چندریکا بیہرا کی عمر نو سال ہے اور وہ تقریباً دو سالوں سے اسکول جا رہی ہے۔ وہ بارہ بنکی گاؤں کے اُن ۱۹ طلباء میں شامل ہے جنہیں پہلی سے پانچویں کلاس میں ہونا چاہیے تھا، لیکن یہ بچے ۲۰۲۰ سے لگاتار اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کی ماں اسے اسکول نہیں بھیجتی ہیں۔

بارہ بنکی میں سال ۲۰۰۷ میں ایک اسکول کھولا گیا تھا، لیکن ۲۰۲۰ میں اوڈیشہ حکومت نے اسے بند کر دیا۔ اس پرائمری اسکول میں چندریکا کی طرح، گاؤں کے سنتھال اور منڈا آدیواسیوں کے زیادہ تر بچے پڑھتے تھے، جن سے کہا گیا کہ وہ اپنا داخلہ جامو پسی گاؤں کے اسکول میں کرا لیں، جو کہ یہاں سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر دور ہے۔

چندریکا کی ماں، مامی بیہرا کہتی ہیں، ’’بچے روزانہ اتنی دور پیدل چل کر نہیں جا سکتے۔ اور اس لمبے راستے میں سبھی بچے آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔ ہم غریب مزدور ہیں۔ ہم اپنے لیے کام ڈھونڈنے جائیں یا روزانہ ان بچوں کو ان کے اسکول چھوڑیں اور وہاں سے واپس لائیں؟ حکام کو چاہیے کہ وہ ہمارا یہ اسکول دوبارہ کھول دیں۔‘‘

اپنی بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کے بچوں کی طرح ہی ۶ سے ۱۰ سال کے زیادہ تر بچے تعلیم حاصل نہیں کر پائیں گے۔ عمر کی ۳۰ویں دہائی میں چل رہی اس ماں کو یہ خوف بھی ستا رہا ہے کہ جاجپور ضلع کے دانَ گدی بلاک کے جنگل میں بچہ چور بھی چھپے ہو سکتے ہیں۔

اپنے بیٹے جوگی کے لیے مامی نے کہیں سے ایک پرانی سائیکل کا انتظام کر لیا تھا۔ جوگی اپنے گاؤں سے ۶ کلومیٹر دور، کسی اور اسکول میں ۹ویں کلاس میں پڑھتا ہے۔ اس کی بڑی بہن مونی، جامو پسی کے اسکول میں ۷ویں کلاس میں پڑھتی ہے، جہاں اسے پیدل جانا پڑتا ہے۔ سب سے چھوٹی بہن چندریکا گھر پر ہی رہتی ہے۔

مامی سوال کرتی ہیں، ’’ہماری نسل کے لوگوں کو بدن میں طاقت رہنے تک پیدل چلنا پڑا، اونچائی پر چھڑنا پڑا اور کام کرنا پڑا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں سے بھی یہی امید رکھیں؟‘‘

After the school in their village, Barabanki shut down, Mami (standing in a saree) kept her nine-year-old daughter, Chandrika Behera (left) at home as the new school is in another village, 3.5 km away.
PHOTO • M. Palani Kumar
Many children in primary school have dropped out
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: اپنے گاؤں بارہ بنکی کا اسکول بند ہو جانے کے بعد، مامی (ساڑی پہنے کھڑی ہیں) کو اپنی نو سال کی بیٹی چندریکا بیہیرا (بائیں) کو گھر پر ہی رکھنا پڑ رہا ہے کیوں کہ نیا اسکول وہاں سے ساڑھے تین کلومیٹر دور ایک دوسرے گاؤں میں ہے۔ دائیں: پرائمری اسکول کے کئی بچوں نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی ہے

بارہ بنکی کے ۸۷ گھروں میں آدیواسیوں کا غلبہ ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ چھوٹے چھوٹے کھیت جوتتے ہیں، لیکن زیادہ تر دہاڑی مزدور ہیں، جو وہاں سے ۵ کلومیٹر دور، سُکِندا کے اسٹیل پلانٹ یا سیمنٹ فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ کچھ مرد یہاں سے مہاجرت کرکے تمل ناڈو چلے گئے ہیں، جہاں پر وہ اسپننگ مل (دھاگہ بنانے والی فیکٹریوں) یا بیئر (شراب کی قسم) کے ڈبے پیک کرنے والے کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔

بارہ بنکی کا اسکول بند ہو جانے کی وجہ سے اسکول میں ملنے والے مڈ ڈے میل کو لے کر بھی شک پیدا ہو گیا ہے – جو کہ انتہائی غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے ایک ضروری کھانا ہوا کرتا تھا۔ کشور بیہرا کہتے ہیں، ’’کم از کم سات مہینے تک مجھے نہ تو نقدی پیسہ ملا اور نہ ہی چاول، حالانکہ اسکول میں پکائے جانے والے گرما گرم کھانے کے بدلے یہ سب دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔‘‘ کچھ کنبوں کو اپنے کھاتے میں مڈ ڈے میل کے پیسے مل گئے تھے؛ لیکن بعض دفعہ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ یہ کھانا اب نئے اسکول میں بانٹا جائے گا – جو کہ وہاں سے ساڑھے تین کلومیٹر دور ہے۔

*****

پرانا مانیترا ایک پڑوسی گاؤں ہے، جو اسی بلاک میں پڑتا ہے۔ اپریل ۲۰۲۲ کا پہلا ہفتہ ہے۔ دوپہر کے وقت، گاؤں سے باہر جانے والی تنگ سڑک پر کافی ہلچل ہونے لگی ہے۔ اچانک یہ سڑک مردوں اور عورتوں، کچھ دادی ماؤں اور سائیکل پر سوار دو چار نوجوان لڑکوں سے بھر جاتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہا ہے، ہر کوئی اپنی آخری توانائی کو بچا کر رکھنا چاہتا ہے۔ درجہ حرارت ۴۲ ڈگری سیلسیس ہے، اس لیے دوپہر کی سخت دھوپ سے بچنے کے لیے کسی نے اپنے سر پر گمچھا (رومال) اوڑھ لیا ہے، تو کسی نے ساڑی کے پلو سے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا ہے۔

گرمی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، پرانا مانیترا کے لوگ ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کر اسکول سے اپنے بچوں کو لانے جا رہے ہیں۔

پرانا مانیترا کے رہنے والے دیپک ملک، سُکِندا کے سیمنٹ پلانٹ میں ٹھیکہ داری کا کام کرتے ہیں – سُکِندا وادی کرومائٹ کے بڑے ذخائر کے لیے کافی مشہور ہے۔ انہی کی طرح، درج فہرست ذات کے غلبہ والے اس گاؤں کے دوسرے لوگ بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بہتر زندگی کے لیے بچوں کی تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہمارے گاؤں کے زیادہ تر لوگوں کو اگر رات میں اپنا پیٹ بھرنا ہے، تو دن میں انہیں کام کرنا پڑے گا۔ اسی لیے ۲۰۱۴-۲۰۱۳ میں جب اسکول کی عمارت بنی تو ہم سبھی کے لیے یہ ایک کافی خوشی کا موقع تھا۔‘‘

پچیس (۲۵) گھروں والے پرانا مانیترا گاؤں کی رہنے والی سجاتا رانی سامل بتاتی ہیں کہ سال ۲۰۲۰ میں وبائی مرض کی شروعات کے بعد سے ہی یہاں کے ۱۴ بچوں کے لیے کوئی اسکول نہیں ہے، حالانکہ یہ بچے اس وقت ۵-۱ کلاس میں ہوتے۔ اب پرائمری اسکول کے ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو پڑھنے کے لیے ایک مصروف ریلوے لائن پار کرکے، ڈیڑھ کلومیٹر دور واقع چکوا گاؤں کے دوسرے اسکول جانا پڑتا ہے۔

The school building in Puranamantira was shut down in 2020.
PHOTO • M. Palani Kumar
The construction of a school building in 2013-2014 was such a huge occasion for all of us,' says Deepak Malik (centre)
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: سال ۲۰۲۰ میں پرانا مانیترا کے اسکول کی عمارت کو بند کر دیا گیا تھا۔ دائیں: دیپک ملک (درمیان میں) کہتے ہیں، ’سال ۲۰۱۴-۲۰۱۳ میں اسکولی عمارت کی تعمیر ہم سبھی کے لیے کافی خوشی کا موقع تھا‘

Parents and older siblings walking to pick up children from their new school in Chakua – a distance of 1.5 km from their homes in Puranamantira.
PHOTO • M. Palani Kumar
They cross a busy railway line while returning home with the children (right)
PHOTO • M. Palani Kumar

بچوں کو نئے اسکول سے واپس لانے کے لیے ان کے والدین اور بڑے بھائی بہن چکوا گاؤں جا رہے ہیں، جو کہ ان کے اپنے گاؤں پرانا مانیترا سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے۔ بچوں کے ساتھ لوٹتے وقت انہیں ایک مصروف ریلوے لائن (دائیں) کو پار کرنا پڑتا ہے

اس ریلوے لائن سے بچنے کے لیے، اگر کوئی چاہے تو گاڑیوں کے چلنے لائق بنائے گئے پل والے دوسرے راستے کا استعمال کر سکتا ہے، لیکن ویسی حالت میں اسکول تک کی دوری مزید ۶ کلومیٹر بڑھ جاتی ہے۔ یہاں سے ایک پگڈنڈی (چھوٹا راستہ) پرانے اسکول اور گاؤں کے کنارے موجود دو چار مندروں سے ہوتے ہوئے ریلوے پشتہ پر جا کر ختم ہوتی ہے، جہاں سے برہمنی ریلوے اسٹیشن تک جایا جا سکتا ہے۔

سیٹی بجاتی ہوئی ایک مال گاڑی وہاں سے گزر رہی ہے۔

انڈین ریلوے کی اس ہوڑہ-چنئی مرکزی لائن پر، برہمنی سے ہر دس منٹ میں کوئی نہ کوئی مال گاڑی اور مسافر ٹرین گزرتی ہے۔ اسی لیے، پرانا مانیترا کی کوئی بھی فیملی اپنے بچوں کو بغیر کسی بالغ کے وہاں جانے کی اجازت نہیں دیتی۔

پٹریاں اب بھی ہل رہی ہیں، جب کہ ہر کوئی اگلی ٹرین کے آنے سے پہلے اسے تیزی سے پار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کچھ بچے چھلانگ لگا کر پشتہ کے نیچے کود جاتے ہیں؛ جو بچے بہت ہی چھوٹے ہیں انہیں گود میں اٹھا کر پار کرایا جاتا ہے۔ جنہیں ڈر لگ رہا ہے، انہیں اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گندے پاؤں، کالے پاؤں، دھوپ میں جلے ہوئے پاؤں، ننگے پاؤں، تھکے ہوئے پاؤں جن میں اب مزید چلنے کی طاقت نہیں بچی ہے – ان سبھی کے لیے یہ ۲۵ منٹ کا راستہ ہے۔

*****

بارہ بنکی اور پرانا مانیترا کے پرائمری اسکول اوڈیشہ کے تقریباً ۹۰۰۰ اُن اسکولوں میں شامل ہیں جنہیں مرکزی حکومت کے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ’سسٹینبل ایکشن فار ٹرانسفارمنگ ہیومن کیپٹل (ساتھ)‘ – یعنی انسانی سرمایہ کی تبدیلی کے لیے پائیدار عمل – نامی پروگرام کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے – سرکاری اصطلاح میں اسے پڑوسی گاؤں کے اسکول کے ساتھ ’یکجا کرنا‘ یا ’ضم کرنا‘ بتایا جا رہا ہے۔

نومبر ۲۰۱۷ میں تین ریاستوں – اوڈیشہ، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں اسکولی تعلیم میں ’اصلاح‘ کے لیے ’ساتھ-ای‘ شروع کیا گیا تھا۔ پریس انفارمیشن بیورو کی سال ۲۰۱۸ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق، اس کا مقصد ’’پورے سرکاری اسکول کے تعلیمی نظام کو ہر ایک بچے کے لیے جوابدہ، امید افزا اور تبدیلی کا حامل‘ بنانا تھا۔

بارہ بنکی گاؤں میں، جہاں کے اسکول کو بند کر دیا گیا ہے، یہ ’تبدیلی‘ تھوڑی الگ قسم کی ہے۔ یہاں پر ایک ڈپلومہ ہولڈر ہے، ۱۲ویں کلاس پاس کرنے والے دو چار لوگ ہیں، اور میٹرک یا ہائی اسکول میں فیل ہونے والے تو کئی ہیں۔ ’’اب تو ہمارے پاس شاید وہ بھی نہ ہوں،‘‘ بند ہو چکے اسکول کی تحلیل شدہ انتظامیہ کمیٹی کے چیئرپرسن، کشور بیہرا کہتے ہیں۔

Children in class at the Chakua Upper Primary school.
PHOTO • M. Palani Kumar
Some of the older children in Barabanki, like Jhilli Dehuri (in blue), cycle 3.5 km to their new school in Jamupasi
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: چکوا اپر پرائمری اسکول کے اندر اپنی کلاس میں بیٹھے ہوئے بچے۔ دائیں: جھلّی دیہوری (نیلے رنگ کی یونیفارم میں) جیسے کچھ بڑے بچے ساڑھے تین کلومیٹر سائیکل چلا کر جامو پسی کے نئے اسکول میں آتے ہیں

پرائمری اسکول کو پڑوسی گاؤں کے منتخب اسکول کے ساتھ ’یکجا کرنا‘ دراصل ان اسکولوں کو بند کرنے کا ایک بہانہ ہے جہاں پر طلباء کی تعداد بہت کم ہے اور اسے ایک اچھا قدم بتایا جا رہا ہے۔ ’ساتھ-ای‘ سے متعلق نومبر ۲۰۲۱ کی ایک رپورٹ میں نیتی آیوگ کے اُس وقت کے سی ای او، امیتابھ کانت نے یکجا کرنے کے عمل (یا اسکولوں کو بند کرنے) کو ’’جرأت مندانہ اور انوکھی اصلاحات میں سے ایک‘‘ قرار دیا تھا۔

لیکن، نوجوان طالب علم سدھارتھ ملک کے لیے یہ ایک مصیبت لے کر آیا ہے۔ اپنے گاؤں پرانا مانیترا سے روزانہ چکوا کے نئے اسکول تک کی لمبی دوری طے کرنے سے اس کی ٹانگیں درد کرنے لگتی ہیں۔ اس کے والد، دیپک بتاتے ہیں کہ کئی بار وہ اسکول نہیں جا پاتا۔

ہندوستان کے تقریباً ۱۱ لاکھ سرکاری اسکولوں میں سے ۴ لاکھ ایسے ہیں جہاں طلباء کی تعداد ۵۰ سے بھی کم ہے، اور ایک لاکھ ۱۰ ہزار اسکولوں میں تو ۲۰ سے بھی کم طالب علم ہیں۔ ’ساتھ-ای‘ نے انہیں ’’کم معیار والے اسکول‘‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی ان میں موجود کمیوں کا بھی ذکر کیا ہے: مثال کے طور پر ٹیچروں کا اپنے مضمون (سبجیکٹ) میں ماہر نہ ہونا، ایماندار پرنسپل کی کمی، اور کھیل کے میدان، چہار دیواری اور لائبریریوں کا نہ ہونا۔

لیکن پرانا مانیترا میں والدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سہولیات کا انتظام خود ان کے اسکول میں کیا جا سکتا تھا۔

کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ چکوا میں لائبریری ہے یا نہیں؛ البتہ وہاں پر چہار دیواری ضرور ہے، جو کہ ان کے پرانے اسکول میں نہیں تھی۔

اوڈیشہ میں، فی الحال ’ساتھ-ای‘ پروجیکٹ اپنے تیسرے مرحلہ میں ہے۔ اس مرحلہ کے تحت ’’یکجا‘‘ کرنے کے لیے کل ۱۵ ہزار اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

*****

It is 1 p.m. and Jhilli Dehuri, a Class 7 student and her schoolmate, are pushing their cycles home to Barabanki. She is often sick from the long and tiring journey, and so is not able to attend school regularly
PHOTO • M. Palani Kumar
It is 1 p.m. and Jhilli Dehuri, a Class 7 student and her schoolmate, are pushing their cycles home to Barabanki. She is often sick from the long and tiring journey, and so is not able to attend school regularly
PHOTO • M. Palani Kumar

دوپہر کے ایک بج رہے ہیں اور ۷ویں کلاس میں پڑھنے والی جھلی دیہوری اپنے اسکول کے ایک بچے کے ساتھ سائیکل کو دھکیلتے ہوئے اپنے گھر بارہ بنکی جا رہی ہے۔ اس لمبے اور تھکا دینے والے سفر کی وجہ سے وہ اکثر بیمار پڑ جاتی ہے، اور باقاعدگی سے اسکول نہیں جا پاتی

جھلی دیہوری گھر کے قریب پہنچ چکی ہے اور اب ایک اونچی جگہ پر سائیکل کو دھکیل کر چڑھانے میں اسے پریشانی ہو رہی ہے۔ اس کے گاؤں بارہ بنکی میں، آم کے ایک بڑے درخت کے سایہ میں نارنجی رنگ کی ترپال بچھا دی گئی ہے، جہاں اسکول کے مسئلہ پر بات چیت کرنے کے لیے والدین جمع ہیں۔ تھکی ہوئی جھلی بھی وہاں پہنچ گئی ہے۔

بارہ بنکی سے اپر پرائمری اور بڑے (۱۱ سے ۱۶ سال کے) بچے، ساڑھے تین کلومیٹر دور جامو پسی کے اسکول میں پڑھنے جاتے ہیں۔ کشور بیہرا کا کہنا ہے کہ دوپہر کی دھوپ میں پیدل چلنے اور سائیکل چلانے سے یہ بچے تھک جاتے ہیں۔ ان کی بھتیجی، جس نے وبائی مرض کے بعد ۵ویں کلاس میں جانا شروع کیا تھا اور اتنی دور تک اسے پیدل چلنے کی پہلے عادت نہیں تھی، پچھلے ہفتے گھر واپس آتے وقت راستے میں ہی بیہوش ہو گئی۔ جامو پسی کے کچھ اجنبی لوگوں نے اپنی موٹر سائیکل سے اسے گھر پہنچایا۔

کشور کہتے ہیں، ’’ہمارے بچوں کے پاس موبائل فون نہیں ہے، نہ ہی اسکول میں ایمرجنسی کے لیے والدین کا فون نمبر رکھنے کا کوئی رواج ہے۔‘‘

جاجپور ضلع کے سُکِندا اور دان گدی بلاک کے دور دراز گاؤوں میں رہنے والے درجنوں والدین نے اسکول جانے والے اس لمبے راستے کے خطرات کے بارے میں بتایا: مثال کے طور پر یہ راستہ ایک گھنے جنگل کے بیچ سے یا بھیڑ بھاڑ والی شاہراہ کے کنارے سے ہو کر گزرتا ہے، ایک ریلوے لائن پار کرنی پڑتی ہے، بیچ میں ایک تیز ڈھلان والی پہاڑی ہے، مانسون کے دوران راستے میں پانی کی تیز دھار بہنے لگتی ہے، گاؤں سے ہو کر گزرنے والے راستے میں کئی جنگلی کتے ہیں جو ہمیشہ بھونکتے رہتے ہیں، کچھ ایسے میدان ہیں جہاں ہاتھیوں کا جھنڈ آتا رہتا ہے۔

’ساتھ-ای‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متوقع طور پر بند کیے جانے والے اسکولوں سے نئے اسکولوں کی دوری کا پتہ لگانے کے لیے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) ڈیٹا کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، ریاضی کے ذریعے جی آئی ایس پر مبنی دوری کا لگایا گیا حساب زمینی حقائق کی ترجمانی نہیں کرتا ہے۔

Geeta Malik (in the foreground) and other mothers speak about the dangers their children must face while travelling to reach school in Chakua.
PHOTO • M. Palani Kumar
From their village in Puranamantira, this alternate motorable road (right) increases the distance to Chakua to 4.5 km
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: گیتا ملک (سب سے آگے) اور دیگر مائیں چکوا کے اسکول جاتے وقت اپنے بچوں کو درپیش خطرات کے بارے میں بتا رہی ہیں۔ ان کے گاؤں پرانا مانیترا سے موٹر گاڑی لائق اس متبادل سڑک (دائیں) سے جانے میں چکوا کی دوری مزید ساڑھے چار کلومیٹر بڑھ جاتی ہے

پرانا مانیترا کی سابق پنچایت وارڈ ممبر، گیتا ملک کا کہنا ہے کہ ٹرین اور لمبی دوری کے علاوہ ماؤں کی دوسری تشویشیں بھی ہیں۔ ’’حالیہ برسوں میں موسم غیر متوقع رہا ہے۔ برسات کے موسم میں، کبھی کبھی صبح کے وقت آسمان صاف رہتا ہے، لیکن اسکول بند ہونے کے وقت آندھی چلنے لگتی ہے۔ ان حالات میں اپنے بچوں کو آپ دوسرے گاؤں کے اسکول میں کیسے بھیج پائیں گے؟‘‘

گیتا کے دو بیٹے ہیں، ایک کی عمر ۱۱ سال ہے اور وہ ۶ویں کلاس میں پڑھتا ہے، جب کہ دوسرا چھ سال کا ہے جس نے ابھی ابھی اسکول جانا شروع کیا ہے۔ ان کی فیملی بھاگ چاشی (بٹائی دار کھیتی کرنے والے) رہے ہیں، اس لیے وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے آگے بڑھیں، اچھا پیسہ کمائیں اور کھیتی کے لیے خود اپنی زمین خریدیں۔

آم کے درخت کے نیچے جمع سبھی والدین کا یہی کہنا تھا کہ جب ان کے گاؤں کا اسکول بند کر دیا گیا، تو بچوں نے یا تو اسکول جانا ہی چھوڑ دیا یا اب باقاعدگی سے اسکول نہیں جاتے ہیں۔ کچھ بچے تو مہینہ میں ۱۵ دن اسکول سے غائب رہتے ہیں۔

پرانا مانیترا میں جب اسکول کو بند کر دیا گیا، تو وہاں ۶ سال سے کم عمر کے بچوں کا آنگن واڑی مرکز بھی اسکول کے احاطہ سے ہٹا کر تقریباً ۳ کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا۔

*****

گاؤں کا اسکول کئی لوگوں کے لیے ترقی کی علامت ہوتا ہے؛ امکانات اور خواہشات کی تکمیل کی ایک جگہ ہوتی ہے۔

مادھو ملک ایک دہاڑی مزدور ہیں اور ۶ویں کلاس تک پڑھائی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سال ۲۰۱۴ میں پرانا مانیترا میں جب اسکول کھلا، تو انہیں لگا کہ ان کے بیٹوں، منوج اور دیباشیش کے لیے اچھے دن آنے والے ہیں۔ ’’ہم نے اپنے اسکول کی اچھی دیکھ بھال کی، کیوں کہ یہ ہمارے لیے امید کی ایک علامت تھی۔‘‘

بند ہو چکے اس سرکاری پرائمری اسکول میں اب کلاس روم پوری طرح سے صاف ہیں۔ دیواروں پر سفید اور نیلے رنگ سے پُتائی کر دی گئی ہے اور ان پر اڑیہ حروف، اعداد اور تصاویر والے چارٹ ٹنگے ہوئے ہیں۔ ایک دیوار پر پینٹ سے بلیک بورڈ بنا ہوا ہے۔ چونکہ اب یہاں پر کلاسیں نہیں ہوتی ہیں، لہٰذا گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ اجتماعی پوجا (عبادت) کے لیے دستیاب سب سے مقدس جگہ یہی اسکول ہے؛ ایک کلاس روم کو اب کیرتن (عقیدت والے گانے) کے کمرے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، تاکہ لوگ وہاں پر پوجا پاٹھ کے لیے جمع ہو سکیں۔ دیوتا کی ایک فریم والی تصویر دیوار کے ساتھ رکھے پیتل کے ایک برتن میں لگا دی گئی ہے۔

Students of Chakua Upper Primary School.
PHOTO • M. Palani Kumar
Madhav Malik returning home from school with his sons, Debashish and Manoj
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: چکوا اپر پرائمری اسکول کے بچے۔ دائیں: مادھو ملک اسکول سے اپنے بیٹوں، دیباشیش اور منوج کو لے کر گھر لوٹ رہے ہیں

اسکول کی دیکھ بھال کرنے کے علاوہ، پرانا مانیترا گاؤں کے لوگ اپنے بچوں کی مناسب تعلیم کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ گاؤں میں انہوں نے ہر ایک بچے کے لیے ٹیوشن کا انتظام کیا ہے، جنہیں پڑھانے کے لیے روزانہ ایک ٹیچر سائیکل سے ۲ کلومیٹر دور کے ایک گاؤں سے آتا ہے۔ دیپک بتاتے ہیں، بارش کے دنوں میں اکثر وہ خود یا گاؤں کا کوئی دوسرا آدمی اپنی موٹر سائیکل کو اس ٹیچر کو لے کر آتا ہے، تاکہ سڑک پر پانی بھر جانے سے ٹیوشن کی کلاس کا ایک دن بھی ناغہ نہ ہو۔ ٹیوشن کی یہ کلاس پرانے اسکول میں ہی لگتی ہے، اور ہر فیملی ٹیچر کو ماہانہ ۲۵۰ سے ۴۰۰ روپے ادا کرتی ہے۔

دیپک بتاتے ہیں، ’’یہاں، ٹیوشن کلاس میں تقریباً سب کچھ پڑھایا جاتا ہے۔‘‘

اسکول کے باہر، پوری طرح پھولوں سے لدے پلاس (ڈھاک) کے درخت کے سایہ میں گاؤں کے لوگ اپنی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں کہ اسکول بند ہونے کا کیا مطلب ہے۔ بارش کے دنوں میں برہمنی میں سیلاب آ جانے پر پرانا مانیترا تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ میڈیکل ایمرجنسی کے دوران ایمبولینس بھی گاؤں تک نہیں پہنچ پاتی ہے، اور بجلی بھی کئی دنوں تک غائب رہتی ہے۔

مادھو کہتے ہیں، ’’اسکول بند ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم لوگ پیچھے جا رہے ہیں، اور حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔‘‘

’ساتھ۔ای‘ پروجیکٹ میں مرکزی حکومت کا ساتھ دینے والے عالمی مشاورتی فرم، بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (بی سی جی) نے اسے ’’ تعلیم کے میدان میں بڑی تبدیلی پیدا کرنے والا پروگرام ‘‘ قرار دیا ہے، جو تعلیم کے بہتر نتائج ظاہر کرتا ہے۔

لیکن جاجپور کے ان دو بلاک کے تقریباً ہر ایک گاؤں میں اور اوڈیشہ کی دوسری جگہوں پر بھی، والدین کا یہی کہنا ہے کہ اسکول بند کرنے کی وجہ سے تعلیم تک رسائی اپنے آپ میں ایک چیلنج بن گیا ہے۔

Surjaprakash Naik and Om Dehuri (both in white shirts) are from Gunduchipasi where the school was shut in 2020. They now walk to the neighbouring village of Kharadi to attend primary school.
PHOTO • M. Palani Kumar
Students of Gunduchipasi outside their old school building
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: سورج پرکاش نائک اور اوم دیہوری (دونوں سفید شرٹ میں) گُنڈوچی پسی کے رہنے والے ہیں، جہاں کے اسکول کو سال ۲۰۲۰ میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب انہیں پڑوسی گاؤں کھرڑی کے پرائمری اسکول تک پیدل چل کر آنا پڑتا ہے۔ دائیں: اپنے پرانے اسکول کی عمارت کے باہر گنڈوچی پسی کے طلباء

گنڈوچی پسی گاؤں کو ۱۹۵۴ میں ہی ایک اسکول مل گیا تھا۔ سکندا بلاک کا یہ گاؤں کھرڑی پہاڑی کے جنگل میں واقع ہے، جس پر پوری طرح سبر کمیونٹی کے لوگوں کا قبضہ ہے۔ اس کمیونٹی کو شبر یا سَوَر بھی کہتے ہیں، جسے ریاست میں درج فہرست قبیلہ کا درجہ حاصل ہے۔

گاؤں کے اس سرکاری پرائمری اسکول کے بند ہونے سے پہلے، یہاں پر ۳۲ بچے پڑھتے تھے۔ لیکن جب اسکول دوبارہ کھولے گئے، تو انہیں پیدل چل کر پڑوسی گاؤں کھرڈی جانا پڑا۔ جنگل سے ہو کر جانے پر وہاں تک کی دوری مشکل سے ایک کلومیٹر ہے۔ دوسرا راستہ بھیڑ بھاڑ والی عام سڑک سے ہو کر جاتا ہے، جو کہ چھوٹے بچوں کے لیے کافی خطرناک راستہ ہے۔

اسکول میں بچوں کی حاضری اب کافی کم ہو گئی ہے، لیکن والدین اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ اب وہ اپنے بچوں کی حفاظت کو دیکھیں یا مڈ ڈے میل کو۔

دوسری کلاس میں پڑھنے والا اوم دیہوری اور پہلی جماعت کا طالب علم سورج پرکاش نائک کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ایک ساتھ اسکول جاتے ہیں۔ وہ پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی لے جاتے ہیں، لیکن کھانے پینے کا کوئی سامان یا اسے خریدنے کے لیے کوئی پیسہ نہیں لے جاتے۔ تیسری جماعت میں پڑھنے والی رانی بارک بتاتی ہے کہ اسکول جانے میں اسے ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے، لیکن یہ دیری زیادہ تر اسے اپنے ساتھیوں کا انتظار کرنے اور دھیرے دھیرے چلنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

رانی کی دادی بکوٹی بارک کہتی ہیں کہ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ چھ دہائی پرانے اسکول کو بند کر دینا اور بچوں کو جنگل سے ہو کر پڑوسی گاؤں [کے اسکول] بھیجنے کا کیا مطلب ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’راستے میں کتے اور سانپ ہیں، کبھی کبھی بھالو آ جاتا ہے – کیا آپ کے شہر میں رہنے والے والدین کو یہ لگتا ہے کہ اسکول جانے کا یہ محفوظ راستہ ہے؟‘‘

اب چھوٹے بچوں کو اسکول لانے لے جانے کی ذمہ داری ۷ویں اور ۸ویں کلاس میں پڑھنے والوں کو سونپ دی گئی ہے۔ ۷ویں کلاس میں پڑھنے والی سُبھ شری بیہرا کو اپنے دو چھوٹے چچیرے بھائی بہن بھومیکا اور اوم دیہوری کو سنبھالنے میں کافی پریشانی ہوتی ہے۔ وہ بتاتی ہے، ’’وہ ہماری بات ہمیشہ نہیں مانتے۔ اگر وہ دوڑنے لگیں، تو ہر ایک کے پیچھے بھاگنا آسان نہیں ہے۔‘‘

دہاڑی مزدور کے طور پر کام کرنے والی مامینا پردھان کے بچے – ۷ویں کلاس میں پڑھنے والا راجیش، اور ۵ویں کلاس کی لیجا – پیدل چل کر نئے اسکول جاتے ہیں۔ پھوس کی چھت اور اینٹ و بھوسے سے بنے اپنے گھر میں بیٹھی ہوئی وہ کہتی ہیں، ’’بچوں کو تقریباً ایک گھنٹہ چلنا پڑتا ہے، لیکن ہمارے پاس اور کیا متبادل ہے؟‘‘ وہ اور ان کے شوہر مہنتو کھیتی کے سیزن میں دوسروں کے کھیتوں پر کام کرتے ہیں اور جب کھیتی کا سیزن نہیں ہوتا ہے، تو کوئی اور کام تلاش کرتے ہیں۔

Mamina and Mahanto Pradhan in their home in Gunduchipasi. Their son Rajesh is in Class 7 and attends the school in Kharadi.
PHOTO • M. Palani Kumar
‘Our children [from Gunduchipasi] are made to sit at the back of the classroom [in the new school],’ says Golakchandra Pradhan, a retired teacher
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: گنڈوچی پسی گاؤں کے اپنے گھر میں مامینا اور مہنتو پردھان۔ ان کا بیٹا راجیش ۷ویں کلاس میں پڑھتا ہے اور کھرڈی کے اسکول جاتا ہے۔ دائیں: ریٹائر ہو چکے ٹیچر، گولک چندر پردھان کہتے ہیں، ’ہمارے [گنڈوچی پسی کے رہنے والے] بچوں کو کلاس روم میں [نئے اسکول کے] سب سے پیچھے بیٹھایا جاتا ہے‘

Eleven-year-old Sachin (right) fell into a lake once and almost drowned on the way to school
PHOTO • M. Palani Kumar

گیارہ سال کا سچن (دائیں) اسکول جاتے وقت راستے میں ایک بار جھیل میں گر گیا تھا اور ڈوبتے ڈوبتے بچا تھا

والدین کا کہنا ہے کہ گنڈوچی پسی کے ان کے اسکول میں تعلیم کا معیار بہت اچھا تھا۔ گاؤں کے مکھیا، ۶۸ سالہ گولک چندر پردھان کہتے ہیں، ’’یہاں ہمارے بچوں کو ٹیچروں کی طرف سے خصوصی توجہ ملتی تھی۔ [نئے اسکول میں] ہمارے بچوں کو کلاس روم میں سب سے پیچھے بیٹھایا جاتا ہے۔‘‘

قریب کے ساآنتراپور گاؤں (یہ بھی سکندا بلاک میں ہی ہے) کے پرائمری اسکول کو ۲۰۱۹ میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب بچوں کو یہاں سے ڈیڑھ کلومیٹر دور، جامو پسی کے اسکول میں جانا پڑتا ہے۔ گیارہ سال کے سچن ملک کے پیچھے ایک کتا پڑ گیا، جس سے بچنے کی کوشش میں وہ ایک جھیل میں گر گیا تھا۔ سچن کے بڑے بھائی، سورو (۲۱ سال) بتاتے ہیں کہ ’’یہ ۲۰۲۱ میں ہوا تھا۔‘‘ گورو وہاں سے ۱۰ کلومیٹر دور، دبوری کے اسٹیل پلانٹ میں کام کرتے ہیں۔ وہ مزید بتاتے ہیں، ’’دو بڑے بچوں نے اسے ڈوبنے سے بچایا، لیکن ہر کوئی اتنا ڈر گیا تھا کہ اگلے دن گاؤں کے کئی بچے اسکول نہیں گئے۔‘‘

جامو پسی کے اسکول میں مڈ ڈے میل تیار کرنے میں مدد کرنے والی ایک بیوہ، لابنیہ ملک کہتی ہیں کہ ساآنتراپور سے جامو پسی کے درمیان پڑنے والے اس راستے کے کتے بالغوں پر بھی حملہ کر چکے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’یہ ۲۰-۱۵ آوارہ کتوں کا ایک گروپ ہے۔ ایک بار جب انہوں نے مجھے دوڑایا تو میں اپنے منہ کے بل گر پڑی تھی، جس سے وہ میرے اوپر کود پڑے۔ ایک نے میری ٹانگ میں کاٹ لیا تھا۔‘‘

ساآنتراپور میں کل ۹۳ گھر ہیں، جن میں درج فہرست ذات اور دیگر پس ماندہ طبقہ کے لوگ رہتے ہیں۔ گاؤں کے پرائمری اسکول کو جب بند کیا گیا تھا، تب اس میں ۲۸ بچے پڑھ رہے تھے۔ اب صرف ۱۰-۸ بچے ہی باقاعدگی سے اسکول جاتے ہیں۔

جامو پسی کے اسکول میں ۶ویں کلاس میں پڑھنے والی، ساآنتراپور کی گنگا ملک نے جنگل والے راستے کے ایک سرے پر موجود موسمی جھیل میں گرنے کے بعد اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ دہاڑی مزدور کے طور پر کام کرنے والے اس کے والد، سوشانت ملک اس واقعہ کویاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’وہ جھیل کے کنارے بیٹھ کر منہ دھو رہی تھی، تبھی پھسل کر اس میں گر پڑی۔ وہ بس ڈوبنے ہی والی تھی کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا اور بچایا۔ اس کے بعد وہ اسکول سے اکثر غائب رہنے لگی۔‘‘

دراصل، گنگا اپنے فائنل امتحان کے لیے اسکول جانے کی ہمت نہیں جٹا سکی، لیکن کہتی ہے، ’’مجھے کسی طرح پاس کر دیا گیا تھا۔‘‘

نامہ نگار، ایسپائر انڈیا کے اسٹاف کی طرف سے ملنے والی مدد کے لیے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Kavitha Iyer

Kavitha Iyer has been a journalist for 20 years. She is the author of ‘Landscapes Of Loss: The Story Of An Indian Drought’ (HarperCollins, 2021).

Other stories by Kavitha Iyer
Photographer : M. Palani Kumar

M. Palani Kumar is PARI's Staff Photographer and documents the lives of the marginalised. He was earlier a 2019 PARI Fellow. Palani was the cinematographer for ‘Kakoos’, a documentary on manual scavengers in Tamil Nadu, by filmmaker Divya Bharathi.

Other stories by M. Palani Kumar
Editor : Priti David

Priti David is a Journalist with the People’s Archive of Rural India, and Education Editor, PARI. She works with educators to bring rural issues into the classroom and curriculum, and with young people to document the issues of our times.

Other stories by Priti David
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez