہ زیادہ تر اسپتال یا دوا کی دکانیں ۵۰۰ یا ۱۰۰۰ روپے کے نوٹ نہیں لیتیں۔‘‘ ان کے بغل میں کھڑے ہیں سید مودک، جو پیشہ سے ایک کارپینٹر ہیں، جو بری طرح بیمار اپنے ایک رشتہ دار کو لے کر ایک کلینک سے دوسری کلینک تک دوڑتے رہے، لیکن کسی نہ انھیں منھ نہیں لگایا۔ ’’ہمیں ہر جگہ سے منع کر دیا گیا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’وہ یا تو ۲۰۰۰ روپے کے نوٹ لیتے نہیں ہیں یا صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کے پاس چینج نہیں ہے۔‘‘

دریں اثنا، تمام آنکھیں ناسک پر لگی ہوئی ہیں، جہاں سے نئے چھپنے والے نوٹ باہر جائیں گے، پورے ہندوستان میں۔ دیہی علاقوں میں ابھی یہ نوٹ کسی کو نہیں ملے ہیں، لیکن سب کو امید ہے کہ ایک نہ ایک دن انھیں ضرور ملیں گے۔ دیکھتے رہئے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath