’’نہ تو آپ چھٹی پر جا سکتے ہیں، نہ بریک لے سکتے ہیں، اور نہ ہی کوئی مقررہ کام کے اوقات ہیں۔‘‘

شیخ صلاح الدین (۳۷) حیدر آباد کے باہر واقع ایک کیب (ٹیکسی) کمپنی میں بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں، وہ اس کمپنی کا نام نہیں بتانا چاہتے۔ وہ ایک گریجویٹ ہیں، لیکن بتاتے ہیں کہ کمپنی کے ساتھ انہوں نے جس معاہدہ پر دستخط کیا تھا اسے کبھی پڑھا نہیں۔ ’’وہ قانونی شرائط سے بھرا ہوا ہے۔‘‘ وہ معاہدہ اُس ایپ میں موجود ہے جسے انہوں نے ڈاؤن لوڈ کیا تھا؛ ان کے پاس اس کی کوئی ہارڈ کاپی نہیں ہے۔

کولکاتا کے ڈلیوری ایجنٹ رمیش داس (بدلا ہوا نام) کہتے ہیں، ’’کسی معاہدہ پر دستخط نہیں ہوا تھا۔‘‘ مغربی بنگال کے پشچم میدنی پور ضلع کے بہارونا گاؤں سے مہاجرت کرکے کولکاتا آنے والے رمیش کو کسی قسم کی قانونی ضمانت نہیں چاہیے تھی، بلکہ وہ جلد از جلد کوئی نوکری کرنا چاہتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’کوئی کاغذی کارروائی نہیں ہوئی۔ ایپ میں ہمارا آئی ڈی [شناختی کارڈ] ہے – وہی ہماری واحد شناخت ہے۔ ہمیں یہ کام وینڈرز سے [تیسرے فریق کی مدد سے فراہم کردہ] ملا ہے۔‘‘

ہر ایک پارسل کی ڈیلیوری پر رمیش کو تقریباً ۱۲ سے ۱۴ فیصد کا کمیشن ملتا ہے اور ۴۰ سے ۴۵ پارسل پہنچانے پر وہ ایک دن میں تقریباً ۶۰۰ روپے کما سکتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’’اس میں نہ تو پٹرول/ڈیزل کا خرچ شامل ہے، نہ ہی کوئی بیمہ یا علاج کی سہولت، اور نہ ہی کوئی بھتہ (الاؤنس) ملتا ہے۔‘‘

Left: Shaik Salauddin, is a driver in an aggregated cab company based out of Hyderabad. He says he took up driving as it was the easiest skill for him to learn.
PHOTO • Amrutha Kosuru
Right: Monsoon deliveries are the hardest
PHOTO • Smita Khator

بائیں: شیخ صلاح الدین، حیدر آباد کے باہر واقع ایک کیب کمپنی میں ڈرائیور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے گاڑی چلانا اس لیے شروع کیا کیوں کہ ان کے لیے اسے سیکھنا سب سے آسان تھا۔ دائیں: برسات کے دنوں میں لوگوں تک سامان پہنچانا سب سے مشکل کام ہوتا ہے

چھتیس گڑھ کے ساگر کمار (۲۴) تین سال پہلے بلاس پور سے رائے پور آئے تھے۔ انہیں اچھی کمائی کرنے کے لیے اب دیر تک کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ چھتیس گڑھ کی راجدھانی میں بنی ایک دفتر کی عمارت میں صبح ۱۰ بجے سے شام کے ۶ بجے تک سیکورٹی گارڈ کا کام کرتے ہیں، اس کے بعد اپنی موٹر سائیکل سے آدھی رات تک ’سویگی‘ (پکا ہوا کھانا فراہم کرنے والی کمپنی) کے آرڈرز ڈیلیور کرتے ہیں۔

بنگلور میں ایک مشہور کھانے کے ہوٹل کے باہر کئی ڈیلیوری ایجنٹوں کی لمبی لائن لگی ہوئی۔ ہاتھوں میں موبائل فون لیے، سبھی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ سندر بہادر بشٹ کو بھی اپنے فون پر اگلے آرڈر کا انتظار ہے۔ انہوں نے آٹھویں کلاس میں ہی اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ جس زبان میں انہیں کام کی ہدایت ملتی ہے، وہ اسے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’’میں انگریزی میں پڑھ لیتا ہوں، کسی طرح کام چل جاتا ہے۔ پڑھنے کے لیے زیادہ کچھ ہوتا بھی نہیں ہے…فرسٹ فلور (پہلی منزل)، فلیٹ ۱ اے…‘‘ وہ پڑھ کر سناتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں نہ تو کوئی معاہدہ (کانٹریکٹ) ہے اور نہ ہی کوئی ’آفس‘ جہاں جا کر وہ اپنا چہرہ دکھا سکیں۔ ’’کسی طرح کی چھٹی، بیمار پڑنے پر چھٹی، کچھ بھی نہیں ملتا۔‘‘

بڑے شہر ہوں یا چھوٹے قصبے، یومیہ اجرت پر پارٹ ٹائم کام کرنے والے صلاح الدین، رمیش، ساگر اور سندر جیسے افراد ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں – نیتی آیوگ کی ۲۰۲۲ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایسے افراد کی تعداد تقریباً ۷۷ لاکھ ہے۔

Left: Sagar Kumar moved from his home in Bilaspur to Raipur to earn better.
PHOTO • Purusottam Thakur
Right: Sunder Bahadur Bisht showing how the app works assigning him his next delivery task in Bangalore
PHOTO • Priti David

بائیں: ساگر کمار اچھی کمائی کے لیے اپنے گھر بلاس پور سے رائے پور آ گئے تھے۔ دائیں: بنگلورو میں سندر بہادر بشٹ دکھا رہے ہیں کہ ایپ کے ذریعے انہیں اگلی ڈیلیوری کا کام کیسے ملتا ہے

ان میں ٹیکسی چلانے والے، کھانا اور پارسل پہنچانے والے اور گھروں پر جا کر لوگوں کا بیوٹی میک اوور کرنے والے افراد شامل ہیں۔ اس قسم کا کام زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں کرتے ہیں، جن کے لیے ان کا فون ہی ان کا دفتر ہے، جہاں کام کی تفصیلات بوٹ (مشین) کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں اور نوکری کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے کہ کب ہاتھ سے چلی جائے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں، ایسی کم از کم دو کمپنیوں نے، لاگت میں کٹوتی کے نام پر ہزاروں کارکنوں کی چھٹنی کر دی ہے۔

متواتر لیبر فورس سروے (جولائی- ستمبر ۲۰۲۲) کے مطابق، ۱۵ سے ۲۹ سال کے کارکنوں کے لیے بے روزگاری کی شرح ۵ء۱۸ فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے نئی عمر کے لڑکے لڑکیوں کو کوئی نوکری نہیں ملتی، اوپر سے قانونی پیچیدگیاں اور معاہدے سے متعلق کئی خامیاں تو پہلے سے ہی ہیں۔

شہر میں دستیاب دیگر بہت سے کاموں کو چھوڑ کر یومیہ اجرت پر پارٹ ٹائم نوکری کرنے والے ایسے افراد کی تعداد بڑھنے کے کئی اسباب ہیں۔ ساگر کہتے ہیں، ’’میں قلی کے طور پر اور کپڑے اور بیگ کی دکانوں پر کام کر چکا ہوں۔ سویگی [ڈیلیوری] کے لیے مجھے صرف ایک بائک اور فون کی ضرورت ہے۔ یہاں مجھے نہ تو کوئی بھاری سامان اٹھانا پڑتا ہے اور نہ ہی کوئی [جسمانی طور پر] مشکل کام کرنا پڑتا ہے۔‘‘ رائے پور میں شام ۶ بجے کے بعد کھانا اور دوسرے سامان پہنچانے کا کام کرکے وہ ایک دن میں ۴۰۰-۳۰۰ روپے کما لیتے ہیں۔ تہواروں کے موسم میں تو وہ ایک دن میں ۵۰۰ روپے تک کما لیتے ہیں۔ ان کے آئی ڈی کارڈ کی مدت ۲۰۳۹ تک ہے، لیکن اس پر بلڈ گروپ یا ایمرجنسی کی حالت میں رابطہ کا نمبر درج نہیں ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ ان تفصیلات کو بھرنے کے لیے انہیں وقت ہی نہیں ملا۔

لیکن اپنے جیسے دوسرے کارکنوں کے برعکس، ساگر دن میں جس سیکورٹی ایجنسی کے لیے کام کرتے ہیں وہاں سے انہیں میڈیکل انشورنس اور پروویڈنٹ فنڈ کی سہولت ملی ہوئی ہے، اور تنخواہ کے طور پر ہر مہینے ۱۱ ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس مستحکم نوکری اور ڈیلیوری ایجنٹ کے طور پر ہونے والی اضافی آمدنی سے اب وہ بچت بھی کر لیتے ہیں۔ ’’صرف ایک نوکری کرنے سے میں نہ تو پیسے بچا پاتا تھا، نہ ہی اپنی فیملی کو کچھ بھیج پاتا تھا اور نہ ہی کورونا کے دوران لیے گئے قرض کو چکا پانے کے قابل تھا۔ لیکن اب، میں تھوڑا بہت پیسے بچا سکتا ہوں۔‘‘

Sagar says, ‘I had to drop out after Class 10 [in Bilaspur]because of our financial situation. I decided to move to the city [Raipur] and start working’
PHOTO • Purusottam Thakur

ساگر کہتے ہیں، ’اپنی مالی حالت کی وجہ سے مجھے [بلاس پور میں] ۱۰ویں کلاس کے بعد پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ تب میں نے شہر [رائے پور] جا کر کام کرنے کا فیصلہ کیا‘

ساگر کے والد سائی رام، بلاس پور قصبہ میں سبزیوں کی ایک دکان چلاتے ہیں اور ماں سنیتا ان کے چھوٹے بھائیوں – چھ سالہ بھویش اور ایک سال کے چرن – کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ فیملی کا تعلق چھتیس گڑھ کی ایک دلت برادری سے ہے۔ ساگر کہتے ہیں، ’’اپنی مالی حالت کی وجہ سے مجھے ۱۰ویں کلاس کے بعد پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ تب میں نے شہر جا کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘

حیدر آباد میں ایپ پر مبنی کیب ڈرائیور، شیخ صلاح الدین کہتے ہیں کہ انہوں نے گاڑی چلانا اس لیے شروع کیا کیوں کہ ان کے لیے اسے سیکھنا سب سے آسان تھا۔ تین چھوٹی لڑکیوں کے والد صلاح الدین بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا وقت یونین کے کام اور ڈرائیونگ میں تقسیم کر لیا ہے۔ گاڑی چلانے کا کام وہ زیادہ تر رات میں کرتے ہیں، کیوں کہ ’’اس وقت ٹریفک کم ہوتا ہے اور پیسے تھوڑا زیادہ ملتے ہیں۔‘‘ صلاح الدین تمام اخراجات کے بعد، ہر مہینے تقریباً ۱۵ سے ۱۸ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔

کولکاتا ہجرت کرکے آئے رمیش کو بھی ایپ پر مبنی ڈیلیوری بزنس میں شامل ہونے پر مجبور ہونا پڑا، کیوں کہ جلد از جلد نوکری حاصل کرنے کا یہی سب سے آسان طریقہ تھا۔ اپنے والد کی موت کے بعد فیملی کی مدد کرنے کے لیے انہیں ۱۰ویں کلاس میں اسکول چھوڑنا پڑا۔ پچھلے ۱۰ سال کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’مجھے اپنی ماں کی مدد کے لیے کمائی شروع کرنی پڑی۔ میں نے چھوٹے موٹے کئی کام کیے – دکانوں پر بھی کام کیا۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ کولکاتا کے جادھو پور میں پارسل ڈیلیوری کے دوران، جب انہیں کسی ٹریفک سگنل پر رکنا پڑتا ہے، تو اس سے انہیں ٹینشن ہونے لگتی ہے، ’’میں ہمیشہ جلد بازی میں رہتا ہوں۔ میں بہت تیزی سے سائیکل چلاتا ہوں…کام کو وقت پر پورا کرنے کا کافی دباؤ رہتا ہے۔ مانسون ہمارے لیے سب سے خراب وقت ہوتا ہے۔ اپنے ٹارگیٹ کو پورا کرنے کے لیے ہمیں آرام کرنا، صحت، کھانا سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔‘‘ پارسل سے بھرے بڑے بیگ کو پیٹھ پر ٹانگ کر لے جانے سے کمر میں درد ہونے لگتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’ہمیں بھاری سامان ڈھونا پڑتا ہے۔ ڈیلیوری کا کام کرنے والے ہر آدمی کو کمر میں درد کی شکایت رہتی ہے۔ لیکن ہمیں صحت سے متعلق کسی قسم کی سہولت حاصل نہیں ہے۔‘‘

Some delivery agents like Sunder (right) have small parcels to carry, but some others like Ramesh (left) have large backpacks that cause their backs to ache
PHOTO • Anirban Dey
Some delivery agents like Sunder (right) have small parcels to carry, but some others like Ramesh (left) have large backpacks that cause their backs to ache
PHOTO • Priti David

سندر (دائیں) جیسے کچھ ڈیلیوری ایجنٹوں کو چھوٹا پارسل لے جانا پڑتا ہے، جب کہ رمیش (بائیں) جیسے دوسرے لوگوں کو بڑا بیگ ڈھونا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی کمر میں درد ہونے لگتا ہے

بنگلورو میں ڈیلیوری کا کام شروع کرنے کے لیے، سندر کو چار مہینے پہلے ایک اسکوٹر خریدنا پڑا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک مہینہ میں وہ ۲۰ سے ۲۵ ہزار روپے کما سکتے ہیں، جس میں سے تقریباً ۱۶ ہزار روپے انہیں اسکوٹر کی ای ایم آئی (ماہانہ ادا کی جانے والی قسط)، پٹرول، مکان کا کرایہ اور دیگر گھریلو اخراجات پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

آٹھ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے، سندر اپنی فیملی میں کمانے والے واحد رکن ہیں۔ ان کی فیملی کھیتی باڑی اور دہاڑی مزدوری کرتی ہے۔ سندر کو کام کی تلاش میں گھر سے ہزاروں کلومیٹر دور نیپال جانا پڑا۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میں نے جو زمین خریدی تھی، اس کا قرض چُکانا ابھی باقی ہے۔ اور جب تک قرض کے پیسے ادا نہیں ہو جاتے، میں یہ کام کرتا رہوں گا۔‘‘

*****

’’میڈم، کیا آپ گاڑی چلانا جانتی ہیں؟‘‘

یہ سوال شبنم بانو شیہاد علی شیخ (۲۶) سے اکثر پوچھا جاتا ہے۔ وہ احمد آباد کی ایک خاتون کیب ڈرائیور ہیں، جو چار سال سے زیادہ عرصے سے سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہی ہیں۔ اب وہ اس قسم کے فقروں پر دھیان نہیں دیتیں۔

Shabnambanu Shehadali Sheikh works for a app-based cab company in Ahmedabad. A single parent, she is happy her earnings are putting her daughter through school
PHOTO • Umesh Solanki
Shabnambanu Shehadali Sheikh works for a app-based cab company in Ahmedabad. A single parent, she is happy her earnings are putting her daughter through school
PHOTO • Umesh Solanki

شبنم بانو شیہاد علی شیخ، احمد آباد میں ایپ پر مبنی ایک کیب کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ وہ ایک بیٹی کی پرورش اکیلے کر رہی ہیں، اور اپنی کمائی سے اسے اسکول بھیج کر بہت خوش ہیں

ایک حادثہ میں اپنے شوہر کی دردناک موت کے بعد انہوں نے یہ کام شروع کیا تھا۔ اُن دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’میں نے پہلے کبھی خود سے سڑک پار نہیں کی تھی۔‘‘ ایک بیٹی کی ماں، شبنم بانو نے پہلے سیمولیٹر پر اور اس کے بعد سڑکوں پر گاڑی چلانے کی ٹریننگ حاصل کی۔ اس کے بعد، انہوں نے کرایے پر ایک کار لی اور ایپ پر مبنی کیب سروس کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔

’’اب تو میں ہائی وے پر بھی گاڑی چلا لیتی ہوں،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔

بے روزگاری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نوکری کرنے والی خواتین کی تعداد، مردوں کے مقابلے ۷ء۲۴ فیصد کم ہے۔ شبنم بانو ایک استثناء ہیں۔ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ اپنی کمائی سے بیٹی کو پڑھا رہی ہیں۔

[اپنی سواری کی] مردوں والی سوچ کے علاوہ، ۲۶ سالہ شبنم کو کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’’سڑکوں پر، بیت الخلاء کافی دور ہوتے ہیں۔ پٹرول پمپوں پر جہاں بیت الخلاء ہوتے ہیں، ان پر تالا لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے چابی مانگنے میں شرم آتی ہے، کیوں کہ وہاں صرف مرد ہوتے ہیں۔‘‘ ہندوستان میں یومیہ اجرت والی معیشت میں کام کرنے والی خواتین کے عنوان سے کیے گئے ایک تحقیقی مقالہ میں بتایا گیا ہے کہ عورتوں کو بیت الخلاء تک رسائی حاصل نہیں ہے، اس کے علاوہ انہیں پیسے بھی کم دیے جاتے ہیں اور کام کی جگہ پر ان کے لیے مناسب سیفٹی اور سیکورٹی کا بھی انتظام نہیں ہے۔

On the road, the toilets are far away, so if she needs to find a toilet, Shabnambanu simply Googles the nearest restrooms and drives the extra two or three kilometres to reach them
PHOTO • Umesh Solanki

سڑکوں پر، بیت الخلاء کافی دور ہوتے ہیں، اس لیے ضرورت پیش آنے پر شبنم بانو گوگل کے ذریعے کسی قریبی ریسٹ ہاؤس کے بارے میں پتہ کرتی ہیں اور دو تین کلومیٹر مزید گاڑی چلا کر وہاں تک پہنچتی ہیں

ضرورت پیش آنے پر، شبنم بانو گوگل کے ذریعے کسی قریبی ریسٹ ہاؤس کے بارے میں پتہ کرتی ہیں اور دو تین کلومیٹر مزید گاڑی چلا کر وہاں تک پہنچتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’پانی کم پینے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ لیکن ایسا کرنے پر، اس گرمی میں مجھے چکّر آنے لگتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا ہے۔ تب میں گاڑی کو تھوڑی دیر کے لیے سڑک کے کنارے لگا دیتی ہوں اور ٹھیک ہونے کا انتظار کرتی ہوں۔‘‘

کولکاتا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگتے ہوئے رمیش کو بھی اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ فکرمند لہجہ میں کہتے ہیں، ’’روزانہ کا ٹارگیٹ پورا کرنے کے چکر میں، ہمیں یہ سب پریشر جھیلنا پڑتا ہے۔‘‘

تلنگانہ گِگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرز یونین (ٹی جی پی ڈبلیو یو) کے بانی اور صدر، شیخ صلاح الدین کہتے ہیں، ’’مان لیجئے کسی ڈرائیور کو رفع حاجت کی ضرورت پیش آ گئی اور تبھی کسی گاہک کا فون بھی آ گیا، تو منع کرنے سے پہلے اسے کئی بار سوچنا پڑے گا۔‘‘ ایپ پر کسی آرڈر / سواری کو منع کر دینے سے ڈرائیور کا ریکارڈ خراب ہوتا ہے۔ اور اس کی سزا بھی مل سکتی ہے، اسے ہٹایا یا سائیڈ لائن کیا جا سکتا ہے۔ اپنی صفائی دینے کے لیے کوئی چہرہ نہیں ہوتا، اس لیے آپ کو سب کچھ بھگوان بھروسے چھوڑنا پڑتا ہے۔

نیتی آیوگ نے ایس ڈی جی ۸ کے لیے ہندوستان کا روڈ میپ عنوان سے شائع اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’’ہندوستان کی تقریباً ۹۲ فیصد افرادی قوت غیر روایتی شعبہ میں کام کرتی ہے…انہیں کوئی سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے…‘‘ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف۔۸ (ایس ڈی جی ۸) میں دیگر چیزوں کے علاوہ ’’مزدوروں کے حقوق کی حفاظت اور کام کے محفوظ ماحول کو فروغ دینے‘‘ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

Shaik Salauddin is founder and president of the Telangana Gig and Platform Workers Union (TGPWU)
PHOTO • Amrutha Kosuru

شیخ صلاح الدین، تلنگانہ گِگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرز یونین (ٹی جی پی ڈبلیو یو) کے بانی اور صدر ہیں

پارلیمنٹ نے سال ۲۰۲۰ میں سماجی تحفظ کا ضابطہ پاس کیا تھا، اور مرکزی حکومت سے یومیہ اجرت پر پارٹ ٹائم نوکری کرنے والوں کے لیے سماجی تحفظ کی اسکیمیں تیار کرنے کے لیے کہا تھا – ایسے افراد کی تعداد ۳۰-۲۰۲۹ تک تین گنا بڑھ کر ۲ کروڑ ۳۵ لاکھ ہونے کی امید ہے۔

*****

اس اسٹوری کے لیے ہم نے جن کارکنوں سے بات کی، ان میں سے کئی لوگوں نے ’’مالک‘‘ سے آزاد ہونے کی بات کہی۔ سندر نے بھی پاری کو سب سے پہلے یہی بتایا کہ آزادی کے اسی احساس کی وجہ سے انہوں نے بنگلور میں کپڑا بیچنے والے ریگولر سیلز مین کی نوکری چھوڑ دی تھی۔ ’’میں اپنا مالک خود ہوں۔ میں اپنے وقت کے حساب سے کام کر سکتا ہوں اور اگر اس کام کو ابھی چھوڑنا پڑے، تو وہ بھی کر سکتا ہوں۔‘‘ لیکن ان کے ذہن میں یہ بھی واضح ہے کہ ایک بار ان کا قرض ادا ہو گیا، تو وہ کوئی دوسرا کام تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جو زیادہ مستحکم اور کم مصروفیت والا ہو۔

شمبھو ناتھ کا تعلق تریپورہ سے ہے۔ ان کے پاس بات کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے – وہ پونے کے ایک انتہائی مصروف اور کھانے کے مشہور ہوٹل کے باہر انتظار کر رہے ہیں، جہاں بائک پر سوار ’زوماٹو‘ اور ’سویگی‘ کے ایجنٹوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ یہ سبھی کھانے کے پارسل کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ گزشتہ چار سال سے پونے میں ہیں اور فراٹے سے مراٹھی بولتے ہیں۔

سندر کی طرح انہیں بھی یہ کام زیادہ پسند ہے۔ پہلے وہ ایک مال (شہروں میں بنا مخصوص بازار) میں کام کرتے تھے، جہاں سے انہیں ہر مہینے ۱۷ ہزار روپے ملتے تھے۔ شمبھو ناتھ کہتے ہیں، ’’یہ کام اچھا ہے۔ ہم نے ایک فلیٹ کرایے پر لیا ہے، جہاں ہم لوگ [ان کے دوست] ایک ساتھ رہتے ہیں۔ میں ایک دن میں تقریباً ہزار روپے کما لیتا ہوں۔‘‘

Rupali Koli has turned down an app-based company as she feels an unfair percentage of her earnings are taken away. She supports her parents, husband and in-laws through her work as a beautician
PHOTO • Riya Behl
Rupali Koli has turned down an app-based company as she feels an unfair percentage of her earnings are taken away. She supports her parents, husband and in-laws through her work as a beautician
PHOTO • Riya Behl

روپالی کولی نے ایپ پر مبنی کمپنی میں نوکری کرنے کا خیال چھوڑ دیا ہے کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی کمائی کا ایک بڑا حصہ غیر مناسب طریقے سے کاٹ لیا جاتا ہے۔ وہ اب بیوٹیشین کا کام کر کے اپنے والدین، شوہر اور ساس سسر کی مدد کرتی ہیں

روپالی کولی نے کووڈ۔۱۹ کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے بطور فری لانسر بیوٹیشین کا کام کرنا شروع کیا تھا۔ ’’میں جس پارلر میں کام کرتی تھی، وہاں میری آدھی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی، اس لیے میں نے فری لانسر کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ انہوں نے ایپ پر مبنی نوکری کرنے کے بارے میں سوچا تو تھا، لیکن پھر اس سے پیچھے ہٹ گئیں۔ ’’کڑی محنت میں کروں، [بیوٹی] پروڈکٹ لا کر میں دوں اور سفر کا کرایہ بھی خود ہی برداشت کروں، پھر کسی کو اس میں سے ۴۰ فیصد کیوں دوں؟ میں نہیں چاہتی کہ ۱۰۰ فیصد کام کرنے کے بعد مجھے بدلے میں صرف ۶۰ فیصد ہی ملے۔‘‘

روپالی ۳۲ سال کی ہیں اور ان کا تعلق ممبئی کے مڈ آئی لینڈ پر واقع اندھیری تعلقہ کی ایک ماہی گیر خاندان سے ہے۔ وہ ایک آزاد بیوٹیشین کے طور پر کام کر کے اپنے والدین، شوہر اور ساس سسر کی مدد کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’اسی کام سے میں نے اپنے گھر کی قیمت چکائی اور شادی کے اخراجات پورے کیے۔‘‘ ان کی فیملی کا تعلق کولی برادری سے ہے، جو مہاراشٹر میں مخصوص پس ماندہ طبقہ (ایس بی سی) کے طور پر درج ہے۔

روپالی تقریباً آٹھ کلو کا ٹرالی بیگ اور تین کلو کا ایک تھیلا لے کر شہر میں جگہ جگہ جا کر اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ درمیان میں وقت ملنے پر، وہ اپنے گھر کے کام بھی کرتی ہیں، فیملی کے لیے تین وقت کا کھانا پکاتی ہیں اور فیصلہ کن انداز میں کہتی ہیں، ’’ اپنا من کا مالک ہونے کا [ہمیں اپنے من کا مالک ہونا چاہیے]۔‘‘

یہ اسٹوری حیدر آباد سے امرتا کوسورو ؛ رائے پور سے پرشوتم ٹھاکر ؛ احمد آباد سے اُمیش سولنکی ؛ کولکاتا سے اسمتا کھٹور ؛ بنگلورو سے پریتی ڈیوڈ ؛ پونے سے میدھا کالے ؛ ممبئی سے ریا بہل نے رپورٹ کی ہے؛ جب کہ میدھا کالے ، پرتشٹھا پانڈیہ ، جوشوا بودھی نیتر ، سنویتی ایئر ، ریا بہل اور پریتی ڈیوڈ نے ادارتی مدد فراہم کی ہے۔

کور فوٹو: پریتی ڈیوڈ

مترجم: محمد قمر تبریز

Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez