’’گرمی سے میری پیٹھ جل گئی ہے،‘‘ بجرنگ گوسوامی، گجو واس گاؤں کے ٹھیک باہر، کھیجڑی کے درختوں کے ہلکے سے سایہ میں زمین پر بیٹھے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’گرمی بڑھ رہی ہے، فصل کی پیداوار گھٹ رہی ہے،‘‘ وہ کٹے ہوئے باجرا کے انبار کی طرف دیکھتے ہوئے آگے کہتے ہیں۔ ایک اونٹ پاس میں ہی کھڑا ہے اور راجستھان کے چورو ضلع کی تارا نگر تحصیل میں اس ۲۲ بیگھہ کھیت پر سوکھی گھاس چر رہا ہے، جس پر وہ اور ان کی بیوی راج کور بٹائی دار کسان کے طور پر کھیتی کرتے ہیں۔

’’سر کے اوپر سورج گرم ہے، پیر کے نیچے ریت گرم ہے،‘‘ تارا نگر کے جنوب میں واقع سُجان گڑھ تحصیل کی گیتا دیوی نائک کہتی ہیں۔ گیتا دیوی، جو کہ ایک بیوہ ہیں اور ان کے پاس کوئی زمین بھی نہیں ہے، بھگوانی دیوی چودھری کی فیملی کے کھیت پر مزدوری کرتی ہیں۔ دونوں نے گُداوری گاؤں میں ابھی ابھی، شام کے تقریباً ۵ بجے اپنا کام مکمل کیا ہے۔ ’’گرمی ہی گرمی پڑے [پڑتی ہے] آج کل،‘‘ بھگوانی دیوی کہتی ہیں۔

شمالی راجستھان کے چورو ضلع میں، جہاں گرمیوں میں ریتیلی زمین سائیں سائیں کرتی ہے اور مئی جون میں ہوا تپتی ہوئی بھٹی کی طرح محسوس ہوتی ہے، گرمی – اور یہ کیسے شدت اختیار کرتی جا رہی ہے – کے بارے میں گفتگو عام بات ہے۔ اُن مہینوں میں درجۂ حرارت آسانی سے ۴۰ تک پہنچ جاتا ہے۔ پچھلے مہینے ہی، یعنی مئی ۲۰۲۰ میں، درجۂ حرارت بڑھ کر ۵۰ ڈگری سیلسیس ہو گیا تھا – اور ۲۶ مئی کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ تھا، جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا۔

لہٰذا پچھلے سال، سورج کی تپش نے جب چورو میں اپنا ریکارڈ توڑا اور جون ۲۰۱۹ کے شروع میں درجۂ حرارت ۵۱ ڈگری سیلسیس کے نشان پر پہنچ گیا – جو کہ پانی کے نقطۂ اُبال کے نصف سے زیادہ ہے – تو وہاں کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ ’’مجھے یاد ہے، تقریباً ۳۰ سال پہلے بھی یہ ۵۰ ڈگری تک پہنچ گیا تھا،‘‘ ۷۵ سالہ ہر دیال جی سنگھ، جو کہ ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر اور زمیندار ہیں، گجو واس گاؤں میں اپنے بڑے سے گھر میں چارپائی پر لیٹتے ہوئے کہتے ہیں۔

چھ مہینے بعد، بعض سالوں میں دسمبر-جنوری میں، چورو نے درجہ حرارت صفر سے نیچے بھی دیکھا ہے۔ اور فروری ۲۰۲۰ میں، ہندوستان کے محکمہ موسمیات نے پایا کہ ہندوستان کے میدانی علاقوں میں سب سے کم درجۂ حرارت چورو کا ہے، ۴ء۱ ڈگری۔

Geeta Devi and Bhagwani Devi of of Sujangarh tehsil, Churu: ' Garmi hee garmi pade aaj kal' ('It’s heat and more heat nowadays')
PHOTO • Sharmila Joshi

سُجان گڑھ تحصیل، چورو کی گیتا دیوی اور بھگوانی دیوی: ’گرمی ہی گرمی پڑے [پڑتی ہے] آج کل‘

درجۂ حرارت کے اس وسیع قوس میں – صفر ۱ سے ۵۱ ڈگری سیلسیس تک – اس ضلع کے لوگ اکثر و بیشتر صرف گرم سرے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ نہ تو جون ۲۰۱۹ کے ڈرامائی طور پر ۵۰ سے زیادہ ڈگری کی بات کرتے ہیں اور نہ ہی پچھلے مہینے کی ۵۰ ڈگری کے بارے میں، بلکہ موسم گرما کی اس طویل مدت کے بارے میں بات کرتے ہیں، جو بقیہ موسموں کے آگے پیچھے پڑتی ہے۔

’’ماضی میں وہ [تپتی ہوئی گرمی] صرف ایک یا دو دن ہی پڑتی تھی،‘‘ چورو شہر کے باشندہ اور پڑوس کے سیکر ضلع کے ایس کے سرکاری کالج کے سابق پرنسپل، پروفیسر ایچ آر اِسران کہتے ہیں، جنہیں کئی لوگ اپنا استاد مانتے ہیں۔ ’’اب ایسی گرمی کئی دنوں تک پڑتی ہے۔ گرمی کا پورا موسم ہی پھیل چکا ہے۔‘‘

امرتا چودھری یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جون ۲۰۱۹ میں، ’’ہم دوپہر میں سڑک پر چل نہیں سکتے تھے، ہماری چپلیں تارکول سے چپکنے لگتی تھیں۔‘‘ پھر بھی، دوسروں کی ہی طرح، چودھری، جو سُجان گڑھ شہر میں باندھنی کے کپڑے تیار کرنے والی ایک تنظیم، دِشا شیخاوٹی، چلاتی ہیں، پھیلتے جا رہے موسم گرما کو لیکر زیادہ فکرمند ہیں۔ ’’اس گرم علاقے میں بھی، گرمی بڑھ رہی ہے اور وقت سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

’’موسم گرما کی مدت میں اب ڈیڑھ مہینے کا اضافہ ہو چکا ہے،‘‘ گُداوری گاؤں کی بھگوانی دیوی اندازہ لگاتی ہیں۔ ان کی طرح، چورو ضلع کے بہت سے گاؤوں کے لوگ بھی بتاتے ہیں کہ کیسے موسم آگے پیچھے ہو رہے ہیں – پھیلتے ہوئے گرمیوں کے دنوں نے اب سردی کے ابتدائی چند ہفتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور بیچ کے مانسون کے مہینوں کو بھی دباتے جا رہے ہیں – اور کیسے ۱۲ مہینوں کا کیلنڈر اب آپس میں گھل مل گیا ہے۔

ماحولیات کی ان پھیلتی ہوئی تبدیلیوں نے انہیں فکرمندی میں مبتلا کر دیا ہے، نہ کہ ۵۱ ڈگری سیلسیس کے واحد ہفتہ نے یا پچھلے ماہ ۵۰ ڈگری سیلسیس کے چند دنوں نے۔

*****

سال ۲۰۱۹ میں، چورو میں ۱ جون سے ۳۰ ستمبر کے دوران ۳۶۹ ملی میٹر بارش ہوئی۔ یہ مانسون کے اُن مہینوں میں عام طور سے ہونے والی تقریباً ۳۱۴ ملی میٹر بارش سے تھوڑا زیادہ تھی۔ پورا راجستھان – ہندوستان کی سب سے بڑی اور سب سے خشک ریاست، جو ملک کے کل رقبہ کا ۱۰ء۴ فیصد ہے – ایک خشک اور نیم خشک علاقہ ہے، جہاں پر سالانہ اوسط بارش (سرکاری ڈیٹا کے مطابق) تقریباً ۵۷۴ ملی میٹر ہوتی ہے۔

In the fields that Bajrang Goswami and his wife Raj Kaur cultivate as sharecroppers outside Gajuvas village in Taranagar tehsil
PHOTO • Sharmila Joshi
In the fields that Bajrang Goswami and his wife Raj Kaur cultivate as sharecroppers outside Gajuvas village in Taranagar tehsil
PHOTO • Sharmila Joshi
In the fields that Bajrang Goswami and his wife Raj Kaur cultivate as sharecroppers outside Gajuvas village in Taranagar tehsil
PHOTO • Sharmila Joshi

تارا نگر تحصیل میں گجو واس گاؤں کے باہر کے اس کھیت میں جس پر بجرنگ گوسوامی اور ان کی بیوی راج کور بٹائی دار کسان کے طور پر کھیتی کرتے ہیں

راجستھان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے تقریباً ۷۰ ملین میں سے ۷۵ فیصد لوگوں کے لیے کاشت کاری اور مویشی پروری ہی بنیادی پیشہ ہے۔ چورو ضلع میں، ۲ء۵ لوگوں میں سے ۷۲ فیصد لوگ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں – جہاں پر کاشت کاری زیادہ تر بارش کے پانی پر منحصر ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ، کئی لوگوں نے بارش کے پانی پر اپنے انحصار کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’’۱۹۹۰ کے عشرے سے ہی، یہاں پر بورویل کھودنے کی کوششیں ہوئی ہیں [جو ۵۰۰-۶۰۰ فٹ گہرا کھودا گیا]، لیکن [زیر زمین پانی] کے نمکین ہونے کی وجہ سے یہ کوششیں زیادہ کامیاب نہیں رہیں،‘‘ پروفیسر اِسران بتاتے ہیں۔ دریں اثنا، ضلع کی چھ تحصیلوں کے ۸۹۹ گاؤوں میں، ’’کچھ کسان [بورویل کے پانی کا استعمال کرتے ہوئے] مونگ پھلی جیسی دوسری فصل اُگا سکے تھے۔ لیکن اس کے بعد زمین بہت زیادہ خشک ہو گئی اور چند گاؤوں کو چھوڑ کر، زیادہ تر بورویل بند ہو گئے۔‘‘

ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ریاست راجستھان کے ایکشن پلان (آر ایس اے پی سی سی، ۲۰۱۰) کا مسودہ بتاتا ہے کہ راجستھان میں بوائی کے مجموعی رقبہ کے تقریباً ۳۸ فیصد حصہ (یا ۶۲ لاکھ ۹۴ ہزار ہیکٹیئر) میں سینچائی ہوتی ہے۔ چورو میں، یہ محض ۸ فیصد ہے۔ حالانکہ فی الحال زیر تعمیر چودھری کُمبھا رام اونچی نہر ضلع کے چند گاؤوں اور کھیتوں کو پانی مہیا کرتی ہے، پھر بھی چورو کی زراعت اور خریف کی اس کی چار بنیادی فصلیں – باجرا، مونگ، موٹھ اور گوار پھلی – زیادہ تر بارش کے پانی پر ہی منحصر رہتی ہیں۔

لیکن اِن گزشتہ ۲۰ برسوں کے دوران بارش کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ چورو کے لوگ دو بڑی تبدیلیوں کے بارے میں بتاتے ہیں: مانسون کے مہینے آگے چلے گئے ہیں، اور بارش کہیں کہیں پر ہوتی ہے – کچھ جگہوں پر بہت تیز، باقی جگہوں پر معمولی۔

پرانے کسان کسی زمانے میں ہونے والی پہلی زبردست بارش کو یاد کرتے ہیں۔ ’’اساڑھ کے مہینے [جون-جولائی] میں، ہم دیکھتے کہ آسمانی بجلی چمک رہی ہے، جان رہے ہوتے تھے کہ بارش ہونے والی ہے اور اسی لیے [اپنی جھونپڑیوں کے اندر جانے سے پہلے] کھیتوں میں جلدی جلدی روٹیاں بنانا شروع کر دیتے تھے،‘‘ جاٹ برادری سے تعلق رکھنے والے ۵۹ سالہ کسان، گووردھن سہارن بتاتے ہیں، جن کی مشترکہ فیملی کے پاس گجو واس گاؤں میں ۱۸۰ بیگھہ (تقریباً ۱۲۰ ایکڑ) زمین ہے۔ چورو کے کسانوں میں اکثریت جاٹوں اور چودھریوں کی ہے، دونوں ہی او بی سی برادریاں ہیں۔ ’’اب اکثر بجلی چمکتی ہے، لیکن وہیں رک جاتی ہے – بارش نہیں ہوتی،‘‘ سہارن کہتے ہیں۔

Bajrang Goswami and Raj Kaur (left) say their 'back has burnt with the heat', while older farmers like Govardhan Saharan (right) speak of the first rains of a different past
PHOTO • Sharmila Joshi
Bajrang Goswami and Raj Kaur (left) say their 'back has burnt with the heat', while older farmers like Govardhan Saharan (right) speak of the first rains of a different past
PHOTO • Sharmila Joshi

بجرنگ گوسوامی اور راج کور (بائیں) کہتے ہیں کہ ان کی ’پیٹھ گرمی سے جل گئی ہے‘، جب کہ گووردھن سہارن (دائیں) جیسے پرانے کسان کسی زمانے میں ہونے والی پہلی بارش کا ذکر کرتے ہیں

’’میں جب اسکول میں تھا، تو شمال کی سمت میں گہراتے بادل کو دیکھ کر، ہم بتا سکتے تھے کہ بارش ہونے والی ہے – اور آدھے گھنٹے کے اندر بارش ہونے لگتی تھی،‘‘ پڑوسی سیکر ضلع کے سدِنسر گاؤں کے ۸۰ سالہ بزرگ، نارائن پرساد بتاتے ہیں۔ ’’اب، اگر بادل ہوتے بھی ہیں، تو کہیں اور چلے جاتے ہیں،‘‘ وہ اپنے کھیت میں ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے کہتے ہیں۔ پرساد نے بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے اپنے ۱۳ بیگھہ (تقریباً ۸ ایکڑ) کھیت پر کنکریٹ کا ایک بڑا ٹینک بنایا ہے۔ (نومبر ۲۰۱۹ میں جب میں ان سے ملی تھی، تو وہ خالی پڑا ہوا تھا۔)

یہاں کے کسان بتاتے ہیں کہ اب، جون کے آخر میں، جب باجرا کی بوائی ہوتی ہے، پہلی بارش کے بجائے باقاعدہ  بارش کئی ہفتوں بعد شروع ہوتی ہے اور بعض دفعہ ایک مہینہ پہلے ہی رک جاتی ہے، اگست کے آخر تک۔

اس سے بوائی کے منصوبے اور وقت متعین کرنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ ’’میرے نانا کے زمانے میں، وہ ہواؤں کے بارے میں، ستاروں کی حالت، پرندوں کے گانے کے بارے میں جانتے تھے – اور اسی کی بنیاد پر کاشت کاری سے متعلق فیصلے لیتے تھے،‘‘ امرتا چودھری کہتی ہیں۔

’’اب وہ پورا نظام ٹوٹ چکا ہے،‘‘ قلم کار-کسان دُلا رام سہارن اسے ایک جملہ میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ سہارن کی مشترکہ فیملی تارا نگر تحصیل کے بھارنگ گاؤں میں تقریباً ۲۰۰ بیگھہ پر کھیتی کرتی ہے۔

ایک طرف جہاں مانسون دیر سے آتا ہے اور جلدی چلا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف بارش کی شدت میں بھی کمی آئی ہے، حالانکہ سالانہ اوسط اب بھی اچھا ہے۔ ’’اب بارش کی شدت کم ہو گئی ہے،‘‘ دھرم پال سہارن کہتے ہیں، جو گجو واس میں ۱۲ بیگھہ کھیت پر کاشت کاری کرتے ہیں۔ ’’بارش ہوگی، نہیں ہوگی، کوئی نہیں جانتا۔‘‘ اور بارش بے ترتیب ڈھنگ سے ہوتی ہے۔ ’’ہوسکتا ہے کہ کھیت کے ایک حصہ میں پانی برسے، لیکن اسی کھیت کے دوسرے حصے میں نہ برسے،‘‘ امرتا کہتی ہیں۔

Left: Dharampal Saharan of Gajuvas village says, 'I am not sowing chana because there is no rain after September'. Right: Farmers in Sadinsar village speak of the changing weather – Raghubir Bagadiya (also a retired army captain), Narain Prasad (former high school lecturer) and Shishupal Narsara (retired school principal)
PHOTO • Sharmila Joshi
Left: Dharampal Saharan of Gajuvas village says, 'I am not sowing chana because there is no rain after September'. Right: Farmers in Sadinsar village speak of the changing weather – Raghubir Bagadiya (also a retired army captain), Narain Prasad (former high school lecturer) and Shishupal Narsara (retired school principal)
PHOTO • Sharmila Joshi

بائیں: گجو واس گاؤں کے دھرم پال سہارن کہتے ہیں، ’میں چنا کی بوائی نہیں کر رہا ہوں کیوں کہ ستمبر کے بعد کوئی بارش نہیں ہوتی‘۔ دائیں: سدِنسر گاؤں کے کاشت کار – رگھوبیر بگڑیا (جو کہ ایک ریٹائرڈ آرمی کیپٹن بھی ہیں)، نارائن پرساد (سابق ہائی اسکول لکچرر) اور شیشو پال نارسارا (ریٹائرڈ اسکول پرنسپل) – بدلتے ہوئے موسم کی باتیں کرتے ہیں

آر ایس اے پی سی سی میں ۱۹۵۱ سے ۲۰۰۷ تک شدید بارش کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن، مطالعوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اس میں کہا گیا ہے کہ اس ریاست میں مجموعی بارش کے کم ہونے کی پیشن گوئی کی گئی ہے اور ’’ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے، بھاپ کے بخارات میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

چورو کے کاشت کار طویل عرصے سے مانسون کے بعد کی بارش پر بھی منحصر رہے ہیں جو اکتوبر میں اور کچھ جنوری-فروری کے آس پاس ہوتی ہے، جو مونگ پھلی اور جَو جیسی ربیع کی فصلوں میں پانی دینے کا کام کرتی تھی۔ یہ بوچھار – ’’چکرواتی بارش جو یوروپ اور امریکہ کے درمیان کے سمندروں سے ہوتے ہوئے، پاکستان میں اور پھر سرحد کے پار آتی تھی‘‘ زیادہ تر غائب ہو چکی ہے، ہر دیال جی بتاتے ہیں۔

وہ بارش چنا کی فصل کو بھی پانی دیتی تھی – تارا نگر کو ملک کا ’چنا کا کٹورا‘ کہا جاتا تھا، یہ یہاں کے کسانوں کے لیے فخر کا باعث تھا، دُلا رام کہتے ہیں۔ ’’فصل اتنی اچھی ہوتی تھی کہ ہم اپنے آنگن میں چنا کا انبار لگا دیتے تھے۔‘‘ اب وہ کٹورا خالی پڑا ہے۔ ’’تقریباً ۲۰۰۷ کے بعد، میں چنا کی بوائی نہیں کر رہا ہوں کیوں کہ ستمبر کے بعد کوئی بارش نہیں ہوتی،‘‘ دھرم پال کہتے ہیں۔

چورو کی چنا کی فصل تب اچھی طرح اُگنے لگتی تھیں، جب نومبر میں درجہ حرارت کم ہونے لگتا تھا۔ لیکن گزرتے ہوئے سالوں کے ساتھ، یہاں کی سردی بھی تبدیل ہونے لگی ہے۔

*****

آر ایس اے پی سی سی کی رپورٹ کہتی ہے کہ جموں و کشمیر کے بعد، ہندوستان میں سرد لہروں کی سب سے زیادہ تعداد راجستھان میں چلی ہے – جو کہ ۱۹۰۱ سے ۱۹۹۹ کے درمیان تقریباً ایک صدی میں ۱۹۵ رہی (اس کے پاس ۱۹۹۹ کے بعد سے کوئی ڈیٹا نہیں ہے)۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں راجستھان زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے گرمی کے ٹرینڈز دکھاتا ہے، وہیں دوسری طرف یہاں کم از کم درجہ حرارت کا سردی کا ٹرینڈ بھی دیکھا گیا ہے – جیسے کہ چورو کا سب سے کم درجہ حرارت فروری ۲۰۲۰ میں ہندوستان کے میدانی علاقوں میں صرف ۴ء۱ رہا۔

پھر بھی، چورو میں کئی لوگوں کے لیے، سردی ویسی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ ’’میں جب بچہ تھا (تقریباً ۵۰ سال پہلے)، تو نومبر میں ہمیں رضائی اوڑھنی پڑتی تھی.... میں صبح میں ۴ بجے جب کھیت پر جاتا تھا تو اپنے چاروں طرف کمبل لپیٹ لیا کرتا تھا،‘‘ گجو واس گاؤں میں گووردھن سہارن بتاتے ہیں۔ وہ کھیجڑی کے درختوں کے درمیان اپنے باجرا کے کھیت میں بیٹھے ہوئے کہتے ہیں، ’’میں بنیان پہنتا ہوں – ۱۱ویں مہینے میں بھی اتنی گرمی پڑ رہی ہے۔‘‘

Prof. Isran (left) of Churu town says: 'The entire summer has expanded'. Amrita Choudhary (right) of the Disha Shekhawati organisation in Sujangarh says, 'Even in this hot region, the heat is increasing'
PHOTO • Sharmila Joshi
Prof. Isran (left) of Churu town says: 'The entire summer has expanded'. Amrita Choudhary (right) of the Disha Shekhawati organisation in Sujangarh says, 'Even in this hot region, the heat is increasing'
PHOTO • Sharmila Joshi

چورو شہر کے پروفیسر اِسران (بائیں) کہتے ہیں: ’گرمی کا پورا موسم پھیل چکا ہے‘۔ سُجان گڑھ میں دشِا شیخاوٹی تنظیم کی امرتا چودھری (دائیں) کہتی ہیں، ’اس گرم علاقے میں بھی، گرمی بڑھ رہی ہے‘

’’ماضی میں، جب میری تنظیم مارچ میں بین الاقوامی یومِ خواتین کا انعقاد کرتی تھی، تو اس وقت بھی ہمیں سویٹر پہننا پڑتا تھا،‘‘ چودھری بتاتی ہیں۔ ’’اب ہمیں پنکھے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس کے بارے میں بھی سال در سال یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘‘

سُجان گڑھ شہر میں، آنگن واڑی کارکن سُشیلا پروہت ۳-۵ سال کے بچوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’انہیں سردی کے کپڑے پہنائے جاتے تھے۔ لیکن اب نومبر میں بھی گرمی پڑ رہی ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہم انہیں کیا پہننے کے لیے کہیں۔‘‘

چورو میں، ۸۳ سال کے ایک معروف کالم نگار اور قلم کار، مادھو شرما اسے یوں بیان کرتے ہیں: ’’کمبل اور کوٹ کا زمانہ چلا گیا۔‘‘

*****

پھیلتی ہوئی گرمی نے کمبل اور کوٹ کے اُن دنوں کو ہضم کر لیا ہے۔ ’’ماضی میں، ہمارے پاس چار الگ الگ موسم ہوا کرتے تھے [موسم بہار سمیت]،‘‘ مادھو جی آگے کہتے ہیں۔ ’’اب صرف ایک ہی بنیادی موسم ہے – موسم گرما جو آٹھ مہینے تک رہتا ہے۔ یہ کافی لمبے وقت کی تبدیلی ہے۔‘‘

’’ماضی میں، مارچ کا مہینہ بھی ٹھنڈا ہوا کرتا تھا،‘‘ تارا نگر کے کسان کارکن، نرمل پرجا پتی کہتے ہیں۔ ’’اب بعض دفعہ فروری کے آخر میں ہی گرمی شروع ہو جاتی ہے۔ اوریہ اگست تک ٹھہرنے کے بجائے اکتوبر تک یا اس سے آگے تک بھی رہتی ہے۔‘‘

پرجا پتی کہتے ہیں کہ پورے چورو کے کھیتوں میں اس بڑھتی ہوئی گرمی کے موسم کے وجہ سے کام کرنے کے گھنٹے بدل گئے ہیں – کسان اور مزدور اب صبح سویرے اور ابتدائی شام کے نسبتاً ٹھنڈے گھنٹوں کے دوران کام کرکے گرمی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، پھیلی ہوئی گرمی بھی شدید ہے۔ کچھ لوگ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں، تقریباً ہر ہفتے گاؤوں میں آندھیاں چلتی تھیں جو اپنے پیچھے ہر جگہ ریت کی ایک پرت چھوڑ جاتی تھیں۔ ریل کی پٹریاں ریت سے ڈھک جاتی تھیں، ریت کے ٹیلے ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاتے تھے، اپنے آنگن میں سو رہا کسان بھی ریت سے ڈھک جاتا تھا۔ ’’پچھوا ہوائیں آندھی لاتی تھیں،‘‘ ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہر دیال جی یاد کرتے ہیں۔ ’’ریت ہماری چادروں کو بھی بھر دیتی تھی۔ اب اس قسم کی آندھی یہاں نہیں آتی ہے۔‘‘

Left: The Chakravat drizzles have mostly disappeared, says Hardayalji Singh, retired teacher and landowner. Centre: Sushila Purohit, anganwadi worker in Sujangarh, says 'It is still hot in November. Right: Nirmal Prajapati, farm activist in Taranagar, says work hours have altered to adapt to the magnifying summer
PHOTO • Sharmila Joshi
Left: The Chakravat drizzles have mostly disappeared, says Hardayalji Singh, retired teacher and landowner. Centre: Sushila Purohit, anganwadi worker in Sujangarh, says 'It is still hot in November. Right: Nirmal Prajapati, farm activist in Taranagar, says work hours have altered to adapt to the magnifying summer
PHOTO • Sharmila Joshi
Left: The Chakravat drizzles have mostly disappeared, says Hardayalji Singh, retired teacher and landowner. Centre: Sushila Purohit, anganwadi worker in Sujangarh, says 'It is still hot in November. Right: Nirmal Prajapati, farm activist in Taranagar, says work hours have altered to adapt to the magnifying summer
PHOTO • Sharmila Joshi

بائیں: چکروات بوچھار اب پوری طرح سے غائب ہو چکی ہے، ریٹائرڈ ٹیچر اور زمیندار، ہر دیال جی سنگھ کہتے ہیں۔ بیچ میں: سُجان گڑھ کی آنگن واڑی کارکن، سُشیلا پروہت کہتی ہیں، ’نومبر میں بھی گرمی رہتی ہے۔ دائیں: تارا نگر کے کسان کارکن، نرمل پرجا پتی کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی گرمی کے سبب کام کرنے کے گھنٹوں میں تبدیلی آئی ہے

یہ ریت بھری آندھیاں عام طور سے مئی اور جون کے مہینے میں، جب گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے، لو – خشک، گرم اور طوفانی ہوائیں – کے ساتھ ٹکرا جاتی تھیں اور گھنٹوں تک چلتی تھیں۔ آندھی اور لو دونوں ہی، جب چورو میں تقریباً ۳۰ سال پہلے اکثر چلتی تھی – تو درجہ حرارت کو کم کر دیتی تھی، نرمل کہتے ہیں، ’’اور آندھی اچھی ریت کو جمع کر دیتی تھی جس سے مٹی کی زرخیزی میں مدد ملتی تھی۔‘‘ اب گرمی پھنسی رہتی ہے، درجہ حرارت بھی لگاتار ۴۰ ڈگری سے زیادہ بنا رہتا ہے۔ ’’اپریل ۲۰۱۹ میں، آندھی آئی تھی، میرے خیال سے تقریباً ۵-۷ سال کے بعد،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔

یہ پھنسی ہوئی گرمی موسم گرما کو دیر تک برقرار رکھتی ہے، جس سے زیادہ چھالے پڑتے ہیں۔ ’’راجستھان میں، ہمیں شدید گرمی کی عادت ہے،‘‘ تارا نگر کے کسان کارکن اور ہر دیال جی کے بیٹے، امراؤ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’لیکن تاریخ میں پہلی بار، یہاں کا کسان گرمی سے ڈرا ہوا ہے۔‘‘

*****

جون ۲۰۱۹ میں ایسا پہلی بار نہیں تھا جب درجہ حرارت تقریباً ۵۰ ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ پہنچ گیا۔ جے پور کے موسمیاتی مرکز کے ریکارڈ دکھاتے ہیں کہ جون ۱۹۹۳ میں چورو میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت ۴۹ء۸ سیلسیس تھا۔ مئی ۱۹۹۵ میں باڑمیر کا درجہ حرارت اس سے ۰ء۱ ڈگری زیادہ تھا۔ کافی پہلے، گنگا نگر میں جون ۱۹۳۴ میں اس نے ۵۰ ڈگری کے نشان کو چھو لیا تھا، اور مئی ۱۹۵۶ میں الور کا درجہ حرارت ۵۰ء۶ ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔

کچھ اخباری رپورٹوں نے جون ۲۰۱۹ کی ابتدا میں چورو کو بھلے ہی اس کرۂ ارض کا سب سے گرم علاقہ بتایا ہو، دنیا کے دیگر حصوں – بشمول عرب ریاستوں – میں ۵۰ ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا گیا، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی ۲۰۱۹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ اس بات پر انحصار کرتے ہوئے کہ گلوبل وارمنگ کے پیٹرن کیسے ارتقا پذیر ہو رہے ہیں، یہ رپورٹ، زیادہ گرم سیارہ پر کام کرنا، پیشن گوئی کرتی ہے کہ ہندوستان میں ۲۰۲۵ سے ۲۰۸۵ کے درمیان درجہ حرارت میں ۱ء۱ سے ۳ ڈگری سیلسیس تک کا اضافہ ہوگا۔

مغربی راجستھان کے پورے ریگستانی علاقے (۱۹ء۶۱ ہیکٹیئر) کے لیے، ماحولیاتی تبدیلی کے بین سرکاری پینل اور دیگر ذرائع نے پیشن گوئی کی ہے کہ ۲۱ویں صدی کے آخر تک زیادہ گرم دن اور گرم راتیں ہونے لگیں گی اور بارش میں بھی کمی آئے گی۔

’’تقریباً ۴۸ ڈگری سیلسیس کے بعد،‘‘ چورو شہر میں ڈاکٹر سنیل جنڈو کہتے ہیں، جو لوگ زیادہ گرمی کے عادی ہیں ان کے لیے بھی، ’’ایک ڈگری کا بھی اضافہ کافی معنی رکھتا ہے۔‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ انسانی جسم پر ۴۸ ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے – متلی، سر چکرانا اور دیگر اثرات کے علاوہ تکان، جسم میں پانی کی کمی، گردے میں پتھری (جسم میں زیادہ دیر تک پانی کی کمی سے) اور لو لگنا۔ تاہم، ڈاکٹر جنڈو، جو ضلع کے تولیدی اور بچوں کی صحت کے افسر ہیں، کہتےہیں کہ مئی-جون ۲۰۱۹ میں انہوں نے اس قسم کے معاملوں میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا۔ نہ ہی اُس وقت چورو میں گرمی کی لہر سے کوئی موت ہوئی تھی۔

آئی ایل او کی رپورٹ بھی انتہائی گرمی کے خطرات کو نوٹ کرتی ہے: ’’ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ... گرمی کی کشیدگی کو بھی زیادہ عام بنائے گا...اس سے زیادہ جو گرمی موصول ہوگی اسے جسم بغیر عضویاتی نقصان کے برداشت کر سکتا ہے... حد سے زیادہ گرمی کا سامنا کرنے سے دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے، بعض دفعہ اس کے نتائج ہولناک ہو سکتے ہیں۔‘‘

Writer-farmer Dularam saharan (left) of Bharang village at the house of well-known veteran columnist Madhavji Sharma, in Churu town: 'Kambal and coat ka jamaana chala gaya'
PHOTO • Sharmila Joshi

بھارنگ گاؤں کے قلم کار-کسان دُلا رام سہارن (بائیں)، چورو شہر میں مشہور و معروف کالم نگار مادھو جی شرما کے گھر پر: ’کمبل اور کوٹ کا زمانہ چلا گیا‘

رپورٹ کہتی ہے کہ جنوبی ایشیا ان علاقوں میں شامل ہے جو آئندہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، اور گرمی کی کشیدگی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں عام طور سے غریبی، غیر رسمی روزگار، اور معمولی زراعت کی اعلی شرح ہوتی ہے۔

لیکن سبھی تباہ کن اثرات ایسے نہیں ہوتے جو اتنی آسانی سے، ڈرامائی نتائج کے طور پر، جلد نظر آ جائیں جیسے کہ اسپتالوں میں بھیڑ۔

دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ، آئی ایل او کی رپورٹ کہتی ہے کہ گرمی کی کشیدگی اس طرح بھی کام کر سکتی ہے کہ وہ ’’زرعی کارکنوں کو دیہی علاقے چھوڑنے پر مجبور کرے... [اور] ۲۰۰۵-۱۵ کی مدت کے دوران، گرمی کی کشیدگی  کی اعلی سطحیں بڑی تعداد میں باہر کی جانب مہاجرت سے جڑی ہوئی تھیں – یہ ٹرینڈ اس سے پہلے کے دس سالوں کے دوران دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنی مہاجرت کے فیصلوں میں تیزی سے ماحولیاتی تبدیلی کو شامل کر رہے ہیں [اس پر زور دے رہے ہیں]۔‘‘

چورو میں بھی، کم ہوتی پیداوار کے سبب کم ہوتی آمدنی – جزوی طور پر اب بے ترتیب مانسون کی وجہ سے – ان اسباب کی لمبی کڑی میں سے ایک ہے جو انہیں مہاجرت پر مجبور کر رہی ہے۔ ماضی میں، دُلا رام سہارن کہتے ہیں، ’’ہمیں اپنے کھیت سے ۱۰۰ من [تقریباً ۴۰۰ کلو] باجرا ملتا تھا۔ اب زیادہ سے زیادہ ۲۰-۳۰ من ملتا ہے۔ میرے گاؤں، بھارنگ میں، شاید صرف ۵۰ فیصد لوگ ہی اب کاشت کاری کر رہے ہیں، بقیہ نے کاشت کاری چھوڑ دی ہے اور مہاجرت کر چکے ہیں۔‘‘

گجو واس گاؤں میں، دھرم پال سہارن بتاتے ہیں کہ ان کی پیداوار میں بھی تیزی سے گراوٹ آئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے وہ بطور ٹیمپو ڈرائیور کام کرنے کے لیے، سالانہ ۳-۴ مہینے کے لیے یا تو جے پور چلے جاتے ہیں یا پھر گجرات کے شہروں میں۔

پروفیسر اِسران بھی نوٹ کرتے ہیں کہ پورے چورو میں، کھیتی سے ہونے والی آمدنی میں کمی کی بھرپائی کے لیے، بہت سےلوگ خلیج ممالک کی طرف مہاجرت کر رہے ہیں یا فیکٹریوں میں کام کرنے کے لیے کرناٹک، مہاراشٹر اور پنجاب کے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ (سرکاری پالیسی کی وجہ سے مویشی کے کاروبار کی تباہی بھی اس کی ایک وجہ ہے – لیکن وہ ایک الگ کہانی ہے۔)

اگلے ۱۰ سالوں میں اعلی درجہ حرارت کی وجہ سے دنیا، ’’۸۰ ملین کل وقتی نوکریوں کے برابر پیداواری خسارہ‘‘ دیکھ سکتی ہے، آئی ایل او کی رپورٹ بتاتی ہے۔ یعنی، اگر عالمی درجہ حرارت میں اکیسویں صدی کے آخر تک ۱ء۵ ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہو جائے، جیسا کہ فی الحال پیشن گوئی کی گئی ہے۔

*****

چورو میں ماحولیات میں تبدیلی کیوں ہو رہی ہے؟

ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے، پروفیسر اِسران کہتے ہیں، مادھو شرما بھی ان کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ گرمی کو پھنساتی ہے، موسم کے پیٹرن کو بدلتی ہے۔ ’’گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اور کنکریٹ کے کام کی وجہ سے گرمی زیادہ پڑ رہی ہے۔ جنگل کم ہو گئے ہیں، گاڑیاں بڑھ گئی ہیں،‘‘ تارانگر تحصیل کے بھالیری گاؤں کے سابق اسکول پرنسپل اور کسان، رام سوروپ سہارن کہتے ہیں۔

'After around 48 degrees Celsius,” says Dr. Sunil Jandu (left) in Churu town, even to people used to very high heat, 'every rise by a degree matters a lot'. Ramswaroop Saharan of Bhaleri village attributes the growing heat to global warming
PHOTO • Sharmila Joshi
'After around 48 degrees Celsius,” says Dr. Sunil Jandu (left) in Churu town, even to people used to very high heat, 'every rise by a degree matters a lot'. Ramswaroop Saharan of Bhaleri village attributes the growing heat to global warming
PHOTO • Sharmila Joshi

’تقریباً ۴۸ ڈگری سیلسیس کے بعد،‘ چورو شہر کے ڈاکٹر سنیل جنڈو (بائیں) بتاتے ہیں، جو لوگ شدید گرمی کے عادی ہیں، ان کے لیے بھی ’ایک ڈگری کا اضافہ کافی معنی رکھتا ہے‘۔ بھلیری گاؤں کے رام سوروپ سہارن اتنی بڑھتی ہوئی گرمی کے لیے گلوبل وارمنگ کو ذمہ دار مانتے ہیں

’’صنعتیں بڑھ رہی ہیں، ایئر کنڈیشنر کا استعمال بڑھ رہا ہے، کاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،‘‘ جے پور میں مقیم ایک سینئر صحافی، نارائن بریٹھ کہتے ہیں۔ ’’ماحولیات پراگندہ ہو گئی ہے۔ یہ تمام چیزیں گلوبل وارمنگ میں اضافہ کر رہی ہیں۔‘‘

چورو، جسے بعض تذکروں میں ’تھار ریگستان کا دروازہ‘ کہا جاتا تھا، واقعتاً ماحولیاتی تبدیلی کی ایک بڑی عالمی کڑی کا صرف ایک حصہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی پر ریاست راجستھان کا ایکشن پلان ۱۹۷۰ کے بعد عالمی پیمانے پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ پر بات کرتا ہے۔ یہ صرف راجستھان کے بارے میں ہی نہیں، بلکہ ملکی اسباب پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اخراج توانائی کے شعبہ کی اکثر سرگرمیوں، قدرتی تیل کے استعمال میں اضافہ، زرعی شعبہ میں اخراج، صنعتی طریق کار میں اضافہ، اور ’زمین کے استعمال، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور جنگلاتی کام‘ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ تمام ماحولیاتی تبدیلی کے پیچیدہ جال کی بدلتی ہوئی کڑیاں ہیں۔

چورو کے گاؤوں میں لوگ ہو سکتا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے بارے میں بات نہ کریں، لیکن ان کی زندگی پر اس کا اثر پڑ رہا ہے۔ ’’ماضی میں، ہم لوگ پنکھے اور کولر کے بغیر بھی گرمی جھیل لیتے تھے۔ لیکن اب، ہم ان کے بغیر نہیں جی سکتے،‘‘ ہر دیال جی کہتے ہیں۔

اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے امرتا کہتی ہیں، ’’غریب گھروں کے لوگ پنکھے اور کولر نہیں خرید سکتے۔ ناقابل برداشت گرمی ڈائریا اور قے (دیگر اثرات کے علاوہ) لیکر آتی ہے۔ اور ڈاکٹر کے پاس جانے سے ان کے خرچ میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘

کھیت میں پورا دن گزارنے کے بعد، سُجان گڑھ میں واقع اپنے گھر کے لیے بس لینے سے پہلے، بھگوانی دیوی کہتی ہیں، ’’گرمی میں کام کرنا کافی مشکل ہے۔ ہمیں متلی آتی ہے، سر چکراتا ہے۔ تب ہم درخت کے سایہ میں آرام کرتے ہیں، تھوڑا لیموں پانی پیتے ہیں – اور دوبارہ کام پر لگ جاتے ہیں۔‘‘

ان لوگوں کی مدد اور رہنمائی کے لیے ان کا تہ دل سے شکریہ: جے پور کے نارائن بریٹھ، تارا نگر کے نرمل پرجا پتی اور اُمراؤ سنگھ، سُجان گڑھ کی امرتا چودھری، اور چورو شہر کے دلیپ سرواگ۔

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sharmila Joshi

شرمیلا جوشی پاری کی ایڈیٹوریل چیف ہیں، ساتھ ہی وہ ایک قلم کار، محقق اور عارضی ٹیچر بھی ہیں۔

Other stories by Sharmila Joshi