آپ دور سے ہی یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ نہ تو کوئی گاؤں ہے اور نہ ہی کوئی میلہ کا میدان۔

ٹن کی چھت والی اس جھونپڑی میں بانس کے کھونٹے سے قطاروں میں بندھی ہزاروں ہزار گائیں، بیل اور بھینسیں آواز نکال رہی ہیں اور ڈکار مار رہی ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کی یہاں چہل پہل ہے، اور چارے سے بھری بیل گاڑیاں لگاتار آ جا رہی ہیں۔

گوبر کے ڈھیر سے جب آپ گزریں گے، تو آپ کو میتھین کی مہک ہوا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی محسوس ہوگی۔

ویلکم ۔ اگر یہ صحیح لفظ ہے ۔ مہاراشٹر کے سب سے بڑے ’’مویشی کیمپ‘‘ میں آپ کا خیر مقدم ہے، جہاں چاروں طرف ہلچل ہے اور میلے جیسے بڑا میدان ہے، لیکن اس جیسا مزہ یا رنگ نہیں ہے۔


02-IMGP0859-JH-An animal saved today is an animal earned tomorrow.jpg

پلوَن کیمپ، جو بیڈ ٹاؤن سے زیادہ دور نہیں ہے، میں ٹِن اور بانس سے بنی جھونپڑی میں ۵ ہزار سے زیادہ مویشی رہتے ہیں


لیکن قحط سے تباہ مراٹھواڑہ کے پلون گاؤں سے ایک کلومیٹر کی دوری پر واقع اس ۱۰۰ ایکڑ اراضی پر جس چیز کی بہتات ہے، وہ ہے کنکری یا ریت کے ذرات۔

اس کا اظہار ۲۸ سالہ وِشنو بگلین کے الفاظ سے ہوا، جن کا شمار ان سینکڑوں لوگوں میں ہوتا ہے، جو اپنے مویشیوں کے لیے مفت جھونپڑی، پانی اور چارہ، اور خود کے لیے دوپہر کے مفت کھانے کی لالچ میں دور دراز اور آس پاس کے گاؤوں سے اپنے مویشیوں کے ساتھ اس کیمپ میں آئے ہیں۔ یہ تمام چیزیں انھیں ریاستی حکومت کی مدد سے غیر سرکاری تنظیم کے ذریعہ ایسے وقت میں مہیا کرائی جاتی ہیں، جب لگاتار پڑنے والے قحط کی وجہ سے کھیتوں میں پپڑی پھٹنے لگتی ہے اور زمینیں بنجر ہو جاتی ہیں۔

’’میں دن میں کئی بار خود سے کہتا ہوں کہ ہمت مت مارو،‘‘ ۴۵ ڈگری کے قریب درجہ حرارت میں اپنے ۲۰ مویشیوں پر مگ سے پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے وِشنو کہتے ہیں۔ ’’یہ تو صرف چند مہینوں کی بات ہے۔‘‘

انھیں امید ہے کہ اب کی بار مانسون اچھا رہے گا۔

وِشنو اور ان کے ۶۴ سالہ والد، رگھوناتھ بگلین مراٹھواڑہ میں لگاتار چوتھے خراب مانسون کی وجہ سے اس سال ستمبر سے یہاں پر ہیں۔ بیٹا صبح ۷ بجے سے شام کے ۷ بجے تک مویشیوں کی دیکھ بھال کرتا ہے؛ باپ رات کا کھانا کھانے کے بعد مویشیوں کی اس جھونپڑی میں سونے چلے آتے ہیں۔

یہاں سے پانچ کلومیٹر دور، کاکا دھائر میں واقع اپنے گھر کی عورتیں اکثر بچوں کو لے کر یہاں آتی رہتی ہیں، تاکہ وہ یہاں کھیل کود سکیں۔ بعض دفعہ قریبی رشتہ دار بھی یہاں کا چکّر لگا لیتے ہیں۔

چارہ چھاؤنیوں کی لمبی تاریخ ہے

مویشیوں کے کیمپ یا چارہ چھاؤنیوں کی مہاراشٹر اور کرناٹک میں ایک لمبی تاریخ رہی ہے، جو قحط سے نمٹنے کے لیے اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے، جس کی شروعات ۱۷ویں صدی میں شیواجی کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ سال ۲۰۱۱ سے مہاراشٹر میں یہ گرمیوں کے دوران ہر جگہ نظر آ جاتے ہیں، خاص کر یہاں کے خشک وسطی اور مغربی علاقوں میں۔

لیکن پچھلے سال ایسا پہلی بار ہوا، جب یہ کیمپ یا چھاؤنیاں سردی کے موسم اور نئے سال کی آمد تک قائم رہیں، اور گرمی کے اس موسم میں بھی جاری ہیں۔

سماجی تنظیمیں یا چینی ملیں قحط سے ویران ہونے والے ان کھیتوں کو پٹّہ پر لے لیتی ہیں اور ان پر یہ چھاؤنیاں لگاتی ہیں، اور انھیں ریاستی حکومت یا پھر اس قسم کے کام میں ان کا ہاتھ بٹانے والی سیاسی پارٹیوں کی مدد سے انھیں چلاتی ہیں۔

قحط سے سب سے زیادہ متاثر مراٹھواڑہ کے تین ضلعوں: لاتور، عثمان آباد اور بیڈ میں ایسے ۳۵۰ کیمپ لگے ہوئے ہیں، جن میں تقریباً ڈھائی لاکھ مویشیوں کو رکھا گیا ہے۔ ان میں سے ۲۶۵ چھاؤنیاں بیڈ میں ہیں، چھوٹی اور بڑی، ۸۰ عثمان آباد میں ہیں اور لاتور میں صرف ایک ہے۔

پلوَن کا کیمپ، جو بیڈ سے ۱۵ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، میں ۳۲ گاؤوں کے تقریباً ۳۰۰ کسانوں کے چھوٹے اور بڑے کل پانچ ہزار مویشی رہتے ہیں۔


03-JH-An animal saved today is an animal earned tomorrow.jpg

مویشیوں کے کچھ مالکان اپنے گاؤوں اور کیمپ میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن، کچھ بوریا بستر کے ساتھ یہاں آ گئے ہیں، جو مویشیوں کی جھونپڑیوں یا خیموں میں سوتے ہیں، ان میں سے کچھ تو اپنے بچوں کے ساتھ یہاں آئے ہوئے ہیں


اسے راجیندر مھسکے کی کثیرالمقاصد سوسائٹی، یشوَنت بہو اُدّیشیہ سیوا بھاوی سنستھا کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے، اور مالی امداد مقامی سیاست داں وِنائک میٹے سے مل رہی ہے، جو دو سال پہلے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔

چونکہ یہاں کے اسٹاف کی تعداد ۶۵ ہے، اس لیے انتظام و انصراف بھی بہتر ہے۔ وشنو کی طرح یہاں رہنے والے ہر آدمی کو ایک شناختی کارڈ، روزانہ کا کوپن اور اس چھاؤنی میں موجود اس کے مویشیوں کی کل تعداد کی بنیاد پر چارے کا کوٹہ جاری کیا گیا ہے۔ کیمپ آفس جب چارہ بانٹنا شروع کرتا ہے، تو ہر کسان کو ایک سیریل نمبر دیا جاتا ہے، تاکہ بھیڑ نہ لگے یا افراتفری نہ مچے۔


04-IMGP0867-JH-An animal saved today is an animal earned tomorrow.jpg

وشنو بگلین اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ پلوَن کیمپ میں، جہاں پر وہ کئی مہینوں سے اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں


چند مویشی مالکان اپنے گاؤں اور چھاؤنی کے بیچ آتے جاتے رہتے ہیں؛ کچھ تو بوریا بستر کے ساتھ یہاں آ گئے ہیں، جو مویشیوں کی جھونپڑیوں یا ٹینٹ میں سوتے ہیں۔

مثال کے طور پر سویتا مُنڈے، ۶۰ کلومیٹر دور، چیکھل بیڈ سے اپنے شوہر، دو بچوں اور چار گایوں کے ساتھ، چھ مہینے پہلے یہاں آئی تھیں۔ وہ چھاؤنی میں مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، جب کہ ان کے شوہر یہاں مزدوری کرتے ہیں۔ ’’مانسون کے آنے تک ہم یہیں رہیں گے،‘‘ انھوں نے پچھلے ماہ کہا تھا۔ (اب مراٹھواڑہ میں مانسون آ چکا ہے۔)

گاؤں کی طرح ہی، اس چھاؤنی نے بھی ایک سماجی زندگی شروع کی ہے۔ حال ہی میں اس نے مشترکہ شادیوں کی ایک تقریب منعقد کی، جس میں یہاں رہنے والے کنبوں سے وابستہ ۵۰ جوڑے شادی کے بندھن میں بندھے۔

مصیبت اور چنوتیاں

سرکار بڑے جانور کے لیے روزانہ ۶۳ روپے اور چھوٹے جانور کے لیے ۳۰ روپے دیتی ہے، لیکن کیمپ سپروائزر ستیش شیلکے کہتے ہیں کہ یہ اونٹ کے منھ میں زیرا کے برابر ہے۔


05-IMGP0855-JH-An animal saved today is an animal earned tomorrow.jpg

پلون مویشی چھاؤنی کے سپروائزر ستیش شیلکے کے سامنے سب سے بڑی چنوتی تھی گرمی کے موسم میں پانی اور چارے کا انتظام کرنا


’’ہمیں خود سے کافی کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’لیکن اگر آپ لوگوں کا برے وقت میں ساتھ دیتے ہیں، تو وہ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘

اس گرمی میں شیلکے کے سامنے سب سے بڑی چنوتی  رہی پانی اور چارے (گنّے اور ہری پتّیوں) کا انتظام کرنا۔

’’ہمیں روزانہ ۳ لاکھ لیٹر پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ۱۲ ہزار لیٹر والے پانی کے ٹینکر کی قیمت ہے ڈیڑھ ہزار روپے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ اس لیے اس چھاؤنی کو ہر روز پانی کے ۲۵ ٹینکروں کے لیے کل ۳۷ ہزار ۵۰۰ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

اوپر سے چارے کی قیمت، ۴۰۰ لوگوں کے لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام اور دیگر اخراجات، اس طرح سے بقول ان کے، مہینہ بھر میں کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ’’ہم ان پیسوں کا انتظام خود اپنے کاروبار اور عطیوں سے کرتے ہیں۔‘‘


06-IMGP0851-JH-An animal saved today is an animal earned tomorrow.jpg

کیمپ میں ہر دن ۴۰۰ لوگوں کے لیے مفت کھانا پکتا ہے


پلون چھاؤنی چارے کا انتظام گنّے کی پیداوار کے لیے مشہور ستار، کولہاپور اور احمد نگر ضلعوں سے کرتی ہے، جب کہ ہری پتّیاں دوسری ریاستوں سے منگوائی جاتی ہیں۔

’’موجودہ سال خراب رہا، کہیں کوئی چارہ نہیں ہے،‘‘ ۶۷ سالہ سپلائر شریمنت باپو گُرسیل کہتے ہیں۔ ’’چینی ملیں کسانوں کو اپنے گنّے کاٹنے کی اجازت نہیں دی رہی ہیں اور نہ ہی ہمیں یہ بیچتی ہیں، اس لیے کہ انھیں گنّے کی کمی ہوجانے کا خطرہ لاحق ہے جو اگلے سال کی ان کی پیداوار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘


07-IMGP0871-JH-An animal saved today is an animal earned tomorrow.jpg

چینی ملیں کسانوں کو گنّے کاٹنے یا خریدنے کی اجازت نہیں دیتیں، کیوں کہ انھیں ڈر ہے کہ اس سے ان کی اگلے سال کی پیداوار میں کمی آ جائے گی۔ اس کی وجہ سے مویشیوں کے کھانے کا انتظام کرنے میں دقتیں آ رہی ہیں


وہ مزید کہتے ہیں: ’’آپ چارے کی تلاش میں جتنا آگے جاتے ہیں، آپ کو اتنا ہی پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ سفر کا خرچ بڑھ رہا ہے، اتنا ہی چارے کی بربادی پر لگ رہا ہے۔‘‘

سال ۲۰۱۲۔۱۳ میں مہاراشٹر کے تقریباً دس لاکھ مویشی پورے مراٹھواڑہ اور ریاست کے مغربی علاقوں میں پھیلی ان چھاؤنیوں میں رکھے ہوئے تھے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت کو اس سال اپوزیشن اور اپنی حلیف شیو سینا کی تنقیدوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ جانوروں کو صرف تین ضلعوں میں رکھنے کی اجازت دی ہے۔

لیکن ماضی میں بدعنوانی اور بد انتظامی کی وجہ سے حکومت بہت سی چارہ چھاؤنیوں کو مدد دینے میں آنا کانی کر رہی ہے۔

اسی لیے، کئی جگہوں پر کسان مجبوراً اپنے مویشیوں کو بیچ رہے ہیں۔

انہی میں سے ایک ہیں بابا جادھو، جو پلون سے تقریباً ۲۵۰ کلومیٹر دور، لاتور ضلع کے امبیواڈی گاؤں میں دیونی نسل کی گائے کو پالنے اور بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ گائے کی اس نسل کی افزائش کے لیے ۴۵ سالہ بابا جادھو کئی ایوارڈ پا چکے ہیں، لیکن وہ اس سال اپنی گایوں کو چارہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے انھوں نے اس سال پُنے میں اپنے دوستوں کو تقریباً ایک درجن گائیں دے دیں۔

’’میں ہر سال درجن بھر گائیں اور بچھڑے بیچتا ہوں، ہر مویشی سے مجھے اچھا خاصا مالی منافع ہوتا ہے۔ لیکن، اس سال کا قحط مجھے اگلے دو سالوں تک نقصان پہنچائے گا (ایک بچھڑے کو پالنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے)، جادھو بتاتے ہیں۔

ان کے گاؤں کے تقریباً آدھے مویشیوں کو جنوری سے اپریل ماہ کے درمیان اونے پونے داموں پر بیچ دیا گیا، کچھ تو دوسری ریاستوں کے کسانوں کو۔

وشنو کہتے ہیں کہ وہ پلون چھاؤنی کے منتظمین کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ان کی ۱۰ گائیں، دو بیل اور آٹھ بھینسیں بچالیں، ایسے وقت میں جب گرمی اور سردی کے موسم کی ان کی دو فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔

یہ نوجوان کسان پہلے بھی قحط کے کئی دور دیکھ چکے ہیں، اور وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ آخری قحط نہیں ہے۔ لیکن، فی الحال، ان کا مقصد اپنے مویشیوں کو زندہ رکھنا ہے۔

’’آج ایک مویشی کو بچانے کا مطلب ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’کل ایک نیا جانور حاصل کرنا۔‘‘

 

یہ کہانی  سب سے پہلے ۲۱ جون، ۲۰۱۶ کو ٹیلی گراف میں شائع ہوئی۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar