’’ہم علی الصبح ۵ بجے پیدل ہی نکل پڑے۔ ہم بلوشی جانا چاہتے ہیں۔ کوئی گاڑی نہیں چل رہی تھی۔ ہمارے سیٹھ [آجر] نے ہم میں سے ہر ایک کو ۱۰۰۰ روپے دیے تھے۔ اس پیسے سے ہم نے نمک اور مسالہ خریدا۔ اگر ہم گھر نہیں پہنچ سکے، تو کیا کھائیں گے؟ گاؤں سے ہمارے پاس فون آیا تھاَ ’اگر تم سبھی ابھی واپس نہیں لوٹے، تو دو سال تک باہر ہی رہنا۔‘‘

لوگ یہی بتا رہے تھے۔ وہ اپنے سروں پر سامان اور بانہوں میں بچے اٹھائے تیز دھوپ میں پیدل چل رہے تھے۔ میں نے انہیں اپنے گاؤں سے گزرتے دیکھا اور ان سے پوچھ گچھ کی۔ وہ پالگھر ضلع کے واڈا بلاک کے بلوشی گاؤں کے باشندے تھے۔ وہ اینٹ بھٹوں پر کام کرنے کے لیے وسئی بلاک کے بھاتانے گاؤں چلے گئے تھے۔ بچے، عورتیں، مرد – کل ملاکر وہ ۱۸ لوگ تھے، سبھی کاتکری برادری کے آدیواسی تھے۔

وہ کورونا وائرس سے فکرمند تھے۔ لاک ڈاؤن (تالابندی) کے سبب کوئی گاڑی نہیں چل رہی تھی، جس سے وہ اپنے گھر پہنچ سکیں۔ اور انہیں اپنے گاؤں سے وہ سخت پیغام ملا تھا کہ فوراً گھر لوٹ آؤ۔ اس لیے ان سبھی نے پیدل ہی چلنا شروع کر دیا تھا۔ وہ ۲۹ مارچ کو صبح ۱۱ بجے کے قریب، میرے گاؤں نِمبَوَلی پہنچے تھے۔

’’سورج تمتما رہا تھا۔ میں اپنے سر پر بوجھ اٹھائے چل رہی تھی اور نیچے گر پڑی۔ مجھے چوٹ لگ گئی ہے،‘‘ ۴۵ سالہ کویتا دِوا نے اپنے گھٹنے دکھاتے ہوئے کہا۔ ان کے بغل میں ۲۰ سالہ سپنا واگھ بیٹھی تھیں۔  وہ چھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ وہ شادی کے فوراً بعد سے ہی، اپنے ۲۳ سالہ شوہر کرن واگھ کے ساتھ اینٹ بھٹوں پر کام کر رہی تھیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب وہ بھی اپنے سر پر سامان لداے اور اپنی کوکھ میں ایک زندگی لیے گھر کی طرف لوٹ رہی تھیں۔

Sapna and her husband Kiran Wagh (top left), Devendra Diva and his little daughter (top right), and Kavita Diva (bottom right) were among the group of Katkari Adivasis trying to reach their village in Palghar district from the brick kilns where they work
PHOTO • Mamata Pared

سپنا اور ان کے شوہر کرن واگھ (اوپر بائیں)، دیوندر دِوا اور ان کی چھوٹی بیٹی (اوپر دائیں)، اور کویتا دِوا (نیچے دائیں) کاتکری آدیواسیوں کے اس گروپ میں شامل تھے، جو اینٹ بھٹوں سے، جہاں وہ کام کرتے ہیں، پالگھر ضلع کے اپنے گاؤں پہنچے کی کوشش کر رہے تھے

پیدل چلتے چلتے وہ سبھی تھک چکے تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آس پاس کوئی کنواں ہے، اور کچھ نوجوان لڑکوں کو اپنی بوتلوں میں پانی لانے کے لیے بھیجا۔ کچھ دیر بعد، ۲۸ سالہ دیوندر دِوا اور ۲۵ سالہ دیویانی دِوا بھی، جو پیچھے رہ گئے تھے، وہاں پہنچے۔ یہ دونوں چونکہ اپنے ساتھ سامان اور اپنے بچوں کو بھی لے کر چل رہے تھے، اس لیے وہ دیگر ساتھیوں کی طرح تیز چلنے کے قابل نہیں تھے۔

میں ان کے لیے جس ٹیمپو کا انتظام کرنے میں کامیاب رہی، وہ انہیں آگے لے جانے کے لیے آ گیا۔ اس کا کرایہ ۲۰۰۰ روپے تھا۔ لیکن یہ لوگ صرف ۶۰۰ روپے دے سکتے تھے۔ میں نے کسی طرح بقیہ رقم کا انتظام کیا اور زیادہ وقت برباد کیے بغیر، انہیں گھر بھیج دیا۔

لیکن وہ گاؤں لوٹنے کے بعد کیا کریں گے؟ کوئی کام نہیں ہے۔ ان کے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ ٹیمپو کا کرایہ دے سکیں۔ پھر اس لاک ڈاؤن کے دوران وہ کیسے گزارہ کریں گے؟ ایسے بہت سارے سوال تھے، جن کا کوئی جواب نہیں تھا۔

ان کی طرح، کئی دیگر انسانوں نے بھی ہندوستان بھر میں پھیلے اپنے گاؤوں تک پہنچنے کی پوری کوشش کی ہوگی۔ کچھ تو اپنے گھر پہنچ گئے ہوں گے، لیکن کئی درمیان میں ہی پھنس گئے ہوں گے۔ اور کچھ اپنی دور دراز کی منزلوں کی جانب ابھی بھی چل رہے ہوں گے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Mamata Pared

ممتا پارید ۲۰۱۸ کی پاری انٹرن ہیں؛ وہ پونہ کے آباصاحب گروارے کالج سے جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔

Other stories by Mamata Pared