بھوری کلّو، جنوب مشرقی اترپردیش کے چترکوٹ ضلع کے بھکورا گاؤں میں اکیلی رہتی ہیں۔ ان کا گھر، آنگن اور چولہا، سبھی خالص مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں صرف ایک استثنیٰ ہے، ایک تین دیواری اینٹ کا ڈھانچہ جس کے اوپر کوئی چھت نہیں ہے، جس کے بارے میں مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ ایک نامکمل ٹوائلیٹ ہے۔

وہ مٹی کے ایک چولہے کو کھولتی ہیں، بنیادی طور پر یہ ایک گڑھا ہے جس میں کئی سوراخ ہیں۔ یہی ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے، جسے پوری احتیاط کے ساتھ بورے سے کاٹ کر تیار کی گئی پلاسٹک کی کئی تہوں سے ڈھکا گیا ہے۔ ’’میں یہاں پر مٹر اور گیہوں بھونتی ہوں، لیکن وہ بھی زیادہ تر شادیوں کے موسم میں۔

باقی دنوں میں، مجھے حکومت کی طرف سے پنشن کے طور پر سالانہ ۱۸۰۰ روپے ملتے ہیں۔‘‘


02-Figure-2.-Dryroasting pit-RS-Bhuri and the Three-walled Toilet.jpg

شادیوں کے موسم میں، بھوری اس چولہے کا استعمال گیہوں اور مٹر بھوننے کے لیے کرتی ہیں۔ ان کی آمدنی کا واحد دوسرا ذریعہ حکومت کی طرف سے انھیں ماہانہ ملنے والی ۱۵۰ روپے کی پنشن ہے


میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کھیتی کرنے یا بٹائی پر دینے کے لیے کوئی زمین ہے۔ وہ اپنا سر ہلاتی ہیں، ’’میرے پاس دو بیگھہ کھیت تھے، لیکن یہ بہت پہلے کی بات ہے۔ اپنے بچے کی دوا خریدنے کے لیے میں نے اسے بیچ دیا۔‘‘ اب ان کا بالغ بیٹا سونی پت، ہریانہ میں کام کرتا ہے۔ ان کے شوہر کی موت تقریباً دس سال پہلے ہو گئی تھی۔

یہ تین دیواروں والا اینٹ کا ڈھانچہ کیا ہے؟ ’’اسے حکومت نے چند سال قبل بنوایا تھا۔ یہ کسی پروگرام کے تحت بنایا گیا۔‘‘ وہ شاید نرمل بھارت ابھیان کی بات کر رہی ہیں، جو دیہی ہندوستان میں بیت الخلا یا ٹوائلیٹ بنانے کی مرکزی حکومت کی ایک اسکیم ہے۔ ’’انھوں نے اسے بنانا شروع کیا، لیکن کبھی مکمل نہیں کیا۔‘‘ کیا مکمل نہیں کیا؟ ’’انھوں نے صرف دیواریوں بنائیں۔ نیچے کچھ بھی نہیں ہے۔ کوئی گڑھا نہیں ہے، انھوں نے کھودا ہی نہیں۔‘‘ اس کا مطلب ہے کہ عضلات کے جمع ہونے کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ بھوری کے پاس ٹوائلیٹ کا صرف تین چوتھائی حصہ ہے اور اس کے بنیادی اجزاء غائب ہیں۔ ’’اب میں وہاں پر لکڑیاں جمع کرکے رکھتی ہوں۔ کم از کم یہ کسی مطلب کا ہے۔‘‘


03-Figure-3.-Toilet turned storeroom(Crop)-RS-Bhuri and the Three-walled Toilet.jpg

بھوری اس نامکمل ڈھانچہ کا استعمال لکڑیاں جمع کرکے رکھنے کے لیے کرتی ہیں، اور کہتی ہیں، ’کم از کم یہ کسی مطلب کا ہے‘


آپ بیت الخلا کے لیے کہاں جاتی ہیں، میں نے پوچھا۔ وہ اشارہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ گاؤں سے دور۔ ’’باہر، کھیتوں میں۔‘‘ کیا یہ آپ جیسی بوڑھی عورت کے لیے مشکل نہیں ہے؟ ’’ہاں، بالکل ہے۔ بڑی پریشانی ہوتی ہے اور مجھے چوٹ بھی لگ جاتی ہے، خاص کر اندھیرے میں۔ تب میری مدد کون کرے گا؟‘‘

بھوری اپنے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جہاں لوہے کے فریم کا ایک سنگل کھاٹ ہے، یہی ان کا بیڈ روم ہے۔ ’’مانسون میں، میرا گھر اکثر پانی سے بھر جاتا ہے۔ بارش کا پانی اور گندا پانی، جو گاؤں کے کھلے نالوں سے بہتا ہے، وہ میرے گھر کے اندر جمع ہو جاتا ہے۔‘‘ جب میں نے ان سے پوچھا کہ بارش کے اس موسم میں وہ کہاں سوتی ہیں، تو وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ’’اور کہاں؟ یہیں پر، جہاں میرے چاروں طرف پانی لگا ہوتا ہے۔‘‘

 

رادھا سرکار لندن اسکول آف ایکنامکس سے کمپریٹو پولیٹکس میں ایم ایس سی کر رہی ہیں۔ ان کے دلچسپی ہندوستان میں سماجی انصاف، محرومی اور غریبی جیسے موضوعات میں ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Radha Sarkar

Radha Sarkar is pursuing an MSc in Comparative Politics at the London School of Economics. She is interested in issues of social justice, dispossession and poverty in India.

Other Stories by Radha Sarkar