کوئلانڈی، ہندوستان کے مغربی ساحل پر واقع کیرل کے کوژی کوڈ ضلع میں کپّڈ سے ٹھیک شمال میں ماہی گیری کے لیے مشہور ایک شہر ہے؛ یہی وہ جگہ ہے جہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرتگالی کشتی بان واسکو ڈی گاما نے ۱۴۹۸ میں اپنا بیڑہ ڈالا تھا۔

پانچ سو سال قبل مغربی ایشیا کے یمن کے تاجر بھی کوئلانڈی آئے تھے، اور ان میں سے بعض یہیں آباد ہو گئے تھے۔ انھوں نے کوساوا برادری کے مقامی دست کاروں کو حقہ بنانا سکھایا۔ ان بڑی بڑی نالوں کو ۔ جو مالابار حقہ یا کوئلانڈی حقہ کے نام سے مشہور ہیں، بعد میں کیرل کی تھِیا ذاتیں بھی بنانے لگیں۔



۱۹۸۰ سے لے کر ۱۹۹۰ کی دہائی تک یہ حقے عرب ممالک کو ایکسپورٹ کیے جاتے رہے۔ اب بڑی نزاکت کے ساتھ بنائے جانے والے ان حقوں کو کہیں ڈھونڈ پانا نہایت مشکل ہے، یہاں تک کہ اب یہ خود کوئلانڈی میں بھی نایاب ہو چکے ہیں۔


Down to the last puff_article_V.sasikumar

’یہ بغیر کسی منافع کا دستکاری والا کام ہے جس میں بڑی محنت لگتی ہے،‘ کیرل کے آخری بچے حقہ بنانے والے کہتے ہیں

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

V. Sasikumar

وی ششی کمار تھیرووننتا پورم میں مقیم فلم ساز ہیں، جن کا فوکس ہے دیہی، سماجی اور ثقافتی مسائل۔ انھوں نے یہ ویڈیو ڈاکیومینٹری اپنی ۲۰۱۵ پاری فیلوشپ کے تحت بنائی ہے۔

Other stories by V. Sasikumar