’’میں نے اپنے تھیلے میں جو کیلے رکھے تھے، وہی کھاکر کام چلایا،‘‘ سریندر رام نے مجھے فون پر بتایا کہ انہوں نے کیسے ۲۲ مارچ کے ’جنتا کرفیو‘ کے وقت گزارہ کیا۔ اس دن، جب ممبئی کی زیادہ تر دکانیں اور کاروبار بند ہو گئے تھے اور جو لوگ گھروں میں رہ سکتے تھے، انہوں نے خود کو اندر بند کر لیا تھا، سریندر پریل میں ٹاٹا میموریل اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔

سریندر ۳۷ سال کے ہیں اور انہیں منہ کا کینسر ہے۔

کرفیو کے دن تک، فٹ پاتھ کو اپنا ’گھر‘ بنائے ان کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا – جنوب وسطی ممبئی میں واقع سرکاری امداد یافتہ اسپتال جو کئی کینسر مریضوں کو ریاعتی قیمتوں پر علاج مہیا کرواتا ہے، اس کے باہر فٹ پاتھ پر ان کے اور ان کے جیسے دوسرے مریضوں کے لیے ’اندر بند‘ ہونے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ پورے ہندوستان سے کئی غریب خاندانوں کے لوگ اپنا علاج کروانے یہاں آتے ہیں۔

’’میرا چیک اپ ہو چکا ہے،‘‘ سریندر کہتے ہیں۔ ’’ڈاکٹر نے مجھے چار مہینے بعد آنے کے لیے کہا ہے۔‘‘ لیکن ۲۵ مارچ کو جب ملک بھر میں پوری طرح سے لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے ریل خدمات ردّ کر دی گئیں، تب وہ بہار میں سمستی پور ضلع پوٹیلیا گاؤں میں اپنے گھر واپس نہیں جا پائے۔ ’’اب وہ کہتے ہیں کہ ۲۱ دن تک سب کچھ بند رہے گا۔ مجھے کوئی خبر نہیں ملتی۔ مجھے آس پاس کے لوگوں سے پوچھنا پڑتا ہے۔ تب تک کیا میں اسی فٹ پاتھ پر رہوں؟‘‘ سریندر نے سوال کیا۔

جب میں ۲۰ مارچ کو سریندر سے ملی تھی، تب وہ ایک نارنگی رنگ کی پلاسٹک کی چادر پر بیٹھے تھے، اپنے منہ کے ایک طرف سے کیلے کھا رہے تھے۔ ان کے نتھنوں کے بائیں طرف ایک پائپ لگا تھا۔ ’’کھانا میرے گلے سے نیچے نہیں اترتا، اس لیے پائپ کی ضرورت پڑتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ چادر پر ایک طرف کالا تھیلا رکھا تھا۔ جس میں انہوں نے اپنے کپڑے، میڈیکل رپورٹ، دوائیں اور کیلے بھرے ہوئے تھے۔

دن کے وقت بھی اس فٹ پاتھ پر چوہے دوڑ رہے تھے۔ مریضوں کے پاس کچھ چوہے مرے پڑے تھے۔ رات میں حالت مزید خراب ہو جاتی ہے، جب موٹے چوہے آس پاس دوڑتے رہتے ہیں۔

Left: Pills, ointments, gauze and bandage that belong to the cancer patients living on the footpath near the Tata Memorial Hospital. Right: Peels of bananas eaten by Surendra Ram, an oral cancer patient. Surendra survived on the fruit during the Janata Curfew on March 22
PHOTO • Aakanksha
Left: Pills, ointments, gauze and bandage that belong to the cancer patients living on the footpath near the Tata Memorial Hospital. Right: Peels of bananas eaten by Surendra Ram, an oral cancer patient. Surendra survived on the fruit during the Janata Curfew on March 22
PHOTO • Aakanksha

بائیں: گولیاں، مرہم، گاز اور پٹیاں جو ٹاٹا میموریل اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر رہنے والے کینسر مریضوں کی ہیں۔ دائیں: منہ کے کینسر سے متاثر مریض، سریندر رام کے ذریعے کھائے گئے کیلوں کے چھلکے۔ ۲۲ مارچ کو جنتا کرفیو کے دوران سریندر نے پھل کھاکر ہی کام چلایا

جس دن ہم ملے تھے، اس سے پہلے سریندر کے پاس خود کو بچانے کے لیے ماسک تک نہیں تھا۔ وہ اپنا منہ اور ناک ایک ہرے تولیے سے ڈھکتے تھے۔ اگلے دن ان کو کسی نے ماسک دیا۔ وہ پبلک ٹوائلیٹ اور اس میں رکھے تھوڑے سے صابن کا استعمال کرتے ہیں۔

’’وہ لوگوں سے ہاتھ دھونے اور محفوظ رہنے کو کہتے ہیں، لیکن ہمیں محفوظ رکھنے کے لیے کچھ کر کیوں نہیں رہے؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں۔ ’’ہم بھی تو مریض ہیں۔‘‘

عالمی ادارۂ صحت اور انڈین میڈیکل ریسرچ کونسل نے کچھ جماعتوں کو سنگین کووڈ- ۱۹ انفیکشن کی انتہائی خطرناک والی فہرست میں رکھا ہے – اور اس میں کینسر کے مریض بھی شامل ہیں۔ اگر وہ لوگ باہر کھلے میں رہ رہے ہیں، تھوڑے سے کھانے، پانی یا صفائی کے ساتھ، تو خطرے کا صرف تصور کیا جا سکتا ہے۔

لاک ڈاؤن کا مقصد سماجی رابطہ کو کم کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ لوگ اندر رہیں۔ لیکن سریندر ممبئی میں ایک کمرہ بھی کرایے پر نہیں لے سکتے۔ ’’ہر بار جب میں اس شہر میں آتا ہوں، کھو جاتا ہوں۔ رہنے کے لیے کہاں جگہ ڈھونڈوں؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں۔ انہیں ممبئی کے مختلف حصوں میں واقع رعایتی دھرم شالاؤں کے لیے بارے میں نہیں پتہ۔ ’’میں یہاں کسی کو نہیں جانتا، کس سے پوچھوں؟‘‘ وہ کہتے ہیں۔

سریندر ٹاٹا اسپتال میں علاج کرانے کے لیے پچھلے ایک سال سے اکیلے ممبئی آ رہے ہیں۔ ان کی بیوی اور دو بچے، پانچ اور دو سال کی عمر کے، گاؤں میں رہتے ہیں۔ ’’میں ایک سال پہلے تک بنگلور میں ایک دواخانہ میں کام کرتا تھا، جب تک کہ مجھے کینسر کی وجہ سے نوکری نہیں چھوڑنی پڑی،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ وہ ۱۰ ہزار روپے مہینہ کمایا کرتے تھے، کچھ اپنے خرچ کے لیے رکھتے اور باقی گاؤں میں اپنی فیملی کو بھیج دیتے تھے۔ اب، بغیر کسی کمائی کے ذریعہ کے وہ اپنے رشتہ داروں پر منحصر ہیں۔ ’’میرے پاس بالکل پیسہ نہیں ہے، جب میں ممبئی آتا ہوں تب میرا سالا [شوہر کا بھائی] ہی میری اقتصادی مدد کرتا ہے۔‘‘

PHOTO • Aakanksha

اسپتال کے پاس والا فٹ پاتھ سریندر کے لیے گھر ہے۔ ان کا چیک اَپ ہو چکا ہے، وہ بہار میں اپنے گاؤں پوٹیلیا واپس نہیں جا سکتے کیوں کہ ۲۵ مارچ سے ۲۱ دن کے لاک ڈاؤن میں ریل خدمات بند کر دی گئی ہیں۔ اور ممبئی میں کمرہ لینے کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں

اسپتال میں اس علاج کے لیے سریندر کے پاس ’مفت‘ چھوٹ ہے۔ ’’میرے کیمو اور دوسرے علاج کی فیس پر چھوٹ ہے اور باقی سب کی دیکھ بھال اسپتال کرتا ہے۔ لیکن ممبئی میں روز رہنا بہت مشکل ہے،‘‘ سریندر کہتے ہیں۔

اسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر رہنے والے مریضوں کو صبح کیلے اور روٹی ملتی ہے۔ شام کو ان کو کچھ مسالے کے آمیزہ کے ساتھ چاول ملتے ہیں۔ کل (۲۹ مارچ)، ان کو پہلی بار صبح میں دودھ ملا، جو رضاکاروں کے ذریعے بانٹا گیا تھا۔

ڈاکٹر نے سریندر کو مشروبات پیتے رہنے کے لیے کہا ہے۔ ’’کچھ لوگ ہمارے لیے کھانا لاتے ہیں، لیکن پانی نہیں لاتے ہیں؛ کرفیو [لاک ڈاؤن] کے دوران پانی ملنا مشکل ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

سریندر جہاں بیٹھے تھے، وہاں سے کچھ قدم کی دوری پر سنجے کمار کی پریشان فیملی بیٹھی تھی۔ جب میں انہیں ۲۰ مارچ کو ملی، تب سنجے فٹ پاتھ پر چٹائی پر لیٹے تھے، سر کو سیمنٹ کے ایک ٹکڑے پر ٹکائے ہوئے۔ اس ۱۹ سالہ نوجوان (اوپر کور فوٹو میں دکھائے گئے) کو ہڈی کا کینسر ہے اور وہ اپنا دایاں پیر نہیں ہلا سکتے۔ ان کے بڑے بھائی وجے اور بھابھی پریم لتا ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے ان کے ساتھ فٹ پاتھ پر ہی رہ رہے ہیں۔

For two days, Satender (left) and Geeta Singh (right) from Solapur, lived on the footpath, where rats scurry around. Geeta has liver cancer, and her check-up on April 1 has been postponed
PHOTO • Aakanksha

سیتاپور کے رہنے والے ستیندر (بائیں) اور گیتا سنگھ نے (دائیں؛ ان کو لیور کینسر ہے) دو دن فٹ پاتھ پر گزارے، جہاں چوہے دوڑ رہے تھے

کچھ دنوں بعد، سنجے نے مجھے فون پر بتایا، ’’اس کرفیو [لاک ڈاؤن] نے ہمارے لیے اور بھی مصیبت بڑھا دی ہے، کھانا حاصل کرنا مشکل ہے۔ جب کوئی مدد نہیں کرتا، تو ہم بریڈ اور بسکٹ کھاتے ہیں۔‘‘

سنجے آسانی سے اٹھ یا چل نہیں پاتے ہیں، اسپتال کے پاس پبلک ٹوائلیٹ تک جانا بھی ان کے لیے مشکل ہے۔ ’’میں روز یہاں لیٹا رہتا ہوں اور اپنا جسم ہلانے میں ناکام ہوں۔ میں اسپتال سے دور نہیں رہ سکتا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اگر وہ چلتے ہیں، تو ان کے دائیں پیر سے خون نکلنے لگتا ہے، اور ڈاکٹر نے تین دن پہلے ہی ان کے پیر میں پلاسٹر لگایا ہے۔

یہ فیملی پہلی بار ممبئی آئی ہے۔ ’’مجھے بتایا گیا تھا کہ ممبئی میں بہتر سہولت ہے۔ لیکن فٹ پاتھ پر رہنا اور دن میں ایک بار ڈھنگ کا کھانا ملنے کا انتظار کرنا، یہی وہ ساری سہولت ہے جو ہمیں مل رہی ہے،‘‘ وجے کہتے ہیں۔ وہ لوگ بھی کوئی رہنے کی رعایتی جگہ نہیں لے پائے ہیں، اور کہتے ہیں کہ انہیں کسی دھرم شالہ کے بارے میں نہیں معلوم ہے۔

’’ہمیں ہر دن کسی نہ کسی چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کا انتظار کرنا پڑتا ہے،‘‘ وجے کہتے ہیں۔ ’’ہم گھر واپس نہیں جا سکتے۔‘‘ ان کا گھر مدھیہ پردیش کے بالا گھاٹ ضلع میں بیہر بلاک میں ہے۔

گاؤں میں ان کے والدین اپنے بیٹوں اور بہو کے محفوظ لوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وجے گھر کے اکلوتے کمانے والے رکن ہیں۔ وہ تعمیرات کے مقام پر کام کرتے ہیں، اور مہینے میں ۷-۱۰ ہزار روپے کماتے ہیں۔ یہ کمائی بھی تب بند ہو گئی، جب وہ اپنے بھائی کی مدد کے لیے ان کے ساتھ ممبئی آ گئے۔ اب یہ فیملی اپنی تھوڑی سی بچت کے سہارے ہی گزارہ کر رہی ہے۔

’’ہم دکانوں اور ہوٹلوں سے کھانے کا کچھ سامان خریدتے تھے، کام چلانے کے لیے تھوڑی سی پوڑی اور سبزی، لیکن ہم یہ سب کب تک کھا سکتے ہیں؟ یہاں دال چاول مہنگے ہیں۔ ٹوائلیٹ کا استعمال کرنے کے لیے ہمیں پیسہ دینا پڑتا ہے، اپنے فون چارج کرنے کے لیے پیسہ دیتے ہیں، ممبئی میں ہر چیز کے لیے ہم پیسہ دیتے ہیں۔ میں ایک مزدور ہوں،‘‘ وجے کہتے ہیں۔ ایک دن میں وجے تقریباً ۱۰۰-۲۰۰ روپے ان سب ضروری چیزوں پر خرچ کرتے ہیں، اور جب دواؤں کی ضرورت پڑتی ہے تو اور بھی پیسے خرچ کرتے ہیں۔

بہت ساری تنظیمیں اور لوگ باقاعدگی سے اسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر رہنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کرتے ہیں، اور ان کو روٹیاں، کیلے اور دودھ دیتے ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسا کر پانا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ’’ہمیں صرف رات میں کھانا ملا،‘‘ ’جنتا کرفیو‘ والے دن کے بارے میں وجے بتاتے ہیں۔ انہوں نے کچھ بریڈ اور پچھلے دن کی بچی ہوئی تھوڑی سی سبزی کھاکر کام چلایا۔

لاک ڈاؤن کے دنوں میں، کئی بار، کچھ مریضوں کو اسپتال کے اندر چیک اپ کے لیے بلا لیا جاتا ہے جب باہر کھانا تقسیم ہو رہا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان مریضوں کو کھانا نہیں مل پاتا ہے – جیسا کہ کرونا دیوی کے ساتھ پیر کو ہوا۔ کرونا دیوی کو بریسٹ کینسر ہے۔ وہ اسپتال سے ۲ کلومیٹر دور، دادر اسٹیشن کے پاس ایک دھرم شالہ میں جگہ ملنے کا ہفتوں سے انتظار کر رہی ہیں۔ کچھ دھرما شالہ دن کا ۵۰-۲۰۰ روپے تک لیتے ہیں، جسے کئی مریض برداشت نہیں کر سکتے۔

Left: Ajay , a Class 4 student from Jharkhand, arrived in Mumbai with his parents over two weeks ago. Ajay suffers from blood cancer. His father runs around for his reports and medicines while his mother takes care of him on the footpath. Right: People from poor families across India come to the  Tata Memorial Hospital because it provides subsidised treatment to cancer patients
PHOTO • Aakanksha
Left: Ajay , a Class 4 student from Jharkhand, arrived in Mumbai with his parents over two weeks ago. Ajay suffers from blood cancer. His father runs around for his reports and medicines while his mother takes care of him on the footpath. Right: People from poor families across India come to the  Tata Memorial Hospital because it provides subsidised treatment to cancer patients
PHOTO • Aakanksha

بائیں: اجے، کلاس ۴ کا طالب علم، بلڈ کینسر میں مبتلا ہے؛ وہ دو ہفتے پہلے جھارکھنڈ سے اپنے والدین کے ساتھ ممبئی آیا تھا۔ اس کے والد رپورٹ اور دواؤں کے لیے بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں، اس کی ماں اس کا فٹ پاتھ پر خیال رکھتی ہیں۔ دائیں: ملک بھر سے غیر گھروں کے لوگ اسپتال میں رعایتی علاج کروانے آتے ہیں

۲۰ مارچ کو، گیتا سنگھ بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو اپنے شوہر ستیندر کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھی تھیں۔ پاس ہی میں، دو پتھروں کے درمیان ایک مرا ہوا چوہا دبا ہوا تھا۔ گیتا کو چھ مہینے پہلے لیور کینسر کا پتہ لگا اور وہ چار مہینے سے ممبئی میں ہیں۔ وہ مہاراشٹر کے سولاپور ضلع سے آئے ہیں۔

ایک ہفتہ پہلے تک، وہ لوگ شمالی ممبئی کے گورے گاؤں میں ستیندر کی بہن کے یہاں رہ رہے تھے، لیکن کووڈ- ۱۹ کے ڈر سے ان کی بہن نے ان سے گھر چھوڑنے کے لیے کہہ دیا۔ ’’انہوں نے کہا کہ ہم لوگ روز اسپتال جاتے ہیں اور ان کو ڈر ہے کہ ان کے بچے کو انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں وہاں سے نکلنا پڑا۔ ہم لوگ دو دن سے اسٹیشنوں پر اور فٹ پاتھ پر رہ رہے ہیں،‘‘ گیتا کہتی ہیں۔

بہت منت سماجت کے بعد، ستیندر اسپتال سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور، تھانے ضلع کے ڈومبی ولی میں اپنے کسی دور کے رشتہ دار سے رابطہ بنا پائے۔ پھر، وہ اور گیتا وہاں رہنے چلے گئے اور اپنے رشتہ دار کو رہنے اور کھانے کا پیسہ دے رہے ہیں۔

گیتا کا اگلا چیک اپ ۱ اپریل کو ہونا تھا، اس کے بعد مہینے کے ابتدائی کچھ دنوں میں کیمو تھیراپی اور سرجری ہونی تھی۔ لیکن ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ان کا ۱ اپریل کا چیک اپ ردّ کر دیا گیا ہے، اور انہیں باقاعدگی کے ساتھ دوا لیتے رہنے اور صلاح کے مطابق احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے۔ ’’ہم اپنے گھر پر اپنے بچوں کے پاس بھی نہیں جا سکتے۔ اور ہم اسپتال بھی نہیں جا سکتے۔ ہمارے پاس کسی بھی چیز کی سہولت نہیں ہے۔ ہم یہاں پھنس گئے ہیں،‘‘ گیتا کی صحت کے بارے میں اور بھی فکرمند ہوتے ہوئے ستیندر کہتے ہیں۔ ’’وہ اُلٹیاں کرتی رہتی ہے۔‘‘

ان کے دو بچے ہیں، ۱۲ اور ۱۶ سال کے، جو ستیندر کے بڑے بھائی کے ساتھ سولاپور میں رہ رہے ہیں۔ ’’ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم جلدی لوٹیں گے، لیکن اب ہمیں نہیں پتہ کہ ہم ان کے چہرے کب دیکھ پائیں گے،‘‘ گیتا کہتی ہیں۔ پانچ مہینے پہلے تک ستیندر پاورلوم کی ایک فیکٹری میں کام کرکے مہینے کا ۷۰۰۰ روپے کماتے تھے۔ ٹاٹا میموریل اسپتال ٹرسٹ ان کے علاج کا آدھا خرچ اٹھا رہا ہے، وہ بتاتے ہیں، اور باقی کا انتظام وہ اپنی بچت سے کر رہے ہیں۔

Left: Jamil Khan, who has oral cancer, moved to a distant relative's home in Nalasopara with his mother and siblings after the lockdown came into effect. They had lived on the street for seven months prior to that. Right: Cancer patients live out in the open opposite the hospital. With little food, water and sanitation, they are at a greater risk of contracting Covid-19
PHOTO • Aakanksha
Left: Jamil Khan, who has oral cancer, moved to a distant relative's home in Nalasopara with his mother and siblings after the lockdown came into effect. They had lived on the street for seven months prior to that. Right: Cancer patients live out in the open opposite the hospital. With little food, water and sanitation, they are at a greater risk of contracting Covid-19
PHOTO • Aakanksha

بائیں: جمیل خان، جن کو منہ کا کینسر ہے، لاک ڈاؤن کے بعد فیملی کے ساتھ ایک دور کے رشتہ دار کے گھر، نالا سوپارہ چلے گئے۔ وہ اس سے پہلے، ساتھ مہینوں تک فٹ پاتھ پر ہی رہ رہے تھے۔ دائیں: کینسر کے مریض اسپتال کے سامنے کھلے میں رہتے ہیں، کووڈ- ۱۹ سے انفیشکن ہونے کے بڑھے خطرے کے ساتھ

جمیل خان، جن کو منہ کا کینسر ہے، ان کو بھی یہی ڈر ہے۔ وہ اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر سات مہینوں سے اپنی ماں قمر جہاں، بھائی شکیل اور بہن نسرین کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ لوگ اتر پردیش کے بلرامپور ضلع کے گونڈوا گاؤں سے یہاں آئے ہیں۔ فیملی کے زیادہ تر لوگ زرعی مزدوری کرتے ہیں، جب کام ملتا ہے تب دن کا تقریباً ۲۰۰ روپے کما لیتے ہیں، یا جب کھیتی کا موسم نہیں ہوتا تب کام ڈھونڈنے شہروں کی طرف چلے جاتے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے بعد وہ لوگ اسپتال سے تقریباً ۶۰ کلومیٹر دور، ایک دور کے رشتہ دار کے گھر، نالا سوپارہ چلے گئے تھے۔ ’’انہوں نے ہمیں کچھ دنوں تک رہنے کی اجازت دی ہے، لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سب اتنا لمبا چلے گا...‘‘

نالا سوپارہ میں جمیل کے رشتہ دار بھی چار لوگوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے مصیبت میں ہیں۔ ’’وہ پہلے سے ہی پانچ لوگ تھے اور اب ہم بھی آ گئے ہیں۔ اتنا کھانا جمع کرکے رکھنا مشکل ہے۔ ہماری دواؤں میں ہفتے کے تقریباً ۵۰۰ روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ہمارا پیسہ ختم ہو رہا ہے،‘‘ نسرین کہتی ہیں۔ ہفتہ کے روز، وہ کچھ دوائیں خرید کے رکھ پائے، اور اب انہیں پتہ نہیں کہ اس کے بعد وہ کیا کریں گے۔ جمیل کے چہرے کے بائیں طرف ہونے والے زخم کی بار بار صفائی اور پٹی کرنی پڑتی ہے۔

جمیل کو لگتا ہے کہ فٹ پاتھ پررہنا ہی بہتر تھا، ’’کم از کم اسپتال قریب تھا۔ اگر اس میں سے [چہرے کے بائیں طرف] خون آتا یا درد ہوتا تو میں فوراً اسپتال جا سکتا تھا۔‘‘

’’اگر یہاں [نالاسوپارہ میں] میرے بھائی کو کچھ ہو گیا، تو کون ذمہ دار ہوگا؟‘‘ نسرین پوچھتی ہیں۔ ’’اگر انہیں کچھ ہو گیا، تو کسی کو بھی کچھ فرق پڑے گا کیا؟‘‘

نلیش گوئنکا، جو ٹاٹا میموریل اسپتال کی عوامی رابطہ ٹیم میں ہیں، نے مجھے فون پر بتایا: ’’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جن مریضوں کو فوراً علاج کی ضرورت نہیں ہے ان کو گھر بھیج دیں۔ ہم ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

اس سال جنوری میں، ممبئی میرر نے اسپتال سے کچھ ہی دور ہند ماتا پل کے نیچے رہنے والے کینسر مریضوں کی حالت کے بارے میں لکھا تھا۔ رپورٹ کے بعد کئی سارے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو جلد از جلد دھرم شالاؤں میں بھیج دیا گیا۔ شہر کے میونسپل کارپوریشن نے پل کے نیچے عارضی پناہ گاہوں اور موبائل ٹوائلیٹ جیسے حل کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے بعد، فٹ پاتھ پر رہنے والے لوگوں، جن سے میں نے بات کی تھی، نے اس کے بارے میں کچھ اور نہیں سنا۔

 

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Aakanksha

آکانشا (وہ صرف اپنا پہلا نام استعمال کرنا پسند کرتی ہیں) پاری کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔

Other stories by Aakanksha