پرکی ڈیہہ میں جب گائیں گھر آتی ہیں
’گو بندنا‘ تہوار کے دوران مغربی بنگال کے پرولیا ضلع کے سنتال اپنی گایوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ یہ مٹی کے رنگوں، دیوار کی پینٹنگ، میوزک اور کھیل کا وقت ہوتا ہے

SANGUR, PUNJAB
|TUE, DEC 24, 2024
Author
Translator
تمل مہینے ماسی میں ایرولر برادری کے لوگ چنئی کے نزدیک ماملّاپورم کے ساحلوں پر اپنی دیوی کنّی امّا کو خوش کرنے اور گھر لاکر ان کی پوجا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس موقع پر سمندر کے کنارے پجاری شادیاں کراتے ہیں، بچوں کے نام رکھتے ہیں اور عقیدت مندوں کو آشیرواد دیتے ہیں
جنوبی چھتیس گڑھ میں گونڈ آدیواسی گنگریل مڑئی تہوار مناتے ہیں، اور ریاست کے الگ الگ علاقوں سے اس ایک روزہ میلے میں شامل ہوتے ہیں
آندھرا پردیش کے میڈا پورم میں مڈیگا برادری کے لوگ ہر سال اُگادی تہوار کا جشن شاندار طریقے سے مناتے ہیں۔ دیوتا کی مورتی کو یہی لوگ سب سے پہلے اس گاؤں میں لے کر آئے تھے
تروولّور ضلع کے دلّی انّا، شمالی چنئی کی ماہی گیر برادریوں کے محافظ دیوتا، کنّی سامی کی مورتیوں میں جان پھونک دیتے ہیں۔ یہ مورتیاں مٹی اور دھان کی بھوسی سے بنائی جاتی ہیں۔ لیکن تیز رفتار شہرکاری کی وجہ سے اب یہ چیزیں مشکل سے مل پاتی ہیں
تمل ناڈو کے بنگلا میڈو گاؤں میں ایرولر برادری کی دیوی کی پوجا اور جشن منانے کے روایتی طور طریقے آہستہ آہستہ بدلنے لگے ہیں
کرناٹک کی سرزمین پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کئی روایات سانس لیتی رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک روایت ہے، جس میں مسلم مرد مختلف مذاہب کی مذہبی و ثقافتی تقاریب کے لیے پٹاخے بنانے اور آتش بازی کا کام کرتے ہیں۔ گرنال سائبیر اور ان کے اس منفرد ہنر پر مبنی یہ فلم ملاحظہ کریں
سنتھال آدیواسی تپن مرمو، بیر بھوم کے ایک نوجوان کسان ہیں جو فصل کی کٹائی کے تہوار میں کٹھ پتلیوں کا کھیل بھی دکھاتے ہیں، لیکن اپنی نسل کے لوگوں میں اس فن کے تئیں گھٹتی دلچسپی کو دیکھ کر وہ کافی فکرمند ہیں
آسام میں دھوم دھام سے منائے جانے والے، رقص و ڈرامے پر مبنی راس مہوتسو کا لوگوں کو سال بھر انتظار رہتا ہے، لیکن نوجوان نسل کی اس میں عدم دلچسپی اور بڑی تعداد میں یہاں سے لوگوں کی مہاجرت کی وجہ سے اب اداکاروں کو تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع کرناٹک کے اس علاقے میں مختلف برادریوں کے لوگ بھوت پوجا کے موقع پر ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔ پیش ہے سید ناصر اور ان کے میوزیکل گروپ کے ذریعے ان رسومات کے دوران موسیقی کی پیشکش کا احاطہ کرتی یہ فلم
ہنلے ندی کی وادی میں رہنے والے تبتی بودھوں کا یہ ایک اہم تہوار ہے۔ یہاں وبائی مرض کے بعد پہلی بار، چھ گاؤوں کے لوگ ڈھول باجے کے ساتھ اس تہوار کو منانے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوئے
چھتیس گڑھ میں منعقد ہونے والے سالانہ گونچا تہوار میں، مقامی آدیواسی لوگ انوکھے طریقے سے اپنے بھگوان کو سلامی پیش کرتے ہیں
آندھرا پردیش کے اننت پور شہر میں بچوں کے درمیان ونائک چویتھی اتنا مقبول ہے کہ تہوار گزر جانے کے بعد بھی وہ کئی ہفتوں تک اس کا جشن مناتے رہتے ہیں
ایس پردیسم، دیوالی کے تہوار پر گھروں کو چراغاں کرنے کے لیے ابھی تک لاکھوں دیے بنا چکے ہیں۔ ۹۲ سال کے یہ بزرگ، وشاکھا پٹنم کی کمّاری ویڈھی میں مٹی کے دیے بنانے والے آخری کمہار ہیں
لداخ کے کارگل ضلع میں واقع تائی سورو گاؤں کے شیعہ مسلم، محرم کے مہینہ میں کئی دنوں تک عزاداری کرتے ہیں۔ لیکن بچوں، خاص کر لڑکیوں کے لیے یہ اپنی سہیلیوں سے ملنے اور ان کے ساتھ گھنٹوں وقت گزارنے کا ایک موقع ہوتا ہے
مکر سنکرانتی کے موقع پر کھمبھات اور احمد آباد کی پتنگ بنانے والی عورتیں گجرات کے آسمانوں کو مختلف رنگوں سے تو سجا دیتی ہیں، لیکن اتنی محنت کے باوجود خود اُن کی زندگی میں کوئی رنگ نہیں ہے
درگا پوجا کی شروعات ۱۱ اکتوبر سے ہونے والی ہے اور اگرتلہ کے ڈھاکیوں کے ڈرم ابھی سے بجنے لگے ہیں۔ سال کے بقیہ دنوں میں یہ ڈھاکی رکشہ چلاتے ہیں، ٹھیلہ لگاتے ہیں یا پھیری والے، کسان، پلمبر، اور الیکٹریشین کے طور پر کام کرتے ہیں
سردی کے مہینوں میں تقریبات اور جشن کے دوران، چھتیس گڑھ کی گونڈ برادری کے نوجوان مرد و عورت ہُلکی مانڈری اور کولانگ رقص کرنے کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور ریلا گیت گاتے ہیں
آندھرا پردیش کے اس شہر کے کاریگر تہوار کے موسم – اس ہفتہ گنیش چترتھی سے شروع ہو رہے - میں سب سے زیادہ کماتے ہیں۔ لیکن انہیں اس سال اب تک گنیش کی مورتیوں اور دیگر مصنوعات کے لیے ایک بھی تھوک آرڈر نہیں ملا ہے
اس ہفتہ شروع ہونے والا گن پتی تہوار، پھر دُرگا پوجا اور دیوالی، دہلی کے اتّم نگر کے کمہاروں کے لیے سب سے زیادہ کمائی والے موسم تھے۔ لیکن اب، وہ کچھّ اور مغربی بنگال کے کمہاروں کی طرح ہی فروخت کا سب سے خراب وقت دیکھ رہے ہیں
کرناٹک کے دکشن کنڑ اور اُڈوپی اضلاع میں صدیوں پرانی اس رسوماتی تقریب میں نقال دلت برادریوں کے بھولے بسرے سورماؤں کی کہانیاں سناتے ہیں، تنازعات حل کرتے ہیں اور تزکیہ نفس کا سامان فراہم کرتے ہیں
اوڈیشہ کے کندھمال ضلع میں، آدیواسی عورتیں دیسی بیجوں کا تحفظ کئی نسلوں سے کرتی آ رہی ہیں؛ سالانہ تہوار میں، وہ بیجوں پر بات چیت کرنے اور رسم و جشن کے توسط سے ان کا لین دین کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہوتی ہیں
تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے گاؤوں سے دسیوں ہزار زائرین حضرت جان پاک شہید کے عرس میں شریک ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہتوں کا درگاہ پر مستقل عقیدہ ہے، جبکہ کچھ لوگ یہاں بہتر کاروبار کے لیے آتے ہیں
حیدر آباد کے ایک آٹو پارٹس ڈیلر، پوسانی اشوِن ہر سال بونالو تہوار کے دوران پوتھو راجو – جن کے بارے میں عقیدہ ہے کہ وہ بیماریوں کو ٹھیک کرنے والے دیوتا ہیں – کی شکل اختیار کرتے ہیں، لوگوں کو آشیرواد دیتے ہیں مجمع کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں
فنکاروں کی ایک جماعت، جن میں سے زیادہ تر مہاجر ہیں، ابھی چل رہے گنیش چتُرتھی تہوار سے پہلے مورتیاں بنانے حیدرآباد آتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ بازار میں سستا سامان ہونے کے سبب کام مسلسل نہیں مل رہا ہے
مدورئی میں تاریخی اژگر فیسٹول میں – اس کا آخری دن آج ہی، ۲۲ اپریل کو ہے – ایک بڑا جلوس نکلتا ہے، جس میں کچھ بھکت رنگین لباس پہنتے ہیں۔ لیکن ان کے پوشاک بنانے والے کون ہیں یہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے
ممبئی کے ٹھیک باہر ایک آدیواسی پاڑہ میں، آتش بازی اور شہر کی روشنی سے دور، میری فیملی نے روایتی کھانوں، اجتماعی تقریبوں، قدرت کے تئیں عقیدہ اور خوشی کے ساتھ اس سال دیوالی منائی، جیسا کہ وہ ہر سال مناتے ہیں
دشہرے کے مہینہ میں، رام کتھا سنگنگ پارٹی نام کی گلوکاروں کی ایک عام ٹولی، دن کی اپنی نوکری پر واپس لوٹنے سے پہلے ایک اسٹیج سے دوسرے اسٹیج تک بھاگتی دوڑتی رہتی ہے۔ وہیں دوسری جانب، رام کتھا کی پیشکش پر عصری سیاست کا اثر صاف دکھائی دینے لگا ہے
وڈودرا میں مغربی بنگال سے گئے مہاجر مورتی ساز اس فن میں اپنی آبائی ریاست کے مقامی اثرات کا خوبصورت امتزاج کرتے ہیں۔ شہر میں تپن مونڈل جیسے کچھ مورتی ساز اپنا ذاتی مورتی خانہ چلاتے ہیں، جب کہ بہت سے ایسے کاریگر بھی ہیں جو روزی روٹی کے لیے زرعی مزدوری، گھروں میں رنگ روغن، اور کئی قسم کے دوسرے کام بھی کرتے ہیں
گونڈ آدیواسی ہر چار سال میں ایک بار، اپنے قبیلہ کے دیوتاؤں کو چھتیس گڑھ کے سیمرگاؤں میں منائے جانے والے ایک تہوار میں جمع کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے آباء اجداد کو نذرانے پیش کرتے ہیں، ان سے صلاح لیتے ہیں اور ان ’متوفیوں‘ کے ایک دوسرے سے ملنے کا انتظام کرتے ہیں
اوڈیشہ کے نیامگیری سطح مرتفع میں، ڈونگریا کوندھ آدیواسی ہر سال رنگا رنگ تہوار منانے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن کان کنی کے موجودہ خطرات کے پیش نظر، یہ جشن اپنے آبائی علاقوں کی حفاظت کرنے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو بھی بیان کرتا ہے
تمل ناڈو میں کوواگم تہوار، جو اس سال ۲۵ اپریل کو ختم ہو رہا ہے، بے شمار خواجہ سراؤں (ٹرانس جینڈر افراد) کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ وہ یہاں ناچنے، گانے، رونے اور پرارتھنا کرنے – لیکن ان میں سے زیادہ تر، خود کو سماجی بائیکاٹ سے آزاد رہنے کے لیے آتے ہیں
اتراکھنڈ کے کُماؤں علاقے کے گاؤوں میں، ہولی کا تہوار وہ موقع ہوتا ہے جب عورتیں جم کر ناچتی ہیں اور ان کے گائے گیت پہاڑوں میں گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ عالمی یومِ خواتین پر مبنی پاری کی سیریز کے تحت پیش ہے یہ فوٹو اسٹوری
فصلوں کی کٹائی کے موسم میں، بہار کی چرچریا بستی میں رہنے والی سنتال عورتیں اپنی طریق زندگی کے بارے میں گانا گاتی ہیں جب کہ مرد ساز بجاتے ہیں، اور اس موقع پر دعوت کھانا اور مہوا بھی ہوتا ہے
کیرالہ کے الپوژہ ضلع کے کارتھی کپلّی اور اس جیسے دیگر ساحلی گاؤوں میں نکالے جانے والے سالانہ مذہبی جلوس کے لیے بچے خود اپنا رتھ بناتے ہیں اور اس جشن میں پورے جوش و خروش کے ساتھ شامل ہوتے ہیں
کولکاتا کی صدیوں پرانی کُمہاروں کی بستی میں کاریگر رات بھر مٹی کی مورتیاں بناتے ہیں، جنہیں جلد ہی دُرگا پوجا کے لیے شہر میں بھیجا جائے گا
’گو بندنا‘ تہوار کے دوران مغربی بنگال کے پرولیا ضلع کے سنتال اپنی گایوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ یہ مٹی کے رنگوں، دیوار کی پینٹنگ، میوزک اور کھیل کا وقت ہوتا ہے
مغربی بنگال کے سندربن کی جنگل کی دیوی کا مطالبہ ہے کہ جانوروں کی دنیا کے ساتھ ان کے معاہدہ کو ہندو اور مسلمان ساتھ مل کر برقرار رکھیں
سہاریا برادری ہولی اور فصل کی کٹائی کا جشن منانے کی تیاری کر رہی ہے
مغربی بنگال کے مکردہ گاؤں کی پُربنّاپارہ برادری ہر سال سب سے چمکدار اور بڑی پھلجھڑی بنانے کی ’پروتی جوگِتا‘ یا مقابلہ کرواتی ہے
گووا کا ’ہندو کارنیوال‘ ۔ ایک روایتی مقامی تہوار ۔ جس کے شرکاء صرف مرد ہوتے ہیں
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/festivals-and-the-folks-who-fashion-them-ur