uploads/Articles/P. Sainath/The after death industry/kathulappa_fo_g._chinna_sainna_mbn_no._23.jpg

 uploads/Articles/P. Sainath/The after death industry/kathulappa_fo_g._chinna_sainna_mbn_no._23.jpg

کتھولپّا اپنے پوتے کے ساتھ۔ دسمبر، ۲۰۰۳ میں جب ان کے بیٹے چِنّا سائی اَنّا نے خودکشی کی تھی، تو اس کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا تھا، کیوں کہ اس کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔


محبوب نگر، میدک اور اننتا پور

اے کتھولپّا ہم سے اپنے بیٹے، چِنّا سائی اَنّا کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن نہیں کر سکتے۔ وہ جب بھی کوشش کرتے ہیں، ان بزرگ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، وہ اپنے پوتے نرسمھولو سے کہتے ہیں کہ وہ یہ اسٹوری ہمیں سنائے۔ یہ کہانی ان سینکڑوں کسانوں سے الگ نہیں ہے، جنہوں نے آندھرا پردیش میں خودکشی کر لی۔ البتہ، اس میں تھوڑا ٹوئسٹ ہے۔

اس فیملی کو معاوضہ ملنے کی امید بہت کم ہے۔ سائی اَنّا نے جب گزشتہ دسمبر میں محبوب نگر ضلع کے جینگ رالا میں اپنی جان لی تھی، تو ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب وہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ خودکشی کی وجہ سے موت ہوئی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم اس لیے نہیں ہو پایا تھا، کیوں کہ فیملی کے پاس اس کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اور ایسے بہت سے گھرانے ہیں، جنہوں نے خودکشی کے بعد اپنے عزیزوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا۔ بعض نے جذباتی اسباب کی بناپر اور بعض نے اس لیے کہ پوسٹ مارٹم کرانے کی فیس بہت زیادہ ہے۔

زیادہ تر جگہوں پر ’پوسٹ مارٹم‘ ( ’بعد از مرگ‘ کے لیے لاطینی لفظ) کا مطلب سمجھا جاتا ہے، موت کے آٹوپسی یا لاش کی طبی جانچ۔

یہ اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ موت کی وجہ معلوم ہو سکے۔ آندھرا کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں، اس کا مطلب ہوتا ہے دوسری چیزوں کا انبار۔ یہ موت کے بعد کی خوب پھلنے پھولنے والی صنعت ہے۔

اس کے لیے رقم کی ادائیگی

مثال کے طور پر، اس کا مطلب ہے، ’’آپ کو پولس والے کو پیسہ دینا ہے، ڈاکٹر اور اردلی کو پیسہ دینا ہے اور اُس آدمی کو بھی جو لاش کو اٹھا کر اسپتال لے جاتا ہے،‘‘ جینگ رالا کے جی شیکھر بتاتے ہیں۔ اسے سمجھنے میں ہماری دشواری کو دیکھ کر وہ مسکراتے ہیں: ’’حیران ہو گئے؟ اگر آپ کو ایک معمولی افسر کا دستخط کرانے پر ۵۰ روپے دینے پڑتے ہوں، تو آپ کو کیا لگا کہ یہ مفت میں ہو جائے گا؟‘‘

تھیوری میں تو اس کا جواب ’ہاں‘ ہی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی کوئی فیس نہیں ہے۔ لیکن، اس کے لیے لوگوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں۔

ہم نے خودکشی کرنے والے جن گھروں کا چھ ضلعوں میں سروے کیا، ان میں سے زیادہ تر نے یہی بتایا کہ انھیں اس کے لیے پیسے دینے پڑے تھے۔

بہت سے لوگوں نے تقریباً ۵۰۰۰ روپے ادا کیے تھے۔ کچھ نے اس سے بھی زیادہ خرچ کیا تھا۔ اور بعض تو ایسے بھی تھے، جنہیں اس پوری کارروائی کو مکمل کرنے میں ۱۰ ہزار روپے تک گنوانے پڑے۔

’’یہ غیر قانونی ہے۔ یہ بے رحمی بھی ہے، ایک ایسے آدمی کے ساتھ جو پہلے ہی غم زدہ ہو اور قرض میں گردن تک ڈوبا ہوا ہو،‘‘ ڈاکٹر ایم گیانند کہتے ہیں۔ وہ اننتا پور کے ایک میڈیکل پریکٹشنر ہیں، جو نشاندہی کرتے ہیں کہ: ’’فیملی میں سے ایک شخص نے صرف قرض کی وجہ سے خودکشی کر لی۔ اس کے بعد فیملی پر مزید قرض کا یہ دباؤ پڑا۔‘‘ جن لوگوں نے اس کے لیے پیسے ادا کیے، وہ مختلف لوگوں پر موٹی رقم خرچ کرنے کے بارے میں کھل کر بولتے ہیں۔ لیکن، جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ پولس کو کتنے دیے، تو وہ تھوڑا چالاکی سے اس کا جواب دیتے ہیں۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے جانے والی جیپ کے ڈرائیور نے ۲۰۰۰ روپے لیے۔ پولس نے دو ہزار سے ۳۰۰۰ روپے لیے۔ اردلی کو ۱۰۰۰ روپے ملے۔ اور ڈاکٹر کی فیس صفر سے ۲۰۰۰ روپے تک ہوتی ہے۔

’’چھ ہزار روپے تو گئے ہی گئے،‘‘ جینگ رالا کے شیکھر کہتے ہیں۔ اگر کسی جگہ پر اس سے کم پیسے لیے گئے، تب بھی قرض میں ڈوبے کنبوں پر اس کا بوجھ پڑتا ہی ہے۔

’’یہ سارا کام تو بالکل مفت ہونا چاہیے،‘‘ کلیان دُرگ، اننتا پور کے ناراض ڈاکٹر دیسم شری نواس کہتے ہیں۔

’’کسی بھی حال میں، ایک ڈاکٹر کا رول سب سے کم ہوتا ہے۔ زیادہ تر کام اٹینڈر کو کرنا پڑتا ہے۔ وہ مردہ جسم کو چیرتا ہے۔ اس کے بعد وہ تیز آواز میں بتاتا ہے کہ اسے کیا ملا اور ڈاکٹر اسے نوٹ کرتا ہے۔ کچھ ڈاکٹر اس اٹینڈر کا کام کرتے ہیں۔ ایک کیس تو ایسا بھی ملا، جس میں ایک آدمی کا پروموشن کے بعد دوسری جگہ ٹرانسفر ہو چکا تھا، لیکن اسے اس لیے روک لیا گیا، کیوں کہ وہاں اس کام کو کرنے والا کوئی دوسرا نہیں تھا۔‘‘

پوسٹ مارٹم کی دشواریاں

تاہم، پوسٹ مارٹم کی دشواریاں صرف خودکشی کرنے والے کسانوں سے ہی جڑی ہوئی نہیں ہیں۔

جیسا کہ ڈاکٹر ریڈی کہتے ہیں: ’’جب یہ طبی و قانونی کیس ہو، تو دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور فورینسک جانچ کرنے والے لوگوں کا حال تو بہت ہی برا ہے۔ کسی قتل کو اگر آپ قتل کہیں تو کیا ہوتا ہے، جب وہ کسی طاقتور آدمی کو ناراض کردے؟ جو لوگ اس میں ملوث ہوتے ہیں، وہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے نتیجہ کو بدلوا دیتے ہیں۔

قبر کھود کر نکالی گئی کچھ لاشوں کو لے کر بھی اختلافات ہیں۔ ان کا آخری فیصلہ شک کے گھیرے میں ہے۔

تھک ہار کر لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں: لڑائی کرنے اور مصیبت مول لینے کا کیا فائدہ؟ پیسہ کیوں نہ لے لیا جائے؟ یہ دلیل کہ ’کیوں نہ کچھ پیسے بنا لیے جائیں‘ اب یہ سوچ خودکشی کے معاملوں پر بھی لاگو ہونے لگی ہے۔‘‘

’’تاہم، یہ تمام چیزیں،‘‘ بقول ڈاکٹر ریڈی اور ڈاکٹر گیانند، ’’اس پیسہ وصولی کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرا سکتیں۔ نہ ہی ان لوگوں کو ہراساں کرنا صحیح ہے، جو اس کی مخالفت نہیں کر سکتے۔‘‘

دونوں ہی ڈاکٹر ’جن وگنیان ویدیکا‘ (جے وی وی) سے جڑے ہوئے ہیں، اس ادارہ کا مقصد پاپولر سائنس اور سائنسی سوچ کو فروغ دینا ہے۔ جے وی وی، جس کے ڈاکٹر گیانند ریاستی صدر ہیں، فی الوقت جاری زرعی بحران کے متعدد اسباب کا پتہ لگانے میں سرگرم عمل ہے۔

بعد از مرگ کاروبار بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔ دوگل ملپا کی فیملی نے اننتا پور میں ان کی موت کے بعد تقریباً ۱۰ ہزار روپے خرچ کیے۔

گوبری بائی کے کیس میں، جن کے شوہر کملی نائک نے وجر کرور میں خودکشی کر لی تھی، یہ رقم چھ ہزار تھی۔ ’’ہم نے یہ پیسہ اپنے تمام دوستوں سے چندہ لے کر جمع کیا،‘‘ اس آدیواسی فیملی نے بتایا۔ پندھی پوسیّہ کی نہایت ہی غریب فیملی کے لیے تین ہزار روپے پوسٹ مارٹم پر خرچ کرنا بہت بھاری پڑا، جنہوں نے محبوب نگر کے چِنّا ریوالی میں خودکشی کر لی تھی۔ تمام پوسیّہ لڑکے بندھوا مزدور ہیں۔ انھوں نے قرض لے کر پیسہ کا انتظام کیا۔

قرض میں اضافہ

آکاپور، نظام آباد میں، پونّالا ہنومنتھا ریڈی کی فیملی نے اس کے لیے ۵۰۰۰ روپے بطور قرض لیے۔ وہ پہلے سے ہی ۵ لاکھ روپے کے قرضدار تھے۔

کچھ فیملیز ایسی تھیں، جنہوں نے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا۔ جیسے اننتا پور کے دساری مہیندرو اور میدک کے سنگولا نرسمھولو کے گھر والوں نے کچھ بھی خرچ نہیں کیا۔ اور جہاں پر اس قسم کے عام عناصر زیادہ حساس تھے۔ لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ مہیندرو کے کیس میں، پڑوسیوں نے مذاق اڑایا کہ ’’پولس نے کافی کوشش کی، لیکن یہاں انھیں کچھ بھی نہیں ملا۔‘‘

لیکن جن کنبوں نے پوسٹ مارٹم نہیں کرایا تھا، آج سب سے زیادہ پریشان وہی ہیں۔ اب وہ یہ کیسے ثابت کریں گے کہ یہ خودکشی تھی؟ ’’یہ بہت بڑا مسئلہ ہے،‘‘ ڈاکٹر ریڈی کہتے ہیں۔

’’اگر وہ ثابت نہیں کرپائے، تو انھیں معاوضہ کیسے ملے گا؟‘‘ خاص کر جب موت کچھ دنوں پہلے ہوئی ہو۔

چیل ماڈا میں پرتھاپ ریڈی، جنہوں نے میدک میں مئی ۲۰۰۳ میں خودکشی کر لی تھی، کی فیملی کو اب افسوس ہو رہا ہے کہ انھیں پوسٹ مارٹم کرا لینا چاہیے تھا۔

’’انھوں نے اس لیے نہیں کرایا، کیوں کہ اُس وقت ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے،‘‘ ایک پڑوسی نے بتایا۔ یہی بات جینگ رالا میں کتھولپا ہمیں بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے آنسو اب ان کے گالوں پر چھلکنے لگے ہیں۔

بحران کے شکار یہاں کے بہت سے لوگوں کے لیے، موت ہی پریشانی کا خاتمہ نہیں ہے۔ بلکہ موت کے بعد ان کی فیملی کا بوجھ بڑھنے کی شروعات ہونے لگتی ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے ’دی ہندو‘ میں شائع ہوا تھا:

http://www.hindu.com/2004/08/08/stories/2004080804671400.htm

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: