ہندوستان میں رسّی بنانے والی پہلی فیٹکری الپوژا، کیرل میں ۱۸۵۹ میں قائم کی گئی تھی۔ یہ طویل عرصے تک ملک میں رسّی بنانے والی صنعت کا بنیادی مرکز بنا رہا۔ لیکن خام مال کی کمی اب اس تجارت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ صنعت مالکان مغربی بنگال کے جوٹ کا استعمال کر رہے ہیں، اور جوٹ کی چٹائیاں بنانے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر اور ماہر کامگار کیرل کے ہیں۔ کیرل کے جن مزدوروں کے پاس یہ ہنر ہے، وہ شاید اس کی آخری نسل ہے۔


02_CoirTrilogy3_No longer spinning much yarn_VS


03_CoirTrilogy3_No longer spinning much yarn_VS

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

V. Sasikumar

وی ششی کمار تھیرووننتا پورم میں مقیم فلم ساز ہیں، جن کا فوکس ہے دیہی، سماجی اور ثقافتی مسائل۔ انھوں نے یہ ویڈیو ڈاکیومینٹری اپنی ۲۰۱۵ پاری فیلوشپ کے تحت بنائی ہے۔

Other stories by V. Sasikumar