امباپانی کے باشندے پارلیمانی انتخاب کے ایک یا دو امیدواروں کی میزبانی کر کے، انہیں گھر کی چکی میں پسے مکئی کے تازہ آٹے کی بھاکری کھلا کر، یا تفریح کے دوران بچوں کے ذریعے پیڑوں سے توڑ کر لائے گئے میٹھے چرولی کے پھل کھلا کر اس موقع سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔

پھر بھی کسی قابل ذکر سیاسی نمائندے نے کبھی یہاں کا دورہ نہیں کیا۔ پانچ دہائیوں میں تو بالکل کبھی نہیں، جب لوگوں نے پہلی دفعہ بانس، مٹی اور گوبر سے اپنے گھر بنائے تھے۔ ستپوڑا کی پہاڑیوں کی پتھریلی اور ناہموار ڈھلوانوں کے ایک سلسلے میں بکھری ہوئی یہ بستی آمد و رفت کے قابل قریب ترین سڑک سے ۱۳ کلومیٹر اوپر کی طرف واقع ہے۔

امباپانی کی آبادی ۸۱۸ ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)۔ یہاں نہ تو سڑک تک رسائی ہے، نہ بجلی کی لائنیں ہیں، نہ پانی ہے، نہ موبائل فون کے نیٹ ورک ہیں، نہ مناسب قیمت کی دکان ہے، نہ کوئی بنیادی صحت کا مرکز یا کوئی آنگن واڑی مرکز ہی ہے۔ یہاں کے تمام رہائشیوں کا تعلق ریاست میں درج فہرست قبائل کے طور پر درج پاورا برادری سے ہے۔ یہاں آباد ۱۲۰ کنبوں میں سے زیادہ تر اپنا سلسلہ نسب چار یا پانچ بڑے قبیلوں سے جوڑتے ہیں جن کی جڑیں مدھیہ پردیش سے وابستہ ہیں۔ مدھیہ پردیش یہاں سے بمشکل ۳۰ کلومیٹر کی دوری پر شمال کی جانب ہے۔

نیٹ ورک شیڈو ژون میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں نہ تو ٹیلی ویژن سیٹ ہیں اور نہ ہی اسمارٹ فون۔ خواتین کے منگل سوتروں کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی انتباہات سے لے کر آئین کی حفاظت پر کانگریس کی تاکید تک، ۲۰۲۴ کی لوک سبھا مہم کی سب سے تند اور سخت آوازیں بھی امباپانی کے ووٹروں تک نہیں پہنچی ہیں۔

اُنگیا گُرجا پاورا کہتے ہیں کہ ’’شاید سڑک‘‘ یہاں ایک پرکشش انتخابی وعدہ ہوسکتی ہے۔ ان کی عمر ۵۶ سال ہے اور وہ اس بستی کے اصل آباد کاروں میں سے ایک کی اولاد ہیں۔ تقریباً ایک دہائی قبل جب انہوں نے اپنی بچت کے پیسوں سے اسٹیل کی ایک الماری خریدی تھی، تو چار آدمی ۷۵ کلو وزنی الماری کو ’’اسٹریچر کی طرح‘‘ اٹھا کر اوپر  بستی میں لے آئے تھے۔

زرعی پیداواروں کو ۱۳ کلومیٹر نیچے ڈھلوان پر واقع موہرالے کے بازار میں دو پہیوں کی سواریوں پر ایک ایک کوئنٹل کی کھیپ میں لاد کر لے جایا جاتا ہے۔ تیز ڈھلواں سطح سے گزرتی کچی سڑک کے ساتھ کئی اتار چڑھاؤ، تند اور تیکھے موڑ، بکھرے ہوئے پتھر اور پہاڑی نالوں کے سلسلے بھی چلتے ہیں، اور کبھی کبھی کسی ہندوستانی ریچھ سے بھی سامنا ہوجاتا ہے۔

اُنگیا کہتے ہیں، ’’تاہم، دوسری طرف یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ آیا سڑک کی تعمیر درختوں کی غیر قانونی کٹائی کو فروغ تو نہیں دے گی۔‘‘

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

بائیں: اُنگیا پاورا اور ان کا اپنا کنبہ امباپانی میں اپنے گھر کے سامنے۔ دائیں: اُنگیا کی بیوی بادھی بائی کے پیر کا انگوٹھا تقریباً کٹ کر الگ ہو گیا تھا جب جلاون کی لکڑی کاٹتے ہوئے ان کی کلہاڑی ہاتھ سے چھوٹ کر ان کی ٹانگ پر گر گئی تھی۔ کٹے کے علاج کے لیے نزدیک میں کوئی کلینک نہیں ہے

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

گاؤں میں اُنگیا پاورا کا گھر (بائیں)۔ وہ بستی کے اصل آباد کاروں میں سے ایک کی اولاد ہیں۔ اُنگیا اور بادھی بائی کی بیٹی ریہندی پاورا کے سسرال کے گھر کے باہر چرولی کا درخت (دائیں)۔ درخت پر چڑھنا اور اس کا میٹھا پھل توڑنا گاؤں کے بچوں کا ایک خاص مشغلہ ہے

جب جلاون کی لکڑیاں کاٹتے ہوئے انگیا کی بیوی بادھی بائی کے پیر کے انگوٹھے پر کلہاڑی گری تھی تو وہ مہینے کے بڑے حصے تک لنگڑاتے ہوئے چلی تھیں۔ زخم گہرا ہونے کے باوجود انہوں نے اس پر پٹی باندھنے کے علاوہ کچھ زیادہ نہیں کیا۔ ’ ’موہرالا کِنوا ہری پورہ پرینت جاوے لاگتے [مجھے موہرالے یا ہری پورہ جانا پڑتا]،‘‘ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ انہوں نے اس زخم کو کیوں نظر انداز کیا۔ ’’کیا کوئی سیاسی جماعت ہمیں یہاں ایک اچھا دواخانہ [کلینک] دے گی؟‘‘ وہ ہنستی ہیں۔

امباپانی کے کم از کم ایک شیر خوار بچے میں سوء تغذیہ کی تشخیص ہوئی تھی، حالانکہ فیملی کو یہ نہیں معلوم کہ چھوٹی بچی میں غذائیت کی کتنی کمی ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ایک دہائی قبل منظوری ملنے کے بعد بھی یہاں کوئی آنگن واڑی مرکز نہیں ہے۔

اس کے بجائے موہرالے کی ایک آنگن واڑی کارکن کو امباپانی کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ وہ مستفید ہونے والے بچوں اور حاملہ خواتین کو گھر کے راشن کے ساتھ ساتھ آئرن اور فولک ایسڈ کی گولیوں کی فراہمی کے لیے ہر چند ہفتوں میں ایک بار اس مشکل سفر کو طے کرتی ہیں۔ ’’اگر ہمارے یہاں آنگن واڑی ہوتی تو کم از کم چھوٹے بچے وہاں جا کر کچھ سیکھ سکتے تھے،‘‘ بادھی بائی کہتی ہیں۔ اُنگیا کا کہنا ہے کہ گاؤں میں چھ سال تک کی عمر کے ۵۰ سے زیادہ بچے ہیں۔ عمر کے اس گروپ کو انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز اسکیم (آئی سی ڈی ایس) کا فائدہ ملتا ہے، جس کے ذریعے آنگن واڑی مراکز چلائے جاتے ہیں۔

بچوں کی پیدائش روایتی طریقے سے گھر پر ہی ہوتی ہے، حالانکہ حالیہ برسوں میں کچھ کم عمر خواتین ۱۳ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع موہرالے یا ہری پورہ کے کلینکوں کا رخ کرتی ہیں۔

اُنگیا اور بادھی بائی کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، اور پوتے پوتیوں کی ایک بڑی فوج ہے۔ اس ناخواندہ جوڑے نے اپنے بیٹوں کو اسکول میں داخل کرانے کی کوشش کی، لیکن سڑک کی غیر موجودگی میں ان کہ یہ مقصد کبھی بھی حقیقت پسندانہ نہ تھا۔

تقریباً دو دہائی قبل ایک اسکول کی ’عمارت‘ کھڑی کی گئی تھی۔ بانس اور چھپر ڈال کر بنا کمرہ  جو شاید گاؤں کا سب سے خستہ حال ڈھانچہ تھا۔

’’دراصل ایک استاد بھی مقرر ہوا ہے، لیکن کیا آپ تحصیل کے کسی اور حصہ میں مقیم کسی شخص سے روزانہ یہاں آنے جانے کی توقع رکھ سکتے ہیں؟‘‘ امباپانی کے رہائشی اور یہاں کے ایک اور اصل آبادکار بجریا کنڈیا پاورا کے بیٹے روپ سنگھ پاورا پوچھتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی دو بیویوں سے ۱۵ اولادیں تھیں۔ بہرحال، صرف ماہر موٹرسائیکل سوار اور مقامی لوگ ہی ۴۰ منٹ کا یہ سفر طے کر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں کی سواری کمزور دل لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ محکمہ جنگلات کے محافظ بھی یہاں راستے بھول جاتے ہیں۔

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

امباپانی میں دو سال پہلے اسکول کی عمارت (بائیں) بن کر تیار ہوئی تھی، لیکن وہاں کسی ٹیچر کا ابھی تک انتظار ہے۔ اس گاؤں کے رہنے والے روپ سنگھ پاورا (دائیں) پوچھتے ہیں، ’دراصل [اسکول میں] ایک استاد مقرر ہوئے ہیں، لیکن کیا آپ تحصیل میں کسی اور جگہ رہنے والے کسی شخص سے روزانہ یہاں آنے جانے کی توقع رکھ سکتے ہیں؟‘

PHOTO • Kavitha Iyer

موٹر سائیکل کے ذریعہ ۴۰ منٹ کی خطرناک چڑھائی طے کر کے جلگاؤں ضلع کے یاول تعلقہ میں واقع امباپانی گاؤں تک پہنچنے کی یہ واحد کچی سڑک ہے

بادھی بائی کے پوتوں میں سے ایک، برکیا، پڑوسی چوپڑا تحصیل کے دھنورا میں واقع آشرم شالہ (ریاستی حکومت کے زیر انتظام خاص طور پر درج فہرست قبائل اور خانہ بدوش قبائل سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے چلائے جانے والے رہائشی اسکول) سے گرمیوں کی تعطیلات کے لیے واپس آیا ہے۔ ایک اور پوتا ایک مختلف آشرم شالہ میں جاتا ہے۔

امباپانی میں ہمیں اسٹیل کے کٹوروں میں ندی کا پانی اور چینی مٹی کے پیالوں میں کالی چائے پیش کی جاتی ہے۔ چار چھوٹی لڑکیوں، جو انہیں لے کر آئیں تھیں، کا کہنا تھا کہ وہ کبھی اسکول نہیں گئیں۔

بادھی بائی کی بیٹی ریہندی کا سسرال اس پیچدار کچے راستے پر تقریباً ایک یا دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس راستے کو پاورا کے آدمیوں نے ایک پہاڑی ڈھلان کے ایک سرے کو نیچے کی طرف اور دوسری ڈھلان کے ایک سرے کو اوپر کی طرف کاٹتے ہوئے بنایا ہے۔

ریہندی کہتی ہیں کہ کچھ ووٹر اس بارے میں سوچ سکتے ہیں کہ کیا ذات پات کے سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے حکومتی عمل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ آس پاس جمع دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ گاؤں کے تقریباً ۲۰ فیصد سے ۲۵ فیصد لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔

راشن کی دکان (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) کورپاولی گاؤں میں ہے، جو یہاں سے تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور موہرالے سے مزید آگے جنوب میں واقع ہے۔ چھ سال تک کی عمر کے اکثر بچوں کا پیدائش سرٹیفکیٹ کے لیے رجسٹریشن نہیں ہوتا ہے، اور ادارہ جاتی پیدائش کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گھر کے چھوٹے اراکین کے لیے آدھار کارڈ حاصل کرنے یا انھیں کنبے کے راشن کارڈ میں بطور مستفید شامل کرنے میں اہل خانہ کو جد و جہد کرنا۔

خواتین نے کہا کہ پانی تک رسائی سب سے اہم چیز ہے، جو سیاست دانوں سے طلب کی جانی چاہیے۔

گاؤں میں نہ کوئی کنواں ہے نہ بورویل ہے، اور نہ ہینڈ پمپ یا پائپ لائن ہی ہے۔ گاؤں کے لوگ پینے کا پانی اور آبپاشی کے لیے برساتی نالوں اور مغرب میں بہنے والی تاپی کی معاون ندیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ پانی کی شدید قلت شاذ و نادر ہی ہوتی ہے، لیکن موسم گرما کے آتے ہی پانی کا معیار گر جاتا ہے۔ ریہندی کہتی ہیں، ’’بعض اوقات ہم مردوں کو موٹر سائیکلوں پر پانی لانے کے لیے کین کے ساتھ بھیجتے ہیں۔‘‘ عموماً عورتیں اور لڑکیاں ننگے پاؤں، ناہموار راستوں پر چل کر برتن میں پانی بھرتی ہیں اور دن میں کئی بار گھر لے جاتی ہیں۔

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

امباپانی میں ایک معمولی پائپ لائن سے صاف پہاڑی پانی ٹپک رہا ہے۔ گاؤں میں کوئی کنواں، بورویل، ہینڈ پمپ یا پائپ لائن نہیں ہے

اسکول کی عمارت کی جانب اوپر کی طرف جانے والی کچی سڑک کے قریب کمل راہنگیا پاورا ایک تیز دھار والے دھات کے مخروطی کپ سے سال کے درخت کی چھال کو کھرچتے ہوئے آنکھیں میچ کر اسے دیکھتے ہیں۔ ان کے دبلے پتلے جسم سے ایک پرانا ریکسین کا بیگ لٹکا ہوا ہے، جس میں سال کے درخت سے نکالا گیا تین کلوگرام خوشبودار گوند (شوریہ روبوسٹا) رکھا ہوا ہے۔ یہ صبح کا درمیانی وقت ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درجہ حرارت پچھلی سہ پہر کے ۴۴ ڈگری سیلسیس کی حد کو تجاوز کر جائے گا۔

وہ اس بات کو یقینی بنانے پر پوری توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ جتنا بھی دستیاب گوند ہے اسے جمع کر لیا جائے۔ کمل امید کرتے ہیں کہ ہری پورہ کے بازار میں انہیں تقریباً ۳۰۰ روپے فی کلوگرام کی قیمت مل جائے گی۔ انہوں نے روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے کام کر کے اپنا بیگ چار دنوں میں بھرا ہے۔ مقامی لوگ چپچپے گوند کو ’ڈِنک‘ کہتے ہیں، حالانکہ یہ مہاراشٹر میں سردیوں میں بنانے جانے والے مشہور اور لذیذ ڈنک لڈو میں استعمال ہونے والا خوردنی گوند نہیں ہے۔ اس گوند میں لکڑی کی اور قدرے مشکی خوشبو ہوتی ہے، جو اسے اگربتی کے لیے سے سب زیادہ مطلوبہ خام مال بناتی ہے۔

گوند نکالنے کے عمل میں زمین سے ایک میٹر سے کچھ اوپر درخت کی چھال کے بیرونی غلاف کے کچھ حصوں کو احتیاط سے ہٹانا، اور پھر اس عمل کو دہرانے سے قبل گوند نکلنے کے لیے کچھ دنوں کا انتظار کرنا شامل ہوتا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق، درخت کی جڑوں کو جھلسا کر گوند نکالنے (گوند کے حصول کا ایک اور طریقہ) کی وجہ سے جنگلات کا نقصان ایک نیا مسئلہ ہے۔ کمل کا کہنا ہے کہ امباپانی کے ڈنک جمع کرنے والے چھال چھیلنے کا روایتی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ’’ہمارے گھر اسی علاقے میں ہیں،‘‘ وہ دلیل دیتے ہیں، ’’اس لیے یہاں کوئی آگ نہیں لگائے گا۔‘‘

درختوں کی گوند، سال کے پتے، بیر، تیندو کے پتے اور مہوا کے پھولوں جیسی جنگلاتی پیداوار جمع کرنا نہ تو پورے سال کا پیشہ ہے اور نہ ہی منافع بخش۔ کمل جیسے مرد گوند سے ہر سال تقریباً ۱۵ سے ۲۰ ہزار روپے کماتے ہیں اور اتنی ہی رقم دوسری جنگلاتی پیداوار سے حاصل کرتے ہیں۔

امباپانی میں ۲۴ کنبوں کو درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلات کے باشندوں کے حقوق کی شناخت کا قانون ، ۲۰۰۶ کے تحت زمین کے مالکانہ حق دیے گئے ہیں۔ لیکن آبپاشی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے خشک موسم میں یہ زمین پرتی رہتی ہے۔

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

کمل پاورا سال کے درختوں سے گوند اکٹھا کرتے ہیں، جسے وہ ۱۳ کلومیٹر دور ہری پورہ کے بازار میں تقریباً ۳۰۰ روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کرتے ہیں

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

چپچپا گوند جمع کرنے کے لیے وہ ایک مخروطی دھاتی کپ (بائیں) کے ذریعہ سال کے درخت کو کھرچتے ہیں۔ ان کے جسم پر لٹکا ایک پرانا ریکسین بیگ (دائیں) ہے جس میں تقریباً تین کلو گرام خوشبودار گوند جمع ہے

تقریباً ایک دہائی قبل چونکہ فیملی بڑی ہوتی گئی اور زمین سے روزی روٹی حاصل کرنا ناپائیدار ہو گیا، تو امباپانی کے پاوراؤں نے گنے کی کٹائی کے مزدوروں کے طور پر کام کی تلاش میں سالانہ مہاجرت میں شامل ہونا شروع کر دیا۔ ’’ہر سال، تقریباً ۱۵ سے ۲۰ کنبے اب کرناٹک کا سفر کرتے ہیں،‘‘ کیلر سنگھ جام سنگھ پاورا کہتے ہیں۔ وہ مزدوروں کے ایک ذیلی ٹھیکدار ہیں اور کھیتی کے لیے مزدوری پر رکھے گیے ہر ایک ’کوئیتا‘ کے لیے ۱۰۰۰ روپے کا کمیشن لیتے ہیں۔

’کوئیتا‘ دراصل درانتی کو کہتے ہیں، لیکن مہاراشٹر کے گنے کے کھیتوں میں مزدوری کے لیے رکھے گئے میاں بیوی کے جوڑے کو یہ نام دیا جاتا ہے۔ گنے کے زیادہ تر مزدوروں کے مقابلے میں پاوراؤں کو ناتجربہ کار مزدوروں کے طور پر تقریباً ۵۰ ہزار روپے فی کوئیتا کی ایک چھوٹی پیشگی رقم ادا کی جاتی ہے۔

’’کوئی دوسرا کام دستیاب نہیں ہے،‘‘ کیلرسنگھ وضاحت کرتے ہیں۔ تقریباً ۱۰ ہزار روپے  ماہانہ کی مزدوری پر ایک جوڑا دن میں ۱۲-۱۶ گھنٹے تک کام کرتا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں گنے کے ڈنٹھل کی کاٹ چھانٹ کرنا، انہیں باندھ کر ٹریکٹروں میں لادنا جو گنے کو کارخانے تک پہنچاتے ہیں، بعض اوقات یہ صبح میں بھی ہوتا ہے۔

روپ سنگھ کا کہنا ہے کہ امباپانی سے گنے کی کٹائی پر گئے دو مزدوروں کی موتیں درج کی گئی ہیں۔ ’’پیشگی ادائیگی چند دنوں میں خرچ ہو جاتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’اور کوئی طبی امداد یا بیمہ یا حادثات یا ہلاکتوں کا معاوضہ نہیں ملتا ہے۔‘‘

ریہندی کے گھر پر جمع ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ اگر انہیں گھر کے قریب روزگار مل جائے تو، وہ گنے کی کٹائی کا کام نہیں کریں گے۔ وہ زبان کے مسائل اور فصل کی کٹائی کے دوران خواتین اور بچوں کو درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہیں، جب وہ گنے کے کھیتوں کے قریب خیموں میں قیام پذیر ہوتے ہیں تو ٹرکوں اور ٹریکٹروں کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ’’حالات خوفناک ہیں، لیکن کون سی دوسری نوکری یک مشت پیشگی رقم ادا کرے گی؟‘‘ کیلرسنگھ پوچھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ امباپانی کے تقریباً ۶۰ فیصد مرد گنے کی کٹائی کے مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ایک خاطر خواہ پیشگی رقم نہ صرف گھر کی معمولی مرمت یا موٹر سائیکل خریدنے کے کام آتی ہے، بلکہ دلہن کی قیمت کے لیے بھی مفید ہوتی ہے جو پاورا دولہے کو اپنی ممکنہ دلہنوں کے والدین کو ادا کرنی ہوتی ہے۔ یہ رقم پاورا پنچایت کے ذریعے طے اور وصول کی جاتی ہے۔

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

امباپانی کے بہت سے باشندے گنا مزدور کے طور پر کام کرنے کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ کیلرسنگھ جام سنگھ پاورا (بائیں) کرناٹک میں گنے کی کٹائی کے لیے بھرتی کیے جانے والے ہر میاں بیوی کی جوڑی پر ۱۰۰۰ روپے کا کمیشن لیتے ہیں۔ زیادہ تر پچھلے کچھ سالوں میں گنے کی کٹائی کے سفر (دائیں) پر نکلے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں گھر کے قریب کام مل جائے تو وہ گنا کٹائی کا کام نہیں کریں گے

PHOTO • Kavitha Iyer
PHOTO • Kavitha Iyer

بائیں: گاؤں میں ای وی ایم کو اسکول میں رکھا جائے گا، جو کہ بنیادی طور پر بانس اور چھپر کا ایک کمرہ ہے۔ دائیں: اسکول کے باہر ٹوٹا ہوا ٹوائلٹ کا بلاک

پاورا قبیلہ کے درمیان سماجی اور ازدواجی تعلقات قائم کرنے والے اصول مختلف ہیں۔ روپ سنگھ بتاتے ہیں کہ کیسے پنچایت شادی کے تنازعات پر فیصلے صادر کرتی ہے۔ مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک دوسرے سے چند درجن گز کے فاصلے پر بیٹھتے ہیں، اس عمل کو جھگڑا کہا جاتا ہے۔ کبھی کبھار، کسی دلہن کو شادی کے چند دن بعد اس کے والدین کے پاس واپس بھیج دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ایک رقم کی ادائیگی ہوتی ہے جسے عزت کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ فرار ہو جاتی ہے، تو دلہن کے گھر والوں کو دلہن کی قیمت سے دوگنا معاوضہ ادا کرنا ہوتا ہے۔

’’امباپانی واقعی ایک انوکھا گاؤں ہے،‘‘ جلگاؤں کے ضلع کلکٹر آیوش پرساد کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ضلع کلکٹر تھے جنہوں نے دسمبر ۲۰۲۳ میں ان سے ملنے کے لیے ۱۰ کلومیٹر پیدل سفر کیا تھا۔ ’’اس [گاؤں] کو اپنی طبعی ساخت کی وجہ سے منفرد چیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن ہم نے بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے یہ عمل شروع کیا ہے۔‘‘ ایک بڑا قانونی چیلنج یہ ہے کہ گاؤں کو محکمہ محصولات کے ذریعہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے، جو کہ اصل میں جنگل کی زمین پر آباد ایک بستی تھی۔ پرساد نے کہا، ’’امباپانی کو گاؤتھن بنانے پر کام شروع ہو گیا ہے، اور بہت سی دیگر سرکاری اسکیمیں یہاں آسکتی ہیں،‘‘ پرساد نے کہا۔

فی الحال باہر ٹوٹے ہوئے ٹوائلٹ کے بلاک کے ساتھ اسکول کا کمرہ ہی وہ جگہ ہے، جہاں ۳۰۰ کے قریب رجسٹرڈ ووٹر ۱۳ مئی کو اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ امباپانی ضلع جلگاؤں کے راور پارلیمانی حلقے میں آتا ہے۔ ای وی ایم اور ووٹنگ کے دیگر تمام ساز و سامان پیدل اور موٹر سائیکلوں کے ذریعہ یہاں لائے جائیں گے۔

عام انتخابات کے دوران اس بوتھ پر اوسطاً ۶۰ فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں، اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امباپانی کو اپنے جمہوری حق کے استعمال کے لیے درکار ہر چیز دستیاب ہوگی۔ صرف جمہوریت کے ثمرات سست روی سے آئیں گے۔

مترجم: شفیق عالم

Kavitha Iyer

Kavitha Iyer has been a journalist for 20 years. She is the author of ‘Landscapes Of Loss: The Story Of An Indian Drought’ (HarperCollins, 2021).

Other stories by Kavitha Iyer
Editor : Priti David

Priti David is the Executive Editor of PARI. She writes on forests, Adivasis and livelihoods. Priti also leads the Education section of PARI and works with schools and colleges to bring rural issues into the classroom and curriculum.

Other stories by Priti David
Translator : Shafique Alam

Shafique Alam is a Patna based freelance journalist, translator and editor of books and journals. Before becoming a full-time freelancer, he has worked as a copy-editor of books and journals for top-notched international publishers, and also worked as a journalist for various Delhi-based news magazines and media platforms. He translates stuff interchangeably in English, Hindi and Urdu.

Other stories by Shafique Alam