امودا اور راجیش جب ۲۳ مارچ کو اپنی نئی نوکری شروع کرنے کے لیے جنوبی بنگلورو کے ایک تعمیراتی مقام پر پہنچے، تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

جے پی نگر کے تعمیراتی مقام پر کام شروع کرنے کے ان کے منصوبہ پر اگلے ہی دن پانی پھر گیا، جب کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا۔ انہیں کورونا وائرس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا – وہ ابھی بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ’’کسی نے ہمیں محتاط رہنے کے لیے کہا تھا، لیکن ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کس چیز سے محتاط رہنا ہے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہے،‘‘ امواد نے کہا تھا، جب ہم پہلی بار ان سے اپریل کے شروع میں ملے تھے۔

امودا اور راجیش، جو صرف اپنے پہلے ناموں کا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں، دونوں ۲۳ سال کے ہیں۔ اپنا معاش کمانے کے لیے وہ عام طور پر اپنے دو بچوں – تین سال کی رکشتا اور ایک سال کا رکشت – کے ساتھ بنگلورو میں ایک تعمیراتی مقام سے دوسرے تعمیراتی مقام پر جاتے ہیں۔

یہ نوجوان فیملی، ۲۳ مارچ سے ہی جے پی نگر کے تعمیراتی مقام پر رہ رہی ہے – بغیر کسی کام، بنا مزدوری اور بہت کم کھانے کے ساتھ۔ بجلی اور پانی کی سپلائی بھی لگاتار نہیں آتی ہے۔ ’’ٹھیکہ دار ہم سے کہتا رہتا ہے کہ وہ دوبارہ آئے گا، کل آئے گا۔ وہ بس آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ ہم اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، کہ وہ کون ہے، کیا کرتا ہے۔ ہم اس کا نام بھی نہیں جانتے،‘‘ امواد نے کہا۔

Amoda, Rajesh and their kids Rakshit and Rakshita have stayed in a small shed on the construction site during the lockdown
PHOTO • Asba Zainab Shareef
Amoda, Rajesh and their kids Rakshit and Rakshita have stayed in a small shed on the construction site during the lockdown
PHOTO • Asba Zainab Shareef

امودا، راجیش اور ان کے بچے رکشتا اور رکشت لاک ڈاؤن کے دوران تعمیراتی مقام پر ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹھہرے ہوئے ہیں

وہ اور راجیش دونوں، ۲۰۱۵ میں شام کرنے کے بعد سے کئی بار کام کے لیے باہر جا چکے ہیں۔ امواد اُس سال اپنے شوہر کے ساتھ شامل ہونے کے لیے بنگلورو پہنچیں، جو تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے لیے ۲۰۱۰ سے مہاجرت کر رہے ہیں۔ وہ تمل ناڈو کی کنّمور بستی سے یہاں آئی تھیں۔ دونوں کی پیدائش کرشن گیری ضلع کے بارگُر بلاک کی اوپّداوڈی پنچایت کی اسی بستی میں ہوئی تھی۔ دونوں کا تعلق تمل ناڈو میں او بی سی کے طور پر درج فہرست والمیکی ذات سے ہے۔

راجیش جب اپنے والدین کے ساتھ پہلی بار بنگلورو آئے تھے تب وہ صرف ۱۳ سال کے تھے – وہ شہر کی تیزی سے بڑھتی تعمیراتی صنعت میں کام کی تلاش میں یہاں آئے تھے۔ ’’لوگ جانتے ہیں کہ آپ شہر میں زیادہ کما سکتے ہیں، اس لیے ہر کوئی یہاں آتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

شہر میں ایک دہائی گزارنے کے باوجود، وہ ریاستی حکومت کے ذریعے جاری کیا گیا کوئی بھی شناختی کارڈ حاصل نہیں کر پائے ہیں، جس سے انہیں لاک ڈاؤن کے دوران راشن اور دیگر راحت اشیاء حاصل کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔

ان کے اور امودا کے پاس نہ تو کوئی راشن کارڈ ہے، نہ آدھار کارڈ یا برتھ سرٹیفکیٹ، اور نہ ہی کوئی مستقل پتہ ہے۔ وہ امید کر رہے تھے کہ خط افلاس سے نیچے (بی پی ایل) رہنے والے کنبوں کے لیے سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے انہیں ضروری شناختی کارڈ (آئی ڈی) مل جائے گا۔ ’’ہم نے سوچا تھا کہ شہر میں کوئی نہ کوئی آدمی راشن کارڈ یا بی پی ایل کارڈ حاصل کرنے میں ہماری مدد کرے گا، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔ میرے پاس کارڈ بنوانے کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہم ہفتے میں ہر دن [لاک ڈاؤن سے پہلے] کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم ایک دن کی بھی مزدوری نہیں گنوا سکتے،‘‘ راجیش نے کہا۔

Three-year-old Rakshita is growing up moving from one building site to another
PHOTO • Asba Zainab Shareef

تین سال کی رکشتا ایک تعمیراتی مقام سے دوسرے تعمیراتی مقام کی طرف جاتے ہوئے بڑی ہو رہی ہے

راجیش کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے، امودا بارگُر کی ایک کپڑا مل میں کام کرتی تھیں – مشترکہ آٹورکشا کے ذریعے کنّمور سے یہ شہر تقریباً ایک گھنٹہ کی دوری پر ہے۔ وہ بارگُر کے ایک تمل میڈیم سرکاری اسکول میں پڑھتی تھیں، لیکن ۱۰ویں جماعت کے بعد انہوں نے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ انہیں وہاں پر سائنس اور ریاضی کی پڑھائی کرنا یاد ہے۔ لیکن راجیش کبھی اسکول نہیں گئے۔ امودا اور راجیش کو کئی زبانیں آتی ہیں – دونوں تمل اور کنڑ، اور تیلگو بھی بول سکتے ہیں، کیوں کہ بارگُر کی سرحد آندھرا پردیش سے ملحق ہے۔ راجیش دکنی بھی بولتے ہیں، جو بنگلورو میں بڑے پیمانے پر بولی جانے والی زبان ہے۔

کام دستیاب ہونے پر، امودا اور راجیش میں سے ہر ایک روزانہ ۳۵۰ روپے کماتے ہیں۔ انہیں ہر ہفتہ کے آخر میں پیسے ملتے ہیں۔ ’’گاؤں میں کوئی بھی کام ملنا بہت مشکل ہے۔ وہاں پر جو بھی چھوٹا موٹا کام ہے – پُتائی، تعمیر – وہ بارگُر میں ہے۔ کنّمور سے شہر تک آنے جانے میں ۳۰ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ کام کرنے کے لیے ہمارے گاؤں کو چھوڑ کر بنگلورو شہر آ جاتے ہیں،‘‘ امودا نے بتایا۔

وہ جب بنگلورو آ گئیں، تو ان کے والدین بھی، جن کے پاس گاؤں میں کوئی زمین نہیں ہے، یہاں تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے لیے آ گئے تھے۔ لیکن امودا اور راجیش دونوں اپنے والدین کے رابطہ میں نہیں ہیں، حالانکہ وہ سبھی ایک ہی شہر میں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس فون نہیں ہے۔ ہمارے پاس کبھی نہیں تھا،‘‘ راجیش نے کہا۔

ٹھیکہ دار جب ۲۷ اپریل کو جے پی نگر کے تعمیراتی مقام پر آیا، تو ان لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کام کب شروع ہوگا۔ ’’اس نے کہا تھا کہ جب تک سب کچھ کھل نہ جائے تب تک ہمیں انتظار کرنا ہوگا، تبھی ہم کام شروع کر سکتے ہیں۔‘‘ اس لیے میاں بیوی نے سائٹ پر جو کچھ بھی دستیاب تھا – کچھ سیمنٹ، لکڑی اور اینٹیں – اس کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ ’’خالی بیٹھنے کی بجائے، یہاں ہمارے پاس جو بھی سامان موجود تھا، ہم اس کے ساتھ کچھ کام کر سکتے تھے – بھلے ہی ہمیں اس کے لیے پیسے نہ ملے،‘‘ ایک دیوار کی دراڑوں میں سیمنٹ بھرتے ہوئے امودا نے کہا۔

’’ہر سائٹ پر، ہم رہنے کے لیے ایک عارضی کمرہ بناتے ہیں۔ یہی ہمارا گھر ہے،‘‘ انہوں نے تعمیراتی مقام کے بغل میں ایک چھوٹے سے کمرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، جہاں وہ اکیلے رہ رہے تھے۔ ان کا ۱۰ x۶ فٹ کا ’گھر‘ سیمنٹ کی اینٹوں اور ٹن کی چھت سے بنا ہوا ہے (جس کو اپنی جگہ پر بنائے رکھنے کے لیے اس کے اوپر کچھ وزن رکھے ہوئے ہیں)۔ اندر، چھت سے ایک بلب لٹک رہا ہے، جس سے چاروں طرف ہلکی سی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔

The couple worked with whatever was available. 'We might as well get some work done... even if we aren't getting paid'
PHOTO • Asba Zainab Shareef
The couple worked with whatever was available. 'We might as well get some work done... even if we aren't getting paid'
PHOTO • Asba Zainab Shareef

میاں بیوی نے وہاں جو بھی دستیاب تھا، اس کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ ’ہم کچھ کام کر سکتے تھے... بھلے ہی ہمیں اس کے پیسے نہ ملیں‘

امودا اور راجیش نے پورے لاک ڈاؤن میں خود کو مصروف رکھا۔ امودا نے کھانا بنایا، صفائی کی اور گھر کا سارا کام کیا۔ جب وہ کام کرتیں، تو راجیش بچوں کو سنبھالتے تھے۔ ’’آج صبح ہم نے سادہ چاول کھایا، اور اب ہم انہیں مرچ کے ساتھ، یا صرف سادہ کھائیں گے،‘‘ امودا نے سیمنٹ کی اینٹوں سے بنے عارضی چولہے میں لکڑی کی آگ پر روٹیوں کو پلٹتے ہوئے کہا۔

’’ہم نے پچھلی نوکری سے کچھ پیسے بچاکر رکھے تھے، لیکن اس سے ہم صرف ایک ہفتہ کا ہی کھانا خرید سکے۔ اس کے بعد، یہاں سے گزرنے والے لوگوں نے ہمیں جو کچھ دیا، اور پڑوس کے گھروں سے ہمیں جو کھانا ملا، ہم اسی پر منحصر رہے۔ ایسے دن بھی گزرے جب ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا،‘‘ امودا نے کہا۔ حالات تب تھوڑے بہتر ہوئے جب پڑوس کے کچھ لوگوں نے انہیں کھانا اور کچھ پیسے دینے شروع کیے۔

حالانکہ کرناٹک سرکار نے مہاجر مزدوروں کو پہلے وہیں رکنے کے لیے کہا تھا، اور پھر انہیں روک کر رکھنے کے لیے ۵ مئی کو شرمک ٹرینیں ردّ کر دی تھیں، لیکن تب کئی مزدوروں نے یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلنا شروع کر دیا تھا کہ ٹھہرنے کا بہت ہی خراب انتظام ہے اور انہیں مزدوری بھی نہیں مل رہی ہے۔ ٹرینوں کو ردّ کرنے کا فیصلہ دو دن بعد واپس لے لیا گیا تھا۔ لیکن ۱۸ مئی تک، جب ہم آخری بار امودا اور راجیش سے ملے تھے، تو انہیں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی کہ ان کی سائٹ پر کام کب شروع ہوگا۔

میاں بیوی کے پاس کنّمور لوٹنے کا کوئی متبادل نہیں تھا۔ ’’واپس گھر جائیں؟ لوٹنے کا کوئی مطلب نہیں ہے! ہمارے پاس [گاؤں میں] کوئی زمین نہیں ہے۔ وہاں کوئی کام نہیں ہے اور ہم بہت کم کماتے ہیں،‘‘ امودا نے کہا۔ ’’ہمارے لیے کہیں کوئی کام نہیں ہے۔ ہم یا تو یہیں رکیں اور کچھ نہ کریں یا وہاں جاکر خالی بیٹھیں۔ دونوں ہی متبادل میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Asba Zainab Shareef and Sidh Kavedia

عصبہ زینب شریف اور سدھ کویڈیا کی عمر ۱۷ سال ہے اور وہ بنگلورو کے شبومی اسکول میں ۱۲ویں کلاس کے طالب علم ہیں۔ پاری کے لیے سدھ کی یہ دوسری اسٹوری ہے۔

Other stories by Asba Zainab Shareef and Sidh Kavedia