میری پیدائش غیر منقسم کالا ہانڈی ضلع میں ہوئی تھی، جہاں قحط، بھوک سے موت اور بحران کے سبب مہاجرت لوگوں کی زندگی کا اٹوٹ حصہ تھا۔ ایک نوجوان لڑکے کے طور پر اور بعد میں ایک صحافی کے طور پر، میں نے ان واقعات کو دیکھا اور پوری وضاحت اور پختگی کے ساتھ رپورٹ کیا۔ اس لیے مجھے اس بات کی سمجھ ہے کہ لوگ کیوں ہجرت کرتے ہیں، کون ہجرت کرتا ہے، وہ حالات کیا ہیں جو انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کرتے ہیں، کیسے وہ اپنی روزی کماتے ہیں – اپنی جسمانی استعداد سے بھی آگے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔

یہ بھی ’عام بات‘ تھی کہ جب انہیں سرکاری مدد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب انہیں چھوڑ دیا گیا۔ کھانے کے بغیر، پانی کے بغیر، ٹرانسپورٹ کے بغیر اور سینکڑوں کلومیٹر دور کے مقام پر جانے کے لیے انہیں پیدل چلنے پر مجبور کر دیا گیا – جب کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس ایک جوڑی چپل بھی نہیں تھا۔

یہ میرے لیے تکلیف کا باعث ہے، کیوں کہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ میرا ایک جذباتی لگاؤ ہے، ایک رشتہ ہے – گویا کہ میں انہی میں سے ایک ہوں۔ میرے لیے، وہ یقینی طور پر میرے لوگ ہیں۔ اس لیے میں انہی لوگوں، انہی برادریوں کو ایک بار پھر تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے دیکھ کر کافی پریشان ہوا اور لاچار محسوس کرنے لگا۔ اس نے مجھے ان الفاظ اور اشعار کو لکھنے کے لیے آمادہ کیا – جب کہ میں شاعر نہیں ہوں۔

PHOTO • Kamlesh Painkra ,  Satyaprakash Pandey ,  Nityanand Jayaraman ,  Purusottam Thakur ,  Sohit Misra

سدھنوا دیش پانڈے کی آواز میں یہ نظم سنیں

When the lockdown enhances the suffering of human beings you’ve grown up knowing and caring about for decades, says this photographer, it forces you to express yourself in poetry, beyond the lens
PHOTO • Purusottam Thakur

میں شاعر نہیں ہوں  

میں ایک فوٹوگرافر ہوں
میں نے نوجوان لڑکوں کی تصویریں کھینچی ہیں
سر پر پگڑیوں، اور گنھگھرؤں 
ان کی گردن میں مالاؤں کے ساتھ
میں نے لڑکوں کو دیکھا ہے
جوش سے پوری طرح بھرا ہوا
انہی سڑکوں پر سائیکل چلاتے ہوئے
جہاں پر اب وہ آگ پر چلتے ہوئے گھر جا رہے ہیں۔
پیٹ میں آگ
پیروں کے نیچے آگ
ان کی آنکھوں میں آگ
وہ انگاروں پر چل رہے ہیں
اپنے پیروں کے تلوے جھلساتے ہوئے۔

میں نے چھوٹی لڑکیوں کی تصویریں کھینچی ہیں
ان کے بالوں میں پھولوں کے ساتھ
اور ہنستی ہوئی آنکھیں جیسے پانی
وہ، جن کی آنکھیں تھیں
میری بیٹی جیسی –
کیا یہ وہی لڑکیاں ہیں
جو اب پانی کے لیے رو رہی ہیں
اور جن کی ہنسی
ان کے آنسوؤں میں ڈوب رہی ہے؟

کون ہے جو سڑک کے کنارے مر رہی ہے
میرے گھر کے اتنے قریب؟
کیا یہ جملو ہے؟
وہی جملو جسے میں نے دیکھا تھا
ننگے پاؤں کودتے ہوئے
ہری لال مرچ کے کھیتوں میں،
مرچ کو توڑتے،چھانٹتے، گنتے ہوئے
نمبر کی طرح؟
یہ بھوکا بچہ کس کا ہے؟
کس کا جسم پگھل رہا ہے،
سڑک کے کنارے ٹھنڈا ہو رہا ہے؟

میں نے عورتوں کی تصویریں کھینچی ہیں
چھوٹی اور بڑی
ڈونگریا کوندھ عورتیں
بنجارن عورتیں
اپنے سر پر پیتل کے برتن کے ساتھ
رقص کرتی عورتیں
اپنے پیروں پر
خوشی سے رقص کرتی عورتیں
یہ وہ عورتیں نہیں ہیں –
ان کے کندھے جھکے ہوئے
کس بوجھ کو وہ ڈھو رہی ہیں!
نہیں، نہیں، یہ نہیں ہو سکتیں
وہ گونڈ عورتیں
جو لکڑیوں کے گٹھر سر پر رکھے
شاہراہ پر تیزی سے چلتی ہیں۔
یہ نیم مردہ بھوکی عورتیں ہیں
اپنی کمر پر ایک چڑچڑے بچے کے ساتھ
اور دوسرے کو بنا امید کے اپنے اندر لیے۔
ہاں، میں جانتا ہوں، وہ نظر آتی ہیں
میری ماں اور بہن جیسی
لیکن یہ کم غذائیت کی شکار، استحصال زدہ عورتیں ہیں۔
یہ عورتیں مرنے کا انتظار کر رہی ہیں۔
یہ وہ عورتیں نہیں ہیں
یہ ان کے جیسی نظر آ سکتی ہیں – 
لیکن یہ وہ نہیں ہیں
جن کی تصویریں میں نے کھینچی تھیں

میں نے مردوں کی تصویریں کھینچی ہیں
لچکدار، طاقتور مرد
ایک ماہی گیر، ڈھنکیا کا ایک مزدور
میں نے اس کے گانے سنے ہیں
بڑے کارپوریشنز کو دور بھگاتے ہوئے
یہ چیخنے والا وہ نہیں ہے، کیا وہی ہے؟
کیا میں اس نوجوان مرد کو جانتا بھی ہوں،
وہ بزرگ آدمی؟
جو میل در میل چل رہا ہے
پیچھا کرنے والے اپنے دکھ کو نظر انداز کرتے ہوئے
بڑھتے اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے
اتنا لمبا کون چلتا ہے
اندھیرے سے بھاگنے کے لیے؟
اتنی محنت سے کون چلتا ہے
جارح آنسوؤں سے لڑنے کے لیے؟
کیا یہ مرد مجھ سے تعلق رکھتے ہیں؟
کیا وہ ڈیگو ہے
جو آخرکار اینٹ بھٹے سے بھاگ رہا ہے
اپنے گھر جانا چاہتا ہے؟

کیا میں ان کی تصویریں کھینچوں؟
کیا میں ان سے گانے کے لیے کہوں؟
نہیں، میں شاعر نہیں ہوں
میں گانا نہیں لکھ سکتا۔
میں ایک فوٹو گرافر ہوں
لیکن یہ وہ لوگ نہیں ہیں
جن کی میں تصویریں کھینچتا ہوں۔
کیا وہ ہیں؟

آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے جن ناٹیہ منچ کے ایک اداکار اور ڈائرکٹر، اور لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Purusottam Thakur

پرشوتم ٹھاکر ۲۰۱۵ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک صحافی اور دستاویزی فلم ساز ہیں۔ فی الحال، وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور سماجی تبدیلی پر اسٹوری لکھتے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur