دلیپ واگھ ۲۲ جون کو دوپہر ۲ بجے جب کام کے لیے گھر سے نکلے، تو حسب معمول انہوں نے اپنی بیوی، منگل اور بیٹی روشنی کو الوداع کہا۔ اگلی بار انہوں نے دونوں کو دو دن بعد، مقامی اسپتال میں سفید چادر میں لپٹا ہوا دیکھا۔

’’اُس شام جب میں گھر لوٹا، تو وہ وہاں نہیں تھیں،‘‘ مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کی دور دراز آدیواسی بستی، کاڈویاچیمالی میں اپنی جھونپڑی کے اندر ہلکی سی روشنی میں بیٹھے ہوئے، انہوں نے کہا۔

یہ سوچتے ہوئے کہ وہ غائب ہیں، دلیپ نے ۳۰ سالہ منگل اور تین سال کی روشنی کو گاؤں کے آس پاس ڈھونڈنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنی بڑی بیٹی، ۷ سالہ نندنی سے پوچھا کہ کیا اس نے انہیں دیکھا ہے۔ ’’لیکن اسے بھی معلوم نہیں تھا،‘‘ ۳۵ سالہ دلیپ نے کہا۔ ’’اس رات جب وہ واپس نہیں لوٹیں، تو مجھے تھوڑی فکر ہونے لگی۔‘‘

اگلی صبح، دلیپ نے پریشانی کی حالت میں بستی سے آگے جاکر تلاش کرنا شروع کیا۔ وہ پیدل ہی پاس کی کچھ بستیوں میں گئے – لیکن وہ دونوں کہیں نہیں ملیں۔ ’’دوپہر کو، میں پڑوس کی ایک جھونپڑی میں منگل کی چاچی سے ملنے گیا، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کیا وہ کچھ جانتی ہیں،‘‘ مٹی کی نم دیوار کے ساتھ سجاکر رکھے گئے خالی برتنوں کے پاس بیٹھے ہوئے دلیپ نے کہا۔ ’’لیکن انہیں بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔‘‘

دلیپ، جن کا تعلق کاتکری برادری سے ہے، اس رات گھر لوٹ آئے – لیکن منگل اور روشنی کا ابھی تک پتہ نہیں چلا تھا۔ صرف نندنی وہاں تھی۔ اگلی صبح، ۲۴ جون کو، انہوں نے نئی امید کے ساتھ اپنی تلاش دوبار شروع کی کہ شاید ان کے بارے میں کوئی سراغ مل جائے۔ اور اس دوپہر کو، انہیں ملا بھی۔ لیکن یہ وہ سراغ نہیں تھا، جس کی وہ امید کر رہے تھے۔

جوہر تعلقہ میں دیہرے کے مالیاتی گاؤں میں واقع کاڈویاچیمالی سے تقریباً چار کلومیٹر دور، جنگل میں ایک عورت اور ایک چھوٹی لڑکی مردہ پائی گئی تھی۔ ان کی تصویریں وہاٹس ایپ پر گردش کر رہی تھیں۔ دلیپ کو اپنے گاؤں کے باہر ایک لڑکا ملا، جس کے فون میں وہ تصویریں تھیں۔ ’’اس نے جب مجھے وہ تصویریں دکھائیں، تو میں نے اس سے کہا کہ یہ میری بیوی اور بیٹی ہے،‘‘ دلیپ نے یاد کرتے ہوئے بتایا۔

Nandini (left), Dilip Wagh's elder daughter, keeps crying looking at the photos of her deceased mother Mangal, and sister Roshni
PHOTO • Parth M.N.
Nandini (left), Dilip Wagh's elder daughter, keeps crying looking at the photos of her deceased mother Mangal, and sister Roshni
PHOTO • Parth M.N.

نندنی (بائیں)، دلیپ واگھ کی بڑی بیٹی، اپنی متوفی ماں، منگل اور بہن روشنی کی تصویریں دیکھ کر روتی رہتی ہے

منگل نے اپنی ساڑی کا استعمال کرتے ہوئے، سب سے پہلے روشنی کا گلا گھونٹا، اور پھر خود بھی ایک درخت سے لٹک گئی تھیں۔ مقامی لوگ دونوں کو جوہر کے ضلع اسپتال لے گئے، جہاں دلیپ نے لاشوں کی پہچان کی اور انہیں واپس لے آئے۔

منگل اور روشنی کی تصویروں والا ایک چھوٹا فریم اب گھر کے اندر چھت کی واحد لکڑی کی بیم سے لٹکا ہوا ہے۔ چاروں طرف اداسی پھیلی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مانسون کے دنوں میں عام طور سے جو مٹی کی خوشبو ہوا میں موجود رہتی ہے، وہ غائب ہو چکی ہے۔ لگاتار بارش سے، تھوڑا سا پانی گھر کے اندر ٹپک آیا ہے، باقی پانی جھونپڑی کے اوپر رکھی سوکھی گھاس سے پھسل کر باہر گر جاتا ہے۔

’’ہمارے پاس کھیت نہیں ہے، اور ہماری آمدنی کا واحد ذریعہ مزدوری [یومیہ مزدوری] ہے، جو لاک ڈاؤن کے بعد ختم ہو گیا ہے،‘‘ دلیپ نے کہا۔ ’’ہمارے پاس راشن تھا، لیکن گھر پر پیسے نہیں تھے۔ پچھلے ۱۵ دنوں میں، مجھے دھان کے کھیتوں میں کبھی کبھار کام ملا، لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ وہ ہماری اس حالت کی وجہ سے کافی فکرمند تھی۔‘‘

مہاراشٹر کے غریب آدیواسی گروہوں میں بھی، کاتکری آدیواسی سب سے زیادہ کمزور ہیں۔ ریاست کے ۴۷ درج فہرست قبائل میں سے، کاتکری سمیت، صرف تین خاص طور سے کمزور آدیواسی برادریوں (پی وی ٹی جی) کی شکل میں فہرست بند ہیں۔

کاتکریوں کو برطانوی حکومت کے زمانے سے ہی حاشیہ پر دھکیل دیا گیا تھا – جب انگریزوں نے انہیں کرمنل ٹرائبس ایکٹ، ۱۸۷۱ کے تحت شامل کر لیا تھا۔ اس قانون نے بنیادی طور سے انہیں اور ہندوستان کے ۲۰۰ دیگر آدیواسی گروہوں کو پیدائشی طور پر مجرم قرار دے دیا تھا۔ اس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگ گئی، نوکری تلاش کرنا ناممکن ہو گیا، جس کے بعد ان کا لگاتار استحصال اور الگ تھلگ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آزادی کے بعد اس قانون کو منسوخ کر دیا گیا اور ۱۹۵۲ میں ’مجرمانہ قبائل‘ کی فہرست کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا۔ اس لیے کئی دیگر آدیواسیوں کے ساتھ کاتکریوں کو بھی غیر مجرم قرار دے دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے ساتھ امتیازی برتاؤ آج بھی جاری ہے۔

کاتکری عام طور سے جنگلوں میں رہتے ہیں، جن کے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ وہ ہاتھ سے مزدوری کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں۔ کاڈویاچیمالی کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ واگھ کے پڑوسی، دیپک بھوئیر نے کہا کہ یہاں کے رہائشی ہمیشہ غیر یقینیت سے بھری زندگی بسر کرتے ہیں۔ ’’مانسون ختم ہوتے ہی یہاں کے ہر گھر پر تالا لگ جائے گا،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’لوگوں کے پاس مہاجرت کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ مانسون کے دوران، دوسرے کے کھیتوں پر کام زیادہ نہیں ملتا۔‘‘

The lane to Dilip's house (left) in Kadvyachimali hamlet (right), with houses whose residents migrate for work every year
PHOTO • Parth M.N.
The lane to Dilip's house (left) in Kadvyachimali hamlet (right), with houses whose residents migrate for work every year
PHOTO • Parth M.N.

کاڈویا چیمالی بستی (بائیں) میں دلیپ کے گھر (بائیں) کو جانے والا راستہ، یہاں کے لوگ کام کے لیے ہر سال مہاجرت کرتے ہیں

دیپک، جو خود ۳۵ کلومیٹر دور کے جوہر شہر میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں، گاؤں میں نسبتاً خوشحال ہیں۔ ’’زیادہ تر لوگ اینٹ بھٹوں یا تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے لیے مہاجرت کرتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’یہ صرف زیست – اور یہ یقینی بنانے کے بارے میں ہے کہ آپ اور آپ کی فیملی اس دن بھوکی نہ رہے۔ مزدوروں کا کام بھی بہت کم ہوتا جا رہا ہے، کیوں کہ ایک ہی کام کے لیے بہت سے لوگ مہاجرت کر رہے ہیں۔ اس لیے آپ کو وہی کرنا ہوگا، جو مالک کہہ رہا ہے اور جتنا پیسہ مل رہا ہے اسی کو قبول کرنا ہوگا۔ ورنہ آپ کی نوکری جا سکتی ہے۔‘‘

اب لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھر میں بند، دیپک کا ماننا ہے کہ گاؤں کے سبھی لوگ ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ ’’منگل نے خود کشی کر لی، لیکن پورے گاؤں کی حالت ایک جیسی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’ہر کوئی کام کی غیر یقینی صورتحال سے پیدا ہونے والے تناؤ اور فکرمندی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس تعلقہ میں ہر سال ایسے معاملے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس سال، لاک ڈاؤن نے اسے مزید خستہ بنا دیا ہے۔‘‘

دلیپ واگھ نے کہا کہ بے انتہا غریبی اور غیر یقین مستقبل نے ہی منگل کو ایسا کرنے کے لیے آمادہ کیا ہوگا۔ ’’اس نے شاید سوچا ہوگا کہ بھرنے کے لیے دو پیٹ کم ہو جائیں گے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’نندنی ان کی تصویروں کو دیکھ کر روتی رہتی ہے۔‘‘

سابق رکن اسمبلی، اور ریاست میں آدیواسیوں کی سرکاری اسکیموں کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کے ذریعے تشکیل کردہ کمیٹی کے چیئرمین، وویک پنڈت نے وزیر اعلیٰ اودھو ٹھاکرے کی ہدایت پر خود کشی کے بعد اس فیملی سے ملاقات کی۔ ’’اہلکار یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کریں گے کہ یہ غریبی اور مایوسی سے پیدا شدہ معاملہ نہیں تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔

’’میں نے مارچ میں ہی آگاہ کیا تھا کہ اگر حکومت معاملوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی اور فوراً کارروائی نہیں کرتی ہے، تو یہ ناگزیر ہے۔ وہ [منگل] غریبی کی شکار ہے۔‘‘

کاڈویاچیمالی بستی میں کل ۷۰ گھر ہیں اور بستی کے چاروں طرف سرسبز کھیت ہیں جو پانی کی بوندوں سے چمک رہے ہیں، لیکن کسی کے پاس زمین نہیں ہے۔

Dilip and his family used to work at a brick kiln in Bhiwandi for six months every year; now, only his daughter Nandini remains
PHOTO • Parth M.N.
Dilip and his family used to work at a brick kiln in Bhiwandi for six months every year; now, only his daughter Nandini remains
PHOTO • Parth M.N.

دلیپ اور ان کی فیملی ہر سال چھ مہینے تک بھیونڈی میں ایک اینٹ بھٹے پر کام کرتی تھی؛ اب، صرف ان کی بیٹی نندنی ہی بچی ہے

دلیپ واگھ ہر سال چھ مہینے تک اینٹ بھٹے پر کام کرنے کے لیے اپنی فیملی کے ساتھ بھیونڈی جاتے ہیں، جوکہ ان کی بستی سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ ’’ہم نومبر کے آس پاس، دیوالی کے بعد، یہاں سے روانہ ہوتے ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’لوٹنے کے بعد، میری بیوی اور میں جوہر شہر میں چھوٹی موٹی نوکریاں تلاش کرتے تھے اور اپنے آس پاس کے گاؤوں میں کھیتوں پر کام کرتے تھے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے جب ۲۴ مارچ کو ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، تو دلیپ، منگل اور ان کی دونوں بیٹیاں اینٹ بھٹے پر تھے۔ ’’کام جلد ہی بند ہو گیا، اور ہم وہاں ایک مہینہ تک رکے رہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’ہم مئی کے پہلے ہفتہ میں گھر آئے۔ ہم گھنٹوں پیدل چلے، پھر ایک ٹیمپو کرایے پر لیا اور ڈرائیور کو ۲ ہزار روپے دینے کے بعد گھر پہنچے۔‘‘

لاک ڈاؤن کا اعلان کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن اس نے دلیپ اور منگل جیسے بے شمار مزدوروں کی حالت مزید خراب کر دی، جو بھکمری کے دہانے پر رہتے ہیں۔

اس مشکل دور میں ٹھیکہ داروں نے اپنے مزدوروں کو چھوڑ دیا۔ دلیپ اور منگل نے چھ مہینے تک رات دن اینٹ بھٹے پر جو کڑی محنت کی تھی، اس کی پوری مزدوری بھی انہیں نہیں ملی۔

بھٹہ مالک نے سیزن کی شروعات میں انہیں پیشگی رقم کے طور پر جو ۷ ہزار روپے دیے تھے، اسے کاٹنے کے بعد اس کے اوپر ان کے ۱۸ ہزار روپے مزید باقی تھے۔ لیکن اس میں سے اس نے ۶ ہزار روپے روک لیے۔ ’’ہم نے اس پیسے [بقیہ ۱۲ ہزار روپے] کا استعمال لاک ڈاؤن کے دوران اپنا گزارہ چلانے کے لیے کیا،‘‘ دلیپ نے بتایا۔ ’’چیزیں بھلے ہی آہستہ آہستہ کھلنے لگی ہیں، لیکن ہمیں کام بہت کم مل رہا ہے۔ یہ بات میری بیوی کو پریشان کر رہی تھی۔‘‘

دلیپ نے بتایا کہ بھٹہ مالک نے اس سانحہ کے کچھ دنوں بعد، باقی ۶ ہزار روپے دے دیے تھے۔ ’’اگر وہ اسے پہلے بھیج دیتا، تو شاید میں اسے منگل اور روشنی کی آخری رسومات ادا کرنے میں استعمال کر سکتا تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’انہیں پوری عزت کے ساتھ وداعی دینے کے لیے مجھے قرض لینا پڑا۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو اور ایک آزاد صحافی ہیں جو مختلف نیوز ویب سائٹس کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.