uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/01-after_earning_enough,_people_generally_return_home_on_a_saturday_evening.jpg

uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/01-after_earning_enough,_people_generally_return_home_on_a_saturday_evening.jpg

تھکے ہوئے مہاجر مزدور کوچی۔ کدیری ٹرین پر


یہاں تک پہنچنے کے لیے انھوں نے تقریباً ۹۰۰ کلومیٹر کا سفر کیا ہے، اور اب یہ انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی انھیں روزانہ کی اجرت کے کام کے طور پر اٹھا لے۔ غیریقینی کی صورتحال ان مزدوروں کو گھیرے ہوئی ہے۔ یہ لوگ یہاں تک دو ٹرینیں بدل کر پہنچے ہیں، آندھرا پردیش کے اننتا پور ضلع میں، پُتا پارتھی اور کدیری سے۔ ’’گاؤں میں قحط کا بھی کوئی کام نہیں ہے (یعنی، دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ یا منریگا کے تحت کام)، اور ہم نے پہلے ہی جو کام کر رکھا ہے اس کا بھی پیسہ ہمیں ہفتوں سے نہیں ملا ہے،‘‘ بہت سے کسانوں نے مجھے بتایا۔ اور یہاں پر جو بھی کام بچا ہے، وہ سال بھر کے کام کی حقیقی ڈیمانڈ سے ایک دہائی سے بھی کم ہے۔

اور اسی لیے، سینکڑوں مرد و خواتین ہر ہفتہ کوچی جانے کے لیے گُنٹاکل پیسنجر پر سوار ہوتے ہیں۔ ’’کوچی آنے کے لیے کوئی بھی ٹکٹ نہیں لیتا ہے۔ جاتے وقت، ہم میں سے آدھے لوگ ٹکٹ لیتے ہیں، آدھے نہیں لیتے،‘‘ اننتاپور کے موڈی گُبا منڈل (بلاک) کے مہاجر مزدور، سری نیواسولو بتاتے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/02-a_migrant_labourer_relaxing_on_a_rainy_sunday.jpg

اتوار کے روز ایک مہاجر مزدور جسے کوئی کام نہیں ملا ہے


سری نیواسولو ایک بار تب پکڑ لیے گئے تھے، جب وہ اننتا پور لوٹ رہے تھے۔ ’’کوچی میں بارش ہو رہی تھی۔ میں نے پانی کی بوتل کو آدھا شراب سے بھر لیا تھا اور ٹرین میں ہی پی رہا تھا۔ آدھا راستہ پار کر لینے کے بعد مجھے یاد آیا کہ میں نے ٹکٹ نہیں لیا ہے۔‘‘ لہٰذا سری نیواسولو نے کیرالہ میں جو ۸ ہزار روپے کمائے تھے، اسے اپنے ایک ساتھی مسافر کو دے دیا اور اپنے پاس صرف ۸۰ روپے ہی رکھے، اور بے صبری سے اپنی قسمت کا انتظار کرنے لگے۔

کٹ پاڑی میں، ٹکٹ کلکٹر (ٹی سی) نے سری نیواسولو کو روک لیا۔

’’ٹکٹ کہاں ہے؟‘‘ ٹی سی نے ان سے پوچھا۔

’’میرے پاس نہیں ہے،‘‘ سری نیواسولو نے جواب دیا۔

’’کھڑے ہو جاؤ،‘‘ ٹی سی نے تیلگو میں کہا، ’’میرے ساتھ آؤ، ماما (یعنی، سالا)۔‘‘

’’چلو، ماما،‘‘ سری نیواسولو نے پورے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ ٹکٹ کلکٹر نے ان سے ۵۰ روپے لیے اور وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔ سری نیواسولو، شراب کے نشے میں مست، نے وعدہ کیا کہ وہ اس ٹرین پر دوبارہ کبھی سفر نہیں کریں گے۔

ٹکٹ کلکٹر جب دور جانے لگا، تو سری نیواسولو نے کہا، ’’سر، میرے پاس کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔‘‘ ٹی سی نے انھیں گالی دی، پیسہ واپس لوٹا دیا اور چلا گیا۔


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /03-tamil_and_telugu_migrants_waiting_for_work_in_the_morning_at_kaloor.jpg

تمل اور تیلگو مہاجر کلور میں صبح کے وقت کام ملنے کا انتظار کرتے ہوئے


مہاجر مزدور کوچی کے کلور جنکشن پر صبح سویرے ہی پہنچ جاتے ہیں؛ وہ سڑک کے دونوں جانب بے صبری سے انتظار کرتے ہیں کہ کوئی ٹھیکہ دار اور زمین کا مالک، جو سڑکیں اور گھر خلیجی دینار سے بناتے ہیں، آئے گا اور انھیں کام پر لے جائے گا۔ کام کے دنوں میں، وہ صبح کو ۶ بجے اٹھ جاتے ہیں، ٹوائلیٹ جاتے ہیں، نہاتے ہیں اور پھر سڑک کنارے لائن لگاکر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی کام نہیں ہوتا، تو یہ سارے ندی میں نہاتے ہیں، ناگیش نام کا ایک مزدور بتاتا ہے۔

صبح کے ۷ بجے تک پورا اسٹیشن لوگوں کی بھیڑ سے بھر جاتا ہے۔ ’’بعض مہینوں میں، ہم لوگوں کی تعداد ۲ ہزار کے آس پاس ہوتی ہے،‘‘ ایک مزدور بتاتا ہے۔ یہ لوگ سڑک کے کنارے آندھرا کی فیملیز کے ذریعے ہی چلائی جانے والی دو دکانوں پر ناشتہ کرتے ہیں اور اپنا لنچ پیک کرتے ہیں۔ وہ مُڈھا (جو کہ ریال سیما میں راگی سے تیار کیا جانے والا کھانا ہے)، اچار اور چاول کھاتے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/04-a_man_selling_lottery_tickets_to_migrant_labour_from_anantapur_at_kaloor_junction.jpg

تقدیر کی تلاش میں: اننتاپور کے مزدور لاٹری ٹکٹ خریدتے ہوئے


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /05-women_waiting_for_work.jpg

خواتین مہاجر مزدور کام کے انتظار میں


جنکشن پر سبھی دن ایک جیسے قسمت والے نہیں ہوتے۔ کسی مزدور کو کام مل بھی سکتا ہے، نہیں بھی۔ ’’جب کوئی کام نہیں ہوتا،‘‘ ایک مہاجر کہتا ہے، ’’ہم شراب پیتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔‘‘

لوگ یہاں آتے ہیں، کیوں کہ کیرالہ میں روزانہ کی اجرت تین گنا زیادہ ہے۔ ’’اننتا پور میں، ہمیں ایک دن میں ۲۰۰ روپے ملتے ہیں۔ یہاں پر ۶۵۰ روپے ہے، کبھی تو ۷۵۰ روپے بھی،‘‘ رنگپا کہتے ہیں، جو اننتا پور میں گُجری (پرانے، ترک کر دیے گئے سامان) بیچتے ہیں۔ بہت سے لوگ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیسے ایک زمیندار نے ایک بار انھیں چھوٹے سے گھریلو کام کے لیے ۱۰۰۰ روپے  دیے تھے اور ساتھ ہی شراب اور کھانا بھی دیا تھا۔

جنکشن پر رہنے والے ہر کسی کے پاس کوئی نہ کوئی اسٹوری ہے۔ یہ کہانیاں ایک جیسی ہیں: برباد ہو چکی فصل، بارش کی کمی کی وجہ سے، بورویل کی بہتات، اور ان کے نقصان کا معاوضہ دینے میں حکومت کی ناکامی۔ اس کے علاوہ، قرض کا بوجھ اور کئی مہینوں تک منریگا کے تحت کوئی کام نہ ملنا یا کام کے پیسے نہ ملنا، حالات کو اور خستہ بناتے ہیں۔

 /static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/06-on_a_sunday.jpg

اتوار کو تھوڑی دیر کے لیے آرام کرتے ہوئے


یہاں پر ہر پیشہ کے لوگ مل جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں، میں نے پینٹروں، ہتھ کرگھا بنکروں، آٹو ڈرائیور، سی آر پی ایف کے ایک سابق جوان، ۸۲ سالہ آنکھوں سے معذور سے ایک شخص، اور گرمی کی چھٹیاں منا رہے متعدد طلبہ سے ملاقات کی۔ کدیری کے ۱۷ سالہ راج شیکھر کے لیے، جس نے ابھی ابھی دسویں کلاس کا امتحان دیا ہے، اس مزدوری سے اس کی فیملی کو تھوڑا اضافی پیسہ مل جاتا ہے۔ بالاجی نائک جیسے ڈگری اسٹوڈنٹس کے لیے، کیرالہ سے پیسے کمانے سے کالج کی فیس کا انتظام ہو جاتا ہے۔


07-ramlulu_&_rajashekhar.jpg

موڈی گُبا کے ۸۲ سالہ آنکھوں سے معذور رامولو (بائیں)، اور دسویں کلاس کا امتحان دینے والے کدیری کے راج شیکھر (دائیں) کو ابھی اپنے نتیجوں کا انتظار ہے


۲۳ سالہ بالاجی، کدیری کے وویکانند کالج سے تیلگو لٹریچر میں بی اے کر رہے تھے۔ کالج میں خود کو بنائے رکھنے کے لیے وہ اتوار کو بھی کام کرتے تھے۔ لیکن گاؤوں سے کام جیسے ہی ختم ہونا شروع ہوئے، انھیں دوسرے سال کے بعد کالج چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ’’بھوک سے تڑپتا ہوا پیٹ سب سے بری چیز ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ بالاجی کی کچھ دنوں بعد ہی شادی ہو گئی اور اب وہ کام کے لیے کدیری سے کوچی کے درمیان سفر کرتے رہتے ہیں، اور اپنی بیوی اور والدین کی مدد کر رہے ہیں۔

ان کے جیسے یہاں اور بھی بہت سے طلبہ ہیں جو کام کا انتظار کر رہے ہیں۔ ’’ہم اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد یہاں آئے ہیں،‘‘ ایک اچھے کپڑوں میں ملبوس طالب علم کہتا ہے۔ ’’ہم میں سے کچھ لوگ یہاں چھٹیوں کے دوران کام کرتے ہیں۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/08-migrants.jpg

ایک ٹھیکہ دار (بائیں) اور روزانہ کے کام کے لیے ساتھ لے کر جاتے ہوئے مزدور (دائیں)


جنکشن پر، گھروں کے مالک اور ٹھیکہ دار ایک ایک کرکے آتے رہتے ہیں۔ لوگ ان کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ ’’ٹھیکہ دار ایک گھنٹہ تک چکر لگاتے ہیں، لوگوں کا گہرائی سے معائنہ کرتے ہیں اور پھر مزدوروں کو ان کی عمر اور جسمانی طاقت کے حساب سے چنتے ہیں،‘‘ ویرپا نام کے ایک مزدور بتاتے ہیں۔ صبح کے ۱۱ بجے جب یہ صاف ہو جاتا ہے کہ اب دن کے لیے مزید کوئی کام نہیں بچا، تو باقی مزدور تھوڑی دیر تک آپس میں بات چیت کرتے ہیں، یا پھر فٹ پاتھ کے کنارے سو جاتے ہیں۔ بعض مزدور سڑک کے کسی سنسان کونے میں شراب پینا شروع کر دیتے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/09-a_laborer_sleeps_around_9.50_am_after_not_finding_any_work_for_the_day.jpg

ایک مزدور، جسے آج دن میں کوئی کام نہیں ملا ہے، صبح ۱۰ بجے سو رہا ہے


دوپہر کے تقریباً ڈیڑھ بجے، چند مزدور جنہیں کام نہیں ملا ہے، مقامی شیو مندر کا رخ کرتے ہیں، جہاں وشو ہندو پریشد کی طرف سے مفت کھانے کا انتظام ہے۔ ’’شیوا لیم بہت سی زندگیوں کو بچاتا ہے،‘‘ مزدور کہتے ہیں۔ ’’وہ ہمیں کیرالہ کا چاول دیتے ہیں، جو کہ ٹھیک ہے۔ وہ ہر ایک کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ، جن کے پاس کام نہیں ہے، یہیں کھانا کھاتے ہیں۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/10-free_meals_at_the_vhp_run_shivalayam.jpg

وی ایچ پی کے ذریعے چلائے جا رہے ’شیوالیم‘ میں مفت کھانا


دن مکمل ہونے کے بعد، سارے مزدور سونے کے لیے واپس لوٹنے لگتے ہیں۔ وہ یا تو جنکشن کے فٹ پاتھ پر سوتے ہیں یا پھر لوکل بس اسٹینڈ کے پلیٹ فارم پر۔ دیگر مزدور گھروں کی چھتوں پر یا کیرالہ کے باشندوں کے ذریعے کرایے پر لیے گئے پرانے کمروں میں سوتے ہیں۔

’’شام کے ۵ بجے بلب جلا دیا جاتا ہے، لیکن پنکھے آن نہیں کیے جاتے۔ رات کے ۱۰ بجے بلب آف کر دیے جاتے ہیں اور پنکھا چلا دیا جاتا ہے،‘‘ رام کرشنا بتاتے ہیں، جو ایک ملیالی گھر میں چھت پر سوتے ہیں۔ ’’ہماری پہنچ سوئچوں تک نہیں ہے۔ ہم جب دن کا کرایہ مکان مالک کو ادا کر دیتے ہیں، تب وہ پنکھے چلا دیتا ہے۔ اگر کوئی کرایہ نہیں دے پاتا، تو وہ پنکھے کو بھی بند کر دیتے ہیں، بھلے ہی وہاں ۴۰ لوگ کیوں نہ سو رہے ہوں۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/11-log_of_daily_rent_for_room.jpg

روم کے روزانہ کرایہ کا رجسٹر (بائیں)، اور کام کے بعد، کمروں کے قریب (دائیں)


جو لوگ سڑکوں پر رہتے ہیں، انھیں دوسری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے: اور وہ ہے مچھر۔ ’’لیکن جب وہ کاٹتے ہیں تو آپ بیمار نہیں پڑتے،‘‘ ۶۲ سال کی وینکٹما بتاتی ہیں۔ دیگر لوگوں کے لیے مچھروں اور کوچی کے حبس والے موسم سے بچنے کا طریقہ شراب ہے، جسے پی کر وہ گہری نیند سو جاتے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /rescaled/1024/12-people_sleeping_on_the_footpaths_of_kaloor_junction.jpg

کلور جنکشن کے فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے لوگ


انجانے یولو، جو دن بھر کی ۸۰۰ روپے کی مزدوری سے کم میں کام کرنے کو منع کر دیتے ہیں، ان کے منھ سے شراب کی بدبو آ رہی ہے۔ وہ ہر وقت شراب کے نشے میں مدہوش رہتے ہیں۔ ’’چندرا بابو (نائڈو) سے کہئے کہ وہ میرے لیے ایک ٹوائلیٹ بنوا دیں، پھر میں شراب پینا کم کر دوں گا۔ ہمارے گھر پر ٹوائلیٹ نہیں ہے۔ ہم جب ندی کنارے جاتے ہیں، تو لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘

کلور کے ہر مزدور کے کام کرنے کی ایک ترتیب ہے۔ زیادہ تر لوگ تین ہفتوں تک ٹھہرتے ہیں اور پھر ایک ہفتہ کے لیے اپنے گاؤں چلے جاتے ہیں۔ بعض کچھ زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں، تاکہ پرانے قرضوں کو چکا سکیں۔ ’’میں پچھلے ایک سال سے گھر نہیں گیا ہوں،‘‘ مڈی گبا کے ۴۰ سالہ کسان، نارائن سوامی بتاتے ہیں۔ ’’میں ہر ہفتہ تقریباً ۲ ہزار روپے گھر بھیجتا ہوں۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Rahul M /No Ticket Will Travel /13-62_year_old_venkatamma_travels_back_to_kadiri_in_the_train.jpg

۶۲ سالہ وینکٹما، ٹرین سے کدیری لوٹ رہی ہیں


’’یہاں پر ہر کسی کے ذہن میں کچھ نہ کچھ وہم ہے،‘‘ سری نیواسولو کہتے ہیں۔ ’’کچھ لوگ تاش کو لے کر پاگل ہیں، کچھ شراب کو لے کر، کچھ لوگوں پر لاٹری کا بھوت سوار ہے۔‘‘

لیکن ان تمام لوگوں میں جو ایک چیز مشترک ہے، وہ ہے غیر یقینی کی حالت، جب وہ سارے کلور جنکشن کی سڑک کے دونوں طرف قطار لگاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

راہل ایم ایک آزاد صحافی ہیں اور آندھرا پردیش کے اننت پور میں مقیم ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @twrahul You can contact the author here: