یہ کلاسک ہندوستانی سنیما کا ریگستان میں لڑائی کا ایک منظر ہے۔ ہیرو، جس کے پیچھے ریت کے ٹیلے ہیں جن پر کہیں کہیں چھوٹی گھاس اُگ رہی ہے، ولین کا خاتمہ کرنے کے لیے بنجر زمین کی جلتی ریت سے نمودار ہوتا ہے۔ قدرت کے ذریعے پہلے سے ہی دی گئی بہت ساری گرمی اور ریت کو بڑھاتے ہوئے، وہ فلم کو خاتمہ بالخیر (ولین کو چھوڑ کر) تک لے جاتا ہے۔ بے شمار ہندوستانی فلموں نے راجستھان کے کچھ ویران علاقوں میں ان مناظر کی تصویر کشی کی ہے۔ یا مدھیہ پردیش میں چمبل کی گھاٹی کے جنگلوں میں بھی۔

صرف، اس خشک ویران منظر (ویڈیو کلپ دیکھیں) میں راجستھان یا چمبل کی کوئی جگہ استعمال نہیں کی گئی۔ اس کی شوٹنگ جنوبی جزیرہ نما کے بہت اندر، آندھرا پردیش کے رائل سیما علاقے میں کی گئی تھی۔ اننت پور ضلع میں تقریباً ۱۰۰۰ ایکڑ کا یہ مخصوص علاقہ – جو کبھی باجرا کے کھیتوں سے بھرا ہوتا تھا – کئی دہائیوں سے ریگستان بنا ہوا ہے۔ یہ سب اکثر متضاد اسباب سے ہوا ہے – اور اس نے کچھ ایسے مقامات کی تخلیق کی ہے جس کا پتہ لگانے کے لیے فلم ساز اپنے لوکیشن اسکاؤٹس کو بھیجتے رہے ہیں۔

درگاہ ہونّور گاؤں میں، جہاں اس علاقے کے بڑے زمیندار رہتے ہیں، لوگوں کو یہ سمجھانا مشکل تھا کہ ہم فلم کی شوٹنگ کے لیے جگہ تلاش کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ’’یہ کس فلم کے لیے ہے؟ یہ کب آ رہی ہے؟‘‘ یہی ان کا سیدھا سوال تھا یا اس وقت ان کے دماغ میں چل رہا تھا۔ کچھ لوگوں کو جب یہ پتہ چلا کہ ہم صحافی ہیں، تو ان کی دلچسپی فوراً ہی ختم ہو گئی۔

اس جگہ کو مشہور کرنے والی تیلگو فلم – جیم مَنَ ڈے را (فتح ہماری ہے) – کو بنانے والوں نے یہاں لڑائی کے اُن مناظر کی شوٹنگ 1998 سے 2000 کے درمیان کی۔ کسی بھی محنتی کاروباری فلم سازوں کی طرح، انھوں نے ریگستان کے اثر کو بڑھانے کے لیے اپنے ’سیٹ‘ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ ’’ہمیں اپنی فصل کو اکھاڑنا پڑا (جس کے لیے انھوں نے ہمیں معاوضہ دیا تھا)،‘‘ ۴۵ سالہ پجاری لِنگنّا کہتے ہیں جن کی فیملی کے پاس ۳۴ ایکڑ زمین ہے جس میں لڑائی کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ ’’ہم نے کچھ نباتات اور چھوٹے درختوں کو بھی ہٹایا، تاکہ یہ زیادہ حقیقی نظر آئے،‘‘ باقی کا کام کیمرہ کی مہارت اور فلٹر کے فنکارانہ استعمال نے کیا۔

اگر جَیَم مَنَ ڈے را کو بنانے والے آج ۲۰ سال بعد، اس کی اگلی کڑی کی شوٹنگ کر رہے ہوتے، تو انھیں بہت کم محنت کرنی پڑتی۔ وقت اور بے رحم قدرت، اور بے شمار انسانی مداخلت نے ریگستان کو پھیلا کر اتنا کر دیا ہے جتنے کا وہ مطالبہ کر سکتے تھے۔

اس خشک ویران منظر (ویڈیو کلپ دیکھیں) میں راجستھان یا چمبل کی کوئی جگہ استعمال نہیں کی گئی۔ اس کی شوٹنگ جنوبی جزیرہ نما کے بہت اندر، آندھرا پردیش کے رائل سیما علاقے میں کی گئی تھی

لیکن یہ ایک متجسس ریگستانی علاقہ ہے۔ کھیتی ابھی بھی ہوتی ہے – کیوں کہ زیر زمین پانی ابھی بھی سطح کے کافی قریب ہے۔ ’’ہمیں اس علاقے میں صرف ۱۵ فٹ نیچے پانی مل جاتا ہے،‘‘ لِنگنّا کے بیٹے، پی ہونّو ریڈی کہتے ہیں۔ اننت پور کے زیادہ تر حصوں میں، بورویل میں ۵۰۰-۶۰۰ فٹ سے اوپر پانی نہیں ملتا۔ ضلع کے کچھ حصوں میں، انھوں نے ۱۰۰۰ فٹ کے نشان کو توڑ دیا ہے۔ لیکن یہاں، جس وقت ہم بات کر رہے ہیں، چار اِنچ کے بورویل میں پانی لبالب بھرا ہوا ہے۔ اتنا پانی، سطح کے اتنا قریب، وہ بھی اس گرم اور ریتیلے علاقے میں؟

’’یہ پورا علاقہ ایک پھیلی ہوئی ندی کی زمین میں واقع ہے،‘‘ پاس کے ایک گاؤں کے کسان، پلتھرو مُکنّا بتاتے ہیں۔ کون سی ندی؟ ہم تو کچھ نہیں دیکھ سکتے۔ ’’انھوں نے [تقریباً پانچ] دہائیوں پہلے، ہُنّور سے تقریباً ۲۵-۳۰ کلومیٹر دور، یہاں سے ہوکر بہنے والی وید وَتی ندی پر ایک بند بنایا تھا۔ لیکن ہمارے علاقے میں وید وَتی (تُنگ بھدرا کی ایک معاون ندی – جسے اگھاری بھی کہا جاتا ہے) خشک ہو گئی۔‘‘

’’حقیقت میں یہی ہوا ہے،‘‘ (اننت پور کے دیہی ترقی ٹرسٹ کے) ایکولوجی سینٹر کے ملّا ریڈی کہتے ہیں – کچھ ہی لوگ اس علاقے کو جانتے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہیں۔ ’’اور ہو سکتا ہے کہ ندی خشک ہو گئی ہو لیکن، صدیوں سے، اس نے پانی کے ایک زیر زمین آبی ذخیرہ کو بنانے میں مدد کی جسے اب لگاتار کانکنی کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔ اتنی رفتار سے کہ یہ آنے والی آفت کے بارے میں اشارہ کر رہی ہے۔‘‘

اس آفت کے آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ’’یہاں ۲۰ سال پہلے شاید ہی کوئی بورویل تھا،‘‘ ۴۶ سالہ کسان وی ایل ہماچل کہتے ہیں، جن کا اس بنجر علاقے میں ۱۲ء۵ ایکڑ کھیت ہے۔ ’’یہاں بارش کے پانی سے کھیتی ہوتی تھی۔ لیکن اب، تقریباً ۱۰۰۰ ایکڑ میں ۳۰۰-۴۰۰ بورویل ہیں۔ اور ہمیں ۳۰-۳۵ فٹ کی گہرائی میں پانی ملتا ہے، کبھی کبھار اس سے بھی نیچے۔‘‘ یعنی ہر تین ایکڑ، یا اس سے بھی کم میں ایک بورویل۔

یہ تعداد بہت بڑی ہے، اننت پور کے لیے بھی، جیسا کہ ملّا ریڈی بتاتے ہیں، جہاں ’’تقریباً ۲۷۰۰۰۰ بورویل ہیں، حالانکہ ضلع کی قوت برداشت ۷۰۰۰۰ ہے۔ اور اس سال ان میں سے تقریباً نصف خشک ہو گئے ہیں۔‘‘

Pujarai Linganna in his field
PHOTO • Rahul M.
Pujarai Linganna with his son P. Honnureddy in their field
PHOTO • P. Sainath

بیس سال پہلے، پجاری لِنگنّا (بائیں: اپنے بیٹے پی ہونّو ریڈی کے ساتھ دائیں جانب) کو ایک فلم کی شوٹنگ کے لیے گھاس پھوس کو اکھاڑنا پڑا تھا۔ آج، وقت اور انسانی سرگرمیوں نے اس ریگستان میں مزید اضافہ کیا ہے۔ (تصویریں: بائیں: راہل ایم/پاری۔ دائیں: پی سائی ناتھ/پاری)

تو ان بنجر علاقوں میں بورویل کس لیے ہیں؟ کس چیز کی کھیتی کی جا رہی ہے؟ ہم جس علاقے میں گھوم رہے ہیں، وہاں چاروں طرف نظر آنے والی چیز ضلع کی ہمہ گیر مونگ پھلی کی فصل نہیں ہے، بلکہ باجرے کی ہے۔ اس باجرے کی کھیتی یہاں بیج کو کئی گُنا بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے۔ کھانے یا باجرا کے لیے نہیں، بلکہ بیج کمپنیوں کے لیے جنہوں نے اس کام کے لیے کسانوں کو ٹھیکہ دیا ہے۔ آپ پاس پاس بنائی گئی قطاروں میں بڑے قرینے سے لگائے گئے نر اور مادہ پودوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ کمپنیاں باجرے کی دو الگ الگ قسموں سے ایک ہائبرِڈ بنا رہی ہیں۔ اس کام میں کافی پانی لگے گا۔ بیج نکالنے کے بعد پودے میں جو کچھ بچے گا، وہ چارے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

’’بیج کی نقل بنانے کے اس کام کے لیے ہمیں ۳۸۰۰ روپے فی کوئنٹل ملتے ہیں،‘‘ پجاری لنگنّا کہتے ہیں۔ اس میں درکار محنت اور تحفظ کو دیکھتے ہوئے، یہ کم لگتا ہے – اور یہ ایک سچائی ہے کہ کمپنیاں اُن بیجوں کو ایسے ہی کسانوں کو بہت اونچی قیمتوں پر بیچیں گی۔ اسی علاقے کی ایک اور کسان، وائی ایس شانتمّا کہتی ہیں کہ ان کی فیملی کو ۳۷۰۰ روپے فی کوئنٹل ملتا ہے۔

شانتمّا اور ان کی بیٹی وندکشی کہتی ہیں کہ یہاں کھیتی کرنے کا مسئلہ پانی نہیں ہے۔ ’’ہمیں گاؤں میں بھی پانی ملتا ہے، حالانکہ ہمارے گھر میں پائپ والا کوئی کنیکشن نہیں ہے۔‘‘ ان کا سر درد ریت ہے جو – پہلے سے موجود بھاری مقدار کے علاوہ – بہت تیزی سے جمع ہو سکتا ہے۔ اور کئی فٹ گہری ریت پر تھوڑی دور چلنا بھی تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔

’’یہ آپ کے ذریعے کیے گئے کام کو تباہ کر سکتا ہے،‘‘ ماں اور بیٹی کا کہنا ہے۔ پی ہونو ریڈی متفق ہیں، اور ہمیں ریت کے ٹیلے کے نیچے وہ جگہ دکھاتے ہیں جہاں انھوں نے بڑی محنت سے پودوں کی قطاریں بنائی ہیں – چار دن پہلے ہی۔ اب وہ صرف ریت میں ڈھکی لکیریں ہیں۔ اس جگہ پر دھول بھری آندھی چلتی ہے، جو تیزی سے خشک ہوتے علاقے کا حصہ ہے جہاں سے اٹھنے والی تیز ہوائیں گاؤں تک پہنچتی ہیں۔

’’سال کے تین مہینے – اس گاؤں میں ریت کی بارش ہوتی ہے،‘‘ ریگستان کے ایک دوسرے کاشت کار، ایم باشا کہتے ہیں۔ ’’یہ ہمارے گھروں میں آتی ہے؛ ہمارے کھانے میں گرتی ہے۔‘‘ ہوائیں ریت کو اُڑا کر ان گھروں میں بھی لے جاتی ہیں، جو ریت کے ٹیلے کے بہت زیادہ قریب نہیں ہیں۔ جالی یا اضافی دروازے ہمیشہ کام نہیں کرتے ہیں۔ اِسِکّا ورشم [ریت کی بارش] اب ہماری زندگی کا حصہ ہے، ہم اسی کے ساتھ رہتے ہیں۔‘‘

Honnureddy’s painstakingly laid out rows of plants were covered in sand in four days.
PHOTO • P. Sainath
Y. S. Shantamma
PHOTO • P. Sainath

بائیں: ہونّو ریڈّی کی بڑح محنت سے لگائی گئی پودوں کی قطاریں چار دنوں کے اندر ہی ریت سے ڈھک گئی تھیں۔ دائیں: وائی ایس شانتما اور ان کی بیٹی وندکشی کہتی ہیں، ’یہ [ریت] آپ کے ذریعے کیے گئے کام کو تباہ کر سکتی ہے،۔ (تصویریں: بائیں: پی سائی ناتھ/پاری۔ دائیں: پی سائی ناتھ/پاری)

ڈی ہونّور گاؤں کے لیے ریت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ’’لیکن ہاں، ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے،‘‘ ہماچل کہتے ہیں۔ بہت سے جھاڑی نما پودے اور چھوٹے درخت جو ہوا کو روکنے کا کام کرتے تھے، اب ختم ہو چکے ہیں۔ ہماچل گلوبلائزیشن اور بازار پر مبنی اقتصادیات کے بارے میں پوری جانکاری سے بات کرتے ہیں۔ ’’اب ہم ہر چیز کا شمار نقدی میں کرتے ہیں۔ جھاڑیاں، پیڑ پودے اور نباتات اس لیے ختم ہو گئے کیوں کہ لوگ زمین کے ہر ایک انچ کو تجارتی کھیتی کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔‘‘ اور ’’اگر ریت اس وقت گرنے لگے جب بیج پھوٹ رہے ہوں، تو سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے،‘‘ ۵۵ سالہ کسان ایم تِپّیاہ کہتے ہیں۔ پانی موجود ہونے کے باوجود پیداوار کم ہے۔ ’’ہمیں ایک ایکڑ سے تین کوئنٹل مونگ پھلی ملتی ہے، زیادہ سے زیادہ چار،‘‘ ۳۲ سالہ کسان، کے سی ہونّور سوامی کہتے ہیں۔ ضلع کی اوسط پیداوار تقریباً پانچ کوئنٹل ہے۔

ہوا کے قدرتی مزاحموں میں انھیں کوئی قیمت نہیں دکھائی دیتی؟ ’’وہ صرف ان درختوں کی طرف دھیان دیں گے جن کی کوئی مالیاتی قدر ہے،‘‘ ہماچل کہتے ہیں۔ جو، ان حالات کے موافق نہیں ہیں، وہ یہاں بالکل بھی نہیں اُگ سکتے۔ ’’اور ویسے بھی، اہلکار کہتے رہتے ہیں کہ وہ درخت لگانے میں مدد کریں گے، لیکن ایسا ہوا نہیں ہے۔‘‘

پلتھرو مُکنّا بتاتے ہیں کہ ’’کچھ سال پہلے، کئی سرکاری افسر معائنہ کرنے کے لیے ریت کے ٹیلے والے علاقے میں آئے تھے۔‘‘ ریگستان کا سفر بری طرح ختم ہوا، ان کی ایس یو وی ریت میں ہی دھنس گئی، جسے گاؤں والوں نے ٹریکٹر سے کھینچ کر باہر نکالا۔ ’’ہم نے تبھی سے، ان میں سے کسی اور کو نہیں دیکھا ہے،‘‘ مُکنّا کہتے ہیں۔ کسان، موکھا راکیش کہتے ہیں کہ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے ’’جب بس گاؤں کے اس طرف بالکل بھی نہیں جا سکتی۔‘‘

جھاڑی اور جنگل کا خاتمہ رائل سیما کے اس پورے علاقے کا مسئلہ ہے۔ اکیلے اننت پور ضلع میں، ۱۱ فیصد علاقے کو ’جنگل‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ لیکن جنگل والا علاقہ اب گھٹ کر ۲ فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ اس کا مٹی، ہوا، پانی اور درجہ حرارت پر منفی اثر پڑا ہے۔ اننت پور میں جو ایک واحد جنگل آپ دیکھ رہے ہیں، وہ پَوَن چکّی کا جنگل ہے – ہزاروں کی تعداد میں – جو چاروں طرف دکھائی دیتا ہے، یہاں تک کہ اس چھوٹے ریگستان کی سرحد پر بھی۔ یہ پون چکّی کمپنیوں کے ذریعے خریدی گئی یا پٹّہ پر دی گئی زمین پر بنائی گئی ہیں۔

واپس ڈی ہونّور میں، ریگستانی علاقے میں کھیتی کرنے والے کسانوں کا ایک گروپ ہمیں بتاتا ہے کہ یہاں ہمیشہ سے یہی حال رہا ہے۔ پھر وہ اس کے برعکس دمدار ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ریت یہاں ہمیشہ رہی ہے، ہاں۔ لیکن ریت کے طوفان پیدا کرنے والی ان کی شدت بڑھ گئی ہے۔ پہلے زیادہ جھاڑی اور جنگل تھا۔ لیکن اب، بہت کم رہ گیا ہے۔ ان کے پاس ہمیشہ پانی ہوا کرتا تھا، ہاں، لیکن ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ندی خشک ہو گئی ہے۔ دو دہائی پہلے بہت کم بورویل ہوا کرتے تھے، اب سینکڑوں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک، گزشتہ دو دہائیوں میں پڑنے والے سخت موسم کی تعداد کو یاد کرتا ہے۔

بارش کا پیٹرن بدل گیا ہے۔ ’’جب ہمیں بارش کی ضرورت ہوتی ہے، تو میں کہوں گا کہ وہ ۶۰ فیصد کم ہوتی ہیں،‘‘ ہماچل کہتے ہیں۔ ’’گزشتہ کچھ برسوں میں، اُگادی [تیلگو نئے سال کے آس پاس، عام طور پر اپریل میں] کم بارش ہوئی۔‘‘ اننت پور کو جنوب مغرب اور شمال مشرق دونوں ہی مانسون چھوتے ہیں، لیکن کسی ایک کا بھی پورا فائدہ نہیں ملتا۔

PHOTO • Rahul M.

اوپر: ریت چاروں جانب پھیل رہی ہے، ریگستان میں کھیتی کرنے والے اور کسان، ایم باشا کہتے ہیں، ’یہ ہمارے گھروں میں آتی ہے؛ ہمارے کھانے میں گرتی ہے‘۔ نیچے: اننت پور کا ایک واحد جنگل اب دور تک، ہر جگہ پوَن چکّیوں کا جنگل ہے۔ (تصویریں: راہل ایم/پاری)

اُن برسوں میں بھی، جب ضلع میں ۵۳۵ ملی میٹر کی سالانہ اوسط بارش ہوتی ہے – وقت، پھیلاؤ اور چھڑکاؤ بہت ہی بے ترتیب رہا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے بارش، فصل سے غیر فصل والے موسموں میں ہونے لگی ہے۔ کبھی کبھی، شروع کے ۲۴-۴۸ گھنٹوں میں بھاری بارش ہوتی ہے اور اس کے بعد لمبے عرصے تک موسم خشک رہتا ہے۔ پچھلے سال، کچھ منڈلوں نے فصل کے موسم (جون سے اکتوبر) کے دوران تقریباً ۷۵ دنوں تک سوکھے کا سامنا کیا۔ اننت پور، جہاں کی ۷۵ فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور کل محنت کشوں میں سے ۸۰ فیصد لوگ زرعی کام (کسان یا مزدور کے طور پر) کرتے ہیں، وہاں کے لیے یہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

’’گزشتہ دو دہائیوں میں سے ہر ایک میں، اننت پور میں صرف دو ’عام‘ سال رہے ہیں،‘‘ ایکولوجی سینٹر کے مَلّا ریڈّی کہتے ہیں۔ ’’باقی ۱۶ برسوں میں سے ہر ایک میں، ضلع کے دو تہائی سے تین چوتھائی حصے کو خشک سالی سے متاثر قرار دیا گیا ہے۔ اس مدت سے پہلے کے ۲۰ برسوں میں، ہر دہائی میں تین قحط پڑتے تھے۔ جو تبدیلی ۱۹۸۰ کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی، وہ ہر سال تیز ہوتی چلی گئی۔‘‘

کسی زمانے میں باجرا کی کثرت والا یہ ضلع تیزی سے مونگ پھلی جیسی تجارتی فصلوں کی جانب بڑھنے لگا۔ اور اس کے نتیجہ میں، یہاں بڑی تعداد میں بورویل کی کھدائی ہونے لگی۔ (نیشنل رین فیڈ ایریا اتھارٹی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب یہاں ’’کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں پانی کی نکاسی ۱۰۰ فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔‘‘)

’’چالیس سال پہلے، ایک واضح پیٹرن تھا – ۱۰ برسوں میں تین قحط – اور کسان جانتے تھے کہک کیا روپنا ہے۔ الگ الگ قسم کی ۹ سے ۱۲ فصلیں اور ایک مستحکم زرعی تسلسل ہوا کرتا تھا،‘‘ سی کے ’ببلو‘ گانگولی کہتے ہیں۔ وہ ٹِمبکٹو کلیکٹِو نامی این جی او کے قائد ہیں، جس نے تین دہائیوں تک اس علاقے میں دیہی غریبوں کی اقتصادی بہتری پر توجہ مرکوز کی ہے۔ خود چار دہائیوں تک یہاں کام کرنے کی وجہ سے، انھیں اس علاقے کی کھیتی کے بارے میں بہت کچھ معلومات ہو گئی ہیں۔

’’مونگ پھلی [اب اننت پور میں کاشت کاری کے ۶۹ فیصد علاقے کا احاطہ کرتی ہے] نے ہمارے ساتھ وہی کیا جو افریقہ میں ساہیل کے ساتھ۔ جس ایک فصلی کھیتی کو ہم نے اپنایا، اس میں صرف پانی کی حالت میں ہی تبدیلی نہیں ہوئی۔ مونگ پھلی سایہ نہیں کر سکتی، لوگ درختوں کو کاٹ رہے ہیں۔ اننت پور کی مٹی برباد کر دی گئی۔ باجرا ختم ہو گیا۔ نمی چلی گئی، جس سے بارش پر مبنی کھیتی کی طرف لوٹنا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘ فصل میں تبدیلی نے کھیتی میں خواتین کے کردار کو بھی کم کر دیا۔ روایتی طور پر، وہ یہاں اُگنے والی بارش پر مبنی متعدد فصلوں کے بیج کی محافظ تھیں۔ کسانوں نے جیسے ہی نقدی فصل ہائبرڈ (جس نے اننت پور میں مونگ پھلی کی جگہ لے لی ہے) کے لیے بازار سے بیج خریدنا شروع کیا، خواتین کا رول کافی حد تک گھٹ کر مزدوروں کا ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی، دو نسلوں کے دوران، کسانوں کے ذریعے ایک ہی کھیت میں مختلف قسم کی فصلوں کو اُگانے کا ہنر بھی جاتا رہا۔

PHOTO • Rahul M. ,  P. Sainath

لِنگنّا کے پوتے، ہونّور سوامی (اوپر بائیں جانب) اور ناگ راجو (اوپر دائیں) اب ریگستانی کسان ہیں، جن کے ٹریکٹر اور بیل گاڑی (نیچے) ریت میں گہری لکیریں کھینچتے ہیں۔ (تصویریں: اوپر بائیں اور نیچے بائیں: راہل ایم/پاری۔ اوپر دائیں اور نیچے دائیں: پی سائی ناتھ/پاری)

چارے کی فصلیں اب کھیتی والے کچھ رقبہ کا ۳ فیصد سے بھی کم ہیں۔ ’’اننت پور میں کبھی ملک کے چھوٹے چھوٹے جُگالی کرنے والے جانوروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی،‘‘ گانگولی کہتے ہیں۔ ’’جُگالی کرنے والے چھوٹے جانور کُروبا جیسے روایتی چرواہوں کی قدیم برادریوں کے لیے سب سے اچھے اثاثتے ہیں – موبائل پراپرٹی۔ روایتی چکر، جس میں چرواہوں کے گروپ فصل کٹائی کے بعد کسانوں کے کھیتوں کو گوبر اور پیشاب کی شکل میں کھاد فراہم کرتے تھے، اب فصل کے بدلتے پیٹرن اور کیمیاوی زراعت کے سبب رک گیا ہے۔ اس علاقے کے لیے بنایا جا رہا منصوبہ غریبوں کے لیے نامناسب ثابت ہوا ہے۔‘‘

ہونّور میں ہماچل اپنے آس پاس کی زرعی بایو ڈائیورسٹی اور اس کے نتائج کو سمجھتے ہیں۔ ’’کسی زمانے میں، اسی گاؤں میں، ہمارے پاس باجرا، لوبیا، کبوتر مٹر، راگی، کنگنی، چنا، سیم ہوا کرتے تھے...‘‘ وہ لمبی فہرست سناتے ہیں۔ ’’بارش پر مبنی زراعت میں فصل اُگانا تو آسان ہے، لیکن یہ ہمارے لیے نقدی نہیں لاتی ہے۔‘‘ مونگ پھلی نے کچھ وقت کے لیے یہ کام ضرور کیا۔

مونگ پھلی کا فصل چکر تقریباً ۱۱۰ دنوں کا ہوتا ہے۔ ان میں، یہ صرف مٹی کو ڈھکتی ہے، اسے ۶۰-۷۰ دنوں تک کٹاؤ سے بچاتی ہے۔ اُس دور میں جب نو الگ الگ باجرا اور دالیں اُگائی جاتی تھیں، تو وہ ہر سال جون سے فروری تک اوپری مٹی کو ایک تحفظاتی سایہ فراہم کرتی تھیں، تب کوئی نہ کوئی فصل زمین پر ہمیشہ رہتی تھی۔

واپس ہونّور میں، ہماچل فکرمند ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بورویل اور نقدی فصلوں نے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ وہ اس میں بھی گراوٹ کے آثار دیکھ رہے ہیں – اور ذریعہ معاش محدود ہونے کے سبب ہجرت میں اضافہ کو بھی۔ ’’ہمیشہ ۲۰۰ سے زیادہ کنبے باہر جا کر کام کرنا چاہتے ہیں،‘‘ ہماچل کہتے ہیں۔ یعنی ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق اننت پور کے بومّن ہل منڈل کے اس گاؤں کے ۱۲۲۷ گھروں میں سے ایک چھٹا۔ ’’سبھی گھروں میں سے تقریباً ۷۰-۸۰ فیصد قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔ دو دہائیوں سے اننت پور میں زرعی بحران کافی گہرایا ہوا ہے – اور یہ آندھرا پردیش کا وہ ضلع ہے جو کسانوں کی خودکشی کے واقعات سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔

Pujari Linganna standing outside his house
PHOTO • P. Sainath
Palthuru Mukanna
PHOTO • Rahul M.
V. L. Himachal
PHOTO • P. Sainath

بائیں: پجاری لنگنّا (تصویر: پی سائی ناتھ/پاری)۔ درمیان میں: پلتھرو مُکنّا (تصویر: راہل ایم/پاری)۔ دائیں: ویایل ہماچل (تصویر: پی سائی ناتھ/پاری)

بورویل کا بہترین دور ختم ہو چکا ہے،‘‘ مَلّا ریڈّی کہتے ہیں۔ ’’یہی حال نقدی فصل اور ایک فصلی زراعت کا ہے۔‘‘ تینوں میں ابھی بھی اضافہ ہو رہا ہے، حالانکہ، ذاتی استعمال کے لیے پیداوار سے ’’نامعلوم بازاروں کے لیے پیداوار‘‘ تک کی اس بنیادی تبدیلی سے متاثر ہو کر۔

اگر موسمیاتی تبدیلی بس قدرت کے ذریعے اپنی ری سیٹ بٹن کو دبانے سے متعلق ہے، تو ہونّور اور اننت پور میں ہم نے کیا دیکھا؟ اس کے علاوہ، جیسا کہ سائنسداں ہمیں بتاتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی وسیع تر قدرتی علاقوں اور خطوں میں ہوتی ہے – ہونّور اور اننت پور انتظامی اکائیاں ہیں، صرف نیم پختہ، اہلیت حاصل کرنے کے لیے بہت ہی چھوٹی۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ زیادہ بڑے علاقوں کے کینوس میں اتنی زیادہ تبدیلی کبھی کبھی ان کے اندر ذیلی علاقوں کی موجودہ عجیب خاصیتوں کو بڑھا سکتی ہے؟

یہاں تبدیلی کے تقریباً سبھی عنصر دخل اندازی کے نتیجہ میں ہوئے۔ ’بورویل مہا ماری‘، تجارتی فصل اور ایک فصلی زراعت کو بڑی مقدار میں اپنانا؛ بایو ڈائیورسٹی کا خاتمہ جو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اننت پور کی بہتر طریقے سے حفاظت کر سکتی تھی؛ آبی ذخیرہ کی سطح کا لگاتار استحصال؛ اس نیم خشک علاقے میں جو تھوڑا بہت جنگلی علاقہ تھا اس کی تباہی؛ گھاس کے میدان کی ایکولوجی کو نقصان پہنچانا اور مٹی کی سنگین خرابی؛ کیمیاوی زراعت کی صنعت سے متحرک شدت؛ کھیت اور جنگل، چرواہوں اور کسانوں کے درمیان بقائے باہمی کے تعلقات کا ختم ہوتے جانا – اور ذریعہ معاش کا نقصان؛ ندیوں کی موت۔ ان سبھی نے درجہ حرارت، موسم اور ماحولیات کو واضح طور پر متاثر کیا ہے – جنہوں نے بدلے میں ان عمل کاریوں کو اور بڑھا دیا ہے۔

اگر انسانی ایجنسی، اقتصادیات اور ترقی کے ماڈل کے ذریعے متحرک ہونے کے سبب پاگل ہو گئی ہے، ہم پر ہونے والی تبدیلیوں کی ایک بنیادی وجہ ہے، تو اس علاقہ اور اس جیسے دوسرے کئی علاقوں سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

’’شاید ہمیں بورویل کو بند کر دینا چاہیے اور بارش پر مبنی کھیتی کی طرف لوٹ جانا چاہیے،‘‘ ہماچل کہتے ہیں۔ ’’لیکن یہ بہت مشکل ہے۔‘‘

پی سائی ناتھ پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا (پاری) کے بانی ایڈیٹر ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

کور فوٹو: راہل ایم/پاری

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath