جب پیار کیا تو ڈرنا کیا… پیار کیا، کوئی چوری نہیں کی… گھٹ گھٹ کر یوں مرنا کیا…

پچھلے کچھ دنوں سے وِدھی ۱۹۶۰ کے عشرے میں بنی فلم ’مغل اعظم‘ کا یہ گانا بار بار گنگناتی ہیں۔ وہ حال ہی میں وسط ممبئی میں کرایے پر لیے گئے ایک مکان میں رہتی ہیں، اور گانے کے درمیان رک کر کہتی ہیں، ’’ہم نے بھی کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ تو پھر کسی سے ڈر کر کیوں جئیں؟‘‘

ان کا یہ سوال کوئی بیان بازی نہیں ہے، بلکہ لگاتار کی جانے والی عیب جوئی سے جڑا ہوا ہے۔ مار دیے جانے کا خوف انہیں ہمیشہ ستاتا رہتا ہے۔ جب سے انہوں نے اپنی فیملی کے خلاف بغاوت کی ہے اور اپنے اسکول میں پڑھنے والی ہم جماعت، آروشی کے ساتھ محبت کرنے کے بعد فرار ہوئی ہیں، تبھی سے انہیں یہ خوف ستا رہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں اور شادی کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن اپنی اس محبت کو قانونی درجہ دلانے کا راستہ خاصا طویل، تکلیف دہ اور سخت چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ گھر والے ان کے اس رشتہ کو منظور نہیں کریں گے اور نہ ہی خاتون کی شکل میں آروشی کو ملی اپنی جنسی شناخت سے متعلق جدوجہد کو کبھی سمجھ پائیں گے۔ آروشی خود کو ایک ٹرانس جینڈر آدمی کہتی ہیں، اور اب انہوں نے اپنا نام ’آروش‘ رکھ لیا ہے۔

بڑے شہر میں آنے کے بعد، انہیں لگا تھا کہ اب انہیں اپنے خاندانوں سے آزادی مل چکی ہے۔ وِدھی کی فیملی تھانے ضلع کے ایک گاؤں میں رہتی ہے، جو کہ پڑوسی ضلع پالگھر میں واقع آروش کے گاؤں سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ ودھی کی عمر ۲۲ سال ہے اور وہ مہاراشٹر میں دیگر پس ماندہ طبقہ (او بی سی) کے طور پر درج آگری برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہیں، ۲۳ سالہ آروش کا تعلق کُنبی برادری سے ہے؛ یہ بھی ایک او بی سی برادری ہے، لیکن وہاں کے گاؤوں میں رائج ذات پات کی سخت درجہ بندی میں اسے سماجی طور پر آگری سے ’کم تر‘ سمجھا جاتا ہے۔

دونوں ایک سال پہلے اپنا گھر چھوڑ کر ممبئی آ گئی تھیں؛ اور اب گاؤں لوٹ کر جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ آروش گاؤں کی اپنی فیملی کے بارے میں مشکل سے کوئی بات کرتے ہیں، لیکن کہتے ہیں، ’’میں کچّے مکان میں رہتا تھا اور اس کے بارے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا۔ اس موضوع پر میں اپنی آئی [ماں] سے ہمیشہ لڑتا تھا۔‘‘

Vidhhi and Aarush left their homes in the village after rebelling against their families. They moved to Mumbai in hope of a safe future together
PHOTO • Aakanksha

ودھی اور آروش نے اپنے کنبوں سے بغاوت کرنے کے بعد اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ محفوظ طریقے سے آگے کی زندگی ایک ساتھ گزارنے کی امید میں دونوں ممبئی آ گئے تھے

آروش کی ماں انڈے کی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہیں اور ماہانہ ۶۰۰۰ روپے کماتی ہیں۔ آروش کہتے ہیں، ’’بابا [والد] کے بارے میں تو پوچھئے ہی مت۔ انہیں جو بھی کام مل جاتا وہ کرتے تھے: چاہے وہ بڑھئی کا کام ہو، زرعی مزدوری ہو یا کوئی اور کام۔ اس سے وہ جو بھی پیسہ کماتے تھے اسے شراب پینے میں اڑا دیتے تھے اور گھر آنے کے بعد آئی اور ہماری پٹائی کرتے تھے۔‘‘ بعد میں، ان کے والد بیمار پڑ گئے اور کام کرنا چھوڑ دیا اور ان کی ماں کی کمائی پر زندگی بسر کرنے لگے۔ اس کے بعد آروش نے بھی اسکول کی چھٹیوں کے دوران چھوٹا موٹا کام کرنا شروع کر دیا، جیسے کہ اینٹ بھٹوں پر، فیکٹریوں میں اور دواؤں کی دکان پر۔

*****

پہلی بار ودھی سے آروش کی ملاقات سال ۲۰۱۴ میں اس وقت ہوئی، جب وہ ایک نئے اسکول میں ۸ویں کلاس میں پڑھ رہے تھے۔ اس سیکنڈری اسکول تک پہنچنے کے لیے انہیں چار کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا تھا۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میرے گاؤں کا ضلع پریشد اسکول ۷ویں کلاس تک تھا، اس کے بعد ہمیں آگے کی پڑھائی کے لیے دوسری جگہ جانا پڑتا تھا۔‘‘ نئے اسکول میں پہلے ایک سال تک دونوں کے درمیان زیادہ بات چیت نہیں ہوتی تھی۔ آروش بتاتے ہیں، ’’ہم لوگ آگری لوگوں کے ساتھ گھلتے ملتے نہیں تھے۔ ان کا ایک الگ گروپ تھا اور ودھی بھی اسی گروپ کا حصہ تھی۔‘‘

ان کی دوستی اس وقت پروان چڑھنے لگی جب دونوں ۹ویں کلاس میں پہنچ گئے۔ آروش نے ودھی کو پسند کرنا شروع کر دیا تھا۔

ایک دن، جب دونوں ایک ساتھ کھیل رہے تھے، آروش نے اپنے دل کی باتیں ودھی کو بتا دیں۔ انہوں نے جھجکتے ہوئے ودھی سے کہا کہ وہ انہیں پسند کرتے ہیں۔ ودھی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس کا کیا جواب دیں۔ وہ تذبذب میں تھیں۔ ودھی بتاتی ہیں، ’’آروش نے مجھے کسی اور لڑکی کے ساتھ اپنے پرانے رشتہ کے بارے میں بھی بتایا۔ اس میں کچھ غلط نہیں تھا، لیکن یہ سن کر عجیب سا لگا کہ وہ [دو لڑکیاں] ایک ساتھ تھیں۔‘‘

ودھی مزید بتاتی ہیں، ’’شروع میں تو میں نے ’نہ‘ کہہ دیا، لیکن لمبے عرصے کے بعد میں راضی ہو گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے ’ہاں‘ کیسے کہہ دیا تھا۔ بس یہ اچانک ہو گیا۔ میں اسے پسند کرتی تھی۔ میں صحیح یا غلط کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔‘‘ وہ ایک لمبی سانس لیتے ہوئے اپنی بات جاری رکھتی ہیں، ’’ہمارے کلاس میں کسی کو بھی اس کے بارے میں پتہ نہیں چلا۔‘‘ آروش اس میں اپنی بات جوڑتے ہوئے کہتے ہیں، ’’دنیا ہمیں بس اس نظر سے دیکھ رہی تھی کہ دو لڑکیاں ہیں، جن کی آپس میں کافی اچھی دوستی ہے۔‘‘

جلد ہی، رشتہ داروں نے ان کی دوستی اور ذات کے فرق کو لے کر باتیں بنانی شروع کر دیں۔ آروش کہتے ہیں، ’’کسی زمانے میں ہمارے لوگوں [کنبی] کو آگری کے گھروں میں کام کرنے والے کے طور پر دیکھا جاتا اور انہیں نچلی ذات کا سمجھا جاتا تھا۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے، لیکن کچھ لوگ آج بھی اسی نظریہ سے سوچتے ہیں۔‘‘ وہ چند سال پہلے کے ایک خوفناک واقعہ کو بھی یاد کرتے ہیں جب ان کے گاؤں کی دِگر جنسیہ ایک جوڑی میں پیار ہو گیا تھا۔ ان میں سے ایک کا تعلق کنبی برادری سے اور دوسرے کا آگری برادری سے تھا؛ ان کے گھر والوں نے انہیں دوڑا دوڑا کر مارا تھا۔

شروع میں آروش کی ماں کو ان کی اس دوستی پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ وہ اسے دو لڑکیوں کی گہری دوستی کے طور پر دیکھ رہی تھیں، لیکن ودھی کے گھر آروش کے بار بار جانے سے فکرمند رہنے لگیں اور اسے روکنے کی کوشش کی۔

Aarush's family struggles to accept him as a trans man
PHOTO • Aakanksha

آروش کی فیملی کو انہیں ٹرانس جینڈر آدمی کے طور پر قبول کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے

ودھی کے والد مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والے خام مال سپلائی کرنے کا کام کرتے تھے۔ جب وہ ۱۳ سال کی تھیں تو ان کے والدین ایک دوسرے سے الگ ہو کر زندگی گزارنے لگے، اور والد نے دوبارہ شادی کر لی تھی۔ اس کے بعد، وہ اپنے والد، سوتیلی ماں اور چار بھائی بہنوں (ایک بڑا بھائی، دو بہنیں، اور ایک چھوٹا بھائی) کے ساتھ رہنے لگیں۔ سوتیلی ماں کو آروش بالکل بھی پسند نہیں تھے، اس لیے وہ ان سے اکثر جھگڑنے لگیں۔ ودھی کا بڑا بھائی (جس کی عمر اب ۳۰ سے ۴۰ سال کے درمیان ہے) کبھی کبھی اپنے والد کے ساتھ کام کرتا اور فیملی کو کنٹرول کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔ وہ اپنی بہنوں کو مارتا پیٹتا اور ان کے ساتھ برا برتاؤ کرتا تھا۔

وہی بھائی، ودھی کو کبھی کبھی آروش کے گھر بھی چھوڑ آیا کرتا تھا۔ ودھی ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، ’’میرا بھائی طعنے کستا اور کہتا تھا کہ وہ آروش کو پسند کرتا ہے۔ میرے لیے یہ پریشانی کی بات تھی۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کیا کیا جائے۔ آروش خاموش رہتا اور اس کی پیش قدمی کو نظر انداز کیا کرتا تھا تاکہ ہم ایک دوسرے سے مل سکیں۔‘‘

دھیرے دھیرے، ودھی کے بھائی نے بھی اس کے آروش کے گھر جانے پر اعتراض کرنا شروع کر دیا۔ وہ کہتی ہیں، ’’مجھے نہیں معلوم کہ ایسا اس نے آروش کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پر کیا تھا یا ہماری بڑھتی ہوئی قربت کی وجہ سے ناراض ہو گیا تھا۔‘‘ ان کی بہن بھی اب یہ سوال پوچھنے لگی تھی کہ آروش اکثر ان کے گھر کیوں آتا ہے یا دن میں اتنی بار کال اور ٹیکسٹ میسج کیوں کرتا ہے۔

انہی دنوں، آروش نے اپنی جنسی ترجیح کے بارے میں کھل کر باتیں کرنی اور مردانہ جسم سے متعلق اپنی خواہش کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ ان کی نظر میں ودھی واحد لڑکی تھی جس سے وہ اپنے یہ خیالات شیئر کر سکتے تھے۔ آروش کہتے ہیں، ’’تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ ’ٹرانس مین‘ (ٹرانس جینڈر آدمی) کسے کہتے ہیں۔ میں اپنے اندر مردانہ جسم کی شدید خواہش محسوس کرنے لگا۔‘‘

انہیں ٹریک پینٹ، کارگو پینٹ اور ٹی شرٹ پہننا اچھا لگنے لگا۔ مردانہ لباس پہننے کی ان کی اس خواہش سے ماں پریشان رہنے لگیں اور ان کے کپڑوں کو یا تو کہیں چھپا دیتیں یا پھاڑ دیا کرتی تھیں۔ لڑکوں کا کپڑا پہننے پر ایک بار ماں نے انہیں پیٹا بھی تھا اور کافی ڈانٹ پلائی تھی۔ وہ ان کے لیے لڑکیوں کا کپڑا خرید کر لاتی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’مجھے شلوار قمیض پہننا پسند نہیں تھا۔‘‘ لیکن اسکول جاتے وقت آروش کو مجبوری میں لڑکیوں کی یونیفارم پہننی پڑتی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس سے انہیں ’’گھٹن‘‘ محسوس ہوتی تھی۔

Aarush liked to dress up as a boy and felt suffocated when dressed in a salwar kameez his mother had bought him. His family would say, ‘Be more like a girl...stay within your limits.'
PHOTO • Aakanksha

آروش لڑکوں جیسا کپڑا پہننا چاہتے تھے اور ماں جب ان کے لیے شلوار قمیض خرید کر لاتی تھیں تو اس میں وہ گھٹن محسوس کرتے تھے۔ ان کی فیملی کہتی، ’لڑکی کی طرح رہو…اپنی حدود میں رہو‘

اس طرح، وہ ۱۰ویں کلاس میں پہنچ گئے اور تبھی انہیں حیض آنے لگا، جسے دیکھ کر ان کی ماں کو تھوڑی راحت محسوس ہوئی، لیکن زیادہ دنوں کے لیے نہیں۔ تقریباً ایک سال کے بعد، آروش کی حیض کی مدت میں کمی بیشی ہونے لگی اور آخرکار ایک دن یہ رک گیا۔ ماں انہیں کئی ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس لے گئیں۔ ہر کسی نے الگ الگ گولیاں اور دوائیں دیں، لیکن کچھ بھی نہیں بدلا۔

پڑوسی، ٹیچر اور اسکول کے ساتھی انہیں طعنہ دینے لگے۔ ’’وہ کہتے، ’لڑکی کی طرح رہو…اپنی حدود میں رہو۔‘ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ اب میری شادی کی عمر ہو چکی ہے۔‘‘ ایک الگ طرح کا احساس دلانے کی وجہ سے آروش نے ہر وقت خود پر شک کرنا شروع کر دیا اور خود سے پریشان رہنے لگے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں نے کچھ غلط کر دیا ہے۔‘‘

آروش کو ۱۱ویں کلاس میں آنے کے بعد جب موبائل فون ملا، تو وہ گھنٹوں آن لائن یہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے کہ کیا جنس کی تصدیق کی سرجری (سرجری کے ذریعے جنس کی تبدیلی) کے ذریعے عورت سے مرد بننے کا کوئی امکان موجود ہے۔ ودھی کو شروع میں اس پر اعتراض تھا۔ وہ کہتی ہیں، ’’وہ جس شکل میں بھی تھا، میں اسے اسی شکل میں پسند کرتی تھی؛ وہ شروع سے ہی اس کے بارے میں ایماندار تھا۔ وہ جسمانی طور پر بدلنا چاہتا تھا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کی فطرت بھی بدل جائے گی۔‘‘

*****

سال ۲۰۱۹ میں، ودھی نے ۱۲ویں کلاس کے بعد پڑھائی چھوڑ دی۔ آروش ایک پولیس افسر بننا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے اس کے امتحان کی تیاری کے لیے پالگھر کے ایک کوچنگ سینٹر میں داخلہ لے لیا۔ انہیں آروشی کے نام سے، ایک خاتون امیدوار کے طور پر اپلائی کرنا پڑا۔ امتحان ۲۰۲۰ میں ہونے والے تھے، لیکن ملک گیر کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے امتحان ردّ ہو گئے۔ لہٰذا، انہوں نے فاصلاتی کورس کے ذریعے بیچلر آف آرٹس (بی اے) کی ڈگری کے لیے پڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

لاک ڈاؤن کا زمانہ آروش اور ودھی کے لیے مشکلوں بھرا رہا۔ ودھی کے گھر میں، ان کی شادی کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔ لیکن انہیں معلوم تھا کہ وہ آروش کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ ایسے میں گھر سے بھاگنا ہی ان کے لیے واحد راستہ بچا تھا۔ اس سے پہلے، آروش جب بھی ودھی سے اپنے ساتھ بھاگنے کے لیے کہتے، تو وہ راضی نہیں ہوتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ڈر لگتا تھا… بھاگ جانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔‘‘

Running away was the only option and Mumbai seemed to offer dreams, choices and freedom
PHOTO • Aakanksha

بھاگ جانا ہی واحد راستہ بچا تھا اور ایسا لگا کہ ممبئی جا کر سارے خواب پورے ہو جائیں گے، اپنی پسند اور آزادی حاصل ہو جائے گی

لاک ڈاؤن کے بعد، آروش نے اگست ۲۰۲۰ میں دوا بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیا، جہاں سے انہیں ہر مہینے ۵۰۰۰ روپے ملتے تھے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس بات کو کوئی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ میں کیسے رہنا چاہتا ہوں۔ میرا دَم گھٹتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اب یہاں سے بھاگ جانا ہی واحد راستہ بچا ہے۔‘‘ اس کے بعد، انہوں نے گھریلو تشدد کے شکار لوگوں کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) سے رابطہ کرنا شروع کر دیا، تاکہ ودھی اور اپنے لیے کوئی پناہ تلاش کر سکیں۔

بدنامی اور سماج کے ذریعے ہراساں کیے جانے کی وجہ سے کئی ٹرانس جینڈر لوگ، خاص کر دیہی ہندوستان میں رہنے والے لوگ کسی محفوظ مقام کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ سال ۲۰۲۱ میں قومی حقوق انسانی کمیشن کے ذریعے جاری کردہ مغربی بنگال میں ٹرانس جینڈر افراد کے ایک تحقیقی مطالعہ سے پتہ چلا کہ ’’فیملی انہیں اپنے جنسی اظہار کو چھپانے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔‘‘ اور ان میں سے تقریباً آدھی تعداد میں لوگوں نے اپنی فیملی، دوستوں اور سماج کے امتیازی رویہ کی وجہ سے اپنے خاندانوں کو چھوڑ دیا تھا۔

آروشی اور ودھی کو لگا کہ ممبئی جانا ان کے لیے آسان رہے گا۔ وہاں پر آروش اپنی سرجری بھی کروا سکتے تھے۔ لہٰذا، مارچ ۲۰۲۱ کی ایک دوپہر کو ودھی اسپتال جانے کے بہانے اپنے گھر سے نکل پڑیں، اور آروش نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ کام پر جا رہے ہیں۔ پھر، دونوں بس پکڑنے کے لیے ایک جگہ اکٹھا ہوئے۔ اس وقت آروش کے پاس نقد ۱۵ ہزار روپے تھے جسے انہوں نے اپنی کمائی سے بچایا تھا۔ وہ اپنے ساتھ ماں کی سونے کی ایک چین اور کان کی بالیاں بھی لے آئے تھے، جسے انہوں نے بیچ کر ۱۳ ہزار روپے مزید حاصل کیے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’مجھے اسے بیچنا اچھا نہیں لگ رہا تھا، لیکن میں فکرمند تھا اور اپنی حفاظت کے لیے میں نے نقد پیسے اپنے ہاتھ میں رکھنا ضروری سمجھا۔ میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا کیوں کہ ہم لوگ لوٹ کر گھر واپس نہیں جا سکتے تھے۔‘‘

*****

ممبئی پہنچنے کے بعد، ایک این جی او کے رضاکار انہیں شہر میں عورتوں کے لیے بنائے گئے ایک شیلٹر میں لے گئے، جسے اورجا ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ حقوق انسانی کی ایک کارکن اور اورجا ٹرسٹ کی پروگرام منیجر، انکتا کوہیرکر بتاتی ہیں، ’’چونکہ یہ دونوں بالغ ہیں، اس لیے قانونی طور پر پولیس کو ان کے بارے میں اطلاع دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن، بعض دفعہ، کچھ پیچیدہ معاملوں میں (جیسے کہ ایل جی بی ٹی کیو آئی اے پلس)، جہاں انہیں اپنی فیملی کی طرف سے نقصان پہنچائے جانے کا بڑا خطرہ رہتا ہے، ہم لوگ ان کی حفاظت کے لیے مقامی پولیس کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

لیکن، ان کے اس قدم کا نتیجہ الٹا نکلا۔ پولیس اسٹیشن میں، افسروں نے ان سے سوال کرنا شروع کر دیا۔ آروش بتاتے ہیں، ’’وہ ہمارے اوپر زور ڈالنے لگے کہ گاؤں واپس لوٹ جاؤ، اور کہا کہ یہ رشتہ ٹکے گا نہیں۔ ہمیں سمجھانے لگے کہ یہ غلط کام ہے۔‘‘ پولیس نے دونوں کے والدین کو اس کی اطلاع دے دی، جو ان کے بھاگ جانے کی وجہ سے ابھی تک پریشان تھے۔ تب تک، آروش کی ماں نے قریبی پولیس اسٹیشن میں گم شدگی کی رپورٹ درج کرا دی تھی، اور ودھی کے گھر والے آروش کے گھر پہنچ کر انہیں دھمکیاں دینے لگے۔

Vidhhi has put aside her dreams to study further, and instead is helping save for Aarush's hormone therapy and gender reassignment surgeries
PHOTO • Aakanksha

ودھی نے اپنی آگے کی پڑھائی کا ارادہ ترک کر دیا ہے، اور آروش کی ہارمون تھیراپی اور جنس کی تصدیق کی سرجری کے لیے پیسے بچانے میں مدد کر رہی ہیں

جب ان کے گھر والوں کو یہ پتہ چل گیا کہ دونوں کہا ہیں، تو اگلے ہی دن وہ ممبئی پہنچ گئے۔ ودھی بتاتی ہیں، ’’بھائی [بڑے بھائی] نے مجھے خاموشی سے گھر لوٹنے کے لیے کہا۔ میں نے پہلے کبھی بھی اسے اس طرح بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ شاید پولیس کی موجودگی کی وجہ سے وہ اتنی نرمی سے بول رہا تھا۔‘‘

آروش کی ماں نے بھی انہیں گھر لوٹنے کے لیے کہا۔ آروش یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’پولیس نے آئی سے یہاں تک کہا کہ وہ ہمیں اس سینٹر سے لے جائیں کیوں کہ عورتوں کے لیے یہ صحیح جگہ نہیں ہے۔‘‘ خوش قسمتی سے، اورجا ٹرسٹ کے کارکنوں نے مداخلت کی اور ان دونوں کو وہاں سے زبردستی لے جانے سے ان کے والدین کو روک دیا۔ آروش نے اپنی ماں کا سونا بیچ کر جو پیسہ حاصل کیا تھا، اسے بھی لوٹا دیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’مجھے اس پیسے کو اپنے پاس رکھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔‘‘

اُدھر گاؤں میں، ودھی کی فیملی نے آروش پر جنسی کاروبار کرنے اور ودھی کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کا الزام لگایا۔ ان کے بھائی اور دوسرے رشتہ دار آروش کی فیملی کو برے نتائج بھگتنے کی دھمکی لگاتار دیتے رہے۔ آروش بتاتے ہیں، ’’وہ [ودھی کا بھائی] اس معاملہ کو سلجھانے کے بہانے میرے بھائی سے اکیلے میں ملنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ لیکن وہ جائے گا نہیں؛ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘‘

*****

سینٹرل ممبئی کے شیلٹر (پناہ گاہ) میں رہنے کے باوجود، آروش اور ودھی کو محسوس ہونے لگا کہ وہ اس جگہ پر محفوظ نہیں ہیں۔ آروش کہتے ہیں، ’’ہم کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتے۔ کیا پتہ کوئی گاؤں سے ہمیں ڈھونڈتا ہوا یہاں پھر سے آ جائے۔‘‘ لہٰذا، انہوں نے ۱۰ ہزار روپے جمع کرکے، باہر ایک کمرہ کرایے پر لے لیا۔ اب وہ ہر مہینے اس کمرے کا ۵۰۰۰ روپے کرایہ ادا کرتے ہیں۔ آروش کہتے ہیں، ’’مکان مالک کو ہمارے رشتہ کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ ہمیں اسے چھپانا ہی پڑے گا۔ ہم اس کمرے کو خالی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

آروش اب اپنی جنس کی تصدیق پر غور کر رہے ہیں، جس کے لیے انہیں سرجری اور طبی علاج کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے بارے میں ان کی معلومات کا واحد ذریعہ ڈاکٹر اور گوگل اور وہاٹس ایپ گروپ ہیں۔

ایک بار انہوں نے ممبئی کے ایک سرکاری اسپتال سے رابطہ کیا تھا، لیکن وہاں دوبارہ نہیں گئے۔ آروش بتاتے ہیں، ’’میری مدد کرنے کی بجائے، ڈاکٹر مجھے سمجھانے لگا کہ سرجری مت کراؤ۔ وہ میری بات سمجھ نہیں رہا تھا۔ اس نے مجھے اپنے والدین کی رضامندی حاصل کرنے کی خاطر انہیں کال کرنے کے لیے بھی کہا۔ مجھے اس کے اوپر کافی غصہ آیا۔ وہ اسے میرے لیے مزید مشکل بنا رہا تھا۔‘‘

Vidhhi has noticed changes in Aarush's behaviour. 'There have been fights, but we have also sat down to discuss the issues. It affects me, too, but I am with him'
PHOTO • Aakanksha

ودھی نے آروش کے برتاؤ میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کیا ہے۔ ’لڑائی تو ہوتی ہے، لیکن ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ان مسائل پر بات بھی کرتے ہیں۔ اس کا اثر مجھ پر بھی پڑتا ہے، لیکن میں اس کے ساتھ ہوں‘

آروش نے اب ایک پرائیویٹ اسپتال سے علاج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کاؤنسلنگ کے بعد انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ جینڈر ڈسفوریا (بائیولوجیکل اور جنسی شناخت میں عدم ممثالت سے پیدا ہونے والی بے چینی) میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹروں نے آروش کو ہارمون تھیراپی کے لیے اپنی منظوری دی ہے۔ لیکن، جنس کی تبدیلی کا عمل کافی لمبا اور مہنگا رہا ہے۔

ہر ۲۱ دنوں کے بعد لگنے والا ٹیسٹوسٹیرون انجیکشن ۴۲۰ روپے کا آتا ہے، اور اس انجیکشن کو لگانے کے لیے ڈاکٹر ۳۵۰ روپے لیتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہر پندرہ دنوں میں ایک بار کھانے والی دوا ۲۰۰ روپے میں آتی ہے۔ ہر ۳-۲ مہینوں میں، آروش کو ہارمون تھیراپی کے سائڈ افکیٹ کا پتہ لگانے کے لیے خون کی جانچ کرانی پڑتی ہے؛ اس قسم کی جانچ کا کل خرچ تقریباً ۵۰۰۰ روپے آتا ہے۔ کاؤنسلر کی فیس ۱۵۰۰ روپے ہے، جب کہ ڈاکٹر کے پاس جانے پر ہر بار ۱۰۰۰-۸۰۰ روپے دینے پڑتے ہیں۔

البتہ، اس تھیراپی نے اپنے نتائج دکھانے شروع کر دیے ہیں۔ آروش کہتے ہیں، ’’میں اپنے اندر تبدیلی محسوس کر سکتا ہوں۔‘‘ دواؤں کے سائڈ افیکٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں، ’’اب میری آواز بھاری ہو گئی ہے۔ مجھے خوشی ہوتی ہے۔ کئی بار مجھے غصہ آنے لگتا ہے اور میں اپنا ہوش کھو بیٹھتا ہوں۔‘‘

آروش کو ڈر ہے کہ ودھی کو ان کے ساتھ بھاگ کر چلے آنے کا پچھتاوا ہونے لگے گا اور وہ انہیں پسند کرنا بند کر دیں گی۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس کا تعلق ایک اچھی [اونچی ذات والی] فیملی سے ہے۔ لیکن وہ مجھے اپنے سے نیچا ہونے کا احساس کبھی نہیں دلاتی۔ وہ بھی ہمارے لیے [کمانے کے لیے] کام کر رہی ہے۔‘‘

آروش کے برتاؤ میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھ کر، ودھی کہتی ہیں، ’’لڑائی تو ہوتی ہے، لیکن ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ان مسائل پر بات بھی کرتے ہیں۔ اس کا اثر مجھ پر بھی پڑتا ہے، لیکن میں اس کے ساتھ ہوں۔‘‘ ودھی نے کمپیوٹر یا نرسنگ کا ووکیشنل کورس کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے، اور گھر چلانے میں مدد کرنے کے لیے چھوٹا موٹا کام بھی کرنے لگی ہیں۔ وہ اب ایک جنوبی ہندوستانی ریستوراں میں برتن دھونے کا کام کرتی ہیں اور ہر مہینے ۱۰ ہزار روپے کماتی ہیں (دسمبر ۲۰۲۲ کے آخر میں انہوں نے یہ نوکری کھو دی)۔ اس آمدنی کا ایک حصہ آروش کے علاج پر خرچ ہوتا تھا۔

Vidhhi in a shy moment
PHOTO • Aakanksha
Aarush is happy to have Vidhhi's support. 'She comes from a better [upper caste] family. But she never makes me feel less'
PHOTO • Aakanksha

بائیں: شرمیلے انداز میں ودھی۔ دائیں: ودھی کا ساتھ ملنے سے آروش خوش ہیں۔ ’اس کا تعلق ایک اچھی [اونچی ذات والی] فیملی سے ہے۔ لیکن وہ مجھے اپنے سے نیچا ہونے کا احساس کبھی نہیں دلاتی‘

وہیں، آروش ایک بلڈنگ (عمارت) میں بطور سیکورٹی گارڈ کام کرکے ماہانہ ۱۱ ہزار روپے کماتے ہیں اور اسی آمدنی سے بچت بھی کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک مرد ہیں۔ سینے کے ابھار کو دبانے کے لیے وہ ایک پٹّی پہنتے ہیں، جس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔

ودھی کہتی ہیں، ’’اب ہمیں ساتھ میں گزارنے کے لیے کم وقت ملتا ہے کیوں کہ صبح میں ہم جلدی اپنے اپنے کام پر چلے جاتے ہیں۔ کام سے لوٹنے کے بعد ہم کافی تھک چکے ہوتے ہیں، اور ہاں، ہمارا جھگڑا تو ہوتا ہی ہے۔‘‘

ستمبر ۲۰۲۲ سے دسمبر ۲۰۲۲ کے درمیان، آروش اپنے علاج پر تقریباً ۲۵ ہزار روپے خرچ کر چکے ہیں۔ ہارمون تھیراپی سے علاج کرانے کے بعد، اب وہ جنس کی تصدیق کی سرجری (جسے سیکس ری اسائنمنٹ سرجری یا ایس آر ایس بھی کہتے ہیں) کرانا چاہتے ہیں۔ اس میں سینہ اور عضو تناسل کو دوبارہ ترتیب دینے کا کام کیا جائے گا اور ۵ سے ۸ لاکھ روپے تک کا خرچ آئے گا۔ وہ اتنے پیسوں کا انتظام نہیں کر سکتے کیوں کہ ودھی اور ان کے لیے اپنی موجودہ آمدنی سے بچت کر پانا بہت مشکل ہے۔

آروش نہیں چاہتے کہ سرجری سے پہلے ان کی فیملی کو اس کے بارے میں پتہ چلے۔ انہیں یاد ہے کہ ایک بار جب ان کی ماں کو پتہ چل گیا تھا کہ انہوں نے اپنے بال چھوٹے کروا لیے ہیں، تو فون پر ان سے خوب لڑائی ہوئی تھی۔ آروش بتاتے ہیں، ’’انہوں نے سوچا کہ ممبئی کے لوگ میرے دماغ میں برے خیالات بھر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بڑی ہوشیاری سے آروش کو اپنے گاؤں کے قریب ایک جگہ آنے کے لیے کہا اور وہاں سے انہیں ایک تانترک کے پاس لے گئیں۔ ’’اس آدمی نے مجھے پیٹنا شروع کر دیا، میرے سر کو زور زور سے گھمانے لگا، اور بار بار کہتا، ’تم ایک لڑکی ہو، لڑکا نہیں‘۔‘‘ آروش بری طرح گھبرا گئے اور کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے۔

*****

آروش کہتے ہیں، ’’اگر سرکاری ڈاکٹر اچھا ہوتا، تو مجھے مہنگا علاج کرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘ ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کا قانون، ۲۰۱۹ ، حکومت کو اس بات کی ہدایت دیتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جنس تبدیل کرانے کی سرجری اور ہارمون تھیراپی کے لیے طبی نگہداشت کی سہولت فراہم کرے، جس میں علاج سے پہلے اور بعد کی کاؤنسلنگ بھی شامل ہے۔ قانون کہتا ہے کہ اس کا خرچ صحت بیمہ اسکیم کے ذریعے پورا کیا جائے۔ یہ ان کے اس حق کی بھی حفاظت کرتا ہے کہ انہیں علاج اور سرجری سے منع نہیں کیا جائے گا۔

اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد، مرکزی وزارت برائے سماجی انصاف اور بہبود نے سال ۲۰۲۲ میں ٹرانس جینڈر افراد کے لیے کئی فلاحی اسکیمیں شروع کیں۔ اس نے ۲۰۲۰ میں ٹرانس جینڈر افراد کے لیے نیشنل پورٹل شروع کیا، جہاں ٹرانس جینڈر افراد، دفتر کا دورہ کیے بغیر، اپنی شناخت کا سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔

Vidhhi wearing a ring that Aarush gave her as a neckpiece
PHOTO • Aakanksha
Aarush and Vidhhi are full of hope. 'Why should we live in fear?'
PHOTO • Aakanksha

بائیں: ودھی نے گلے کے ہار کے طور پر وہ  انگوٹھی پہن رکھی ہے جسے آروش نے دیا تھا۔ دائیں: آروش اور ودھی پوری طرح سے پر امید ہیں۔ ’ہم خوف میں زندگی کیوں گزاریں؟‘

آروش کو ان میں سے کئی اسکیموں کا علم نہیں ہے، البتہ انہوں نے شناختی کاغذات کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ لیکن یہ کاغذات انہیں ابھی تک ملے نہیں ہیں۔ حالانکہ، پورٹل پر کہا گیا ہے کہ ’’درخواست موصول ہونے کے ۳۰ دنوں کے اندر ضلع کے حکام کے لیے ٹرانس جینڈر سرٹیفکیٹ اور آئی ڈی کارڈ جاری کرنا لازمی ہے۔‘‘ ۲ جنوری، ۲۰۲۳ تک حکومت مہاراشٹر کو ان کاغذات سے متعلق ۲۰۸۰ درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے ۴۵۲ درخواستوں پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

آروش کو ڈر ہے کہ اگر انہوں نے اپنا شناختی سرٹیفکیٹ جمع نہیں کیا، تو ان کی بی اے کی ڈگری آروشی کے نام سے جاری کر دی جائے گی، جس کے بعد اسے ٹھیک کرانے کے لیے انہیں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔ وہ اب بھی پولیس محکمہ میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں، لیکن اپنی جنس کی تصدیق کی سرجری کے بعد بطور مرد شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بہار سے جب یہ خبر آئی کہ پہلے ٹرانس مین کو ریاستی پولیس میں بھرتی کیا جائے گا، تو آروش کی امیدیں بھی بڑھ گئیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔ میرے اندر بھی امید جگی ہے۔‘‘ اب وہ اپنی سرجری کے لیے کام کر رہے ہیں اور پیسے بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہر ایک کو قبول کرنا سیکھیں۔ اگر ایسا ہو گیا، تو کسی کو بھی اپنا گھر اور گاؤں نہیں چھوڑنا پڑے گا اور نہ ہی اس طرح چھپ کر زندگی گزارنی پڑے گی۔ آروش بتاتے ہیں، ’’میں بہت روتا تھا اور زندہ نہیں رہنا چاہتا تھا۔ ہم خوف میں رہ کر زندگی کیوں گزاریں؟ ہم ایک دن اپنا نام چھپائے بغیر لوگوں کو اپنی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔‘‘

وہیں، ودھی مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ’’مغل اعظم [فلم] کا اختتام افسوسناک تھا۔ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘

ودھی اور آروش کی رازداری کی حفاظت کے لیے ان کے نام بدل دیے گئے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Aakanksha

Aakanksha (she uses only her first name) is a Reporter and Content Editor at the People’s Archive of Rural India.

Other stories by Aakanksha
Editor : Pratishtha Pandya

Pratishtha Pandya is a poet and a translator who works across Gujarati and English. She also writes and translates for PARI.

Other stories by Pratishtha Pandya
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez