’’کل وقتی کسان بن کر زیادہ پیسے کمانا کیسے ممکن ہے؟‘‘ سی جیابل سوال کرتے ہیں۔ ’’ان آدمیوں کو دیکھیے؟‘‘ تمل ناڈو میں جب ہم ان کے ساتھ ان کے دھان کے کھیت پر ٹہل رہے ہوتے ہیں، تو وہ برگد کے درخت کے سایے میں بیٹھے لوگوں کے ایک گروپ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ’’ان میں سے کوئی بھی صرف زراعت پر منحصر ہوکر زندگی نہیں گزار سکتا۔ ایک ٹریکٹر چلاتا ہے، دوسرا لوریوں پر مکان بنانے کے سامان ڈھوتا ہے، تیسرا ایک بیکری چلاتا ہے۔ اور میں، یہاں سے ۲۵ کلومیٹر دور مدورئی شہر کے ایک ہوٹل میں سوئیمنگ انسٹرکٹر کے طور پر تیراکی سکھاتا ہوں۔‘‘

مدروئی ضلع کے ناڈومڈولئی کولم گاؤں میں جیابل کا کھیت ہرا بھرا ہے۔ ان کے پاس ڈیڑھ ایکڑ زمین ہے، جو انھیں اپنے والد، ۷۵ سالہ چِنّا تھیور سے وراثت میں ملی ہے، اس کے علاوہ لیز کے طور پر انھوں نے دو اور کھیت لے رکھے ہیں۔ وہ سال میں تین بار دھان کی کھیتی کرتے ہیں، یہ وہ فصل ہے جس میں محنت کافی لگتی ہے، لیکن فائدہ کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ وہ ایک ایکڑ زمین پر فصل اُگانے میں ۲۰ ہزار روپے خرچ کرتے ہیں، لیکن فائدہ کے طور پر اس سے انھوں نے بہت کم منافع ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے، جیابل اور ان کی بیوی ساتھ مل کر روزانہ ان کھیتوں پر کم از کم ۱۲ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو ایک ایکڑ زمین پر ایک گھنٹہ کام کرنے پر ایک آدمی کی کمائی صرف ۹ روپے ۲۵ پیسے ہوتی ہے۔ ’’میرے بیٹے اس کام کو کیوں کرنا چاہیں گے؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں۔


02-IMG_2966-AK-Where-Farming-means-Two-Full-Time-Jobs.jpg

ایک زرعی مزدور خاتون دھان کی بُوائی کرتے ہوئے


تمل ناڈو میں کھیتی اب مقبول کریئر نہیں رہا۔ ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق سال ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۱ کے درمیان فل ٹائم کسانوں کی تعداد میں ۸ لاکھ ۷۰ ہزار کی کمی آئی ہے۔ بہت سے لوگ دوسری جگہوں پر جا چکے ہیں یا قرض کی وجہ سے ان کی زمینیں چھن چکی ہیں۔ وہ کہاں گئے؟ مردم شماری کی رپورٹ میں اس کا صرف ایک ہی جواب ہے: ریاست میں زرعی مزدوروں کی تعداد میں اسی دہائی کے دوران ۹ لاکھ ۷۰ ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، جیابل کو کھیتی کرنا پسند ہے۔ کھیت ہی ان کی پوری دنیا ہے۔ اس ۳۶ سالہ کسان کو اپنے گاؤں اور وہاں موجود کھیتی کی ۵،۰۰۰ ایکڑ زمین پر بڑا ناز ہے۔ وہ تیزی سے چلتے ہیں، وہ اپنے ننگے پاؤں کو وَرَپّو (کھیت کے بند یا بارڈر) پر ہلکے سے رکھتے ہیں۔ مجھے ان کی رفتار کو پکڑنے میں دقّت ہو رہی ہے، اور میں گیلے بند پر پھسل کر گرتے گرتے بچتی ہوں۔ عورتپں مجھے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہیں۔ صبح کے ۱۱ بج رہے ہیں، لیکن یہ عورتیں چھ گھنٹے کام کر چکی ہیں، پہلے تین گھنٹے گھر پر اور باقی تین گھنٹے کھیتوں سے گھاس اُکھاڑتے ہوئے۔


03-IMG_2799-AK-Where-Farming-means-Two-Full-Time-Jobs.jpg

جیابل کھیتوں کے درمیان بنے بند پر چل رہے ہیں


یہ نظارہ کسی تمل فلم کے گانے جیسا ہے۔ دسمبر میں بغیر موسم کے ہونے والی بارش نے پہاڑیوں کو ہرا اور تالابوں کو پُر کر دیا ہے۔ بگُلے درختوں پر سفید پھولوں کی مانند بیٹھے ہوئے ہیں۔ عورتوں ایک قطار میں کھڑی ہیں، ان کی ناک ان کے گھٹنوں سے سٹی ہوئی ہے، پیر کیچڑ میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور وہ دھان کے پودے کو زمین میں گاڑ رہی ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ اس دلدلی زمین میں آگے بڑھ رہی ہیں، اور اپنی پیٹھ کو سیدھا کرنے کے لیے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رکتی ہیں۔


04-IMG_3023-AK-Where-Farming-means-Two-Full-Time-Jobs.jpg

ناڈومُڈولئی کولم کا حسین نظارہ


کڑی محنت ہی کافی نہیں ہے۔ ’’آپ کو نئی قسموں کو لگانے، کچھ خطرہ مول لینے کی ضرورت ہے۔ چار سال پہلے، میں نے جوا کھیلا، چھوٹے دانے والا ’اکشے‘ چاول کھیت پر لگا کر۔ میں نے ہر ایکڑ میں ۳۵ بورے بیج ڈالے، جن میں سے ہر ایک بورے کی قیمت ۱،۵۰۰ روپے تھی۔ لیکن،‘‘ وہ ہنستے ہیں، ’’میں نے جیسے ہی اپنے گاؤں میں اس چاول کو اُگانا شروع کیا، دوسروں نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا۔ ظاہر ہے، اس کی وجہ سے اس چاول کی قیمت گھٹ گئی۔‘‘ جیابل کو اس سال بھی اچھی قیمت ملنے کی امید ہے۔ بہت زیادہ بارش ہو جانے کی وجہ سے پوری ریاست میں فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے چاول کی قیمت بڑھ گئی ہے۔

گھر واپس لوٹتے ہوئے جیابل بارش، پانی، سورج، مٹی، گائے اور کَمّا (تالاب) کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ان کے کھانے اور قسمت پر مختلف عناصر کا غلبہ ہے، ان کی فصل کی قسموں کا فیصلہ ۹ کلومیٹر دور واقع چیکانورانی شہر کی دکان کے ذریعہ کیا جاتا ہے، جہاں سے وہ بیج اور کھاد خریدتے ہیں۔ گاؤں میں ان کا روزانہ کا معمول ہے کھیتوں سے نرائی، سینچائی، چھڑکاؤ، چرانا۔ انھیں کاموں میں ان کا زیادہ تر وقت گزر جاتا ہے۔ جب وہ سوئیمنگ پول کی ڈیوٹی پر نہیں ہوتے، تو گاؤں میں یہی سب کر تے ہیں۔

مدورئی کے ایک ہوٹل کے اندر ہفتہ میں ۶ دن اور روزانہ ۹ گھنٹوں تک، جیابل ایک دوسری دنیا میں رہتے ہیں۔ ’’روزانہ صبح کو، میں کھیت پر ایک یا دو گھنٹے گزارتا ہوں۔ اگر ہوٹل میں میری شفٹ شروع کی ہے (صبح ۸ بجے سے شام کے ۵ بجے تک) تو میں اپنی موٹر سائیکل سے اپنے کھیت سے سیدھے شہر چلا جاتا ہوں۔ ناشتہ کرنے کا وقت کہاں ملتا ہے؟‘‘ وہاں پہنچ کر، جیابل اپنا کپڑا بدل کر پینٹ اور شرٹ پہن لیتے ہیں، بڑے سوئیمنگ پول کے کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور مہمانوں کی مدد کرتے ہیں۔ وہاں انھیں جو غیر ملکی مہمان ملتے ہیں، ان سے وہ انگریزی میں مدورئی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ انھیں یہ کام کرنا پسند ہے، اور اس سے انھیں ماہانہ جو ۱۰ ہزار روپے ملتے ہیں، اس سے ان کی کافی مدد ہو جاتی ہے۔ اب یہ اس کھیل سے ان کے جڑے رہنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ایک دہائی پہلے، یہی کھیل ان کے لیے سب کچھ تھا۔


05-IMG_2792 & IMG_20150801_115622(Crop) -AK-Where-Farming-means-Two-Full-Time-Jobs.jpg

جیابل اپنے کھیتوں پر (بائیں) اور مدورئی کے ہوٹل میں (دائیں)


مدورئی علاقہ جلّی کٹّو (بیلوں کا کھیل) کے لیے مشہور ہے۔ جیابل اس کے چمپئن تھے۔ وہ کبڈّی، طشتری اور گولا پھینک جیسے میچوں کو بھی جیت چکے ہیں۔ ان کے گھر پر، ان کی بیوی پودھو منی ان کے ذریعہ جمع کیے گئے سرٹیفکیٹس کو سنبھال کر رکھے ہوئی ہیں۔ گھر کا پہلا کمرہ بڑا اور مستطیل ہے، جو ایک چھوٹی، سفیدی کی ہوئی مٹی کی دیوار کے ذریعہ رسوئی اور رہنے کی جگہ میں تقسیم کی ہوئی ہے۔ کپڑے، تھیلے اور کھانے کی اشیا قرینے سے رکھی ہوئی ہیں۔ دیواروں پر ۲۰۰۲ کی ان کی شادی کی تصویریں لٹکی ہوئی ہیں۔


06-IMG_3090-AK-Where-Farming-means-Two-Full-Time-Jobs.jpg

وہ تمام سرٹیفکیٹس جو جیابل نے جیتے ہیں


جیابل اپنے کھیلوں کے انعامات کا شمار کرتے ہیں۔ ’’سونے کا سکّہ، کوتھو ویلکّو (روایتی لیمپ)، ٹی وی، سائیکل، وہ گرائنڈر بھی جس پر آپ جھکے ہوئے ہیں، یہ سب کچھ میں نے جیتا ہے۔‘‘ لیکن ۲۰۰۳ سے ۲۰۰۷ کے درمیان مانسون کے خراب ہونے کا مطلب تھا ’’کوئی کھانا نہیں، کوئی پیسہ نہیں۔ میری ایک بیوی اور دو چھوٹے بیٹے تھے۔ میں نے قلی کا کام کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد ۲۰۰۸ میں میں اسی کام کی طرف لوٹا جو میری فیملی کرتی تھی: یعنی کھیتی۔‘‘ اسی سال، انھوں نے ہوٹل میں بھی کام کرنا شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ہی فل ٹائم جاب ہیں۔ ’’ایک جگہ کی آمدنی پر گزارہ کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘

آدمی کے طور پر اپنی مزدوری کے لیے جیابل زیادہ پیسہ لیتے ہیں۔ پودھو منی زیادہ گھنٹے تک کام کرتی ہیں، لیکن کم کماتی ہیں۔ گاؤں کی دیگر عورتوں کی ہی طرح، جن میں جیابل کی ۷۰ سالہ ماں کنّمّل بھی شامل ہیں، پودھومنی ہر دن کئی شفٹ میں کام کرتی ہیں۔ پہلی شفٹ صبح ۵ بجے گھر پر۔ دوسری شفٹ صبح کے ۸ بجے سے دوپہر کے ۳ بجے تک کھیت میں۔ پھر دوپہر کے کھانے کے بعد وہ مویشیوں کے لیے گھاس جمع کرتی ہیں اور چولہے کے لیے لکڑیاں۔ وہ گوبر اٹھاتی ہیں، مویشیوں کا دودھ نکالتی ہیں اور بکریوں کو چرانے لے جاتی ہیں۔ اس کے بعد واپس آکر کچن کا کام۔ ’’اگر وہ نہیں ہوتیں،‘‘ جیابل مزے سے کہتے ہیں، ’’تو میں دو نوکریاں نہیں کر پاتا۔ اور ہم اپنا گھر نہیں چلا پاتے۔‘‘


07-IMG_3087-AK-Where-Farming-means-Two-Full-Time-Jobs.jpg

جیابل اور ان کی بیوی پودھو منی اپنے گھر میں


ناڈومڈولئی کولم میں عورتوں کے لیے پیسے کمانے کے کچھ کام ہیں۔ گاؤں کے بالغوں میں سے ۱،۵۰۰ باشندے بنیادی طور پر کھیتی کا کام کرتے ہیں۔ لیکن بچوں کے من میں کچھ اور ہے۔ وہ پڑھنا اور نوکری کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کی مشکل زندگی اور کم آمدنی سے خوش نہیں ہیں۔ زرعی مزدوری سے ایک دن میں صرف ۱۰۰ روپے کی کمائی ہوتی ہے۔ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ اسکیم سے آپ روزانہ ۱۴۰ روپے کما سکتے ہیں۔ لیکن منریگا کا کام مشکل سے ملتا ہے اور ملتا بھی ہے تو صحیح وقت پر نہیں۔ ’’وہ بوائی اور کٹائی کے موسم میں کام دیتے ہیں۔ تب اس وقت زیادہ کام کرنے والے نہیں ملتے۔ ہمیں مزدور لانے کے لیے زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں، یا پھر ان کے لیے چائے اور وڑئی (اسنیکس) جیسے کھانے کا انتظام کرنا پڑتا ہے،‘‘ جیابل کہتے ہیں۔

’’قرض تلے دبنا بڑا آسان ہے،‘‘ موٹر سائیکل پر بیٹھا کر اپنا گاؤں گھماتے ہوئے جیابل مجھ سے کہتے ہیں۔ فصل خراب ہونے کا مطلب ہے، آپ نے اس پر جو پیسہ لگایا وہ ختم۔ میں نے لیز پر جو کھیت لے رکھے ہیں، ان کا مجھے کرایہ دینا پڑتا ہے، اس کے علاوہ عام اور دیگر اخراجات ہیں۔ ’’میرے والد کے زمانے میں، آدمی زیادہ مضبوط اور ہنرمند ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنا بند بھی خود بنا لیا کرتے تھے۔ لیکن میری نسل یہ ساری چیزیں بھولتی جا رہی ہے۔ اب ہمیں صرف اتنا پتہ ہے کہ کھیتوں تک پانی لانے کے لیے انھیں کیسے توڑ کر برابر کیا جائے۔ ہمیں اپنے کھیتوں کو تیار کرنے کے لیے دوسروں کو پیسے دینے پڑتے ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں حالات اس سے بھی بدتر ہونے والے ہیں۔

’’میں کسان اس لیے بن گیا، کیوں کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں؛ میں نے ۱۲ ویں کلاس بھی پاس نہیں کیا۔ میرے پاس محدود مواقع تھے۔ لیکن میرے بیٹے، ۱۳ سالہ ہمسا وردن اور ۱۱ سالہ آکاش پڑھ لکھ کر آفس کی نوکری کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھ سے کہتے ہیں: ’’اگر آپ کو پیسے چاہئیں، تو ہم آپ کو مدورئی سے کما کر لائیں گے۔ وہ یہ زندگی نہیں جینا چاہتے،‘‘ وہ ناڈومڈولئی کولم کے دور تک نظر آنے والے دھان کے کھیتوں کی طرف ہاتھ لہراتے ہوئے کہتے ہیں۔

 

یہ مضمون ’دیہی تمل ناڈو کے ختم ہوتے ذریعہ ہائے معاش‘ سیریز کا حصہ ہے جسے این ایف آئی نینشل میڈیا ایوارڈ ۲۰۱۵ کا تعاون حاصل ہے۔

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Aparna Karthikeyan
[email protected]

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔

Other Stories by Aparna Karthikeyan