uploads/Articles/P. Sainath/Farming its what they do /farming_is_what_they_do_kalavathi.jpg

زرعی بحران کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زائد خواتین کسانوں نے اپنے شوہر کھو دیے۔ لیکن سات لڑکیوں کی ماں، کلا وَتی بندرکار جیسی متاثرہ عورتیں اب بھی اپنے کھیتوں پر کاشت کاری کر رہی ہیں

 

کلاوَتی بندرکار نے خود ذاتی طور پر اپنے پانچ پوتے پوتیوں کی پیدائش گھر پر کروائی ہے۔ ان کی تمام شادی شدہ لڑکیاں انہی کی طرح غریب ہیں اور بچہ کی پیدائش کے لیے اسپتال کا خرچ برداشت نہیں کر سکتیں۔ اس لیے انھوں نے یہ کام خود ہی کر ہی لیا۔ ہم جس وقت ان کے گھر پر پہنچے، وہاں اس وقت ۱۰ افراد ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان تمام کی دیکھ بھال کے علاوہ، وہ اس ۹ ایکڑ زمین پر کھیتی بھی کرتی ہیں جس سے بہت زیادہ فائدہ نہیں ملتا اور ۳۰ روپے روزانہ کی مزدوری پر دوسرے کے کھیتوں پر بھی کام کرتی ہیں۔ جب کھیتی کا موسم نہیں ہوتا، جیسا کہ اب ہے، تو وہ جلانے کی لکڑیاں بیچ کر ایک دن میں صرف ۲۰ روپے کما پاتی ہیں۔ ان کی آمدنی کا آخری ذریعہ وہ بھینس ہے، جسے وہ پال رہی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اپنی چوتھی بیٹی کی شادی میں کچھ بھی خرچ نہیں کیا۔ اور اب وہ یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ ’’بہت زیادہ خرچ کیے بغیر‘‘ کیا وہ اپنی پانچویں بیٹی کی بھی شادی کر سکتی ہیں۔ کلاوَتی سات بیٹیوں اور دو بیٹوں کی ماں ہیں، جن کے ساتھ وہ وِدربھ کے یَوَت مال ضلع کے جلکا گاؤں میں رہتی ہیں۔ وہ ملک بھر کی ایک لاکھ سے زائد اُن خواتین کسانوں میں سے بھی ایک ہیں، جنہوں نے گزشتہ ۱۴ برسوں کے دوران زراعت کی وجہ سے کی جانے والی خودکشی میں اپنے شوہروں کو کھو دیا۔

کوئی معاوضہ نہیں

’’مجھے سرکار کی طرف سے معاوضہ کے طور پر کبھی ایک پیسہ تک نہیں ملا،‘‘ حالات کی ماری ہوئی یہ دادی مسکراتے ہوئے بتاتی ہیں۔ وجہ: جس کھیت کو یہ لوگ جوتتے ہیں، وہ ان کا نہیں ہے بلکہ دوسروں سے رہن پر لیا گیا ہے۔ اس لیے، ان کے شوہر پرشورام نے قرض اور فصل کی خرابی کی وجہ سے جب خودکشی کی، تو ان کی موت کو ’’کسان کی خودکشی‘‘ نہ کہہ کر صرف خودکشی کہا گیا۔ سرکار کی دلیل تھی: کہ اگر ان کے نام پر کوئی زمین نہیں ہے، تو وہ کسان نہیں ہیں۔ تاہم، اس فیملی کو وِدربھ جن آندولن سمیتی (وی جے اے ایس) کی طرف سے کچھ مدد ضرور ملی ہے۔

/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Farming its what they do /dsc01615.jpg

 

پرشورام کے ذریعہ لیے گئے ۵۰ ہزار روپے سے زیادہ کے قرض نے انھیں یہاں تک مجبور کیا کہ وہ ’’میرے منگل سوتر کو رہن پر رکھ دیں۔ آخر وہ کیا کرتے؟ اس زرعی بحران نے ہمارے تمام خرچوں کو بڑھا دیا۔‘‘ لیکن، اس سے کوئی مدد نہیں ملی۔ ان کے نو ایکڑ کھیت سے صرف چار کوئنٹل اناج پیدا ہوا، جس سے ۷ ہزار روپے ملے۔ جس دن انھوں نے اپنا کاٹن بیچا، اسی دن انھوں نے اس پیسے سے منگل سوتر کو چھڑوایا اور پھر کھیت پر جاکر اپنی جان دے دی۔ کلاوَتی، جو ہمیشہ کام کرتی رہیں، نے زندگی کو آگے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ’’ہم لوگ صرف کھیتی کرتے ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں، اور اس کو لے کر ان کی پیشانی پر کوئی شکن نہیں ہے۔ ’’ہم ایسا آگے بھی کرتے رہیں گے۔‘‘ انھوں نے کام اور پیسے کے ذریعہ اپنے زیادہ تر قرض کو چکا دیا ہے۔ انھوں نے ایک مقامی ڈیلر کے تمام قرض بغیر کوئی سود دیے، ادا کر دیے۔ ’’اب صرف ۱۵ ہزار روپے ہمیں اپنے رشتہ داروں کو دینے ہیں اور اس پر بھی کوئی سود نہیں ہے۔‘‘

’’نہیں۔ میں کسی سیلف ہیلپ گروپ کی رکن نہیں ہوں۔ اس کے لیے ہر ماہ ۲۰ روپے دینے پڑتے ہیں، جو کہ میں دے نہیں سکتی۔‘‘ ان کی چار لڑکیوں کی شادی ہو چکی ہے۔ تین کی شادی پرشوتم کی خودکشی سے قبل ہی ہو گئی تھی۔ لیکن ایک نے اپنے شوہر سے جھگڑا کر لیا اور گھر واپس لوٹ آئی۔ اور بقیہ تین بیٹیاں اپنے اپنے بچوں کی پیدائش کے لیے ان کے پاس لوٹیں۔

وہ بتاتی ہیں، ’’میری بیٹی مالتھا اور میں، یہاں کی واحد کمانی والی ممبر ہیں۔‘‘ یہ دونوں اس زمانے میں جلانے کی لکڑیاں دن بھر اکٹھا کرکے اسے بیچنے کا کام کرتی ہیں، جس سے انھیں ایک دن میں ۴۰ روپے مل جاتے ہیں۔

بقیہ آمدنی بھینس کے دودھ سے ہوتی ہے۔ ’’روزانہ ۸۰۔۶۰ روپے۔ کبھی کبھار اس سے تھوڑا زیادہ۔‘‘ اس معمولی آمدنی پر تقریباً دس انسان گزارہ کرتے ہیں۔ مالتھا ان میں سب سے بڑی ہیں جو ۲۵ سال کی ہیں، جب کہ چیتنیہ سب سے چھوٹا ہے، ۸ سال کا۔ تمام تر کڑی محنتوں کے باوجود، یہ ہنستا کھیلتا خاندان ہے، جہاں پر نوجوانوں کا راج ہے۔ زیادہ تر خود ان کے بچے، ظاہر ہے، کافی پہلے اسکول چھوڑ چکے۔

کلاوَتی بھینسوں کی دیکھ بھال خود سے نہیں کرتیں۔ ’’اس سے خرچ ہماری کمائی سے کہیں زیادہ آئے گا۔‘‘ اس کے بجائے، انھوں نے اپنی بھینس ایک گلہ بان کو دے رکھی ہے، جو ان سے ۴۰ روپے ماہانہ یا روز کے ۲ روپے سے زیادہ لیتا ہے۔ اس گلہ بان کے پاس ایسے درجنوں مویشی ہیں اور وہ یہی کام کرتا ہے۔ ’’اور میں رکھوالا سے گوبر بھی لیتی ہوں۔‘‘

کمزور نظام

یہ وہ مویشی ہے جسے اس فیملی نے خود ہی خریدا تھا۔ یہ اس خراب سرکاری اسکیم کا حصہ نہیں ہے، جس نے کئی چھوٹے کسانوں کو دیوالیہ کر دیا، کیوں کہ اس اسکیم کے تحت انھیں قیمتی گائیں دی گئی تھیں، حالانکہ وہ انھیں لینا نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی انھیں چارہ کھلانے کے قابل تھے۔ ان کا یہ نظام تو اب تک کام کر رہا ہے، لیکن بہت کمزور ہے۔ بھینس کو تھوڑا بھی نقصان پہنچا، تو اس فیملی کی پوری اقتصادیات ڈگمگا جائے گی۔ فی الحال: ’’ہم پورا کا پورا دودھ بیچ دیتے ہیں۔‘‘ یہاں تک کہ گھر کے کسی بھی بچہ کو پینے کے لیے ایک بوند تک نہیں ملتا۔ اور دو دیگر بیٹیاں جو کہ کام کر سکتی ہیں، فی الحال کام اس لیے نہیں کر سکتیں، کیوں کہ انھیں بچوں کو جنم دیا ہے۔

/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Farming its what they do /dsc01586.jpg

 

’’ہمیں اپنی پانچویں لڑکی، للتا کے لیے ایک اچھا رشتہ ملا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’لڑکے کے گھر والوں نے ہم سے کسی پیسے کا مطالبہ نہیں کیا ہے، یہ ان کی مہربانی ہے۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کھانے کا اچھا انتظام کیا جائے۔ یا ان کے گاؤں چلا جائے، جو کہ اس سے بھی مہنگا ہے۔ ٹھیک ہے، ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔‘‘ وہ شاید ایسا کریں گی۔ جب پرشورام زندہ تھے، تب بھی کلاوَتی نے اپنی دو بیٹیوں، سویتا اور سنیتا کی، ’’شادی ایک ہی دن ایک ہی پنڈال میں کرائی تھی۔ مالتھا کی شادی میں ایک لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد ہمیں کسی نہ کسی طرح کچھ پیسے بچانے پڑے۔‘‘

انھیں اس بات کی ناراضگی ہے کہ انھیں کسان تسلیم نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے وہ معاوضہ حاصل نہیں کر پا رہی ہیں۔ ’’چندرپور ضلع میں ہمارے پاس ساڑھے ۳ ایکڑ زمین ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’لیکن وہ زمین اب بھی ہمارے والدین کے نام پر ہے اور ابھی تک ہمارے نام نہیں ہوئی ہے‘‘ اس لیے تکنیکی طور پر، وہ ’کسان‘ نہیں ہیں۔ یہاں، ’’ہمیں ان نو ایکڑ زمین کو پٹہ پر دینے کے لیے ۱۰ ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ آپ کو بتاتا ہے کہ کوالٹی کتنی خراب ہے،‘‘ وہ ہنستی ہیں۔ یہ محنت والا کام ہے، لیکن کلاوَتی افسردگی جتانے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتیں۔ انھیں صرف یہ چیز پریشان کر رہی ہے کہ ’’پولا فیسٹیول کے بعد سے ہی انھیں کام ڈھونڈ پانا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘ اور: ’’فصل کی بوائی کے سامان کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہمارے لیے کوئی کاٹن نہیں ہے۔ ہمیں کچھ اور کرنا پڑے گا۔‘‘

کلاوَتی بھی ان زندہ کسانوں میں سے ایک ہیں، جو اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ان کے بچے بھی کاشت کاری کریں۔ یہ گاؤں دیہات میں کم ہی لوگ سوچتے ہیں، کیوں کہ وہ بڑی بے صبری سے اپنے بچوں کو کاشت کاری چھوڑ کر کسی اور نوکری کی تلاش میں باہر بھیج رہے ہیں۔ لیکن، وہ اب اگلے موسم کی تیاری میں جٹ چکی ہیں۔ ’’ہم کاشت کاری کرتے رہیں گے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہم یہی کام کرتے ہیں۔‘‘

یہ مضمون سب سے پہلے ’دی ہندو‘ میں ۲۴ مئی، ۲۰۰۷ کو شائع ہوا تھا۔ (http://www.hindu.com/2007/05/24/stories/2007052402321100.htm)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath